Skip to content
تاریخ، تہذیب اور تعلیم: سر سید احمد خان کی بصیرت کا انقلابی سفر
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
(امباجوگائی،مہاراشٹر)
انیسویں صدی کا بھارت مسلم تاریخ کے ایک ایسے تاریک باب کی صورت میں سامنے آتا ہے جہاں کئی صدیوں کی شاندار حکمرانی کا سورج مکمل طور پر غروب ہو چکا تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی کی ناکامی نے مسلمانوں کی سیاسی قوت کو فنا کر دیا اور انہیں برطانوی استعمار کے شدید ترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض ایک سیاسی زوال نہیں تھا بلکہ ایک تہذیبی اور فکری انجماد تھا، جس نے مسلم معاشرے کو پستی کی گہری کھائی میں دھکیل دیا۔ ایسے میں ایک ایسی شخصیت کا ظہور ہوا جس نے اپنی غیر معمولی بصیرت، فکری جرات اور بے پناہ لگن سے نہ صرف اس زوال کی وجوہات کو سمجھا بلکہ قوم کو دوبارہ عروج کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک ٹھوس اور عملی تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ شخصیت سر سید احمد خان تھے، جن کی زندگی دراصل تاریخ، تہذیب اور تعلیم کے نئے باب کا عنوان تھی۔
سر سید کی پیدائش 17 اکتوبر 1817 کو دہلی کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی، جو اپنی علمی اور روحانی روایتوں کے لیے مشہور تھا۔ ان کے والد، میر متقی، اور والدہ، عزیز النساء بیگم، کی تربیت نے ان کی شخصیت میں گہرا اخلاقی اور فکری شعور پیدا کیا۔ ان کا خاندان مغل دربار سے وابستہ تھا اور ان کی فکری قابلیت کا اعتراف خود بہادر شاہ ظفر نے ’جواد الدولہ عارف جنگ‘ کے خطاب سے کیا۔ ابتدائی تعلیم روایتی طور پر قرآن، عربی اور فارسی میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 1838 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی عدالتی ملازمت اختیار کی، جس دوران انہیں بھارت کے معاشرتی، سیاسی اور انتظامی نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ وہ تجربہ تھا جو ان کی آئندہ کی جدوجہد کی بنیاد بنا۔
1857 کی جنگِ آزادی سر سید کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس بغاوت کے بعد انگریزوں نے اس کا تمام تر الزام مسلمانوں پر عائد کر دیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو شدید ترین انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سر سید اس صورتحال کے عینی شاہد تھے اور انہوں نے اپنی غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1859 میں اپنا مشہور رسالہ "اسبابِ بغاوتِ بھارت” تحریر کیا، جس میں انہوں نے انگریزوں کی پالیسیوں کی غلطیوں کو بغاوت کا اصل سبب قرار دیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ انگریزوں کا بھارتیوں کو اپنی قانون سازی کی کونسلوں سے دور رکھنا اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہی اصل وجہ ہے۔ یہ رسالہ نہ صرف ایک تاریخی دستاویز ہے بلکہ ایک ایسے دلیرانہ اقدام کا ثبوت ہے جس نے انگریزوں کی سوچ میں مسلمانوں کے حوالے سے نرمی پیدا کرنے کی راہیں کھولیں۔ اس رسالے کا انگریزی ترجمہ اس وقت کے اعلیٰ برطانوی عہدیداروں کو بھیجا گیا تاکہ وہ مسلمانوں کے موقف کو سمجھ سکیں۔
سر سید کی بصیرت کا سفر ایک ایسے وقت میں شروع ہوا جب مسلمان ماضی کی عظیم الشان تاریخ میں پناہ لیے ہوئے تھے اور حال کی تلخ حقیقتوں سے روگردانی کر رہے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ صرف اس وقت کی تاریخ کو سمجھ کر ہی مستقبل کی راہ متعین کی جا سکتی ہے۔ اسی فکری بنیاد پر انہوں نے تاریخ نویسی کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ تاریخ میں صرف واقعات کی نہیں بلکہ ان کے اسباب اور نتائج کی تحقیق پر زور دیتے تھے۔ ان کی سب سے اہم تاریخی تصنیف "آثار الصنادید” (1847) ہے، جس میں انہوں نے دہلی کی تاریخی عمارتوں، مقبروں، اور مشہور شخصیات کا غیر معمولی تفصیل سے احاطہ کیا۔ یہ کتاب آج بھی دہلی کی تاریخ پر ایک مستند اور بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی قدردانی خود برصغیر اور مغرب کے مؤرخین نے کی۔ اسی طرح ان کی دیگر تصانیف جیسے "جامِ جم” اور "سلسلۃ الملوک” بھی تاریخ نویسی کے سائنسی اور تحقیقی نقطہ نظر کا ثبوت ہیں۔ سر سید نے یہ بات ثابت کی کہ تاریخ ماضی کا بوجھ نہیں، بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کو سنوارنے کا ایک ذریعہ ہے۔
