Skip to content
ڈیجیٹل چوپال-
جب محلہ موبائل میں سمٹ گیا!
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
کہتے ہیں: "جہاں تین افراد ہوں، وہاں مشورہ ضرور کرو… اور جہاں تین خاندان ہوں، وہاں واٹس ایپ گروپ ضرور بناؤ!”۔ یہ جملہ ہمارے بدلتے ہوئے سماجی رویّوں، جدید ذرائع ابلاغ کی رسائی، اور محلے داری کے نئے انداز کا عکاس ہے۔ آج کے دور میں جس طرح سوشل میڈیا نے ہماری نجی اور اجتماعی زندگیوں میں جگہ بنائی ہے، اسی طرح "محلے کا واٹس ایپ گروپ” ایک ایسا ڈیجیٹل چوپال بن چکا ہے جہاں روزمرّہ کے مسائل سے لے کر اجتماعی فیصلے تک طے پاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں "السلام علیکم” اور "وعلیکم السلام” کے بعد "صبح بخیر”، "جمعہ مبارک”، "دل کو چھو لینے والے پیغام”، اور "فارورڈڈ از رِسیوڈ” کی ایک لمبی قطار شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں "بلی کا بچّہ گم ہوگیا ہے” کا پیغام بھی اُسی سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے جس سے "پڑوس میں چوری ہوگئی ہے” کی خبر! محلے میں جہاں پانی کے کنکشن سے لے کر نکاح کے دعوت نامے تک، اور دروازے کے سامنے پارکنگ سے لے کر بچّوں کے شور شرابے تک، ہر مسئلے پر بحث ہوتی ہے وہیں یہ گروپ یا تو فساد کی بنیاد بن جاتا ہے، یا فلاح و تعاون کی راہ دکھاتا ہے۔
کبھی کبھار گروپ میں کوئی بزرگ خاتون لکھتی ہیں: "پلیز! کوئی میرے پوتے کے لیے چھوٹا سا کھلونا لا دے”۔ فوراً ایک جذبہ خلوص کے ساتھ جواب آتا ہے: "آنٹی! میں بھیج دیتا ہوں… لیکن میرا بیٹا بھی بیمار ہے، دعا کی درخواست ہے”۔ اب دعا، دوا، دُکھ، اور فکر سب مل کر ایک ایسا جذباتی دھاگہ بُن دیتے ہیں، جو محض ایک موبائل اسکرین پر نہیں، دلوں میں گرہیں ڈال دیتا ہے۔
محلے کا واٹس ایپ گروپ ایک ڈیجیٹل چوپال ہے۔ جہاں نہ صرف فیصلے ہوتے ہیں، بلکہ مزاج بنتے ہیں، تعلقات بنتے ہیں… اور بعض اوقات بگڑ بھی جاتے ہیں۔ یہ فساد کا بیج بھی بن سکتا ہے اگر اسے عقل، تہذیب اور رواداری سے نہ چلایا جائے… اور یہ فلاح کا چراغ بھی بن سکتا ہے اگر نیت، نرمی اور نظم سے چلایا جائے۔ لہٰذا گروپ بنانا کافی نہیں گروپ کو سنبھالنا اصل فن ہے!
گروپ کی تخلیق – نیت نیک، انجام شیک!
ابتداء بڑے جوش و جذبے کے ساتھ ہوتی ہے۔ گروپ بنایا جاتا ہے نیک نیتی سے، نعرہ بلند ہوتا ہے: "ہم سب ایک ہیں!” اور نام بھی کچھ ایسا منتخب کیا جاتا ہے جو بیک وقت روحانی، سماجی اور جذباتی پہلو لیے ہوتا ہے! جیسے: "ہم اور ہمارا محلّہ”، "سب کا ساتھ، سب کا محلّہ”، "الفت نگر کی آواز”، یا محض "محلہ احباب”!
ایڈمن صاحب (جنہیں نہ کسی نے منتخب کیا ہوتا ہے، نہ ہی کوئی مقابلہ جیتا ہوتا ہے! بس انہوں نے موبائل میں سب سے زیادہ خالی جگہ پا کر خود کو موروثی اختیار کا حق دار سمجھ لیا ہوتا ہے) دھڑا دھڑ سب کو ایڈ کرتے ہیں۔ پھر پہلا رسمی پیغام آتا ہے، جو ہمیشہ کچھ یوں ہوتا ہے: "السلام علیکم! اس گروپ کا مقصد صرف محلے کی بہتری ہے۔ غیر ضروری باتوں سے پرہیز کریں۔ جزاکم اللّٰہ خیراً!”
