Skip to content
ٹرمپ کی اینٹ کا جواب پتھر سے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ٹرمپ کے حوالے سے ’نانا کرکے مودی کاپیمانۂ صبر آخر چھلک ہی گیا ‘برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ مودی جی اگر شروع میں ہی اس طرح کی جرأتمندی کا مظاہرہ کرتے تو انہیں اور پوری قوم کو ابھی تک اس قدر رسوا نہ ہونا پڑتا۔ وہ اور جئے شنکر جھکتے چلے گئے اور ٹرمپ انہیں دباتا چلا گیا یہاں تک کہ پانی سر سے اونچا ہوگیا تو سانس لینے کے لیے سر اٹھانا مجبوری بن گئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل درآمد کرنے کا بہانہ بنا کر ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کردیا ۔ امریکی صدر کا دوہرا معیارنا قابلِ برداشت ہے کیونکہ خود امریکہ اور اس کے حلیف یورپی ممالک روس سے بڑی مقدار میں تیل، گیس اور کھاد خریدتے ہیں۔ یورپی تنظیم سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے حوالے سے جب ہندوستانی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بابت استفسار کیا تو ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی ۔وہ بولے میں نہیں جانتا حالانکہ یہ ناقابلِ یقین بات ہے اور اگر درست بھی ہوتب بھی ایسے لاعلم صدر کو امریکہ پر حکمرانی اور دنیا بھر پر دبنگائی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ٹرمپ کے سامنے بیٹھ کر برکس کی موت کے اعلان پر مسکرانے والے نریندر مودی نے بالآخرمزاحمت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اپنے قومی مفاد میں روس سے تیل کی درآمدات جاری رکھنے کا اعلان کرنے کے بعد مودی سرکار نے ایک ایسی کارروائی کردی کہ جس سے ٹرمپ کے ہوش ٹھکانے آگئے ہوں گے۔ ہندوستان نے اپنی بحریہ کے لیے امریکی کمپنی بوئنگ سے چھ P-8I Poseidon طیارے خریدنے کا سودا منسوخ کر دیا ۔ ہندوستان کے وسیع سمندری علاقے کے پیش نظر بحریہ کو ایسے جدید طیاروں کی ضرورت ہے جن کی مدد سے بحیرہ عرب اور بحر ہند میں چینی اثر و رسوخ کی نگرانی ممکن ہوسکے۔ یہ امریکہ اور ہندوستان کا مشترکہ مفاد ہے۔ ہندوستانی بحریہ نے2008 اور2016 میں بوئنگ سے ایسے کل 12 طیارے جملہ 27500کروڈ میں خریدے تھے۔ اس کے بعد مئی 2021 میں امریکہ نے ہندوستان کو ایسے چھ طیارے تقریباً 21 ہزار کروڑ روپےخریدنے کی منظوری دی تھی۔ جولائی 2025 تک یہ قیمت بڑھ کر تقریباً 31,500 کروڑ روپے ہو گئی پھر بھی ہندوستان اسے خریدنا چاہتا تھا مگر امریکی صدر نے ٹیرف کی جنگ شروع کرکے اس معاہدے کو غرقاب کردیا یعنی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ والا معاملہ ہوگیا۔
50فیصد ٹیرف کے بم نے سونے کا ڈھونگ کرنے والی مودی سرکار کو ہوشیار اور خبردار کردیا ۔ امریکی حکمنامہ میں ٹرمپ نے اضافی ٹیرف لگاتے ہوئے یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کی تا کید کے باوجود ہندوستان نے روس سے تیل کی درآمد بند نہیں کی۔ اس لیے وہ ٹیرف لگانے پر مجبور ہوئے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے نزدیک یہ امریکہ کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے 25 فیصد اضافی ٹیرف کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر غیر منصفانہ اور غیر معقول قرار دے دیا۔ ہندوستان نے امریکہ کے اس قدم پرافسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک بھی اپنے مفاد میں ایسے ہی اقدامات کر رہے ہیں لیکن صرف ہندوستان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔ اس طرح ٹرمپ کویہ واضح پیغام دیاگیا کہ ملک کے لیے صحیح ا قداما ت کیے جائیں گےاور جسے جو کرنا ہے وہ کرکے دیکھ لے۔حکومتِ ہند کا دیر سے سہی مگر یہ پروقار موقف قابلِ تحسین ہے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ نے روس سے تیل کےدرآمد کی ایک وجہ مارکیٹ سے وابستہ ہونا بتائی ۔ حکومت کے مطابق یہ ملک کے 140 کروڑ لوگوں کو توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے اور ہندوستان وہی کر رہا ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔ ایسے میں یہ اہم ہے کہ ا ٓخر امریکہ اورہندوستان کےدرمیان یہ تجارتی جنگ کیوں چھڑ گئی؟ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت کو پانچویں بڑی معیشت سے کیا پریشانی ہے؟ دراصل ان دونوں ممالک کے درمیان 190 ارب ڈالر سے زائد کے دوطرفہ تجارت ہوتی ہے۔یہ ہندوستان کی کل برآمدات کا 80 فیصد بنتاہے اس لیے اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ہندوستان سے امریکہ کو تقریباً 81 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کی گئیں۔ ہندوستان کی کل معیشت 4 ٹریلین ڈالر ضرور ہے مگراس میں برآمدات کا حصہ نسبتاً کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے ڈالر میں تجارت کرنے لیے ہندوستان کےلیے امریکہ کی برآمدات زیادہ اہمیت کی حامل ہیں ۔
امریکہ کے اس ظالمانہ اقدام سے ہندوستانی معیشت پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔ 50 فیصد ٹیرف کا ٹیکسٹائل، سمندری مصنوعات اور چمڑے کی برآمدات جیسے شعبوں پر منفی اثر پڑے گا ۔ ٹیکسٹائل کے ساتھ ملبوسات، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکل، الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری جیسے شعبے بھی متاثر ہوں گے اور بیروزگاری بڑھے گی۔ اسی لیے بہت سارے ماہرین معاشیات ابھی سے ایک کالی دیوالی کی پیشنگوئی کررہے ہیں۔مودی جی نے جب سے اقتدار سنبھالاہے اڈانی اور امبانی نے تو غیر معمولی ترقی کہ مگر جی ڈی پی کی شرح منموہن دور کے دوہندسوں میں نہیں جاسکی ۔ اس تنازع کے روزہندوستان کے مرکزی بینک (ریزرو بینک آف انڈیا) نے مالی سال اپریل تا مارچ 2024–25 کے لیے معاشی نموکی پیش گوئی 6.5 فیصد پر برقرار رکھی جو پہلے ہی بہت کم ہے اوپر سے امریکی محصولات میں ممکنہ اضافے نے غیر یقینی کی صورتحال میں اضافہ کیا ہے۔امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافہ کااسٹاک مارکیٹ پر اثر پڑنا ایک فطری امر ہے۔ اعلان کے اگلے دن بازار کا آغاز گراوٹ کے ساتھ ہوا۔
سینسیکس 230 پوائنٹس پھسل کر 80,306 کے قریب اور نفٹی 67 پوائنٹس گر کر 64,506 پر کھلا۔ بازارکے کھلتے ہی نفٹی آٹو، نفٹی فنانشل سروسز، میٹل اور ریئلٹی سیکٹر میں فروخت نظر آئی نیز ایف ایم سی جی اور میڈیا سیکٹر میں خریداری دیکھی گئی۔ ابتداء میں نفٹی کے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں بجاج آٹو، ٹرینٹ، ایٹرنل اور نفٹی کے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں سیپلا اور نیسلے انڈیا کے حصص شامل تھے۔