Skip to content
ذات پات کی مردم شماری سے مرہٹہ ریزرویشن اور سب کے لئے ریزرویشن تک
ازقلم:شیخ سلیم (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
ذات پات کی مردم شماری کا سوال آزاد بھارت میں سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک رہا ہے۔ 1951 سے قومی مردم شماری میں صرف فہرست شدہ ذاتوں اور فہرست شدہ قبائل کا شمار کیا جاتا رہا ہے SC &ST اور دیگر پسماندہ طبقات اور باقی ذاتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 2011 کی سماجی اقتصادی اور ذات پات کی مردم شماری کرائی تو گئی لیکن اسے کبھی باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا گیا۔ تازہ قومی ڈیٹا کی عدم موجودگی میں کئی ریاستوں نے حالیہ برسوں میں اپنی ذات پات کی بنیاد پر سروے یا مردم شماری کی ہے۔ ان کے تجربات نہ صرف سماجی ناانصافی کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس طرح کے ڈیٹا کو شائع کرنے کے دوررس سیاسی نتائج بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
کیرالہ: 1968 کیرالہ آزادی کے بعد پہلی ریاست تھی جس نے 1968 میں ذات پات کی بنیاد پر سماجی اقتصادی سروے کیا اور اس کے نتائج 1971 میں کیرالہ کے گزٹیئر میں شائع کیے۔ اس سروے نے اس وقت فلاحی ہدف Targets کے لیے پسماندہ کمیونٹیوں یا سماج کی شناخت میں مدد کی لیکن یہ ایک بار کی کوشش رہی۔ اگرچہ اس سے فوری طور پر بڑے پیمانے پر سیاسی ہنگامہ نہیں ہوا لیکن اس نے یہ نظیر قائم کی کہ ریاستیں ذات پات کے ڈیٹا کو مثبت امتیازی کارروائی کی پالیسیوں کی تشکیل کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
کرناٹک: 2015 سے تازہ سروے تک کرناٹک کی ذات پات سروے کی تاریخ عزائم اور تنازعات دونوں کو ظاہر کرتی ہے۔ 2015 میں ریاست نے ایک کروڑ سے زیادہ گھرانوں کا ایک بڑا سماجی اقتصادی اور تعلیمی سروے کیا۔ تاہم یہ رپورٹ سیاسی طور پر کافی حساس تھی خاص طور پر اس لیے کہ لیک ہونے والے نتائج یہ بتا رہے تھے کہ لنگایت اور ووکالیگا جیسی غالب ذاتیں تعداد میں جتنا اندازہ لگایا گیا اس سے کم ہیں جبکہ فہرست شدہ ذاتیں، فہرست شدہ قبائل، مسلمان اور دیگر پسماندہ طبقات مل کر تقریباً آدھی آبادی بنتے ہیں۔ ڈیٹا نے دیگر پسماندہ طبقات کے تحفظات یا ریزرویشن کو تقریباً 51 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کی۔ حتمی رپورٹ کو تقریباً ایک دہائی بعد اپریل 2025 میں باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ مئی 2025 میں کرناٹک نے فہرست شدہ ذاتوں کی 101 ذیلی ذاتوں کی مردم شماری کی تاکہ فہرست شدہ ذاتوں کے تحفظات میں اندرونی کوٹوں کی تیاری کی جا سکے۔ ستمبر اکتوبر 2025 میں ڈیٹا کو تازہ یا ریفریش کرنے اور مستقبل کی پالیسیوں کی رہنمائی کے لیے ایک تازہ جامع ذات پات مردم شماری ہونے والی ہے۔سماجی سیاسی نتیجہ: باضابطہ اجراء سے پہلے ہی 2015 کے سروے کے لیک ہونے والے اعداد نے سیاسی مساوات بدل دی۔ پسماندہ کمیونٹیوں یا سماج نے زیادہ تحفظاتی ریزرویشن کوٹوں کے لیے اپنے مطالبات تیز کر دیے جبکہ غالب یا اعلیٰ ذاتوں نے مراعات کھونے کے امکان پر بے چینی ظاہر کی۔ ڈیٹا نے کوٹوں کی دوبارہ تقسیم کے کیس کو مضبوط بنایا ہے اور پسماندہ گروپوں کی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔
