Skip to content
علم دنیا و آخرت میں سربلندی کا ضامن ہے
ازقلم: انوار الحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
یہ حقیقت ہر صاحب عقل و دانش پر بخوبی آشکارا ہے کہ علم خدا کی معرفت ،صراط مستقیم کی پہچان اور دنیا و آخرت میں سربلندی و سرفرازی کا ضامن ہے۔ علم قلب انسانی کو عرفان الٰہی کی مقدس روشنی عطا کرتاہے۔علم دل ودماغ کو خدا پرستی و اطاعت گزاری پر لگاتاہے۔علم ہدایت و راستی اور خیر و بھلائی کی سب سے بڑی شاہ راہ ہے۔علم انسان کی فضیلت کی بنیاد ہے۔علم نبی پاک- صلی اللہ علیہ وسلم- کے ذریعہ انسانیت کو ملنے والا سب سے پہلا خدائی پیغام ہے۔ حصول علم :یعنی تعلیم انسان کو مہذب اور اخلاق مند بناتی ہے۔تعلیم انسان کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے۔تعلیم انسان میں صحیح سوچنے اور درست رائے قائم کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو شعور بخشتی ہے،جس سے وہ معاشرہ کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔
یقیناً تعلیم انسان کو دوسرے تمام حیوانات سے ممتاز اور تمام مخلوقات سے اشرف و اعلیٰ بنادیتی ہے۔ جس طرح اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتے ،تاریکی اور روشنی کو ،بدی اور نیکی کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ،شرک و توحید کو ایک پلڑے میں نہیں رکھا جاسکتا، بعینہ ان ہی کی طرح علم اور جہل بھی کسی بھی زاویے سےمساوی نہیں ہوسکتے؛کیوں کہ علم میں روشنی اور جہل میں تاریکی ہے اور روشنی و تاریکی میں غایت درجہ مغایرت پایا جاتا ہے۔
بلاشبہ معاشرے اور سماج کو صحیح راہ پر لا کھڑا کرنے کے لیے قوم کا تعلیم یافتہ ہونا از حد ضروری ہے۔ جس قوم نے تعلیم سے اپنا رشتہ منقطع کیاہے،تو پھر زوال ،ناکامی اور حرماں نصیبی ان کا مقدر بن گیا ہے،یہی وجہ ہے کہ جب آپ تحقیق و ریسرچ کریں گے،تو یہ بات روشن سورج کی واضح ہوجائے گی کہ اسلام ہی ایک واحد مذہب ہے،جس نے اپنے پیرو کاروں کو حصول تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا ہے اور رب العالمین کی جانب سے نبی اکرم -صلی اللہ علیہ وسلم- پر قرآن مجید کی پہلی آیت تعلیم ہی کے عنوان پر نازل کی گئی ہے،جس سے تعلیم کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ارشاد باری ہے:”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ(1) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ(2) اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ(3)الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ(4) عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم(5)“(العلق)
ترجمہ:اپنے پروردگار کے نام سے پڑھئے،جس نے(سب کچھ)پیدا کیا ہے(1)اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے،(2)پڑھئے،آپ کے پروردگار بڑے کرم کرنے والے ہیں،(3)جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ،(4) انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی،جن کو وہ نہیں جانتا تھا،(5)
سبھوں کا اتفاق ہے کہ سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں آپ- صلی اللہ علیہ وسلم- پر نازل ہونے والی سب سے پہلی آیات ہیں،ان آیات میں کئی پہلو قابل توجہ ہیں،اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلی وحی میں پڑھنے کا حکم اور اس کے ساتھ ساتھ تعلیم اور قلم کا ذکر کیا،اس سے تعلیم کی اہمیت ہوتی ہے،دوسرے فرماگیا” اپنے رب کے نام سے پڑھئے” اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ انسان کے لیے وہی علم نافع ہوتا ہے،جس کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے جڑا ہواہو،جس علم کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے جڑا ہوا نہ ہو،وہ دنیا کمانے کا ذریعہ تو بن سکتاہے؛انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ نہیں بن سکتا ،جیسا کہ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اعلیٰ صلاحیت رکھتے ہیں ؛لیکن نہ ان میں خالق کی پہچان ہے،نہ مخلوق کی محبت ،تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ہر اچھے کام کو اللہ کے نام سے شروع کرنا چاہیے ،چوتھے قلم کی اہمیت معلوم ہوئی ؛کیوں کہ قلم ہی علم کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،قتادہ کا قول ہے کہ قلم اللہ کی بڑی نعمت ہے،اگر یہ نہ ہوتا ،تو نہ دین قائم رہتا اور نہ زندگی بہتر ہوتی ہے،(تفسیر قرطبی:120/20) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا (ترمذی ،کتاب التفسیر ،حدیث نمبر:3319)آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے اگر چہ لکھنا نہیں سیکھا تھا اور اس میں مصلحت تھی کہ لوگوں کو کہنے کا موقع نہ ملے کہ آپ نے کسی کتاب کو پڑھ کر خود سے قرآن مجید بنالیاہے؛لیکن آپ نے لکھنے کی حوصلہ افزائی فرمائی ،آپ مختلف صحابہ سے قرآن پاک لکھایا کرتے تھے ،آپ نے حدیث کو لکھنے کا حکم دیا ،(الاتقان فی علوم القرآن:205/1)
