Skip to content
زندگی — ایک دشت بھی، ایک گلزار بھی
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
"زندگی گلزار ہے” یہ جملہ سطحی نگاہ میں شاید محض ایک شاعرانہ تشبیہ معلوم ہو، مگر حقیقت میں یہ انسانی وجود کے تمام تر نشیب و فراز کا خلاصہ ہے۔ گلزار محض رنگین پھولوں اور خوشبوؤں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس میں کانٹوں کی تیزی، جھاڑیوں کی سختی، اور ہوا کی بے ثباتی بھی شامل ہوتی ہے۔ گویا گلزار کی اصل روح کثرت اور تنوع ہے۔ اور زندگی بھی تو یہی ہے کہیں مسکراہٹ، کہیں آنسو؛ کہیں سکون، کہیں اضطراب؛ کہیں بہار کا سہانا جھونکا اور کہیں خزاں کی زرد کرنیں۔
مگر انسانی ذہن خوشی اور غم کے اس بہاؤ کو ہمیشہ توازن میں محسوس نہیں کر پاتا۔ خوشی جب آتی ہے تو لمحہ بھر کے لیے دل کو بہلاتی ہے، مگر اسی لمحے غم اپنی باری کے لیے بے چین کھڑا نظر آتا ہے۔ گویا زندگی کا پلیٹ فارم وہی ریلوے اسٹیشن ہے جہاں مسافر اپنی تھکن اور بے صبری کے ساتھ ٹکٹ کٹوانے کو بے قرار رہتے ہیں۔ ایک مسافر جیسے ہی کھڑکی تک پہنچتا ہے، دوسرا اسے پھلانگ کر آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح غم اور خوشی بھی زندگی کی قطار میں اپنی اپنی باری کے لیے محاذ آرا رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو محض بہشت کا باغ نہیں پاتا بلکہ اکثر اسے ایک دشتِ بے آب و گیاہ کے طور پر دیکھتا ہے، جہاں امید کی ہر بوند ایک سراب کی مانند ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے۔ وہ لمحہ جس کا انتظار صدیوں کی پیاس سے کیا جاتا ہے، جب آتا ہے تو اکثر دھوکہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر وہ لمحہ نصیب نہ ہو تو پوری زندگی اس انتظار کی اذیت میں کٹ جاتی ہے۔
لیکن "زندگی گلزار ہے” کا مفہوم دراصل اس تمام تر تلخیوں اور خوشبوؤں کو یکجا دیکھنے میں ہے۔ یہ ایک ایسا گلزار ہے جس میں کانٹے بھی اپنی جگہ ضروری ہیں کہ ان کے بغیر پھول کی نزاکت اور بھی نمایاں نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک ایسا چمن ہے جس میں بہار بھی ہے اور خزاں بھی، دھوپ بھی ہے اور چھاؤں بھی، سکوت بھی ہے اور طوفان بھی۔ زندگی کی معنویت اسی بات میں ہے کہ ہم اس کے ہر رنگ کو قبول کریں۔ خوشی کو شکر کے ساتھ اور غم کو صبر کے ساتھ۔ کیونکہ اگر زندگی محض مسرتوں کا سلسلہ ہوتی تو وہ یک رنگ اور بے کیف ہو جاتی۔ اس کی خوبصورتی ہی اس بات میں ہے کہ یہ تضاد اور تنوع کے ساتھ جلوہ گر ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ مجھے زندگی کی تصویر محض ایک ایسی چکی دکھائی دیتی تھی، جس کے پاٹوں میں انسان مسلسل پس رہا ہے۔ مشقت کے یہ پاٹ تھمتے نہیں، اور غموں کے اثرات ایسے تھے جیسے کوئی سایہ جو ہر روشنی کے تعاقب میں لپکا چلا آتا ہو۔ اس دور میں "زندگی گلزار ہے” محض ایک دل فریب فسانہ معلوم ہوتا تھا، ایک ایسا جملہ جس کا تعلق حقیقت سے نہیں بلکہ کہانیوں اور خوابوں سے ہوتا ہے۔
مگر وقت، جو بہترین معلم ہے، رفتہ رفتہ یہ راز کھول گیا کہ زندگی کو سمجھنے کے کئی زاویے ہیں، اور ہر زاویہ اپنی روشنی اور اپنا سایہ رکھتا ہے۔ آج جب میں اپنی عمر کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوں جہاں تجربات کی فصل بہت کچھ سکھا چکی ہے، تو یہ کہنا میرے لیے دشوار نہیں کہ زندگی درحقیقت ایک گلزار ہی ہے۔ البتہ یہ گلزار محض پھولوں کی رنگینی اور خوشبوؤں کی مہک کا نام نہیں، بلکہ اس میں خزاں کی زردی، پت جھڑ کی خالی شاخیں، اور بارش کے بعد کیچڑ کی نمی بھی شامل ہے۔ یہی تضاد اسے مکمل اور بامعنی بناتا ہے۔
انسانی وجود بھی ایک مالی کی مانند ہے جو اپنے باطن کے چمن کو سنوارتا ہے۔ مالی جانتا ہے کہ زمین کس قسم کی مٹی رکھتی ہے، کون سا بیج پھوٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور کون سا درخت پت جھڑ کے باوجود مضبوطی سے اپنی جڑوں پر جما رہتا ہے۔ اسی طرح زیست کا مالی ہمیں درس دیتا ہے کہ مشکلات اور خزاں کی گھڑیاں عارضی ہیں، اور بہار کی واپسی فطرت کے اٹل قوانین میں سے ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موسم کا تغیر ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، مگر اصل کامیابی ان درختوں کی ہے جو پت جھڑ کے باوجود اپنی جڑوں کو تھامے رہتے ہیں اور بہار کے لمحے آتے ہی پھر سے شاداب ہو جاتے ہیں۔