بہار: تاریخی 2023 کا سروے بہار کئی دہائیوں میں پہلی ریاست بنی جس نے اکتوبر 2023 میں جامع ذات پات سروے Caste census جاری کیا۔ نتائج یہ تھے:دیگر پسماندہ طبقات اور انتہائی پسماندہ طبقات: 63.14 فیصد فہرست شدہ ذاتیں: 19.65 فیصد فہرست شدہ قبائل: 1.68 فیصد عام اعلیٰ ذاتیں: 15.52 فیصدسروے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ایک تہائی سے زیادہ خاندان دو سو روپے یومیہ سے کم پر زندگی بسر کرتے ہیں اور صرف تقریباً 7 فیصد آبادی گریجویٹ ہے۔
بہار کے ڈیٹا کی اشاعت نے فوری طور پر قومی سیاست کو تبدیل کر دیا۔ بہار میں حکمران اتحاد نے زیادہ کوٹہ الاٹمنٹ کے لیے زور ڈالا اور نتائج نے ملک گیر ذات پات مردم شماری کے مطالبے کو مزید تیز کر دیا۔ قومی سطح پر اپوزیشن نے بہار ماڈل استعمال کرتے ہوئے ذات پات کی بنیاد پر سماجی انصاف کے اقدامات کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے جس میں راہول گاندھی پیش پیش ہیں جبکہ اعلیٰ ذات کے گروپوں نے سیاسی طاقت کھو دینے کا اندیشہ ظاہر کیا۔
تلنگانہ: حالیہ مثال 2024-25 تلنگانہ نے نومبر دسمبر 2024 میں سماجی اقتصادی، تعلیمی، روزگار اور ذات پات سروے کیا جس میں تقریباً 97 فیصد گھرانوں کا احاطہ کیا گیا۔ فروری 2025 کے نتائج یہ تھے:پسماندہ طبقات: 56.33 فیصد فہرست شدہ ذاتیں: 17.43 فیصد فہرست شدہ قبائل: 10.45 فیصد دیگر ذاتیں: 15.79 فیصد مسلمان: 12.56 فیصد (پسماندہ اور دیگر ذات کے مسلمان دونوں سمیت)۔
تلنگانہ حکومت نے اس سروے کو ایک تاریخی قدم قرار دیا اور ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 50 فیصد تحفظاتی حد یا limit توڑنے کا مطالبہ کیا۔ سیاسی بحثیں اب فلاحی اسکیموں کی تنظیم نو اور متناسب نمائندگی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں۔ یعنی پسماندہ طبقات اب اپنا حق سیاست اور معیشت میں مانگ رہے ہیں۔ اس ڈیٹا نے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو اپنی آبادی کے تناسب سے فوائد کا مطالبہ کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی ہے
اڈیشہ: 2023 کا سماجی اور تعلیمی پسماندہ طبقات کا سروے اڈیشہ نے مئی جون 2023 میں سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کا سروے کیا۔ 208 سماجی اور تعلیمی پسماندہ کمیونٹیوں یا سماج کا احاطہ کرتے ہوئے اس میں اندازہ لگایا گیا کہ یہ گروپ آبادی کا 39 سے 46 فیصد حصہ بناتے ہیں۔ رپورٹ اکتوبر 2023 میں جمع کرائی گئی لیکن عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی شاید شائع نہیں کرنا چاہتی۔سماجی سیاسی نتائج: مکمل انکشاف کے بغیر بھی اس سروے نے اس بات پر بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا موجودہ تحفظاتی فیصد یا ریزرویشن اصل آبادی کے تناسب سے ہے۔ اگر نہیں تو حکومت کو اس کے لیے اقدامات اٹھانے چاہیئے۔ پسماندہ طبقاتی تنظیموں نے حکومت پر رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد ریزرویشن کوٹے بڑھانے کا دباؤ بڑھایا ہے۔
آندھرا پردیش: منصوبہ بند سروے آندھرا پردیش نے 2023 کے آخر میں جامع ذات پات سروے کی منظوری دی جو نومبر میں شروع ہوئے۔ تاہم 2025 کے وسط تک کوئی باضابطہ نتائج جاری نہیں کیے گئے ہیں اور یہ سوالات باقی ہیں کہ آیا یہ مردم شماری مکمل طور پر ہوئی ہے یا نہیں۔اس مردم شماری کی تاخیر سے بہت سے پسماندہ طبقات مایوس ہوئے ہیں حالانکہ ریاستی حکومت نے انتخابات سے پہلے سیاسی وعدے کے طور پر ذات پات مردم شماری کے خیال کا استعمال جاری رکھا ہے۔ذات پات مردم شماری کے بعد کیا تبدیل ہوا؟ ریاستوں میں سماجی سیاسی نتائج ایک مشترکہ رجحان ظاہر کرتے ہیں