لیکن یہ تنبیہ جتنی پُر اثر لگتی ہے، اتنی دیرپا نہیں ہوتی۔ اگلے ہی لمحے کسی خالہ جان کی طرف سے ایک رنگ برنگی "صبح بخیر” والی تصویر آ جاتی ہے، جس پر پھول، پرندے، قوس و قزح اور نیچے لکھا ہوتا ہے: "پھولوں بھرا دن، دعاؤں بھری زندگی… ناشتہ کر لیا؟”۔ گویا گروپ کا پہلا اصول خود ایڈمن کے سامنے ہی "فارورڈ فارگِیو اینڈ فَری” ہو جاتا ہے!
صبح کا آغاز: پھولوں اور پیغامات کے طوفان سے
سورج کی پہلی کرن ابھی پوری طرح آنکھوں میں نہیں اتری ہوتی کہ موبائل اسکرین پر روشنیوں کا ایک اور سورج طلوع ہو جاتا ہے "گڈ مارننگ برگیڈ” کی جانب سے۔ یہ ایک خاص طبقہ ہے، جن کے نزدیک دن کا آغاز فقط اس وقت ہوتا ہے جب کم از کم تین قسم کی تصویریں گروپ میں بھیج دی جائیں: ایک گلاب! جو کبھی کسی لال قالین پر رکھا ہوتا ہے، ایک چائے کا کپ!! جس کے گرد بخارات محبت بھرے اشعار کی صورت اڑ رہے ہوتے ہیں، اور تیسری، ایک دعا!!! جو بیک وقت دین، دنیا، آخرت، کاروبار، بچوں، صحت، اور دل کے امراض پر محیط ہوتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب نیند بھری آنکھوں کے سامنے ایک گرافکس زدہ جہانِ معنی کھلتا ہے، جہاں خلوص رنگین فونٹس میں ڈھل چکا ہوتا ہے، اور محبت جی آئی ایف فائل میں رقص کرتی ہے۔ "صبح بخیر! دعاؤں بھرا دن ہو!” یہ پیغام نہیں، ایک مقدّس اعلان ہے۔ جیسے کسی روحانی بزم کا افتتاحی کلمہ ہو۔ "دھوپ ہے، مگر دل روشن ہو!” یہ فقرہ گویا دن بھر کی گرمی سے بچاؤ کی روحانی سن بلاک ہے۔ اور پھر آتا ہے وہ پیغام، جو تہذیبِ گلاب کا نقطۂ عروج بن چکا ہے: "جمعہ مبارک” جسے گلاب کی پنکھڑیوں پر اس انداز سے لکھا گیا ہوتا ہے، جیسے کسی صوفی نے دعا کے عالم میں انگلی سے چاند پر آیت لکھ دی ہو۔
ایڈمن صاحب اور ردّعمل کا "فرضِ کفایہ”، ایڈمن، جن کا اصل کام گروپ کی نگرانی ہوتا ہے، یہاں اکثر صرف ری ایکشن دینے پر اکتفا کرتے ہیں۔ نہ وہ "سبحان اللّٰہ” لکھتے ہیں، نہ "جزاک اللّٰہ”۔ بس ایک "👍”۔ یہ 👍 درحقیقت گروپ کی دنیا میں ایک سندِ منظوری ہے، ایک روحانی تھپکی۔ کبھی کبھار کچھ نادان لوگ اس تانتے پر تنقید کر بیٹھتے ہیں! "کیا فائدہ ان تصویری دعاؤں کا؟”۔ "یہ سب تو فارورڈ میسجز ہیں!”۔ لیکن وہ نہیں جانتے، کہ ان تصاویر میں دراصل دلی جذبات کا ڈیجیٹل فریم ہوتا ہے۔
دراصل "گڈ مارننگ برگیڈ” کا یہ جذبہ اپنی جگہ قابلِ قدر ہے کیونکہ کسی کو یاد کرنا، دن کے آغاز میں دعا دینا، محبت کے دائرے میں آتا ہے۔ مگر جب یہ "تصویری تہذیب” ایک طوفانِ بلا خیز کی صورت لے لے، تو نہ صرف فون کی بیٹری تیزی سے ختم ہوتی ہے، بلکہ صبر بھی۔ کاش! اگر وہی جذبہ کسی بیمار کی عیادت، کسی بزرگ کی دل جوئی، یا کسی طالب علم کے نوٹس شیئر کرنے میں لگے، تو ثواب کے ساتھ ساتھ علم کا بھی نور بکھرے۔
صبح بخیر کہنا غلط نہیں، تصویریں بھیجنا بھی معیوب نہیں۔ مگر جو بات دل سے ہو، وہ تصویر کے بغیر بھی اثر رکھتی ہے اور جو صرف تصویر ہو، وہ بعض اوقات دل سے خالی بھی ہوتی ہے۔ پس، ہمیں چاہیے کہ دعاؤں کے اس کارواں کو شعور کی روشنی میں سنواریں۔ کیونکہ سچی بات یہ ہے کہ چائے کے بغیر شاید دن نہ چلے مگر علم کے بغیر پوری زندگی تلخ ہوسکتی ہے۔
فتنوں کا دور — جب سب کچھ "فارس وارڈڈ” ہوتا ہے!
