Skip to content
میڈیا کا قیام کیسے ممکن ہے ؟
از مدثر احمد شیموگہ۔9986437327
یہ درست ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقات، جن میں بڑی تعداد میں مسلمان بھی شامل ہیں، بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اخبارات جیسے اخراجات ثانوی ترجیح بن جاتے ہیں۔ تاہم، میڈیا کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے معاشی حالات سے بالاتر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اخبارات کی کم خریداری صرف معاشی مجبوریوں کی وجہ سے نہیں،
بلکہ ڈیجیٹل میڈیا کی طرف رجحان، تعلیم کی کمی، یا مواد سے عدم دلچسپی بھی اس کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں سے ایک منصفانہ نظریات کا حامل ٹی وی چینل یا الیکٹرانک میڈیا شروع کرنے کا مطالبہ مسلمانوں میں ہوتا رہاہے لیکن ایک بڑا اور سرمایہ اسکے لئے درکار ہے۔ جہاں ایک طرف اردو اخبارات مالی مشکلات کا شکار ہیں، وہیں ٹی وی چینل کے لیے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری، تکنیکی وسائل، اور مستقل آمدنی کے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لیے نہ صرف مالی وسائل بلکہ مضبوط کمیونٹی سپورٹ، پیشہ ورانہ مہارت، اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ موجودہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ مخصوص نظریات کی ترویج کرتا ہے، اور اس کی پشت پناہی سیاسی یا کاروباری گروہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں، ایک منصفانہ میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے لیے نہ صرف سرمایہ بلکہ کمیونٹی کی فعال شمولیت بھی ضروری ہے۔ اگر کمیونٹی میڈیا کو سپورٹ نہ کرے، جیسے کہ سبسکرپشن، اشتہارات یا مواد کی تیاری کے ذریعے، تو کوئی بھی میڈیا ہاؤس طویل مدت تک چلنا مشکل ہے۔ موجودہ منصفانہ میڈیا ادار ے جس میں اخبارات، ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز ہیں انکی سرپرستی نہیں ہوتی اس وقت تک مضبوط میڈیا کا قیام ممکن نہیں ہے ۔ چونکہ الیکٹرانک میڈیا مہنگا ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے یوٹیوب، ایکس، یا سوشل میڈیا سستے اور مؤثر متبادل ہو سکتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز کم سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ لوگوں تک پیغام پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کے لئے بھی فنڈنگ اور سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر ایک بڑا میڈیا پروجیکٹ شروع کرنا مقصود ہے، تو کمیونٹی فنڈنگ یا کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے وسائل اکٹھے کیے جا سکتے ہیں لیکن سوال پھر وہی کہ آخر ہاتھ کون بڑھائیگا ؟۔ ایک منصفانہ ٹی وی چینل شروع کرنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے صرف جذباتی مطالبات کافی نہیں۔ اسے چلانے کے لیے مستقل مالی وسائل، پیشہ ورانہ ٹیم، اور کمیونٹی کی طرف سے مسلسل حمایت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں، جہاں گودی میڈیا کا اثر و رسوخ زیادہ ہے، ایک متوازن نقطہ نظر اپنانا ہوگا، جیسے کہ چھوٹے پیمانے پر ڈیجیٹل میڈیا سے آغاز کرنا۔ مسلمانوں کو میڈیا کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا اور اسے سپورٹ کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اخبارات کی سبسکرپشن، اشتہارات، اور مواد کی تیاری سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ٹی وی چینل کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز سے شروعات زیادہ قابل عمل ہے۔ اگر کمیونٹی متحد ہو کر چھوٹے لیکن مؤثر اقدامات اٹھائے، تو آہستہ آہستہ ایک مضبوط میڈیا نیٹ ورک بنایا جا سکتا ہے جو منصفانہ نظریات کی ترویج کرے۔
Like this:
Like Loading...