Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ کی پکڑ سے ڈریں اور تکلیف پہنچانے والے نہ بنیں
بقلم: مفتی امدادالحق بختیار
استاذ حدیث و شعبہ افتاء جامعہ اسلامیہ دار العلوم حیدرآباد
Mob: +91 9032528208
– E-mail: ihbq1982@gmail.com
ہمارے معاشرے میں بدگمانی، حسد، جلن، کینہ، بغض، عداوت، تکبر اور انانیت کی بیماری اتنی خطرناک ہوگئی ہے کہ ہمیں کسی کی راحت، کسی کی خوشی، کسی کا آرام، کسی کا سکون کیساتھ دو وقت کھانا کھانا برداشت نہیں، ہم شیطانی تدبیروں میں لگ کر، دوسروں کی زندگی اجیرن بنانے، انہیں تکلیف میں مبتلا کرنے، انہیں پریشانیوں سے دو چار کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور ہم ایسے شیطان صفت ہو گئے ہیں کہ دوسروں کی تکلیف پر ہم خوشی محسوس کرتے ہیں اور اپنے اس عمل کو بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ دوسروں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کرنا، ان پر کیچڑ اچھالنا، ان کو بدنام کرنا، ہمارا پسندیدہ عمل اور پیشہ بن چکا ہے۔
ایمان والوں کا آپسی تعلق
ایک مؤمن کا دوسرے مؤمن کے ساتھ کیسا تعلق ہونا چاہیے، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس کو ایک مثال کے ذریعہ سمجھایا ہے:
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَثَلُ الْمُؤْمِنِینَ فِی تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَتَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَکَی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَی لَہُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمَّی. (صحیح مسلم، 2586)
ترجمہ: ایمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دلی اور شفقت کی مثال ایک انسانی جسم جیسی ہے کہ اگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورا جسم متا?ثر ہوتا ہے، پورا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:
عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی یُحِبَّ لِأَخِیہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ. (صحیح بخاری، حدیث:13)
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
مؤمن کعبہ سے بھی زیادہ محترم
کعبہ شریف جسے پوری دنیا کا انسان عزت واحترام اور عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کی شان میں کسی طرح کی گستاخی کو جائز نہیں سمجھتا، اس کی مثال دیتے ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے نزدیک ایک مؤمن کعبہ سے بھی زیادہ محترم ہے:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَطُوفُ بِالْکَعْبَۃِ، وَیَقُولُ: مَا أَطْیَبَکِ وَأَطْیَبَ رِیحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ! وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَحُرْمَۃُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّہِ حُرْمَۃً مِنْکِ، مَالِہِ وَدَمِہِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِہِ إِلَّا خَیْرًا. (سنن ابن ماجۃ، باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ، 3932.)
حضر ت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کو مخاطب کرکے فرما رہے تھے: تو کتنا پاکیزہ ہے، تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے، تو کتنا عظیم ہے، تیرا احترام کتنا عظیم ہے! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے! مؤمن کا احترام اللہ تعالی کے نزدیک تیرے احترام سے زیادہ عظیم ہیاور مؤمن کا مال اور اس کی جان تجھ سے زیادہ محترم ہیاور ہمیں مؤمن کے ساتھ اچھا گمان ہی رکھنا چاہیے۔
مسلمان کی عزت کے ساتھ کھلواڑ حرام
لہذا کسی مسلمان کی جان ومال اور اس کی عزت و آبرو کے ساتھ کھلواڑ کرنا، جان ومال کے تعلق اس کو نقصان پہنچانا، یا اس کی عزت کو نیلام کرنے کی کوشش کرنا، اس کو بدنام کرنے کے درپے ہونا، یہ تمام چیزیں حرام ہیں، اور اسلام کی نگاہ میں بہت بڑا معاشرتی اور انسانی جرم ہے:
عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ، ذُکِرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ – قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُہُ قَالَ – وَأَعْرَاضَکُمْ، عَلَیْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا. (صحیح بخاری، 105)
نبی ﷺ نیحجۃ الوداع کے موقع پر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: یقیناً تمہاری جان، تمہارا مال، تمہاری عزتیں، تم میں سے ایک دوسرے پر حرام ہے، جیسے آج کا دن محترم ہے۔
دوسروں کو بدنام کرنے والوں کو اللہ رسوا کرے گا