یہ وہ زمانہ ہے جس میں علم سے زیادہ وائرل ہونے کی خواہش غالب ہے، اور تحقیق سے زیادہ فارس وارڈ پر ایمان۔ جہاں ماضی کی فتنہ پردازی تلواروں، نیزوں اور کلام کے زور پر ہوتی تھی، وہاں اب صرف انگوٹھے کی حرکت سے پوری امت میں فکری زلزلہ آجاتا ہے۔
ڈیجیٹل مجاہدین — جدید دور کے forwarding فقیہ! ہر واٹس ایپ گروپ میں کچھ لوگ "سوشل میڈیا صوفی” یا "ڈیجیٹل مجاہدین” کے لقب سے جانے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو تحقیق کو شیطانی وسوسہ اور فارس وارڈ کو دعوتِ حق سمجھتے ہیں۔
کبھی پیغام آتا ہے: "آج کی رات کو چاند کو غور سے دیکھیں، کوئی راز کھلے گا!” اور ساتھ میں ایک دھندلا سا چاند، جس پر اگر غور کریں تو لگتا ہے PowerPoint میں بنایا گیا ہو۔ یا "یہ بزرگ حضرت خضر ہیں، ان کی خدمت کریں، جنّت ملے گی!”۔ ویڈیو میں بزرگ صاحب پوری سنجیدگی سے پٹرول کے لیے پیسے مانگ رہے ہوتے ہیں، لیکن کمنٹس میں ان کو روحانی مخلوق قرار دیا جا چکا ہوتا ہے۔
کوئی ویڈیو ہو: "یہ بندر دراصل ایک انسان تھا جو ماں کی نافرمانی کے سبب بندر بنا!” اور جب کوئی ہوشیار رکن گوگل لنک دے کر بتائے کہ یہ ویڈیو تھائی لینڈ کے کسی چڑیا گھر کی ہے، تو جواب آتا ہے: "ہم نے تو نیک نیتی سے بھیجا، علم تو اللّٰہ ہی کے پاس ہے!” یعنی اگر کوئی گلاب کی جگہ پلاسٹک کا پھول بھیجے، تو لینے والے کو سونگھنا ضرور چاہیے کہ نیت خوشبو کی تھی یا دھوکے کی؟
علمی مکالمے یا جنگِ عظیم؟
اب ذرا "سنجیدہ” موضوع آجائے تو سارا گروپ میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔ موضوعات کچھ یوں ہوتے ہیں: "نمازِ تراویح کی رکعتیں: 8 یا 20؟”، "قوالی حلال ہے یا حرام؟”، "جمعہ کی اذان بلند آواز میں ہے یا loudspeaker کی دہشت؟”۔ یہ موضوعات گویا دینی مباحثے کے نائٹ کلب بن جاتے ہیں۔ ایک طرف سے فتوے کے ساتھ سند یافتہ حدیثیں، دوسری طرف سے جذباتی تبصرے اور نانی کے قصّے، تیسری طرف سے آواز آتی ہے: "یہ گروپ لڑائی کے لیے نہیں ہے، جو کرنا ہے اپنا گروپ بناؤ!”
