Skip to content
نائب صدر کے انتخاب کا کھیل کون پاس کون فیل ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
21؍جولائی کو استعفیٰ دے کر لاپتہ ہوجانے والے نائب صدر جگدیپ دھنکر کی خالی جگہ پُر کرنے کے لیے7؍اگست کے دن نامزدگی کے پرچے داخل کرنے کانوٹس جاری کردیاگیاتاکہ 9ستمبر کوالیکشن کرایا جا سکے۔ یعنی پچھلے مہینے غائب ہوجانے والے نائب صدر جناب جگدیپ دھنکر ملیں نہ ملیں ان کی جگہ ایک نیا نائب صدر ملک کو مل جائے گا۔ نائب صدر کے عہدے کی خاطراس 17ویں الیکشن کی چنداں ضرورت نہیں تھی کیونکہ سابق نائب صدر 2027تک اپنے عہدے پر بنے رہنے کا اعلان کرچکے تھے اور اس میں آگے چل کر ترقی کرنے یعنی صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کی آرزو بھی کہیں نہ کہیں موجود تھی لیکن ان کے سارے سپنوں کو مودی کی نگاہِ قہر نے خاک میں ملا دیا ۔ نائب صدر کا انتخاب چونکہ عوامی نہیں بلکہ الیکٹورل کالج کے ذریعے ہوتا ہے۔اس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے توقع تھی کہ یہ سارا کام خاموشی کے ساتھ بحسن و خوبی انجام پذیرہوگا مگر عادت سے مجبور وزیر داخلہ نے اپنی بدزبانی سے اس معاملے میں بھی اپنی اوراپنے سنگھ پریوار کی رسوائی کرالی یعنی ایک معنیٰ میں الیکشن سے پہلے ہی اخلاقی شکست سے دوچار ہوگئے۔
مذکورہ بالانوٹیفکیشن کے مطابق خواہش مند حضرات کے لیے اپنے پرچۂ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 21 ؍اگست تھی۔ اس وقت تک نائب صدر کے عہدے کی خاطر مجموعی طور پر 46؍ افراد نے 68 کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے ۔ ان میں سے 19 ؍افراد کے 28 کاغذات تکنیکی بنیادوں پر ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد کر دیئے گئے۔ باقی 27؍ امیدواروں کے 40 کاغذات کی 22؍ اگست کو جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ 25؍ اگست تک نام واپس لینے کی تاریخ بے معنیٰ کیونکہ اب صرف دو امیدوار باضابطہ طور پر انتخابی میدان میں باقی رہ گئے ہیں۔ این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن کا متحدہ اپوزیشن کے امیدوار بی. سدرشن ریڈی سے ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں امیدوار وں کا تعلق جنوبی ہند سےہے اس لیے یہ لڑائی جنوب بمقابلہ جنوب ہی ہوگی۔ ویسے بھی جگدیپ دھنکر نے شمالی ہند کا نام کافی روشن کرہی دیا ہے۔ سدرشن ریڈی چونکہ تلنگانہ کے رہنے والے ہیں اس لیے نظام سرکار کے طفیل اردو ہندی بول سکتے ہیں اس کےبرعکس سی پی رادھا کرشنن پندرہ سال کی عمر سے ہی سنگھ شاکھا میں جانے لگے تھے اس لیے انہیں نہ تو ہندی آئی نہ انگریزی بلکہ تمل بھی بگڑ گئی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں چونچ کھولنے کی جرأت نہیں کی۔