اس وقت ہمارے معاشرہ کی اتنی بری حالت ہوگئی ہے کہ ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے، جنہیں دوسروں کی عزت، ان کی نیک نامی اور ان کی اچھی حالت دیکھی نہیں جاتی؛ لہذا وہ اس چکر میں رہتے ہیں کہ کسی طرح ان کو بدنام کردیا جائے، ان کو معاشرہ میں اور خاندان میں رسوا اور بدنام کردیا جائے، حالانکہ یہ ان کی اتنی غلط حرکت ہے کہ جس سزا کے طور پر اللہ تعالی ایسی حرکت کرنے والوں کو بھی دنیا میں رسوا کر دیتا ہے، تو اندازہ لگائیں کہ اگر ایک انسان کسی دوسرے کو رسوا کرنا چاہے، تو ممکن ہے کہ وہ اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو؛ لیکن اس کی سزا کے طور پر جب اللہ تعالی اس کو رسوا کریں گے، تو اس شخص کو رسوا ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔
عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم المِنْبَرَ فَنَادَی بِصَوْتٍ رَفِیعٍ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یُفْضِ الإِیمَانُ إِلَی قَلْبِہِ، لَا تُؤْذُوا المُسْلِمِینَ وَلَا تُعَیِّرُوہُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِہِمْ، فَإِنَّہُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَۃَ أَخِیہِ المُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّہُ عَوْرَتَہُ، وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ وَلَوْ فِی جَوْفِ رَحْلِہِ. (ترمذی شریف، باب ما جاء فی تعظیم المؤمن، 2032)
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے، پھر بلند آواز سے پکار کر فرمایا: اے ایسے لوگوں کی جماعت، جو زبان سے مسلمان ہوئے اور ایمان ان کے دل تک نہیں پہنچا! مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچاؤ، نہ انہیں عار دلاؤ، نہ ان کی پوشیدہ چیزوں کے پیچھے پڑو؛ کیوں کہ جب کوئی اپنے مسلمان بھائی کی پوشیدہ چیزوں کے پڑتا ہے، تو اللہ تعالی اس شخص کی پوشیدہ چیزوں کے پیچھے پڑتا ہے اور جس کی پوشیدہ چیزوں کے پیچھے اللہ تعالی پڑ جائے، تو اللہ تعالی اسے رسوا کر دیتا ہے؛ چاہے وہ اپنے کجاوے کے (گھر)کے اندر ہو۔
تکلیف پہنچانے والے مومن نہیں
ایک دوسری روایت میں تو آپ ﷺنے مسلمان بھائی کی ایذاء رسانی کو ایمان کے منافی قرار دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار قسم کھاکر فرمایا: بخدا وہ شخص مو?من نہیں جس کے شر سے اُس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔ (صحیح بخاری، 5670)
جب پڑوسی کے بارے میں یہ حکم ہے، تو رشتہ داروں کے بارے میں کیا حکم ہوگا، جس کے بارے میں اللہ کی دھمکی ہے: جو رشتہ داری کو توڑے گا، میں اس کو توڑ دوں گا۔
حضرت فضیلؒ فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں، تو مومنین ومومنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۸۵، ص۰۵۹)
ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ کسی طرح سے سامنے والے کو زیر کیا جائے، اس کو معاشی طور پر کنگال کیا جائے، اس کو کسی بھاری نقصان میں ڈالا جائے، وہ معاشی طور پر مضبوط نہ ہونے پائے، ایسے لوگ کھان کھول کر سن لیں کہ ہمارے آقاء محبوب رب کائنات ﷺایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں، وہ مومن نہیں ہو سکتے۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ، وَالمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلَی دِمَائِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ. (سنن ترمذی، باب ما جاء فی أن المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، 2627)
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مؤمن وہ ہے، جس سے لوگوں کی جان ومال محفوظ ہو۔
تکلیف پہنچانے والے کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سزا
دوسروں کو تکلیف پہنچانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ ایسا جرم ہے، جس کی سزا اللہ تعالی آخرت کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی دیتے ہیں؛ لہذا آج اگر آپ کسی کو تکلیف پہنچا رہے ہیں، تو یاد رکھیں، ایک دن آپ کی باری ضرور آئے گی، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد عالی ہے:
عَنْ أَبِی صِرْمَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّہُ بِہِ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّہُ عَلَیْہِ. (سنن الترمذی، بَابُ مَا جَائَ فِی الخِیَانَۃِ وَالغِشِّ، 1940)
جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا۔
حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلط کردی جائے گی، تووہ اپنے جسم کوکھجلائیں گے؛ حتی کہ ان میں سے ایک کے چمڑے سے ہڈی ظاہر ہو جائے گی، تو اسے پکارا جائے گا:اے فلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟وہ کہے گا:ہاں پکارنے والا کہے گا:تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا، یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ۔۔۔ الخ، الباب الثالث، ۲ / ۲۴۲)
درج ذیل حدیث سے آپ اندازہ لگائیں کہ جب ایک بلی کو تکلیف پہنچانے پر اللہ تعالی انسان کو سزا دیتا ہے، تو پھر اگر کوئی کسی انسان کو تکلیف پہنچائے، تو اس کی سزا کیا ہوگی!