شام تک اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا اور سینسیکس 300 پوائنٹس پھسل کر 80,250 پر اور نفٹی 90 پوائنٹس گرکر 24,482 کے قریب ٹریڈ کرنے لگا۔یہ دراصل ا سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے آثار تھےاوراس کے باعث سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوگیا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ٹیرف اور بھارتی کمپنیوں کو کاروباری ہفتے کے آخری دن ممبئی سٹاک ایکسچینج میں زبردست گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ٹیرف دھماکے بعد دوسرے دن ممبئی سٹاک ایکسچینج کے 16میں سے 15شعبے گراوٹ کا شکار رہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نےہندوستانی مارکیٹ سے تقریبا 50 ارب ڈالر نکال لیے، جس سے مارکیٹ پر شدید دبا وپڑا۔
وزیراعظم نریندرمودی دہشت گردی تک سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ٹرمپ کے معاشی سرجیکل کے موقع کو کیونکر گنوا سکتے ہیں۔انہوں اس تنازع کا فائدہ اٹھانے کے لیے کہا کہ ہندوستان کسانوں اورماہی گیروں کے مفاد سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایک ایسا وزیر اعظم جس کے خلاف کسانوں کو میدان میں اتر کر کئی ماہ تحریک چلانی پڑی وہ اگر ٹرمپ کی آڑ میں چھپ کر خود کو کسانوں کا ہمدرد ثابت کرنے کی کوشش کرے تو لوگوں ہنسی آنا فطری ہے۔ مودی کو یہ بات کہنے کا موقع اس لیے ملا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ڈیری اور زراعت کے شعبے کو امریکہ کے لیے کھولنے کے مطالبے کو جب ہندوستان نے ٹھکرا دیا اور نہایت واضح انداز میں کہا کہ وہ کسی قیمت پر یہ بازار امریکیوں کے لیے نہیں کھولے گاتو مذاکرات ٹوٹ گئے۔ویسے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے مگر اس کے ساتھ وزیر اعظم نے یہ احمقانہ بات کہہ کر اپنی بھد پٹوا دی کہ ’ انہیں ذاتی طور پر اس کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی‘۔
یہ ذاتی قیمت چکانے کا دعویٰ بظاہر ناقابلِ فہم ہے مگر اس نے ان کے اندر چھپے عدم تحفظ کےاحساس کو اجاگر کردیا۔ فی الحال ان پر اقتدار چھوڑنے کے چہار جانب سے دباو ہے۔ اندر سے صحت اجازت نہیں دے رہی ہے۔وہ سرجیکل اسٹرائیک بولنے جاتے ہیں تو ایک نہیں دوبار اسٹائیل کہہ دیتے ہیں۔ایوان میں جب راہل تقریر کےدرمیان ٹوک دیتےہیں توہاتھ فوراً پانی کے گلاس کی جانب بڑھ جاتا ہے۔ ایوان بالا میں غیر موثر تقریر کے بعد ایوان بالا میں جاکر بولنے کی ہمت نہیں ہوتی اس لیے امیت شاہ کو بھیجنا پڑتا ہے۔آر ایس ایس بھی بیزار ہوگیا اور پارٹی بھی پیچھا چھڑانا چاہتی ہے۔راہل گاندھی نےچوکیدارپر اب ووٹ کی چوری کا الزام بھی لگا دیا ہے۔اس لیے انہیں اپنا جھولا اٹھاکر جانے کا مہورت دکھائی دینے لگا ہے۔ وہ چاہتے ہوں گے جاتے جاتے اقتدار سے بے دخلی کوکسانوں سے جوڑکرجائیں لیکن سچائی تو یہ ہے کہ ان کا اپنا بنایا ہوا75؍سال میں سبکدوش ہونے ضابطہ انہیں کرسی چھوڑنے کے لیے عار دلا رہا ہے۔ اقتدار کی عیش و عشرت کو چھوڑنا ایک بہت مشکل کام ہے۔ لوگ باگ تو یہ قیاس آرائی بھی کررہے ہیں کہ مودی جی سبکدوش ہوکر صدارتی محل میں منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس قیاس میں اگر سچائی بھی ہو تو انہیں کتنی کامیابی ملے گی یہ کہنا مشکل ہے۔
(۰۰۰۰۰۰جاری)
Like this:
Like Loading...