Skip to content
تحریک آزادی میں اردو صحافت کا فکری، سیاسی اور انقلابی کردار
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
تاریخ کی گزر گاہوں میں ایسی کہانیاں کم ہی ملتی ہیں جہاں قلم کی نوک نے تلوار سے زیادہ فیصلہ کن کردار ادا کیا ہو۔ برصغیر کی تحریک آزادی کا قصہ انہی داستانوں میں سے ایک ہے، جس میں اردو صحافت نے محض ایک مواصلاتی ذریعہ ہونے کے بجائے، ایک فکری، سیاسی اور انقلابی محاذ کا فریضہ سرانجام دیا۔ یہ وہ دور تھا جب بیداری کی لہریں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھیں اور برطانوی استعمار کے آہنی شکنجوں میں جکڑے ہوئے اذہان کو آزاد کرنے کے لیے ایک مضبوط بیانیے کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو اردو صحافت نے پورا کیا اور ایسا کرنے میں، اس نے اپنی شناخت کو خبروں کے ایک سطحی مجموعے سے بلند کر کے ایک نظریاتی قوت میں تبدیل کر دیا۔ یہ ایک ایسی منفرد صورتحال تھی جہاں ایک زبان اور اس کی صحافت نے ایک قوم کے اجتماعی شعور کی تشکیل، اس کے حقوق کی ترجمانی اور آزادی کے جذبے کو پروان چڑھانے کا غیر معمولی فریضہ انجام دیا۔
جب ہم اس دور کی اردو صحافت کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کا کردار صرف خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں تھا۔ یہ دراصل ایک ایسا فکری پلیٹ فارم تھا جو قوم کو ایک نئے نظریہ حیات سے روشناس کرا رہا تھا۔ اس کا آغاز گو کہ اصلاحی اور ادبی مقاصد کے تحت ہوا، جیسا کہ ۱۸۲۲ء میں شروع ہونے والے ‘جامِ جہاں نما’ جیسے ابتدائی اخبارات سے ظاہر ہوتا ہے، مگر ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد اس کا محور مکمل طور پر سیاسی ہوگیا۔ دہلی سے شائع ہونے والے ‘دہلی اردو اخبار’ کے مدیر مولوی محمد باقر کی شہادت اس دور کا ایک ایسا سنگِ میل ثابت ہوئی جس نے یہ ثابت کر دیا کہ قلم کی حرمت کا تحفظ خون سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کی قربانی نے برطانوی حکومت کو یہ پیغام دیا کہ اردو صحافت ایک ناقابلِ تسخیر قوت ہے، جسے جبر اور تشدد سے دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ واقعہ عالمی صحافت کی تاریخ میں ان اولین واقعات میں سے ایک ہے جہاں کسی صحافی نے اپنے اصولوں کی پاسداری میں اپنی جان قربان کی۔ اس کے بعد اردو صحافت نے فکری اور سیاسی مزاحمت کی ایک نئی جہت اختیار کر لی، جہاں ہر اخبار اور رسالہ اپنے مخصوص نظریاتی رنگ کے ساتھ آزادی کے چراغ کو روشن رکھنے میں مصروف تھا۔
اس دور کے عظیم صحافیوں میں مولانا ابوالکلام آزاد کا نام سرفہرست ہے۔ ان کے اخبارات ‘الہلال’ اور ‘البلاغ’ محض اخبار نہیں تھے، بلکہ یہ فکری، سیاسی اور مذہبی شعور کی یونیورسٹیوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ مولانا آزاد نے قرآن، حدیث اور اسلامی تاریخ کے گہرے مطالعے کی بنیاد پر آزادی کی ایسی دلائل پیش کیں کہ وہ مسلمانوں کے دلوں کو چھو گئیں۔ ان کا بیانیہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کی بجائے، برصغیر کے تمام باشندوں کو ایک متحدہ قوم کی حیثیت سے انگریزوں کے خلاف متحد کرنے پر مرکوز تھا۔ ان کی تحریریں فصاحت و بلاغت، ادبی چاشنی اور فکری عمق کا ایک حسین امتزاج تھیں۔ ان کے ایک ایک لفظ میں انقلابی قوت تھی۔ ان کی تحریروں نے جہاں ایک طرف سیاسی بیداری پیدا کی، وہیں دوسری طرف مسلمانوں میں خود اعتمادی اور ایک نئے عزم کی روح پھونکی۔ یہ عالمی طور پر مقبول اس اصول کی ایک بہترین مثال تھی کہ جب کوئی نظریہ کسی طاقتور اور پرکشش بیانیے کے ساتھ پیش کیا جائے تو اس کا اثر ناقابل یقین حد تک گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔
اسی طرح مولانا ظفر علی خان کے ‘زمیندار’ اخبار نے مسلمانوں میں ایک نئی سیاسی بیداری پیدا کی۔ اس اخبار نے اپنی جرات مندانہ اور بے باک صحافت کے ذریعے انگریزوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور مسلم قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔ مولانا محمد علی جوہر کے ‘ہمدرد’ اور انگریزی ہفت روزہ ‘کامریڈ’ نے خلافت اور ترک موالات جیسی عالمی اور علاقائی تحریکوں کو فکری بنیادیں فراہم کیں۔ ان صحافیوں نے صرف صحافت نہیں کی بلکہ وہ خود ان تحریکوں کے روحِ رواں اور قائد تھے جنہوں نے جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کا یہ کردار عالمی صحافتی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، جہاں صحافی محض ناظر نہیں بلکہ عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر ہم اس کا تقابل عالمی منظرنامے سے کریں تو فرانسیسی انقلاب میں ‘لوئی’ اور ‘مارا’ جیسے صحافیوں کا کردار یا امریکی جنگ آزادی میں ‘تھامس پین’ کی ‘کامن سنس’ جیسی تحریروں کا اثر بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ بڑے انقلابات کے پیچھے زبان اور اس کی قوت، یعنی صحافت، ایک کلیدی محرک رہی ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اردو صحافت نے تحریک آزادی کے دوران نہ صرف سیاسی بیداری پیدا کی بلکہ اس نے عوامی سطح پر قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔ کئی اخبارات میں ہندو اور مسلم رہنماؤں کے مشترکہ بیانات اور مضامین شائع ہوتے تھے۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ آزادی کا مقصد تمام برصغیر کے باسیوں کا مشترکہ مقصد تھا۔ اس دوران انگریز حکومت نے اردو اخبارات کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا۔ ‘پریس ایکٹ ۱۹۱۰’ جیسے قوانین، جو کہ پریس کی آزادی پر ایک منظم حملہ تھا، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حکومت ان اخبارات کی طاقت سے کس قدر خوفزدہ تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر یہ آوازیں گونجتی رہیں تو ان کی حکومت کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ یہ ایک ایسے دور کی کہانی ہے جہاں آزادی اظہار ایک قانونی حق نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری فرض تھا، جسے ان صحافیوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر پورا کیا۔
عالمی تناظر میں جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور حکومتی احتساب کے لیے آزاد صحافت کو ایک بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ ‘کونسل آن فارن ریلیشنز’ اور ‘پیو ریسرچ سینٹر’ جیسی بین الاقوامی تحقیقاتی تنظیموں کی رپورٹس اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ جس ملک میں پریس کی آزادی زیادہ ہوتی ہے، وہاں جمہوری ادارے زیادہ مستحکم اور حکمرانی زیادہ شفاف ہوتی ہے۔ ‘رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ کی عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں برصغیر کے ممالک کی موجودہ درجہ بندی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پریس کی آزادی اب بھی ایک چیلنج ہے۔ تاہم، تحریکِ آزادی کے دور میں اردو صحافت نے جس جرات اور بے باکی کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اس دور میں آزادیِ صحافت ایک قانونی حق نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور فکری فرض تھا، جسے ان صحافیوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر پورا کیا۔
اردو صحافت کی فکری گہرائی اور اس کا عالمی تناظر آپس میں گہرے تعلق رکھتے ہیں۔ ‘پیسہ اخبار’ جس کے بانی منشی محبوب عالم تھے، نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی خبروں کو آسان زبان میں پیش کیا۔ اس طرح ایک عام آدمی بھی عالمی حالات سے واقف ہوتا اور اسے اپنی جدوجہد کا عالمی تناظر سمجھنے میں مدد ملتی۔ اس طرح کے اخبارات کم قیمت پر دستیاب تھے اور ان کی رسائی دور دراز دیہاتوں تک تھی۔ اسی طرح جواہر لعل نہرو کی سرپرستی میں نکلنے والے ‘قومی آواز’ اور سبھاش چندر بوس کے خیالات کی ترجمانی کرنے والے اخبارات نے بھی آزادی کی جدوجہد کو مختلف جہتوں سے تقویت بخشی۔ ان اخبارات نے نہ صرف انگریزوں کی پالیسیوں پر تنقید کی بلکہ ہندوستانیوں کو ان کے حقوق اور آزادی کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آزادی کی جدوجہد کے اس نازک مرحلے میں اردو صحافت نے مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک ہی اخبار کے صفحات پر ہندو اور مسلمان رہنماؤں کے بیانات اور مضامین شائع ہوتے تھے جو یہ ثابت کرتے تھے کہ آزادی کا مقصد تمام برصغیر کے باسیوں کا مشترکہ مقصد ہے۔ یہی وجہ تھی کہ برطانوی حکومت نے اردو اخبارات کو خاص طور پر ہدف بنایا اور ان پر سخت سنسر شپ نافذ کی۔ پریس ایکٹ جیسے قوانین اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت ان اخبارات کی طاقت سے خوفزدہ تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر یہ آوازیں گونجتی رہیں تو ان کی حکومت کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
آج اگر ہم اردو صحافت کے اس تاریخی کردار کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ محض ایک لسانی اور ثقافتی ورثہ نہیں بلکہ فکری اور سیاسی میراث ہے۔ یہ وہ میراث ہے جو آنے والی نسلوں کو یہ سکھاتی ہے کہ قلم کی حرمت اور سچائی کی طاقت کس قدر بڑی ہوتی ہے۔ عالمی اداروں جیسے کہ ‘کونسل آن فارن ریلیشنز’ اور ‘پیو ریسرچ سینٹر’ کی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ صحافت کا کردار صرف خبر دینا نہیں، بلکہ عوامی رائے کی تشکیل، حکومتی احتساب اور جمہوری اقدار کی پاسداری بھی ہے۔ اردو صحافت نے آزادی کے دور میں اسی کردار کو نبھایا اور ایک قوم کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی آزادی کا خواب دیکھ سکے اور اسے حقیقت میں بدل سکے۔
اردو صحافت کی یہ داستان صرف پرانے اداریوں، جلی حروف اور تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ روایت ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب کوئی زبان اپنے لوگوں کے خوابوں کی ترجمان بنتی ہے، تو وہ زبان محض بات چیت کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ انقلاب اور تبدیلی کا ایک طاقتور ہتھیار بن جاتی ہے۔ یہ داستان ایک قوم کی جدوجہد، قربانی اور استقامت کی کہانی ہے، جسے قلم اور کاغذ نے اپنے سینے میں محفوظ کیا اور اسے آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔ اس طرح اردو صحافت کا کردار صرف تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ایک مشعل ہے جو آج بھی سچائی کی تلاش میں سرگرداں صحافیوں کو راستہ دکھاتی ہے۔
Like this:
Like Loading...