ہر ایک بندہ پر بحیثیت بندہ یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق حقیقی کی ذات و صفات کی معرفت حاصل کرے اور ان تمام چیزوں کا علم حاصل کرے ،جن پر ایمان و اسلام کی بنیاد ہے۔چناں چہ اسلامی شریعت میں ہر مسلمان پر اتنا علم حاصل کرنا فرض عین ہےکہ جس سےوہ خدا کی معرفت حاصل کرسکے،حلال و حرام کے درمیان فرق و امتیازکی کیفیت خود میں پیدا ہوجائے اور تمام فرائض و ضروریات زندگی سے متعلق ضروری مسائل سے آشنا ہوسکے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بلند ارشاد ہے:” طلب العلم فريضة علي كل مسلم”.(اخرجه الطبرني في المعجم الأوسط:8567/والبيهقي في شعب الايمان:1667)
ترجمہ:” علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے”(اخرجه الطبرني في المعجم الأوسط:8567/والبيهقي في شعب الايمان:1667)
یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اسلام کسی بھی علم کے حصول کو منع نہیں کرتا؛لیکن ایسے علم سے بیزاری اور خفگی کا اظہار بھی کرتا ہے،جو ذہن و فکر کو ضلالت وگمراہی کی طرف موڑ دے یا انسان کو خدا کے رسول سے نا آشنا رکھ کر دہریت کے راستہ پر لگا دے۔
فضیلت کی بنیادیں بس دوچیزیں ہی قرار پاسکتی ہیں:مفسرین نے سورة الزمر کی آیت نمبر:9 /میں یہ نکتہ ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ،ایک عمل ،دوسرے:علم ،اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی فضیلت کی بنیادیں یہی دو چیزوں ہیں:عمل صالح اور علم نافع ۔
اللہ تعالیٰ نے اہل علم کا درجہ بلند کیا ہے، جس کا مقتضا ہے کہ اہل علم کو خصوصی فوقیت دیا جائے،ارشاد باری ہے:”یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ.“(المجادلہ:11)
ترجمہ:”تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیاگیا،اللہ ان کے درجے بلند کریں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے واقف ہیں”(11)
اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اہل علم کی عزت کی پاسداری نہ کرنا،یہ علم اور اہل علم کے مقام کی تنقیص ہے۔ اس لیے ہر مسلمان اہل علم کا احترام ضرور کرے۔
کیا ایک اہل علم کی فضیلت کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ان کے لیے آسمان وزمین کی تمام چیزیں؛حتی کہ مچھلیاں تک دعائے مغفرت کرتی ہیں اور ایک عالم کی فضیلت چراغِ علم سے محروم عابد پر ایسی ہے،جیسی چاند کی فضیلت تمام تاروں پر اور ان کی فضیلت اس قدر عالی ہے کہ محبوب رب العالمین نے انھیں اپنے علوم و معارف اور مشن کا وارث اور جاں نشیں بنایا ہے۔ارشاد نبوی ہے:” مَنْ سَلَکَ طَرِیْقاً یَبْتَغِی فِیْہِ عِلْماً سَلَکَ اللّٰہُ بِہ طَرِیْقاً اَلَی الْجَنَّةِ، وَاِنَّ الْمَلائِکَةَ لَتَضَعُ اَجنِحتَھَا رَضًی لَطَالِبِ الْعِلْمِ، وَاِنَّ الْعَالِمَ لَیَسْتَغْفِرُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَواتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ حَتَّی الْحِیتَانُ فَی الْمَاءِ، وَفَضْلُ الْعَالِم عَلَی الْعَابِدِ، کَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَی سَائِرِ الْکَوَاکِبِ، انَّ الْعُلْمَاءَ وَرَثَةُ الْاَنْبِیَاءِ، اِنَّ الْاَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارًا وَلَا دِرْھَماً، اِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ اَخَذَ بِہ فَقَدْ اَخَذَ بِحَظّ وَافَرٍ.“
ترجمہ:جو کوئی حصول علم کی غرض سے راستہ طے کرے تو خدا اس کے سبب اسے جنت کی ایک راہ چلاتا ہے۔ فرشتے طالب علم کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھادیتے ہیں اور یقینا عالم کے لیے آسمان اور زمین کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں،یہاں تک کہ وہ مچھلیاں بھی جو پانی میں ہیں ۔ عابد پر عالم کو ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو تمام تاروں پر۔بلاشبہ علماء ہی پیغمبروں کے وارث ہیں۔پیغمبروں نے ترکہ میں نہ دینار چھوڑا ہے اور نہ درہم ۔ انہوں نے تو صرف علم کو اپنے ترکہ میں چھوڑا۔ پس جس کسی نے علم حاصل کیا اس نے ہی حصہ کامل پایا۔
