ڈیجیٹل غلامی سے آزادی: بھارت کی سیکیورٹی اور خود مختاری کے لئے سب سے بڑا چیلنج
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)
www.alhilalmedia.com;
اکیسویں صدی کی اس انقلابی دنیا میں، جہاں سرحدوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے اور ڈیجیٹل رابطے زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر چکے ہیں، بھارت کے لیے ڈیجیٹل خودمختاری کا مسئلہ ایک پیچیدہ اور حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ محض اقتصادی ترقی یا تکنیکی برتری کا سوال نہیں، بلکہ اس کا تعلق براہ راست قومی سلامتی، حکومتی خود مختاری اور عوام کے بنیادی حقوق سے ہے۔ عالمی سیاست، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے، اور بھارت اس عالمی منظر نامے میں اپنی جگہ بنانے کی جدوجہد میں ہے، لیکن اس کی ڈیجیٹل بنیادیں بڑی حد تک غیر ملکی کمپنیوں کی اجارہ داری کے زیرِ اثر ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک ایسے بحران کی نشاندہی کرتی ہے جس کا اگر بروقت اور مؤثر حل نہ نکالا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
موجودہ ڈیجیٹل منظر نامے پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی ڈیجیٹل دنیا بڑی حد تک مغربی ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں، خاص طور پر امریکہ کی بڑی کمپنیوں جیسے گوگل، میٹا (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ) اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی گرفت میں ہے۔ یہ کمپنیاں بھارت میں ایک بے پناہ صارف کی بنیاد رکھتی ہیں، جہاں اربوں روپے کا تجارتی لین دین اور بے انتہا حساس ڈیٹا ان کے پلیٹ فارمز پر منتقل ہوتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، بھارت کے 90 فیصد سے زائد موبائل صارفین گوگل اینڈرائیڈ اور 450 ملین سے زائد صارفین واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر صارفین کی ذاتی معلومات، مالیاتی ڈیٹا، اور کمیونیکیشن ہسٹری کی ایک بہت بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس حساس ڈیٹا کا ایک بڑا حصہ امریکہ اور دیگر ممالک کے سرورز پر ذخیرہ اور پراسیس ہوتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف پرائیویسی کے خدشات کو جنم دیتا ہے بلکہ غیر ملکی حکومتوں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اس ڈیٹا تک ممکنہ رسائی بھی فراہم کرتا ہے، جو بھارت کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ایف بی آئی اور دیگر ایجنسیاں سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی ٹیک کمپنیوں سے ڈیٹا حاصل کرتی رہی ہیں، اور چونکہ یہ ڈیٹا بھارت سے باہر ذخیرہ ہوتا ہے، لہذا بھارت کی حکومت اس پر مکمل کنٹرول نہیں رکھ پاتی۔
تکنیکی پہلوؤں سے دیکھا جائے تو بھارت کا انحصار ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ملک الیکٹرانک چپس اور سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار میں ابھی تک خود کفیل نہیں ہے۔ ان جدید ترین اجزاء کی فراہمی میں بھارت مکمل طور پر امریکہ، تائیوان اور دیگر ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ یہ انحصار صرف عام استعمال کی مصنوعات تک محدود نہیں، بلکہ دفاعی نظام، سائبر سکیورٹی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ترین ملکی فوجی ساز و سامان میں بھی یہی غیر ملکی چپس استعمال ہوتے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین نے اس مسئلے پر مسلسل خبردار کیا ہے۔ سابق بھارتی آرمی چیف اور دفاعی تجزیہ نگار، جنرل وی پی ملک نے ایک انٹرویو میں اس انحصار کو بھارت کی فوجی خودمختاری کے لیے ایک "کمزوری” قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ممالک اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر بھارتی دفاعی نظام میں ‘بیک ڈورز’ یا سکیورٹی ہولز ڈال سکتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ 2025 میں پاک-بھارت کشیدگی کے دوران ہونے والے بڑے سائبر حملوں نے اس خطرے کو مزید اجاگر کیا، جب کئی سرکاری ویب سائٹس اور اہم انفراسٹرکچر غیر ملکی ہیکروں کے حملوں کا نشانہ بنے۔ اس واقعے نے حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ نہ صرف دفاعی بلکہ ڈیجیٹل سکیورٹی کے شعبے میں بھی خود انحصاری کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کرے۔
