Skip to content
آزادی ہندمیں مسلمانوں کی قیادت اور قربانیاں
محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374
۔athar.gul@gmail.com
15 اگست 1947 کا دن برصغیر کی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہندوستان نے طویل غلامی کے بعد آزادی حاصل کی۔ انگریز سامراج کے خلاف برسوں کی جدوجہد، قربانیوں اور تحریکوں کے بعد آخرکار آزادی کی صبح طلوع ہوئی۔ آزادی کا یہ سورج ایک دن میں طلوع نہیں ہوا، بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کی قربانیاں، قید و بند کی صعوبتیں اور بے شمار شہادتیں چھپی ہوئی ہیں۔ اس جدوجہد میں جہاں ہندو، سکھ اور عیسائی بھائیوں کا کردار نمایاں ہے، وہیں مسلمانوں کی قیادت اور قربانی بھی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔تحریکِ آزادی ہند صرف ایک طبقے یا ایک مذہب کی کاوش نہیں تھی، بلکہ اس میں مسلمانوں کی قیادت اور قربانیوں کا حصہ اتنا ہی نمایاں ہے جتنا دیگر طبقات کا۔ یومِ آزادی کا دن ہمیں مسلمانوں کی قیادت اور قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں نہ صرف ان قربانیوں کو یاد رکھنا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بتانا ہے کہ وطن کی آزادی اور سلامتی کے لیے اتحاد، محنت اور قربانی ہی کامیابی کا راز ہے۔یہ آزادی ہمیں کسی نے تحفہ میں نہیں دی۔یہ ہمارے آبا کے خون کی قیمت پر ملی ہے۔ اس مٹی کے ذرے ذرے میں شہیدوں کا لہو شامل ہے، اس ہوا میں مجاہدوں کی دعائیں بسی ہوئی ہیں، اس پرچم کی ہر لہر میں قربانی کی خوشبو ہے۔آزادی ہمیں ورثے میں نہیں ملی، یہ ہمارے اسلاف کے خون اور قربانیوںسے حاصل ہوئی ہے۔ 1857 سے 1947 تک، مسلمانوں نے ہر محاذ پر جان و مال قربان کیا۔ بہادر شاہ ظفر سے مولانا آزاد تک ، قیادت میں مسلم رہنما پیش پیش رہے۔ علمائے کرام نے قید و بنداور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں،کئی ، شہادتیں ہوئیں۔ یہ وطن سب کا ہے، اس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔آج ہمارا فرض ہے کہ ہم اس وطن کی حفاظت کریں، بھائی چارے کو فروغ دیں اور محنت و دیانت سے اس کی ترقی میں اپنا کردار اداکریں۔”ہم اس آزادی کو سنبھال کر رکھیں ، اور اس وطن کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں ”۔وطن کی حرمت، وفاداری اور محبت ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے ۔یومِ آزادی پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اُن مسلم رہنماؤں اور شہداء کو یاد کریں جنہوں نے وطن کی آزادی کے لئے سب کچھ قربان کیا۔
جنگِ آزادی 1857ء برصغیر کی تاریخ میں ایک عظیم اور فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس جنگ کو ”پہلی جنگِ آزادی” بھی کہا جاتا ہے۔ہندوستان کے باسیوں نے برطانوی استعمار کے خلاف پہلی بڑی منظم جدوجہد کی، جسے تاریخ میں ”پہلی جنگِ آزادی” یا ”غدر 1857ء” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ جنگ مختلف مذاہب، نسلوں، اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مل کر لڑی، لیکن مسلمانوں نے اس میں نہ صرف بھرپور قیادت فراہم کی بلکہ بے شمار قربانیاں بھی دیں۔ہندوستان کی پہلی جنگِ آزادی 1857 میں شروع ہوئی، جس میں مسلمانوں نے قیادت کا علم بلند کیا۔ بہادر شاہ ظفر جنگ آزادی کی علامت بنے۔ دہلی، لکھنؤ، کانپور، جھانسی اور دیگر علاقوں میں مجاہدین نے انگریز سامراج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا،مولوی احمد اللہ شاہ فیض آبادی ایک انقلابی عالم جنہوں نے جھانسی اور دیگر علاقوں میں انگریزوں کے خلاف جہاد کی قیادت کی۔ اس جنگ میں علمائے دین جیسے مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا احمد اللہ شاہ مدراسی، مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے عملی قیادت کی اور قید و بند اور پھانسی کی سزائیں قبول کیں،درجنوں جید علماء کو انگریزوں نے پھانسی دی یا قید و بند کی صعوبتیں دیں۔ اکابر علما ء کرام نے نہ صرف فتوے دے کر آزادی کی تحریک کو مذہبی جواز فراہم کیا بلکہ خود میدانِ عمل میں شریک ہوئے۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں مسلمان سپہ سالار اور علما پیش پیش تھے۔ بہادر شاہ ظفر کو علامتِ آزادی بنایا گیا، جب بہادر شاہ ظفر نے تخت و تاج کی پرواہ نہ کی، بلکہ اپنے وطن کی خاطر جلاوطنی قبول کی۔ہزاروں مسلمان شہید ہوئے، املاک ضبط ہوئیں، مدارس، مساجد، اور علمی مراکز سمیت مسلمانوں کے تعلیمی اور مذہبی ادارے تباہ کیے گئے، 1857ء کی جنگ کے بعد مسلمانوں کو انگریزوں کی طرف سے شدید شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور ان کی سیاسی طاقت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا،اس جنگ کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو دشمن سمجھ کر ان کی سیاسی، سماجی، اور اقتصادی حیثیت کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ مسلمانوں کو ملازمتوں، تعلیم، اور کاروبار سے دور کر دیا گیا۔ جنگِ آزادی 1857ء میں مسلمانوں کی قیادت اور قربانی نہ صرف ایک تاریخی حقیقت ہے بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اگرچہ یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی، لیکن یہی جدوجہد بعد کے ادوار میں برصغیر کی تحریکِ آزادی کی بنیاد بنی۔
شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے ریشمی رومال تحریک کے ذریعے بیرونی طاقتوں سے مدد لینے کی کوشش کی، مگر گرفتار ہو کر مالٹا کی جیل میں قید و بند کی سختیاں برداشت کیں۔مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک میں قیادت کی،مولانا محمد علی اور شوکت علی نے خلافت تحریک اور عدم تعاون تحریک میں قائدانہ کردارادا کیا اور برطانوی حکومت کے خلاف عوام کو منظم کیا،مولانا محمد علی جوہرنے اعلان کیا: ”میں غلام ہندوستان واپس نہیں جاؤں گا!” اور لندن کی سرزمین پر آزادی کی تمنا لیے جان دے دی۔مولانا ابو الکلام آزاد ، کانگریس کے صدر اور متحدہ قومیت کے حامی نے متحدہ قومیت کا نعرہ بلند کیا اور آزادی کے آخری دن تک ہندوستان کی سالمیت کے حامی رہے،مولانا ابو الکلام آزاد نے آزادی کے لئے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی۔حکیم اجمل خان ، طبیب، سیاستدان اور کانگریس کے قائد، تحریکِ آزادی کے بڑے رہنمانے سیاست، تعلیم اور طب کے میدان میں برطانوی حکومت کے خلاف محاذ کھولا۔