Skip to content
نیا قانون یا سیاسی ہتھیار؟
وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی برطرفی کا مجوزہ بل
ازقلم:شیخ سلیم(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت آج ایک ایسا بل پیش کرنے جا رہی ہے جس پر پورے ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ مجوزہ بل حکومت کو حزبِ اختلاف کے خلاف ایک زبردست ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ اس بل کے مطابق اگر وزیر اعظم، مرکزی وزیر، وزیر اعلیٰ یا ریاستی وزیر کو گرفتار کر کے مسلسل 30 دن تک حراست میں رکھا جائے تو وہ 31ویں دن لازمی طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوگا، ورنہ خود بخود برطرف سمجھا جائے گا۔آپ جانتے ہیں کہ سنگین الزامات میں ضمانت ملنا ناممکن ہوتا ہے۔ عدالتی نظام میں فوری ضمانت اور فوری انصاف کی کوئی گنجائش یا انتظام موجود نہیں ہے۔ بڑے آرام سے حزبِ اختلاف کے لیڈروں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جا سکتا ہے اور حزبِ اختلاف کی حکومت گرائی جا سکتی ہے۔ بی جے پی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ بل سیاست کو شفاف بنانے اور کرپشن کے خلاف سخت قدم کے طور پر لایا جا رہا ہے۔ہم ہے نہیں سنا بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی وزیر یا کوئی سیاسی لیڈر کسی الزام میں کبھی گرفتار ہوا،سیاست کتنی شفاف ہے یہ ہم سبھی جانتے ہیں۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی وزیر اگر سنگین جرم میں گرفتار ہو اور ایک ماہ تک جیل میں رہے، تو وہ اقتدار میں بیٹھ کر قانون کو متاثر نہیں کر سکے گا۔
اپوزیشن جماعتیں اس بل کو ایک نئے سیاسی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ملک میں مرکزی ایجنسیاں ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کا استعمال مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اروند کیجریوال اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنس سورین طویل عرصے تک جیل میں رہے ہیں۔ ایسے میں اگر یہ بل قانون بن گیا تو محض کسی اپوزیشن لیڈر کو طویل عرصے کے لیے حراست میں رکھنا کافی ہوگا تاکہ وہ وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ حکومت ہی گر جائے۔یہ قانون سب سے زیادہ ان وزرائے اعلیٰ اور وزراء کے لیے خطرہ بن سکتا ہے جو بی جے پی کے سخت سیاسی حریف ہیں، مثلاً دہلی، مغربی بنگال، تلنگانہ اور جموں و کشمیر کی حکومتیں۔ اگر ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ یا اہم وزراء کسی بھی مقدمے میں گرفتار ہو گئے تو محض 30 دن کی حراست کے بعد انہیں عہدے سے ہٹ جانا ہوگا۔
ہمارے ملک کے قانون کے مطابق جب تک سپریم کورٹ کسی کو سزا نہ دے دے، کوئی آدمی مجرم ثابت نہیں ہو سکتا۔ مگر سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے میں بعض اوقات 10 سے 25 سال لگ جاتے ہیں۔ اس وقت تک کیا ہوگا؟ اگر کوئی وزیر اعلیٰ 20 سال کے بعد بے گناہ ثابت ہوتا ہے تو اس صورت میں کیا ہوگا؟
حکومت سیاست کو صاف و شفاف بنانے کے لیے یہ قانون بنا رہی ہے، مگر حقیقت میں یہ زیادہ تر اپوزیشن کو کمزور کرنے اور بی جے پی کے سیاسی تسلط کو بڑھانے کا ذریعہ ثابت ہونے والا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس پر زبردست بحث اور ملک بھر میں سیاسی ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ابھی تک تو غریب عوام اور بے گناہ مسلم نوجوان گرفتار ہوتے تھے، لمبے عرصے تک جیل میں رہتے تھے اور بیس سال بعد بے گناہ ثابت ہو کر رہا ہوتے تھے۔ اب سرکار بڑے بڑے وزراء کو گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
Like this:
Like Loading...