دنیا کے دیگر ممالک نے ڈیجیٹل خودمختاری کے اس چیلنج کو مختلف طریقوں سے حل کیا ہے۔ امریکہ میں 2017 کے ایکویفیکس ڈیٹا بریچ نے، جہاں 147 ملین سے زائد امریکیوں کا ذاتی اور مالیاتی ڈیٹا لیک ہوا تھا، نہ صرف اربوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا بلکہ صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے ایک قومی بحث کو جنم دیا۔ دوسری جانب، چین نے ایک بالکل مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ چین نے اپنے ڈیجیٹل سیکٹر میں زبردست خود انحصاری حاصل کی، جس نے اسے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک طاقتور کھلاڑی کے طور پر ابھارا۔ چین نے سخت ڈیٹا لوکلائزیشن قوانین نافذ کیے، جن کے تحت تمام چینی شہریوں کا ڈیٹا لازمی طور پر چین کے اندر ہی ذخیرہ کیا جائے۔ اس نے اپنی اندرونی ٹیکنالوجی کو فروغ دیا، جس میں بائڈو (Baidu)، علی بابا (Alibaba)، اور ٹینسینٹ (Tencent) جیسی عالمی معیار کی کمپنیاں شامل ہیں، جنہوں نے گوگل اور میٹا کے پلیٹ فارمز کی جگہ لی۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے سیمی کنڈکٹر اور چپس کی پیداوار میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی، جس سے اس کی دفاعی اور تکنیکی خود انحصاری کو تقویت ملی۔ چین کی یہ کامیابی بھارت کے لیے ایک واضح اور اہم سبق ہے۔
بھارت نے اس چیلنج کو سمجھا اور "آتم نربھر بھارت” (خود انحصار بھارت) پروگرام کے تحت ڈیجیٹل اور دفاعی شعبوں میں خود کفالت کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکومت نے ڈیٹا لوکلائزیشن کے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں، جن کا مقصد غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ بھارتی شہریوں کا ڈیٹا بھارت میں ہی ذخیرہ کریں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے بھارت میں چپس کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے بھاری سبسڈیز اور مراعات کا اعلان کیا ہے۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سٹارٹ اپ کلچر کی مدد سے بھارت نے اپنی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے مثبت قدم اٹھائے ہیں۔ حکومت نے ڈیجیٹل نگرانی اور کنٹرول کو بھی مضبوط کیا ہے تاکہ غیر ملکی پلیٹ فارمز پر بھارت کی سکیورٹی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جا سکے، اور ڈیٹا کی حفاظت کو اولیت دی جائے۔
تاہم، اس سفر میں کئی داخلی چیلنجز بھی ہیں۔ بھارت میں قانونی نظام کی پیچیدگی، ڈیجیٹل تعلیم اور سائبر سکیورٹی کے حوالے سے عوامی شعور کی کمی، اور تکنیکی مہارتوں میں بہتری کی ضرورت اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ بھارت صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل حقوق، صارفین کی پرائیویسی، اور سائبر محفوظ تعلیم کے شعبوں میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے۔ مقامی سٹارٹ اپس، تعلیمی ادارے، اور تحقیقی مراکز اس سفر میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پروفیسر کرشنا کاشیک، جو بھارت کی نیشنل یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی اور پالیسی کے ماہر ہیں، نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ڈیجیٹل خودمختاری محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں ہے؛ یہ ایک معاشرتی اور تعلیمی مسئلہ بھی ہے، اور جب تک ہم اپنی آبادی کو ڈیجیٹل دنیا کے چیلنجوں کے لیے تیار نہیں کریں گے، ہماری کوششیں ادھوری رہیں گی۔”
عالمی سطح پر، بھارت کو اپنے علمی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھانا ہو گا تاکہ وہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ڈیجیٹل قوانین میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکے۔ بین الاقوامی شراکت داریوں میں فعال رہنا، خاص طور پر BRICS، SCO (شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن) اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا، بھارت کے ڈیجیٹل مفادات کے لیے ضروری ہو گا۔
اگر بھارت نے اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی نہ اپنائی، تو نہ صرف اس کی معیشت بلکہ قومی سلامتی اور عالمی مقام بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ چین کی کامیابی سے سبق لیتے ہوئے بھارت کو چاہیے کہ وہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی، تحقیق، تعلیم، اور قومی ڈیجیٹل دفاع کے ذریعے ایک خود انحصار، مضبوط، اور محفوظ ڈیجیٹل بھارت کی بنیاد رکھے، جو ملک کی سلامتی، ترقی، اور عالمی عزت کا ضامن ہو۔ یہی بھارت کی ڈیجیٹل خودمختاری کا مستقبل ہے، اور یہی اس کے لیے حقیقی آزادی کی کنجی ہے۔