Skip to content
جمعہ نامہ:ٹیرف کا سرجیکل اسٹرائیک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی بیش بہا نعمتوں کا ذکر فرمانے کے بعدجب یہ منادی فرمائی تو انکار کی گنجائش ہی نہیں رہی ۔ اس کے باوجودانکار حق کی وجہ یہ بتائی گئی کہ:’’ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے دلوں میں انکار بس کر رہ گیا ہے‘‘۔ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے حاضری اور جوابدہی کے انکار نے انہیں کفر و فسق کی راہوں پر گامزن کردیااورسرکشی کے سبب :’’ وہ گھمنڈ میں پڑ گئے‘‘۔ اس مرض میں مبتلا لوگ اپنے نفس کا بندگی میںمن مانی کرتے ہوئے بھول جاتےہیں کہ :’’اللہ یقیناً اِن کے سب چھپے اور کھلے کرتوت جانتا ہے‘‘۔آگے اس کا انجامِ کار یہ بتایا گیا کہ :’’ وہ(اللہ تعالیٰ) اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میں مبتلا ہوں‘‘۔ ایسے لوگوں سے جب وحیٔ الٰہی کے حوالے سے استفسار کیا جائے یاانہیں آخرت کی توجہ دہانی کی جائے ان کا ردعمل ملاحظہ فرمائیں:’’ اور جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے، تو کہتے ہیں "اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں‘‘۔
اللہ کی کتاب میں اس تمسخر کا انجام یوں بیان کیا گیا کہ :’’یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں تا کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں‘‘۔اس عبرتناک تنبیہ کے بعد یہ آفاقی حقیقت بیان کی گئی کہ تاریخِ انسانی میں ایسا پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔ارشادِ فرقانی ہے:’’ اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ ایسی ہی مکاریاں کر چکے ہیں‘‘۔وطن عزیز کے حکمرانوں میں کبرو غرور کی وجہ ہندوستان دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن جانا تھی۔وہ بہت جلد تیسرے نمبرپر آنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ملک میں عوامی نہ سہی مگر قومی سطح پرامریکہ کواپنی مصنوعات کی برآمداور روس سے سستا تیل درآمد کرنےکے سبب معیشت خوب پھل پھول رہی تھی۔ ایسے میں ٹرمپ نے نہایت نامعقول ٹیرف لگا کرگویا اقتصادی سرجیکل اسٹرائیک کردیا۔
امریکہ کی جانب سے پہلے تو 25فیصد ٹیرف نیز روسی تیل کی درآمد کےبہانے 100 فیصد جرمانہ جڑ دیا گیا۔اس کے بعد وزارت خارجہ نے نہایت محتاط انداز میں کہا کہ روس سے تیل کی درآمد قومی مفاد میں جاری رہے گی۔ بس پھر کیا تھا ٹرمپ آگ بگولا ہوگئے اور انہوں نے ٹیرف کی شرح دوگنا یعنی 50فیصد کر دی۔ یہ مصیبت اس ٹرمپ کی جانب سے آئی جسے وزیر اعظم مودی ہندوستان بلا کر ’نمستے‘ کرچکے ہیں اور وہاں جاکر’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا احمقانہ نعرہ بھی لگا چکے ہیں لیکن مکر و فریب کی یہ عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی فرمانِ فرقانی ہے:’’ تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آ رہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا ‘‘۔ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ جب وزیر اعظم نے انہیں کامیاب کرنے کی کوشش کی تو وہ ہار گئے اور جب ان کی حریف کملا ہیرس کو آشیرواد دیا تو ٹرمپ نے انہیں ہرا دیا۔ اس لیے اب وہ انتقام پرآمادہ ہیں۔ یہ عذاب ایک ایسے رخ سے آیا کہ جس کا کسی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ اس ٹیرف کی وجہ سے ملک کے کروڈوں لوگوں پر بیروزگاری کی کالی دیوالی کے گھنے بادل منڈلانے لگے ہیں مگر حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہےبقول رئیس امروہوی؎
کہنے لگے کہ ہم کو تباہی کا غم نہیں ،میں نے کہا کہ وجہِ تباہی یہی تو ہے
ہم لوگ ہیں عذابِ الٰہی سے بے خبر اے بے خبر! عذابِ الٰہی یہی تو ہے
ملک کے اندر محسوس ہونے والےاس معاشی جھٹکے کاایک سبب قومی خوشحالی کا چند ہاتھوں تک سمیٹ جانابھی ہے۔حالیہ ترقی کی غیر متوازن دوڑ میں امیر طبقہ امیر تر ہوتاجارہا ہے اور غریبوں کو نظر انداز کرکے محروم رکھا گیا ہے۔ انہیں بہکانے اورپھسلانے کے لیے مسلمانوں کےپیچھے لگادیا گیا ہے۔ آئے دن مسلم پھیری والوں پر حملے کی خبریں آتی ہیں۔کاونڈ یاترا کے راستے میں مسلمانوں سے اپنے ہوٹل کو مسلم نام سے منسوب کرنے کے لیے کہا جاتا ہے بلکہ انہیں کاروباربند کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے جبکہ ہندو اور جین تاجر گوشت کو درآمد کرنے کے لیے الکبیر جیسا نام رکھتے ہیں ان کو کوئی منع نہیں کرتا۔ ساون کے مہینے میں مسلمانوں کو گوشت بیچنے سے روکا جاتا ہے مگر بیف برآمدات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ ان حرکتوں پریہ فرمانِ ربانی صادق آتا ہے:’’پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اِس بات سے بالکل ہی بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے، یا ایسے گوشے میں ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم و گمان تک نہ ہو یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑ لے ‘‘۔
امریکی ٹیرف میں اضافے کااندیشہ پچھلے چند ماہ سے محسوس ہورہا تھا۔ اس طرح کی صورتحال کا بیان یوں کیا گیا کہ:’’یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جبکہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنے ہوں؟‘‘ حکومتِ ہند نے اسے ٹالنے کی خاطر نرمی دکھائی مگر پانی سر سے اونچاہوگیا توہمت جٹاکر جرمانہ کے خلاف اپنا دفاع کیا تو بات بگڑ گئی یعنی ٹیرف کی شرح دوگنا ہوگئی۔اس غیر متوقع ردعمل کی بابت فرمانِ قرآنی ہے:’’ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے یہ لوگ اس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے‘‘۔ ایسی قہاری و جبروت سے پریشان ہونے والوں کی ڈھارس اس طرح بندھائی گئی کہ :’’ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی نرم خو اور رحیم ہے ‘‘ یعنی اس طرح کی ٹھوکرکھانے کے بعداگر کوئی اپنا رویہ درست کرلے تواس کے ساتھ نرمی اور رحمت کا معاملہ کیا جائے گا۔ارشادِ فرقانی ہے:’’۰۰۰اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دےگا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۰۰۰ ‘‘۔لیکن اگر جبر و استحصال کی روش میں کوئی تبدیلی نہ آئے توفرمانِ خداوندی ہے:’’کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی‘‘۔
Like this:
Like Loading...