Skip to content
مسٹر جاوید اختر، کان کھول کر سن لیں!
اللہ ظالموں سے بے خبر نہیں ہے، اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہے
ازقلم:عبدالعزیز
’’ا ور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی؟‘‘
[وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلاً:اور ہرگز اللہ کو بے خبر نہ سمجھنا]۔ اس آیت میں ہر مظلوم کے لئے تسلی اور ہر ظالم کے لئے وعید ہے۔ ایک مشہور مقولے کی تائید بھی ہے کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے سننے والے!تم یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو سزا نہیں دے گا اور نہ ہی ظالموں سے عذاب مؤخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں دہشت کے مارے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ (جلالین )
ظالم کے لئے وعید: یاد رہے کہ ظالموں کا اُخروی عذاب تو اپنی جگہ ،دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ ظالموں کی گرفت فرماتا ہے ،چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ آلہٖ وَسلم نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں دیتا۔
فلمی نغمہ نگار جاوید اختر کے بے شمار بیانات نہایت متنازعہ فیہ اور انتہائی اشتعال انگیز ہیں ۔ اشتعال انگیز بیانات دینے کے دو مقاصد سمجھ میں آتے ہیں۔ ایک مسلمانوں کو مشتعل کرنا اور ان کے ان دشمنوں کو خوش کرنا جو ملک میں مسلمانوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کے سارے بیانات کا احاطہ کرنا اور دلائل کے ساتھ جواب پیش کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس میں انھوں نے خداوند قدوس کو کچھ اس طرح چیلنج کیا ہے کہ ’’یہ جو چھت ہے اس کے اوپر سات چھت ہیں اس کے اوپر وہ رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے اشارے کے بغیر پتہ نہیں ہلتا۔ دنیا میں جتنا ظلم و زیادتی ہوتی ہے ۔ اس قدر بھکمری ہے۔ لوگ بیمار ہیں اور پریشان حال ہیں وہ کچھ نہیں کرتا۔ اس کی مجال ہے کہ وہ مجھ سے کچھ پوچھے۔ اگر وہ نکلا تو میں اس سے پوچھوں گا کہ دنیا میں جو ظلم و ستم ہورہا تھا تو کیا کر رہا تھا؟‘‘
اس طرح کی جاہلانہ بات وہی کرسکتا ہے جو نہ اپنے آپ کو جانتا ہے اور نہ اس دنیا کی حقیقت سے واقف ہے۔ دنیا انسانوں کے لئے امتحان گاہ ہے۔ اس امتحان گاہ میں Question Paper (امتحان کا پرچہ) آؤٹ ہے۔ ہر کوئی اسے پڑھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں بتایا ہے کہ نیک اور بد کام یکساں نہیں ہوتے۔ نیکوکاروں کو جزا ملے گی اور بدکاروں کو سزا۔ نیکی کے کام کیا کیا ہیں۔ برائی کے کاموں کی پوری تفصیل ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بھی اچھی خاصی تفصیل ہے۔ ظالموں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا اور مظلوموں کے ساتھ کس قسم کی ہمدردی کی جائے گی۔ ان سب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ ’’وہ نہایت بزرگ و برتر ہے، وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے اور وہ ہر وہ چیز پر قدرت رکھتا ہے جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔ (سورہ ملک)
جب وہ (دن) آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی: جاوید اختر جیسے کٹر کافر اور کٹر مشرک جو آج دنیا میں جو چاہ رہے ہیں بک رہے ہیں، خدا سے بھی کہہ رہے ہیں کہ ’وہ مجھ سے کیا سوال پوچھے گا اس کی کیا مجال ہے، میں اس سے پوچھوں گا کہ دنیا میں جو ہاہاکار مچا ہوا تھا تو تو کیا کر رہا تھا‘۔