سنگھ پریوار کا سب سے بڑا المیہ قحط الرجال ہے۔ وہ لوگ تگڑم بازی سے سرکار تو بنا لیتے ہیں لیکن انہیں ایک ایسا وزیر اعظم نہیں ملتا جو معمولی پریس کانفرنس کرسکتا ہو۔ وزیر داخلہ جب منہ کھولتا ہے رسوائی کروالیتا ہے۔ وزیر دفاع کے ہاتھ پیر ایسے باندھ دئیے گئے ہیں کہ وہ ملک تو دور اپنی سرکار کی مدافعت بھی نہیں کرپاتا۔ وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ باہر سے لانا پڑتا ہے۔ اسی مجبوری کے تحت جگدیپ دھنکر کو بھی درآمدکرکے نائب صدر بنایا گیا تھا لیکن وہ قابو میں نہیں آ ئے ۔ ان کی جگہ ایوان بالا کے نائب صدر ہری ونش کو امیدوار بنایا جاسکتا تھا مگر وہ بھی کسی زمانے میں لالو یادو کے ساتھ تھے اس لیے دودھ کی جلی بی جے پی چھانچ بھی پھونک پھونک کر پی رہی ہے۔ سی پی ردھا کرشنن کو اسی لیے لایا جارہا ہے کہ وہ دُم ہلاہلا کر وزیر اعظم کی تابعداری کرتے رہیں۔ ویسے وہ تمل ناڈو میں پوری زندگی سنگھ کا کام کرنے کے باوجود اپنے بل بوتے پربی جے پی کا ایک رکن اسمبلی بھی نہیں کامیاب کرسکے ۔ اے آئی ڈی ایم کے طفیل ان کا الیکشن جیت جانا بی جے پی جیت نہیں ہےپھر بھی مہاراشٹر کے گورنر ہاوس میں عیش کررہے ہیں۔ ایسے نااہل امیدوار کے سامنے حزب اختلاف نے بی. سدرشن ریڈی جیسے سابق سپریم کورٹ کے جج کومیدان میں اتارا اور آج تک چینل پر ان کا انٹرویو دیکھ کر بلا مبالغہ یہ محاورہ یاد آتا ہے’کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگوا تیلی‘۔
نائب صدر کا عہدہ انتظامی حوالے سےاس لیے اہم ہے کیونکہ اسے راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دینی پڑتی ہے۔ اس عہدے پر فائز فرد کا کسی نہ کسی حدتک غیر جانبدار ہونا ضروری ہے مگر رادھا کرشنن نے وزیر اعظم کا جس طرح جھک کر شکریہ ادا کیا اس سے تو یہ توقع ناممکن ہے۔انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا، "میرا دل کی گہرائیوں سے شکریہ، ہمارے پیارے عوامی لیڈر ہمارے سب سے قابل احترام وزیر اعظم نریندر مودی نے مجھے این ڈی اے کے نائب صدر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا اور مجھے قوم کی خدمت کا موقع دیا۔” یہ خوشامدانہ انداز اس شخص کو زیب نہیں دیتا جسے آئینی اعتبار سے وزیر اعظم کے مقابلہ فائق تر عہدے پر فائز ہونا ہے۔ دستور کے مطابق امیدوار کو خود اپنا پرچۂ نامزدگی دینا ہوتا ہے مگر جب وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور این ڈی اے رہنماؤں کے ساتھ سی پی رادھا کرشنن اپنی نامزدگی کا پرچہ داخل کرنے کے لیے پہنچے توپارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ان کے کاغذات وزیر اعظم نریندر مودی کو تھمائے جس کو موصوف نےاپنے ہم قبیلہ راجیہ سبھا کے سیکریٹری جنرل پی سی مودی کوپکڑا دیا جو اس انتخاب کے لیے ریٹرننگ آفیسر مقرر کیے گئےہیں۔
اس موقع پر جبکہ ایک مودی دوسرے مودی کو کاغذات دے رہا تھا رادھا کرشنن کنارے کھڑے تھے اس لیے صحیح معنیٰ میں یہ کاغذات داخل ہی نہیں ہوئے انہیں مستر کیا جانا چاہیے تھا لیکن اگر پی سی مودی اسے مسترد کرتے تووہ بھی جگدیپ دھنکر کی مانند نہ جانے کس غار میں بھجوادئیے جاتے؟ ریٹرننگ آفیسر کے سامنے رادھا کرشنن نے دستخط تو کردیئے مگر اس کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے نامزدگی کی رسید بھی انہیں نہیں دی بلکہ وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کی۔ امیت شاہ سمیت پرہلاد جوشی، دھرمیندر پردھان، اور تلگو دیشم پارٹی کے مرکزی وزیر کے رام موہن نائیڈو، شیو سینا کے رہنما شری کانت شدڈے، اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس پاسوان) کے رہنما چراغ پاسوان صرف تالیاں پیٹ رہے تھے۔ رادھا کرشنن سمیت یہ سبھی رہنما پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع ریٹرننگ آفیسر کے دفتر جا نے سے قبل پارلیمنٹ کمپلیکس میں واقع "پریرنا ستھل” (مقامِ تحریک) پر گاندھی جی اور دیگر قومی رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے گئے۔ وہاں پر دل ہی دل میں ان شخصیات سے نفرت کرنے والے بادلِ ناخواستہ سب سے پہلے مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے جھکے اور پھر دیگر قومی رہنماؤں کوخراج عقیدت پیش کرنے کا ناٹک کیا۔ یہ سنگھ پریوار کی بہت بڑی مجبوری ہے۔
اس کے برعکس اگلے دن انڈیا محاذ کے امیدوار اور سابق جج سپریم کورٹ بی سدرشن ریڈی اپنی نامزدگی کے کاغذ داخل کرنے کے لیے گئے تو کانگریس کے جئے رام رمیش نے کاغذات امیدوار جسٹس ریڈی کو سونپے حالانکہ اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی موجود تھے۔ این سی پی (ایس سی پی) کے سربراہ شرد پوار، سماجوادی پارٹی کے ایم پی رام گوپال یادو، ڈی ایم کے کے ایم پی تروچی سیوا، شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت سمیت انڈیا بلاک کے متعدد رہنما بھی یکجہتی کا اظہار کررہے تھے۔ اس طرح صحیح معنیٰ میں تو ایک ہی امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوئے دوسرے نے تو صرف ربر اسٹامپ کی مانند دستخظ کیے کاغذات تو پیش ہی نہیں کیے لیکن مودی جی کے اندھی نگری چوپٹ راج میں اب ایسی بےضابطگی عام ہوگئی ہے۔اس اخلاقی انحطاط کو جواز فراہم کرنے کے لیے ’نیو نارمل ‘ کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ اس کے تحت پر حماقت کو مودی یُگ کے نام پر ڈھٹائی کے ساتھ جائز ٹھہرا دیا جاتا ہےْ۔
نائب صدر پر چونکہ ایوان بالا کو چلانے کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے اس لیے یہ ایک انتظامی عہدہ بھی ہے۔ ایوان بالا کے اندر سرکار کا خیال کرنا تو ہر نائب صدر پر لازم ہوگا لیکن اگر وہ کسی قدر غیر جانبدار ہوتو حزبِ اختلاف کو بھی اپنی رائے رکھنے کا موقع دے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ڈیڑھ سو مخالف ارکان کو معطل کرکے اہم آئینی ترمیمات کردی جائیں ۔ اس لحاظ سے سدرشن کو کرشنن پر واضح فوقیت حاصل ہے۔ موصوف نے بلا تفریق تمام جماعتوں کےارکان پارلیمنٹ کوخط لکھ کر ووٹ مانگنے کا عندیہ دیا۔ بی جے پی کی منہ زوری روکنے کے لیے حلیف جماعتوں کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی حمایت سے جسٹس سدرشن ریڈی کو کامیاب بنائیں۔ اس انتخاب سے پہلے ہی امیت شاہ کی بدزبانی کے سبب سنگھ پریوار کی ذلت ورسوا ئی سنگھ پریوار موشانی نامی تریمورتی کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ملک میں ٹیرف کی مارکھا کر لاکھوں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں اور وزیر اعظم روم کے نیرو کی مانند غیر ملکی دورے پر بانسری بجا رہا ہے۔ گودی میڈیا اینکر اس کی دھن پر ناچ رہے ہیں لیکن بھوکے پیٹ ایسا رقص و سرود کب تک چلے گا؟
Like this:
Like Loading...