آسان نکاح: اسلامی اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق نکاح کا طریقہ
از قلم: شیخ سلیم
اسلام میں نکاح ایک پاکیزہ اور بابرکت رشتہ ہے جس کا مقصد میاں بیوی کے درمیان سکون اور محبت پیدا کرنا ہے۔ نکاح کو سادہ، آسان اور بامقصد بنانا چاہیے تاکہ دونوں خاندانوں پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے اور معاشرتی رسم و رواج کی بنا پر کسی کی تذلیل نہ ہو۔ بدقسمتی سے، آج کل نکاح کی تقریبات میں غیر اسلامی رسومات اور بے جا توقعات شامل کر لی گئی ہیں، جن سے نکاح کا سادہ اور بابرکت مقصد پس منظر میں چلا گیا ہے۔ اس مضمون میں آسان نکاح کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی۔
1. لڑکی کو دیکھنے کا طریقہ
آج کل کئی ذرائع موجود ہیں جن کی مدد سے لڑکی کو دیکھنے کی ضرورت شادی سے پہلے ہی پوری ہو سکتی ہے، جیسا کہ سوشل میڈیا یا عوامی مقامات پر ملاقات۔ اس لیے لڑکی کو بار بار گھر بلا کر یا لڑکی کے گھر جا کر اس کی تذلیل کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ جب باہر ہی پسند ناپسند ہو جائے تو کم سے کم افراد کے ساتھ لڑکی والوں کے گھر جائیں تاکہ ان پر بوجھ نہ ہو اور انہیں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حور پری کی تلاش بند ہو، برابری کی بنیاد پر نکاح ہو۔
صحابہ کرامؓ کے زمانے کی ایسی کوئی روایت نہیں ہے کہ لڑکی کو دیکھنے شور شرابے کے ساتھ لڑکے کے گھر والے باضابطہ طور پر گئے ہوں، یا لڑکے کے ماں باپ، بھائی، بہن، بھابھی، ماموں اور خالہ لڑکی دیکھنے گئے ہوں اور پھر ریجیکٹ کر دیا ہو۔ حوا کی بیٹی کی تذلیل نہ کریں۔
2. غیر ضروری رسومات سے اجتناب
نکاح میں غیر ضروری رسومات سے اجتناب کرنا ضروری ہے، خاص طور پر وہ رسومات جن سے لڑکی والوں پر مالی بوجھ پڑتا ہے۔ قرآن میں مہر کا ذکر واضح طور پر کیا گیا ہے، اور یہ مہر لڑکے کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ مہر کی رقم کا تعین لڑکے کی آمدنی اور مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اگر لڑکا لاکھوں روپئے مہینہ کماتا ہے تو اپنی حیثیت سے مہر دے، اور اگر مزدور ہے تو اپنی آمدنی کے حساب سے دے، تاکہ یہ دونوں خاندانوں کے لیے بوجھ نہ بنے۔
اتر پردیش اور کرناٹک سے اطلاعات آئی ہیں کہ غیر ضروری رسومات بہت زیادہ ہیں، جنہیں ترک کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
3. خاندانوں کا باہمی سمجھوتہ
نکاح سے پہلے دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ دونوں خاندانوں کے اصول، اقدار اور روایات ایک دوسرے سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں، تاکہ بعد میں کسی قسم کی غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔
4. سادہ نکاح: مسجد میں نکاح اور ولیمہ
نکاح کا انعقاد مسجد میں ہو اور اس میں سادگی اختیار کی جائے۔ بارات ایک غیر اسلامی طریقہ ہے جس سے لڑکی والوں پر غیر ضروری مالی بوجھ بڑھتا ہے اور اکثر غیر اخلاقی رسومات شامل ہو جاتی ہیں۔ بن بلائے مہمان بن کر جانا بھی کوئی اچھی بات نہیں اور اس طریقے کو ترک کر دینا چاہیے۔ نکاح کے بعد عصر کی نماز کے بعد نکاح اور مغرب کے بعد فوراً لڑکے والوں کی جانب سے ولیمہ کی سادہ تقریب منعقد کی جائے۔ولیمہ لڑکے والے اپنے گھر پر ہی کر سکتے ہیں ۔
5. لڑکے اور لڑکی پر غیر ضروری بوجھ نہ ڈالیں
شریعت نے جو ذمہ داریاں لڑکے اور لڑکی پر نہیں ڈالی، انہیں ان پر زبردستی تھوپنا غلط ہے۔ اگر لڑکے کی کمائی شروع میں کم ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جائے اور امید رکھی جائے کہ آگے برکت ہو گی۔ ہر شادی کا مقصد میاں بیوی کے درمیان سکون اور محبت پیدا کرنا ہے، نہ کہ بے جا توقعات اور مطالبات کی تکمیل۔
6. غیر اسلامی رسومات سے پرہیز
ڈھول تاشے، ڈی جے اور غیر اسلامی موسیقی مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہیں۔ شادی میں ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو دین کے احکامات کے خلاف ہوں۔ شادی خانوں میں جا کر مہنگی تقریبات منعقد کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔( شادی خانہ کی کوئی ضرورت نہیں سب کو بہتر ہوگا لائبریری میں یا مسجد میں تبدیل کر دیا جائے).ولیمہ لڑکے والے سادگی کے ساتھ کریں، سنت کے مطابق اور مختصر۔
نکاح ایک مقدس فریضہ ہے جس کا اصل مقصد میاں بیوی کے درمیان محبت اور سکون پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے نکاح کی تقریب کو سادہ اور بابرکت بنانا چاہیے تاکہ دونوں خاندانوں پر کسی قسم کا مالی یا معاشرتی بوجھ نہ پڑے۔
ہمارے موجودہ معاشرتی نظام کی وجہ سے بہت ساری لڑکیاں اور خواتین شادی ہی نہیں کرنا چاہتیں، لہٰذا اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اسلام کی تعلیمات مرد و زن کے تعلقات میں کیا ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے بارے میں کیا تعلیمات بیان فرمائی ہیں۔ نکاح کا یہ ہرگز مقصد نہیں ہے کی لڑکی والے قرض لے کر باقی ساری زندگی قرض ادا کرنے میں پریشان رہیں۔ آسان نکاح میں برکت ہے۔
