Skip to content
نبی اکرم ﷺ کا حسنِ سلوک: انسانیت کے لئے ایک آفاقی نمونہ
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
(لاتور، مہاراشٹر)
کبھی کبھی تاریخ کے بے کراں کینوس پر، جہاں صدیاں محض لکیریں اور سلطنتیں دھندلے نقوش نظر آتی ہیں، تقدیر کا قلم ایک ایسا حرفِ نور رقم کرتا ہے جس کی تابندگی سے تہذیب کے ستارے اپنا مدار بدل لیتے ہیں اور وقت کا دریا ایک نئے رُخ پر بہنے لگتا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ نمائے عرب کی سنگلاخ زمین پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت کوئی تاریخی واقعہ نہ تھی، بلکہ یہ خود تاریخ کے قلب کی وہ دھڑکن تھی جس کے آہنگ سے انسانیت کے مقدر کا ضابطہ از سرِ نو لکھا گیا۔ آپ ﷺ کا پیغام محض عقائد کا مجموعہ نہ تھا، بلکہ ایک مکمل اخلاقی کائنات کی تخلیق تھا، جس کا سب سے روشن مظہر اور بنیادی ستون آپ ﷺ کا "حسنِ سلوک” ہے۔ یہ محض خوش اخلاقی یا سماجی رکھ رکھاؤ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک گہرا اور انقلابی فلسفہ ہے جس کی جڑیں اسلامی عقائد کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے "حسنِ سلوک” دراصل عقیدہ توحید کا ناگزیر عملی ظہور ہے۔ جب انسان یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ تمام کائنات کا خالق ایک اللہ ہے اور تمام مخلوق اسی کا کنبہ ہے، جیسا کہ ‘مشکوٰۃ المصابیح’ میں آیا ہے، "الخلق عیال اللہ” تو پھر مخلوق سے بہترین برتاؤ کرنا، خالق سے محبت اور اس کی ربوبیت کے اعتراف کا لازمی اور منطقی نتیجہ بن جاتا ہے۔
اس الہامی فلسفے کا پہلا اور سب سے گہرا ظہور فرد کی اپنی ذات اور اس کے اہلِ خانہ کے گرد ہوتا ہے، کیونکہ یہی وہ کسوٹی ہے جہاں انسان کا اصل کردار بے نقاب ہوتا ہے۔ اس دائرے کے مرکز میں والدین کا مقام ہے۔ خالقِ کائنات نے اپنی کتابِ حکمت میں انسانی ذمہ داریوں کی ترتیب متعین کرتے ہوئے، اپنی وحدانیت کے اقرار کے فوراً بعد والدین سے غیر مشروط حسنِ سلوک کا حکم صادر فرمایا:
"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا” (ترجمہ: اور آپ کے رب نے حتمی فیصلہ فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ انتہائی حسنِ سلوک سے پیش آؤ)۔ حوالہ: (سورۃ الاسراء، 23)
اسی الہامی اصول کی عملی تشریح اس وقت اپنی معراج کو پہنچی جب ایک صحابیؓ نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟” آپ ﷺ نے تین بار فرمایا، "تمہاری ماں” اور چوتھی بار فرمایا، "تمہارا باپ” (صحیح البخاری، 5971)۔ یہ محض ایک جذباتی جواب نہ تھا، بلکہ یہ اس فطری حقیقت کا الہامی اعتراف تھا کہ جس ہستی نے اپنی جان کو پگھلا کر ہماری زندگی کا چراغ روشن کیا، وہی ہمارے بہترین سلوک کی اولین اور سب سے عظیم حقدار ہے۔ اسی دائرے کا اگلا حلقہ شریکِ حیات اور اہلِ خانہ کا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے عورت کو وہ وقار اور عزت عطا کی جس کا تصور بھی اس معاشرے میں محال تھا۔ آپ ﷺ کا فرمان، "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے تم سب سے بہترین ہوں” (جامع الترمذی، 3895)، محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ ایک تہذیبی انقلاب کا اعلان تھا۔
جب ذات اور گھر کی بنیادیں حسنِ سلوک پر استوار ہو جائیں تو رحمت کا یہ چشمہ پھوٹ کر پورے معاشرے کو سیراب کرتا ہے۔ یہ دائرہ رشتہ داروں تک وسیع ہوتا ہے، جسے "صلہ رحمی” سے تعبیر کیا گیا اور رزق میں وسعت کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد پڑوسیوں کا حق آتا ہے، جس پر آپ ﷺ نے اس قدر زور دیا کہ صحابہ کرامؓ کو گمان ہونے لگا کہ کہیں انہیں وراثت میں بھی حصہ دار نہ بنا دیا جائے (صحیح البخاری، 6014)۔ لیکن نبوی ماڈل کی عظمت صرف اپنوں سے حسنِ سلوک تک محدود نہیں۔ اس کی حقیقی آزمائش معاشرے کے کمزور ترین اور بے سہارا افراد کے ساتھ برتاؤ میں ہوتی ہے۔ کسی تہذیب کی اخلاقی نبض اس کے طاقتوروں کے محلات میں نہیں، بلکہ اس کے کمزور ترین افراد کے ساتھ برتاؤ میں دھڑکتی ہے۔ اسی الہامی پیمانے پر، نبی اکرم ﷺ نے یتیم کو مرکز میں لا کھڑا کیا۔ آپ ﷺ کا فرمان، "مسلمانوں کے گھروں میں بہترین گھر وہ ہے جس میں کسی یتیم سے اچھا سلوک کیا جاتا ہو، اور بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم سے برا سلوک کیا جاتا ہو” (سنن ابن ماجہ، 3679)، ایک ابدی کسوٹی ہے جو اعلان کرتی ہے کہ حقیقی تہذیب کی پہچان فلک بوس عمارتوں سے نہیں، بلکہ اس ضمانت سے ہوتی ہے کہ اس معاشرے میں سب سے کمزور فرد سب سے زیادہ محفوظ ہے۔