ایڈمن صاحب کبھی "چُپ کر کے سب کا پیغام پڑھنے” کی تلقین کرتے ہیں، تو کبھی خود ہی اگلے دن ویڈیو ڈال دیتے ہیں: "قضا نمازوں کا کفارہ: شیخ فلانے کا بیان دیکھیں!”۔ یہ دو رُخا رویہ ایسا ہے جیسے پانی سے بچنے کی تلقین کے ساتھ ہاتھ میں بالٹی ہو! علم کی طلب آج بھی عبادت ہے، لیکن جب علم memes کے سائے میں آئے، اور نیت کو "انٹرنیٹ” میں جذب کر دیا جائے، تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ "فارورڈ” کو تبلیغ اور "تحقیق” کو فتنہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اصلاحی پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی ہم علمی احتیاط، خلوص، اور ذمّے داری کے ساتھ کچھ کہیں، ورنہ غلط بات کے پھیلاؤ میں ہم سب شریکِ جرم ہوتے ہیں، چاہے نیت "نیکی” ہی کیوں نہ ہو۔
یہ دور سرعت کا ہے، مگر دین کا تقاضا تدبر ہے۔ جو پیغام آپ بھیج رہے ہیں، کیا وہ سچ ہے؟ کیا وہ ضروری ہے؟ کیا وہ کسی کے ذہن میں فساد، غلط فہمی یا بے بنیاد عقیدہ تو پیدا نہیں کرے گا؟ کیونکہ اب جہالت صرف اندھیروں میں نہیں، بلکہ 5G رفتار کے ساتھ روشن اسکرینوں میں چھپی ہوئی ہے۔
شادیاں، غم، اور اعلانِ عام – ایک گروپنامہ
اب زندگی محلے کی گلیوں سے نکل کر واٹس ایپ گروپس کی گلیوں میں منتقل ہوچکی ہے۔ جہاں پہلے دروازے پر دستک دے کر خوش خبری سنائی جاتی تھی، اب موبائل کی گھنٹی بجتی ہے، اور ایک تصویری دعوت نامہ نمودار ہوتا ہے: "آپ کو فلان صاحب کے صاحبزادے کی شادی کی خوشی میں مدعو کیا جاتا ہے۔ مقام: شادی ہال، وقت: 7:30، کھانا: ان شاءاللّٰہ جلد”
غم بھی اب گوگل ڈرائیو سے آتا ہے… اور جب کوئی سانحہ ہو، تو تعزیت بھی فوراً گروپ میں: "انا للّٰہ و انا الیہ راجعون، فلاں چچا اب ہم میں نہیں رہے، دعا کی درخواست ہے”۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاندانی جذبات اب فولڈر شیئرنگ میں بدل چکے ہیں، اور غم کا بوجھ 200KB کی PDF فائل میں بند کر دیا گیا ہے۔
پھر ایک دن پیغام آتا ہے: "گھر کا خالص بھینس کا دودھ دستیاب ہے، روزانہ سپلائی ممکن۔ صرف سنجیدہ لوگ رابطہ کریں!” یا "مدینہ سے تازہ کھجوریں آئی ہیں، صرف تین دن کا اسٹاک۔ پہلا آؤ، پہلا پاؤ!” یعنی اب روحانیت اور تجارت بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے ہیں جہاں دعائیں اور ڈیلز ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔
کبھی بچّی نے اسکول میں ایوارڈ جیتا، تو تصویر کے ساتھ پیغام: "دعا کریں، ہماری بیٹی نے اسکول میں پہلا انعام حاصل کیا”۔ ابھی دعائیہ کمنٹس کا سلسلہ جاری ہوتا ہے کہ خالہ رشیدہ کا "فکری پیغام” آتا ہے: "ماشاءاللّٰہ! اب اس کے رشتے کی فکر کریں!” گویا ایوارڈ کی خوشی میں رشتے کی پریشانی کا تڑکا لازمی ہے۔
جب گروپ خاموش ہو جائے… کبھی کبھار گروپ اچانک خاموشی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ نہ کوئی پھول، نہ فتوٰی، نہ forwarding کا سیلاب۔ بس کبھی کبھار ایڈمن کی طرف سے ایک یاددہانی: "پانی کی موٹر بند کر دینا، اوور فلو ہو رہا ہے!”۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کبھی کبھی خاموشی خود ایک نعمت ہے، اور گروپ کا اصل حسن صرف اطلاع رسانی نہیں، بلکہ سکون رسانی بھی ہو سکتا ہے۔
فتنہ یا فکر؟ — فیصلہ آپ کا
دراصل، گروپ بذاتِ خود کوئی فتنہ نہیں ہوتا۔ فتنہ اُس وقت جنم لیتا ہے جب گروپ کا مصرف مقصد سے زیادہ، اور مقصد بغیر سوچے ہو جائے۔
اگر گروپ! محبت بڑھائے، خیالات کو نکھارے، دینی، ادبی، اور سماجی فہم کو آگے لے جائے تو یہ ایک روحانی گلی کا کام دے سکتا ہے، جہاں سب ایک دوسرے کی خیرخواہی میں سانس لیتے ہوں۔
مگر اگر!! گروپ فتنوں کا گڑھ بن جائے، ہر جھوٹی خبر فوراً "آمین” کے ساتھ آگے بڑھے، ہر اختلاف تلخی میں بدل جائے تو وہی گروپ، جو سکون کا ذریعہ بن سکتا تھا، اذیت کا میدان بن جاتا ہے۔
"پیغام رسانی کے گروپ” کو، "پریشان کرنے کے گروپ” نہ بننے دیں! گروپ بنائیں، مگر گروہی نہ بنیں! بات پھیلائیں، مگر باتوں کا جنازہ نہ نکالیں! اصلاح کریں، مگر اصلاح کے نام پر دل توڑنا چھوڑیں!!
(24 اگست 2025ء)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...