عالم کی عابد پر فوقیت کی وجہ:عالم کی عابد پر فوقیت و برتری کا سبب یہ ہے کہ عالم کافائدہ متعدی ہوتا ہے : یعنی اس کا فیضان عام ہوتاہے؛اسی لیے عالم اور عابد کو چاند ستاروں سے مشابہت دی گئی ہےکہ جس طرح چودہویں کا چاند جب اپنی پوری تابانی اور جلوہ ریزی کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوتا ہے،تو دنیا کی تمام مخلوق اس سے مستفید ہوتی ہے اور اس کی روشنی تمام جگہ پہنچتی ہے،جس سے دنیا فائدہ اٹھاتی ہے،مگر ستارہ خود اپنی جگہ تو روشن و منور ہوتاہے؛مگر اس کا فیضان اتنا عام نہیں ہوتا کہ اس کی روشنی تمام جگہ پھیل سکے اور سب کو فائدہ پہنچے ۔
اہل علم کی فضیلت کے حوالے سے اللہ کے نبی- صلی اللہ علیہ وسلم -کا ایک ارشاد یہ بھی ہے:” فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعابِدِ ،کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ وَاھْلَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِیْنَ حَتَّی النَّمْلَةَ فِی جُحْرِھَا وَحَتَّی الْحُوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ.“(رواہ ابوداؤد والترمذی)
ترجمہ:عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر۔ یقینا اللہ -عزوجل -اس کے فرشتے اور آسمان وزمین والے ؛حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعا کرتی ہیں۔
فضیلت علم کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:” علم کا طلب کرنا نماز نفل سے افضل ہے؛کیوں کہ وہ علم جسے طلب کیا جارہا ہے یا تو وہ فرض عین ہوگا یا فرض کفایہ ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں نفل سے بہر حال افضل ہیں۔
حصول علم کے درمیان موت کی فضیلت: حضرت حسن بصری- رحمۃ اللہ علیہ- سے بطریق مرسل روایت ہے کہ اللہ کے نبی -صلی اللہ علیہ وسلم- کا فرمان ہے:” جس شخص کی موت اس حال میں آئے کہ وہ علم حاصل کررہاہو اور وہ علم اس غرض سے حاصل کررہا ہو کہ وہ اس کے ذریعہ اسلام کو رائج کرے گا،تو جنت میں اس کے اور اور انبیاء کرام کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہوگا اور وہ مرتبہ نبوت کا ہوگا”(الدارمی)
رات میں تھوڑی دیر علم کا درس دینا پوری رات عبادت سے بہتر ہے: حضرت ابن عباس- رضی اللہ عنہما -راوی ہیں کہ سرکار دوعالم- صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا:” رات میں تھوڑی دیر علم کا درس دینا تمام رات عبادت خداوندی میں مشغول رہنے سے زیادہ بہتر ہے”(الدارمی)
دنیا طلبی کی نیت سے علم حاصل کرنا باعثِ وبال ہے: حضرت ابو ہریرہ- رضی اللہ عنہ -راوی ہیں کہ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ- صلی اللہ علیہ وسلم -نے ارشاد فرمایا:”جس نے اس علم کو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جاتی ہے،اس غرض سے سیکھا کہ وہ اس کے ذریعے دنیا کی متاع حاصل کرے ،تو قیامت کے دن اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں ہوگی”(رواہ احمد وابو داؤد وابن ماجہ)
متذکرہ قرآنی آیات و احادیث مبارکہ سے علم اور صاحب علم کی اہمیت و فضیلت نمایاں ہوتی ہے۔
ہر باشعور مسلمان اس حقیقت کاضرور معترف ہے کہ علم میں شرافت وتہذیب،عزت و عظمت کے معانی پایے جاتے ہیں،جو صاحب علم کو خدا پرستی اور اطاعت گزاری پر بر انگیختہ کرنے کا کام کرتے ہیں،جس سے دنیا میں انسان کے خليفة الله بناکر بھیجیے جانے کا مقصد نہایت ہی خوبی کے ساتھ ادا ہوتاہے؛مگر افسوس کہ مسلمان یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خود بھی حصولِ علم سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی زیور علم سے آراستہ کرنے کے درپے نہیں ہوتے ہیں،جس کا نتیجہ پھر یہ سامنے آتا ہےکہ خود بھی اور ان کی اولاد بھی ذلت وخواری اور خدائی نافرمانی میں اپنی پوری زندگی ضائع اور تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان تک علم کی افادیت اور جہل کے خسران کو پہنچایا جائے اور ہر مسلم معاشرہ کو علمی اور نورانی معاشرہ بنانے کی طرف پیش رفت کیا جائے تاکہ مسلمان ذلت وخواری اور پستی کے ماحول سے نکل کر ایک پُرسکون فضا میں خوشگوار زندگی گزار سکے ۔
Like this:
Like Loading...