لیکن نبوی رحمت کا دائرہ اپنوں کی محبت اور معاشرتی ذمہ داریوں تک ہی محدود نہ تھا، بلکہ اس کی وسعتیں پوری انسانیت کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہیں، خواہ ان کا مذہب، نسل یا نظریہ کچھ بھی ہو۔ اس کی بنیاد غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک پر رکھی گئی۔ میثاقِ مدینہ تاریخ کا وہ پہلا دستور ہے جس نے غیر مسلم شہریوں کو برابر کے سماجی، قانونی اور مذہبی حقوق عطا کیے۔ آپ ﷺ کا ایک یہودی کے جنازے کے احترام میں کھڑے ہو جانا (صحیح البخاری، 1312) اور ایک بیمار یہودی لڑکے کی عیادت کے لیے خود اس کے گھر تشریف لے جانا (صحیح البخاری، 1356) اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ آپ ﷺ کی نظر میں مذہبی اختلاف، انسانی احترام اور بنیادی ہمدردی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اور اس حسنِ سلوک کی معراج اور اس کا سب سے کڑا امتحان دشمنوں کے ساتھ برتاؤ ہے۔ یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ اسلام نے ظلم کے خلاف دفاع اور عدل کے قیام کے لیے قتال کی اجازت ضرور دی ہے، لیکن نبوی ماڈل یہ سکھاتا ہے کہ جنگ بھی اخلاقی حدود کی پابند ہے اور جیسے ہی طاقت اور اختیار حاصل ہو، اسلام کی اصل روح یعنی عفو، رحمت اور احسان کی طرف لوٹنا ہی اصل دین ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت فتحِ مکہ کے دن آپ ﷺ کا اختیار اور طاقت کے عروج پر دکھایا گیا طرزِ عمل ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے خون کے پیاسوں کو معاف کر کے انتقام کے لامتناہی سلسلے کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا اور فتح کے تصور کو جبر سے بدل کر رحمت میں ڈھال دیا۔
اور پھر اس حسنِ سلوک کی انتہا یہ ہے کہ اس کا فیض انسانوں کی حدود سے بھی نکل کر پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ نبوی ماڈل کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں رحمت صرف انسانوں کے لیے مخصوص نہیں، بلکہ اس کا فیض بے زبان جانوروں تک بھی پہنچتا ہے۔ قرآن نے انہیں "إلّا أمم أمثالكم” (تمہاری ہی جیسی امتیں: سورۃ الانعام 38) قرار دے کر انہیں ایک وجودی شناخت عطا کی۔ آپ ﷺ نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے والی گناہ گار عورت کی مغفرت کی بشارت دی (صحیح البخاری، 3467) اور ایک بلی کو بھوکا پیاسا باندھ کر مار دینے والی عورت کے لیے عذاب کی وعید سنائی (صحیح البخاری، 3482)۔ یہ محض جانوروں سے ہمدردی کی کہانیاں نہیں، بلکہ یہ اس کائناتی شعور کا اعلان تھا کہ انسان اس زمین کا مالک نہیں، بلکہ امین ہے، اور اس کی ذمہ داریوں میں یہ بے زبان مخلوق بھی شامل ہے۔
آج اکیسویں صدی کی دنیا نے انسانی حقوق کے بلند و بانگ چارٹر (چارٹر) تو بنا لیے ہیں، لیکن معاشروں میں نفرت، تقسیم اور بے رحمی بڑھتی جا رہی ہے۔ وجہ صاف ہے کہ ان چارٹرز کے پیچھے کوئی گہری روحانی اور ما بعد الطبیعیاتی قوت موجود نہیں، جو انسان کو باہر کے قانون سے زیادہ اندر کے ضمیر کا پابند بنائے۔ اس کے برعکس، نبی اکرم ﷺ کا پیش کردہ حسنِ سلوک کا ماڈل ہر اخلاقی حکم کو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ سے جوڑ کر انسانی ضمیر کے اندر ایک ایسا ابدی نگران بٹھا دیتا ہے جو ہر حال میں اسے عدل، رحم اور احسان (یعنی کمالِ حسن کے ساتھ ادائیگی) پر قائم رکھتا ہے۔ پس، بلاشبہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے حسنِ سلوک کا فیض ایک لازوال نمونہ ہے۔ یہ ایک زندہ ضابطہ حیات ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی فلاح محض حقوق کے حصول میں نہیں، بلکہ فرائض کی ادائیگی اور دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے میں مضمر ہے۔ آج کی دنیا کو صرف "حقوق” کے شور کی نہیں، بلکہ اس "نبوی اخلاقی ضمیر” کی ضرورت ہے جو نفرت کو محبت سے اور ظلم کو عفو سے بدلنے کا ہنر جانتا ہو۔ آپ ﷺ کی سیرت اسی لازوال ہنر کی ابدی تعلیم گاہ ہے۔
Like this:
Like Loading...