یوں طے ہوا کہ زیست کا یہ گلزار اس وقت تک آباد نہیں رہ سکتا جب تک ہم اپنے اندر وہ مزاحمت اور برداشت پیدا نہ کریں جو غموں کے طوفان کے بعد بھی روح کو منور رکھے۔ کیونکہ خوشی کا اصل ذائقہ اسی وقت باقی رہتا ہے جب انسان غم کے دھوئیں سے اپنی روح کو بجھنے نہ دے۔ زندگی کا جمال اسی میں ہے کہ ہم بہادری سے خزاں کو جھیلیں تاکہ بہار کا جلوہ ہمارے لیے نئی معنویت کے ساتھ طلوع ہو۔ یوں رفتہ رفتہ زندگی کا راز یہ کھلا کہ یہ صرف ایک آزمائش نہیں بلکہ ایک تعمیر بھی ہے؛ صرف ایک دشت نہیں بلکہ ایک گلزار بھی ہے۔ اور انسان کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ وہ اس گلزار کو سنوارنے کی سعی کرے، جیسے مالی اپنے باغ کو صبر اور حکمت کے ساتھ سنوارتا ہے۔
زندگی کی اصل معنویت اسی میں ہے کہ ہم ایسے چراغ روشن کریں جو محض اندھیروں کو مٹانے کے لیے نہ ہوں، بلکہ آنے والے سورج کی خبر بھی دیں۔ وہ چراغ جو مایوسی کی رات میں امید کا نقارہ بجاتے ہیں، وہ چراغ جو بتاتے ہیں کہ تاریکی ہمیشہ عارضی ہے اور صبح کی کرن اپنی راہ میں ہے۔ انسان کے دل کی مٹی اگر نرم اور زرخیز بنا لی جائے تو یہ دل ایک ایسی زمین کی مانند ہو جاتا ہے جو قحط اور خشک سالی کے بعد بھی بیج کے پھوٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یعنی انسان کے باطن میں اتنی گنجائش ہو کہ دکھ اور صعوبتیں اسے بنجر نہ بنا سکیں، بلکہ ہر مشکل کے بعد وہ دوبارہ سبزہ اگانے کا حوصلہ رکھے۔
اپنے اندر وہ شمع روشن کرنا ضروری ہے جس کی روشنی صرف اپنی ذات کو منور نہ کرے، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی اجالا بانٹے۔ انسان کی حقیقت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب وہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے بھی سہارا، خوشبو اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ زندگی کو گلزار بنانے کا راز یہ ہے کہ ہم اپنی ہستی کو خوشیوں کا میلہ بنا دیں۔ ایسے میلے جہاں ہنسی کے ساز بجیں، جہاں امید کے چراغ جلیں، اور جہاں انسانیت کو محبت کا پیغام ملے۔ دراصل خوشی وہ تحفہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے، اور جو دوسروں کے دلوں میں جگہ پاتا ہے۔
یوں زندگی کا جمال اسی وقت آشکار ہوتا ہے جب ہم اپنے مقصدِ حیات کی راہ میں رکاوٹوں کو محض عارضی خار دار جھاڑیاں سمجھیں اور ان پھولوں کے کھلنے کا انتظار کریں جو ابھی شاخ کے دوسرے سرے پر ہیں۔ کیونکہ بہار کا سفر ہمیشہ خزاں کے بعد آتا ہے، اور محنت کی زمین پر کھلنے والے پھول کبھی مایوس نہیں کرتے۔
آخرِکار یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ زندگی اپنے اندر دو متضاد مگر ہم آہنگ پہلو رکھتی ہے دشت بھی اور گلزار بھی۔ اگر انسان صرف دشت کو دیکھے تو اس کی نگاہ مایوسی کی دھند میں کھو جاتی ہے، اور اگر محض گلزار کو دیکھے تو حقیقت کی تلخیاں اسے چونکا دیتی ہیں۔ مگر کامیاب اور بامعنی زیست وہی ہے جو دونوں کو ساتھ لے کر چلے، جو خزاں کو برداشت کرے تاکہ بہار کی خوشبو کو اور گہری سانسوں سے محسوس کر سکے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ حیات ابدی نہیں، یہ ایک امانت ہے۔ اس کی خوبصورتی اور کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے حصّے کا چراغ جلائیں، اپنی ذات کو بھی روشنی میں رکھیں اور دوسروں کے اندھیروں کو بھی اجالا دیں۔ یہی وہ توازن ہے جو زندگی کو دشت سے گلزار اور غم سے مسرت میں بدل دیتا ہے۔ پس! زندگی کو مسکراہٹ کے ساتھ قبول کیجیے، شکر کے ساتھ جِیئِے اور محبت کے ساتھ بَانٹیے۔ یہی وہ نسخہ ہے جو انسان کو سکون دیتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس سے پوری کائنات ایک ہمہ گیر گلزار میں ڈھل جاتی ہے۔
🗓 (29.08.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...