Skip to content
ننھے روبوٹس: دل کی بند رگیں کھولنے کا نیا انقلابی طریقہ
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
(اکولہ مہاراشٹر)
ہمارے جسم کا سب سے حیرت انگیز انجن، ہمارا دل، زندگی کی دھڑکنوں کو جاری رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا پمپ ہے جو خون کو ہمارے جسم کی نازک شاہراہوں میں بہاتا رہتا ہے۔ مگر کبھی کبھی اس راستے میں رکاوٹیں آ جاتی ہیں۔ یہ رکاوٹیں چکنائی اور کیلشیم کے جمع ہونے سے بنتی ہیں، جسے "پلاک” کہا جاتا ہے۔ یہ پلاک دل کی رگوں کو تنگ کر دیتا ہے اور پھر آتا ہے وہ بڑا حادثہ جس کا نام ہے دل کا دورہ یا فالج۔
دنیا بھر میں دل اور رگوں کی بیماریاں موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ہر سال لاکھوں لوگ ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے سائنسدان دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ان کی ایک دلچسپ اور جدید تحقیق "ننھے روبوٹس” پر ہے، جو ایک نئی امید بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ہمارے جسم کی باریک رگوں میں بآسانی سفر کر سکتے ہیں۔ ان کا کام ہے بیماری والی جگہ تک پہنچ کر دوائی پہنچانا یا پھر رکاوٹ کو دور کرنا۔
یہ ننھے روبوٹس کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ نہیں، بلکہ حقیقت ہیں۔ انہیں جسم کے باہر سے ایک طاقتور مقناطیسی میدان کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ سوچیں، ایک ڈاکٹر باہر سے کنٹرول کرتا ہے اور یہ روبوٹ جسم کے اندر اپنا کام کرتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے سائنسدانوں نے ایک ایسا ہی نظام "اوکٹو میگ” بنایا ہے۔ یہ نظام روبوٹس کو پیچیدہ راستوں میں بھی بڑی مہارت سے چلاتا ہے۔ پہلے یہ آنکھوں کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اب اس سے دل کی رگوں تک پہنچنا ممکن ہو رہا ہے۔
ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ٹوینٹے اور ریڈباوڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے ایک اور کمال کر دکھایا ہے۔ انہوں نے ایک بھیڑ کی شریان میں ایک ننھے روبوٹ کو کامیابی سے داخل کیا۔ اس روبوٹ نے وہاں موجود خون کا لوتھڑا توڑ دیا اور خون کا بہاؤ بحال کر دیا۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ روبوٹس واقعی مشکل راستوں میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ یہ ایک سکرو کی طرح گھومتا ہوا لوتھڑے کو توڑتا ہے، اور پھر اس کے ساتھ کیمیکل کا استعمال کرکے چھوٹے ذرات کو بھی ختم کر دیتا ہے تاکہ وہ آگے جا کر نئی رکاوٹیں نہ بنا سکیں۔
یہ سب ابھی لیبارٹری میں ہو رہا ہے، مگر اس سے یہ امید جاگی ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ہمارے ہسپتالوں کا حصہ بنے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور ٹیکنالوجی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جسے "اینڈوواسکولر روبوٹک سسٹمز” کہتے ہیں۔ یہ ننھے روبوٹس کی طرح آزاد تو نہیں ہوتے، مگر یہ ڈاکٹروں کو کیتھیٹر اور گائیڈ وائر کو دور سے کنٹرول کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔ اس سے ڈاکٹروں کے لیے کام کرنا آسان ہو جاتا ہے اور مریض کو کم تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ کی ایک کمپنی "مائیکروبوٹ میڈیکل” نے اپنا ایک سسٹم "LIBERTY” تیار کیا ہے اور جلد ہی اس کی منظوری کے لیے درخواست دے دی ہے۔
اس شعبے میں کام کرنے والے سائنسدانوں کے سامنے کچھ بڑے چیلنجز بھی ہیں۔ انہیں یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ روبوٹس جسم کے اندر محفوظ رہیں اور ہمارا مدافعتی نظام انہیں نقصان نہ پہنچائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ روبوٹس سستے اور ہر کسی کی پہنچ میں ہوں۔
فی الحال یہ سارا کام تحقیق کے ابتدائی مراحل میں ہے، مگر ماہرین کو یقین ہے کہ جلد ہی یہ ٹیکنالوجی ہمارے علاج کا حصہ بن جائے گی۔ یہ ننھے روبوٹس انسانی صحت کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ زندگی کو محفوظ اور بہتر بنانے کی ایک بہت بڑی کوشش ہے۔
Like this:
Like Loading...