ایسے بدبخت و نادان، کافر اور مشرک کو اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے: ’’اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اس شخص کے لئے جو عذابِ آخرت کا خوف کرے، وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کو لانے میں بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لئے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی‘‘۔ (سورہ ہود، آیت: 103-104)
ہزارہا برس کی انسانی تاریخ میں قوموں اور جماعتوں کا اٹھنا اور گرنا جس تسلسل اور باضابطی کے ساتھ رونما ہوتا رہا ہے پھر اس گرنے اٹھنے میں صریحاً کچھ اخلاقی اسباب کارفرما رہے ہیں اور گرنے والی قومیں جیسی جیسی عبرت انگیز صورتوں سے گری ہیں یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف ایک کھلا اشارہ ہے کہ انسان اس کائنات میں ایک ایسی حکومت کا محکوم ہے جو محض اندھے طبیعاتی قوانین پر فرماں روائی نہیں کر رہی ہے بلکہ اپنا ایک معقول اخلاقی قانون رکھتی ہے جس کے مطابق وہ اخلاق کی ایک خاص حد سے اوپر رہنے والوں کو جزا دیتی ہے، اس سے نیچے اترنے والوں کو کچھ مدت تک ڈھیل دیتی رہتی ہے اور جب وہ اس سے بہت زیادہ نیچے چلے جاتے ہیں تو پھر انھیں گرا کر ایسا پھینکتی ہے کہ وہ ایک داستانِ بن کر رہ جاتی ہے۔ واقعات کا ہمیشہ ایک ترتیب کے ساتھ رونما ہوتے رہنا اس امر میں شبہ کرنے کی ذرہ برابر گنجائش نہیں چھوڑتا۔ جزا اور مکافات کی سلطنت کا ایک مستقل قانون ہے۔ پھر جن عذاب مختلف قوموں پر آئے ہیں ان پر مزید غور کرنے سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ از روئے انصاف قانون جزا ومکافات کے جو اخلاقی تقاضے ہیں وہ ایک حد تک تو ان عذابوں سے ضرور پورے ہوئے ہیں مگر بہت بڑی حد تک ابھی تشنہ ہیں، کیونکہ دنیا میں جو عذاب آیا اس میں صرف اس نسل کو پکڑا جو عذاب کے وقت موجود تھی۔ رہیں وہ نسلیں جو شرارتوں کے بیج بوکر ظلم اور بدکاری کی نسلیں تیار کرکے کٹائی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوچکی تھیں اور جن کے کرتوتوں کا خمیازہ بعد کی نسلوں کو بھگتنا پڑا۔ وہ تو گویا قانون مکافات کے عمل سے صاف ہی بچ نکلی ہیں ۔ اگر ہم تاریخ کے مطالعہ سے سلطنت کائنات کے مزاج کو ٹھیک ٹھیک سمجھ چکے ہیں توہمارا یہ مطالعہ ہی اس بات کی شہادت دینے کے لئے کافی ہے کہ عقل اور انصاف کی رو سے قانون مکافات کے جو اخلاقی تنازعے ابھی تشنہ ہیں ان کو پورا کرنے کے لئے یہ عادل سلطنت یقینا پھر ایک دوسرا عالم برپا کرے گی۔ اور وہاں تمام ظالموں کو ان کے کرتوتوں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ بدلہ دنیا کے ان عذابوں سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔
دنیا میں جو دنیوی حکومتیں ہوتی ہیں ان کے پاس پولس ہوتی ہے ۔ حکومتیں اور پولس دونوں کے اندر بے شمار خامیاں ہوتی ہیں۔ اور قانون میں بھی توازن نہیں ہوتا۔ مجرموں اور ظالموں کو یہاں مکمل سزا نہیں مل سکتی۔ مثلاً ایک شخص ہزاروں کا قاتل ہے تو حکومتوں کے پاس سزائے موت یا عمر قید کی سزا کے سوا کچھ اور نہیں دے سکتے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جتنا بڑا مجرم اور ظالم ہے اتنی بڑی سزا ملنا ناممکن ہے۔ اس لئے دوسری دنیا کا برپا ہونا اور زندگی بعد موت کا ہونا از حد ضروری ہے تاکہ مکمل سزا مل سکے۔