ٹیپو سلطان، میسور کے شیر، نے برطانوی فوج کے خلاف اپنی جان قربان کی،ٹیپو سلطان برطانوی سامراج کے خلاف عملی جہاد کی علامت بنے، اگرچہ یہ آزادی ہند کی پہلی صدی میں ہوا، لیکن اُن کی جدوجہد بعد کی تحریکوں کے لیے حوصلہ بنی۔ٹیپو سلطان نے کہا: ”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!” اور آخری سانس تک لڑتے رہے۔مولانا فضل حق خیرآبادی، جنہیں کالے پانی کی قید میں زہر دیا گیا، مگر لبوں پر آزادی کا ترانہ تھا۔اشفاق اللہ خان نے کاکوری سازش کیس میں پھانسی قبول کی مگر انگریزوں کے سامنے جھکے نہیں۔اشفاق اللہ خان، جن کے لبوں پر پھانسی کے پھندے تک انقلاب زندہ باد! کا نعرہ گونجتا رہا۔سر سید احمد خان نے تعلیم و بیداری کی تحریک چلائی، مسلمانوں کو جدید علوم کی طرف راغب کیا تاکہ وہ آزادی کی جدوجہد میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ مسلمان صحافیوں نے آزادی کی جدوجہد میں قلم کو تلوار بنایا۔ مولانا حسرت موہانی نے ”انقلاب زندہ باد” کا نعرہ دیا، مولانا ظفر علی خان نے اپنے اخبار زمیندار کے ذریعے عوام کو بیدار کیا۔ ہزاروں مسلمان قید خانے کی سختیاں سہتے رہے۔ بہت سے علما اور قائدین کو انڈمان کی سزائے کالاپانی دی گئی۔ مسلم تاجروں اور زمینداروں نے اپنی دولت تحریکِ آزادی کے لیے وقف کر دی۔اس کے علاوہ ہزاروں گمنام مجاہدین جن کے نام تاریخ میں محفوظ نہیں، مگر جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
15 اگست 1947 صرف ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ آزادی کی علامت، قربانیوں کا نشان، اور ایک نئے سفر کی شروعات ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو یاد رکھیں، سیکھیں، اور اپنی آنے والی نسلوں کو آزادی کی قدر کرنا سکھائیں۔15 اگست صرف ایک آزادی کادن نہیں، بلکہ صدیوں کی قربانیوں، آنسوؤں اور لہو کی یاد ہے۔یومِ آزادی مسلمانوں کی قیادت، قربانی اور وفاداری کا دن ہے،یوم آزادی صرف جشن منانے کا دن نہیں، بلکہ خود احتسابی، ترقی، اور قربانیوں کو یاد رکھنے کا دن ہے۔آج جب ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آزادی ہمیں ورثے میں نہیں ملی۔ یہ ہمارے اسلاف کے خون، پسینے اور قربانیوں کا نتیجہ ہے،جنگِ آزادی میں مسلمانوں نے نہ صرف بھرپور شرکت کی بلکہ اس جدوجہد کی قیادت بھی کی۔ مسلمانوں نے اس تحریک کو نہ صرف سیاسی بلکہ دینی و قومی فریضہ سمجھ کر اپنایا۔ اس آزادی کی حفاظت ہمارا دینی، قومی اور اخلاقی فرض ہے۔آئیے! آج عہد کریں کہ ہم اس آزادی کی حفاظت کریں گے اور اپنے وطن کو امن، بھائی چارے اور ترقی کی مثال بنا دیں گے،ہم اپنے ملک کو تعلیم، امن، انصاف اور اتحاد کا گہوارہ بنائیں گے۔آج کا دن ہمارے لیے صرف خوشی کا دن نہیں۔یہ دن ہے اُن شہیدوں کو یاد کرنے کا، جن کے لہو سے یہ چمن مہکا ہے۔ یہ دن ہے اُن قائدین کو سلام کرنے کا، جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں سہ کر بھی آزادی کا پرچم بلند رکھا۔آئیے آج عہد کریں،ہم اس آزادی کی حفاظت کریں گے!ہم اس وطن کی عزت بڑھائیں گے!ہم بھائی چارے کو فروغ دیں گے!ہم محنت، دیانت اور اتحاد کے ہتھیار سے اپنے ملک کو دنیا کا سب سے مضبوط قلعہ بنا دیں گے!
ہندوستان زندہ باد!آزادی پائندہ باد!جئے ہند – جئے بھارت!
Like this:
Like Loading...