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما: أَنَّ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: عُذِّبَتِ امْرَأَۃٌ فِی ہِرَّۃٍ حَبَسَتْہَا حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا، فَدَخَلَتْ فِیہَا النَّارَ، قَالَ: فَقَالَ وَاللہُ أَعْلَمُ: لَا أَنْتِ أَطْعَمْتِہَا وَلَا سَقَیْتِہَا حِینَ حَبَسْتِیہَا، وَلَا أَنْتِ أَرْسَلْتِیہَا فَأَکَلَتْ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ. (صحیح بخاری، 2236)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا؛ کیوں کہ اس نے بلی کو باندھ کر رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی، تو وہ عورت اس کی وجہ سے جہنم میں گئی اور اس سے کہا گیا کہ نہ تونے اس بلی کو کھلایا نہ پلایا جبکہ تونے اسے باندھ کر رکھا اور نہ تونے اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا سکتی۔
دوسروں کو تکلیف پہنچانے والے ملعون
جو شخص دوسروں کو کسی بھی اعتبار سے تکلیف پہنچاتا ہے یا کسی کے خلاف سازشیں کرتا ہے، اس کی زندگی بڑے خطرے میں ہوتی ہے؛ کیوں کہ اس سے اللہ تعالی کی رحمت ہٹ جاتی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم: مَلْعُونٌ مَنْ ضَارَّ مُؤْمِنًا أَوْ مَکَرَ بِہِ. (سنن الترمذی، بَابُ مَا جَائَ فِی الخِیَانَۃِ وَالغِشِّ، 1941)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مؤمن کو تکلیف پہنچائے یا اس کے خلاف سازش کرے، وہ ملعون ہے۔
اور ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا کہ اس پر اللہ تعالی رحم نہیں کرتا:
عَن جَرِیر بْن عَبْدِ اللہِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ لَا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ. (صحیح بخاری، 5667)
نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
امام غزالی اور جانور کی تین اقسام:
امام غزالی نے اپنی کتاب ’’احیاء علوم الدین‘‘ میں جانور کی تین قسمیں بیان کی ہیں:
1-انسانوں کو فائدہ پہنچانے والے جانور جیسے: گائے، بکرا وغیرہ۔ 2- انسانوں کو تکلیف پہنچانے والے جانور جیسے: سانپ، بچھو، درندے وغیرہ۔ 3- وہ جانور جو نہ انسانوں کو تکلیف دیتے ہیں اور نہ بظاہر کوئی فائدہ پہنچاتے جیسے: جنگل میں رہنے والے جانور لومڑی، گیدڑ وغیرہ۔
پھر اس کے بعد امام غزالی نے انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ بہتر تو یہ ہے کہ آپ انسان رہیں؛ لیکن اگر آپ جانور ہی بننا چاہتے ہیں تو پہلی یا تیسری قسم کے جانور بنیں، جن سے انسانوں کو یا تو فائدہ پہنچتا ہے، یا کم از کم نہ فائدہ اور نہ کوئی نقصان پہنچتا ہے؛ دوسری قسم کے جانور نہ بنیں، جن سے انسانوں کو صرف اور صرف نقصان پہنچتا ہے۔
دوسروں کو تکلیف پہنچاتے وقت اللہ کی قدرت کو ذہن میں لائیں
اخیر میں عرض یہ ہے کہ جب ہمارا شیطان نفس کسی کے خلاف سازش کرنے کو ہمیں کہے، کسی کو تکلیف پہنچانے کو ہمیں آمادہ کرنے کی کوش کرے، کسی کو بدنام اور رسوا کرنے پر ہمیں ابھارے، تو ہم یہ ذہن میں لائیں کہ اگر اللہ تعالی نے ہم سے انتقام لیا اور ہمیں ہماری اس حرکت پر دنیا میں ہی سزا دی تو ہمارا کیا حشر ہوگا؛ کیوں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی کی وارننگ ہے: یقینا تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ (سورہ بروج:13)
Like this:
Like Loading...