جو لوگ کافر یا مشرک ہوتے ہیںوہ دنیا سے بھی واقف نہیں ہوتے اور دنیا بنانے والے سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ دنیوی نظام پر ہر چیز کا قیاس کرتے ہیں۔ ان کی عقل اور نظر سب محدود ہوتی ہے۔ یہاںمجرم چھپ جاتا ہے، فرار ہوجاتا ہے، جیل کی سلاخوں کو توڑ کر نکل جاتا ہے لیکن پروردگار عالم کی طاقت غیر محدود ہوتی ہے، اس کی نظر بھی غیر محدود ہوتی ہے۔ اس کی پکڑ اور گرفت سے لاکھ چاہنے کے باوجود مجرم یا ظالم نہ کہیں بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی کہیں چھپ سکتاہے۔ قرآن میں ظالم قوموںکو کچھ طرح سزائیں دی گئی ہیں ہر ایک کا ایک ایک کرکے ذکر ہے۔
فرعون جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اس کی ہلاکت کس قدر عبرت ناک طریقے سے ہوئی دنیا اچھی طرح جانتی ہے۔ ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( اے فرعون!) سو آج ہم تیرے (بے جان) جسم کوبچائیں گے تا کہ تو بعد کی نسلوں کے لئے نشانِ عبرت بنے۔ اگر چہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔(سورہ یونس، آیت 92)
آج تک وہ جزیرۂ سینا کی مغربی ساحل پر موجود ہے جہاں فرعون کی لاش سمندر میں تیرتی ہوئی پائی گئی تھی، اس کو موجودہ زمانے میں جبل فرعون کہتے ہیں اور اسی کے قریب ایک گرم چشمہ ہے جس کو مقامی آبادی نے ’حمام فرعون‘ کے نام سے موسوم کر رکھا ہے۔ اس کی جائے وقوع ابو زمینیہ سے چند میل اوپر شمال کی جانب ہے اور علاقے کے باشندے اسی جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فرعون کی لاش یہاں پڑی ہوئی ملی تھی۔ اگر یہ ڈوبنے والا فرعون منفتہ ہے جس کی زمانہ حال کی تحقیق نے فرعونِ موسیٰ قرار دیا ہے تو اس کی لاش آج تک قاہرہ کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔ 1907ء میں سرگرافٹن ایسٹ اسمتھ نے اس کی ممی پر سے جب پٹیاں کھولی تھیں تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہ جمی ہوئی پائی گئی تھی جو کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی ایک کھلی علامت تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ ’’بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں‘‘۔
یعنی ہم تو سبق آموز اور عبرت انگیز نشانات دکھائے ہی جائیں گے اگر چہ اکثر انسانوں کا حال یہ ہے کہ بڑی سے بڑی عبرت ناک نشانی کو دیکھ کر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں۔
کیا جاوید اختر جیسے فرد کی آنکھیں اللہ کی عبرت ناک نشانیاں دیکھ کر کھل سکتی ہیں؟
نمرود بھی خدائی دعویٰ کرتا تھا اور بہت بڑا ظالم و جابر بادشاہ تھا۔ بچوں تک کی قتل و غارت گری کرتا تھا۔ اس کی موت بھی انتہائی دردناک طریقے سے ہوئی۔ مرزا محمد رفیع سوداؔ نے اپنے ایک شعر میں اس کی موت کا نقشہ کھینچا ہے ؎
دماغ جھڑ گیا آخر ترا اے نمرود ! چلا نہ پشے سے کچھ بس تری خدائی کا
جاوید صاحب شاعر ہیں۔ مرزا محمد رفیع سودا کا یہ شعر بھی ان کی سمجھ میں آگیا ہوگا اور نمرود کی موت کی پوری تصویر ان کے سامنے رقصاں ہوگئی ہوگی۔ نمرود بھی جاوید صاحب کی طرح خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ فرعون بھی خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ آج یہ دونوں دنیا کے لئے نشانِ عبرت ہیں۔ اللہ نے سچ کہا ہے کہ ’’بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں‘‘۔
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں (جگر مراد آبادی)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...