ذات پات سروے نے بھارتی سیاست میں طاقت کا توازن دوبارہ طے کیا ہے۔ بہار میں دیگر پسماندہ طبقات اور انتہائی پسماندہ طبقات کی تعداد میں غلبے یا زیادہ آبادی کی اشاعت نے تحفظات ریزرویشن میں اضافے کے مطالبات کو مزید تقویت دی ہے اور قومی سیاست کو سماجی انصاف کے مطالبے کی طرف موڑ دیا ہے۔ کرناٹک میں غیر شائع شدہ ڈیٹا اور بعد میں اس کی اشاعت نے اندرونی ذیلی کوٹوں کے مطالبات کو پہلے ہی مزید حوصلہ دیا ہے اور تازہ ڈیٹا جمع ہونے کے بعد تحفظاتی ریزرویشن میں بنیادی تبدیلی کی توقع ہے۔
تلنگانہ میں حکومت نے ذات پات مردم شماری کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے 50 فیصد تحفظاتی ریزرویشن حد سے آگے کی پالیسیوں کے لیے زور ڈالا ہے جس سے پسماندہ طبقات کو مضبوط آواز ملی ہے۔ اڈیشہ اور آندھرا پردیش میں ذات پات سروے کرنے کے عمل نے پسماندہ کمیونٹیوں اور سماج میں توقعات بڑھائی ہیں اور حکومتوں پر فلاحی اسکیموں کو دوبارہ منظم کرنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ مختصراً بھارتی ریاستوں میں ذات پات مردم شماری محض سروے سے سماجی تبدیلی کی طاقتور آواز بن گئی ہے۔ جہاں شائع ہوئی ہے انہوں نے پسماندہ گروپوں کی طاقت میں اضافہ کیا ہے، سیاسی گفتگو کو برابری کی طرف موڑا ہے اور روایتی اہل اقتدار کے غلبے کو چیلنج کیا ہے۔ اور جہاں روک لی گئی ہے انہوں نے اضطراب اور عدم اعتماد پیدا کیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک لازمی حساب کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ملک گیر ذات پات مردم شماری کا مطالبہ اب پہلے سے کہیں زیادہ بلند اور سیاسی طور پر اہم ہے۔
مہاراشٹرا میں منوج جارنگے پاٹل نے مرہٹہ سماج کے لئے ریزرویشن تحریک چھیڑ رکھی ہے اُنہوں نے کئی مرتبہ اپنے مطالبات منوانے بھوک ہڑتال بھی کی ہے سرکار نے مرہٹہ سماج کو دس فیصد ریزرویشن بھی دیا ہے۔
اگر مہاراشٹرا سرکار بہار اور تلنگانہ کی طرح مہاراشٹرا میں بھی ذات پات پر مبنی مردم شُماری کرائے اور اُسکے اعداد و شمار ایماندارانہ طریقے سے شائع کرے تو پسماندہ طبقات اور او بی سی کے اعداد وشمار یا ڈیٹا سامنے آ جائینگے مردم شُماری سے کون سا سماج کتنا پسماندہ ہے کون سا سماج طاقتور ہے کون سے سماج کے پاس کتنی زمین ہے سرکاری نوکری میں کون سا سماج غالب ہے یہ اعداد وشمار سامنے آ جائینگے اور اُسکے بعد سرکار کمزور سماج کو اُسکی آبادی اور پسماندگی کے بعد نئے سرے سے ریزرویشن دے اور غریب بےگھر لوگوں میں امیر لوگوں سے زمین لیکر غریب عوام اور کسانوں میں زمینیں نئے سرے سے از سر نو تقسیم کی جائیں تا کہ سماجی انصاف کے دعوے کو حقیقت میں عمل میں لایا جائے سماجی انصاف قائم ہو۔ بہت سارے سماج انتہائی طاقتور ہیں اپنی طاقت کی بنیاد پر بمبئی میں مورچہ لا سکتے ہیں بند کا اعلان کر سکتے ہیں وہیں بہت سے سماج اتنے کمزور ہیں وہ سڑکوں پر نکل ہی نہیں سکتے لاٹھی اور گولی اور جیل انکا مقدر ہے سرکار تو سب کی سرکار ہے کمزور سماج کے لیے انصاف کیسے ممکن ہوگا اُنہیں اپنی آبادی کے حساب کے نوکریوں اور تعلیم میں ریزرویشن کیسے ملے گا اُمید ہے اہل اقتدار اسکا جواب مہاراشٹرا کے عوام کو دینگے۔
Like this:
Like Loading...