سر سید کا دوسرا بڑا فکری محور "تہذیب شعور” تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کسی بھی قوم کا زوال اس کے اخلاقی اور فکری زوال سے شروع ہوتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی تہذیبی حالت انتہائی پست تھی۔ وہ توہمات، جمود اور غیر سائنسی سوچ کا شکار ہو چکے تھے۔ اس تہذیبی زوال کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے 1870 میں اپنا مشہور رسالہ "تہذیب الاخلاق” جاری کیا۔ اس رسالے کے ذریعے انہوں نے اخلاقی، سماجی، اور تہذیبی موضوعات پر مضامین شائع کیے، جن کا مقصد مسلمانوں کی سوچ میں ایک انقلاب لانا تھا۔ سر سید کے مضامین کی زبان انتہائی سادہ، سلیس اور مقصدیت سے بھرپور تھی۔ وہ فضول لفظی اور عبارت آرائی سے گریز کرتے تھے اور اپنی بات کو براہ راست انداز میں بیان کرتے تھے۔ ان مضامین نے مسلمانوں کو جدید معاشرتی اصولوں اور اخلاقی اقدار کو اپنانے کی ترغیب دی۔ ان کی اس کوشش نے مسلمانوں کے اندر ایک نیا تہذیبی شعور بیدار کیا اور انہیں اپنے حالات کو بدلنے کا حوصلہ دیا۔
لیکن سر سید کی جدوجہد کا سب سے اہم اور بنیادی ستون "تعلیم” تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کسی بھی قوم کی حقیقی ترقی کا راز جدید تعلیم میں پنہاں ہے۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمان انگریزی زبان اور سائنسی علوم سے آراستہ نہیں ہوں گے، وہ کبھی بھی برطانوی راج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں ہو سکیں گے اور معاشی طور پر ہمیشہ پسماندہ رہیں گے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے 1864 میں "سائنٹفک سوسائٹی” (Scientific Society) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد مغربی علوم کو اردو میں ترجمہ کرنا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی قدم تھا کیونکہ اس وقت روایتی علما انگریزی تعلیم کو کفر سمجھتے تھے۔ لیکن سر سید نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں یہ ثابت کیا کہ جدید علوم اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں۔ وہ مسلمانوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئے کہ سائنسی علوم کی بنیاد قرآن کی تعلیمات میں موجود ہے۔
اس فکری جدوجہد کا حتمی نتیجہ "محمدن اینگلو اورینٹل کالج” (Mohammadan Anglo-Oriental College) کا قیام تھا، جس کی بنیاد 24 مئی 1875 کو علی گڑھ میں رکھی گئی۔ یہ ادارہ صرف ایک درس گاہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی تحریک کا مرکز بن گیا جس نے مسلم نوجوانوں کی سوچ کو روایتی جامد سوچ سے نکال کر جدیدیت اور ترقی پسندی کی طرف موڑ دیا۔ سر سید نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو انہیں عزت اور وقار دوبارہ دلا سکتا ہے۔
سر سید کے مذہبی اور سیاسی افکار بھی اسی حقیقت پسندی اور دور اندیشی پر مبنی تھے۔ وہ مذہبی معاملات میں تحقیق اور عقلی دلائل کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام ایک فطری مذہب ہے اور اس کے اصول کبھی بھی فطرت کے قوانین کے خلاف نہیں ہو سکتے۔ ان کے اس نقطہ نظر کو ’نیچریت‘ کا نام دے کر اس وقت کے روایتی علماء نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن سر سید اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ ان کی ایک اہم مذہبی کتاب "خطباتِ احمدیہ” ہے، جو انہوں نے ولیم میور کی توہین آمیز کتاب کے جواب میں لکھی۔ اس کتاب کی تالیف کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی جائیداد تک فروخت کر دی، جو ان کی مذہبی غیرت اور دین سے گہرے لگاؤ کا ثبوت ہے۔
سیاسی میدان میں بھی ان کا موقف انتہائی واضح اور حقیقت پسندانہ تھا۔ 1857 کے نتائج سے بخوبی واقف ہونے کی بنا پر انہوں نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہنے اور اپنی تمام تر توجہ حصولِ علم پر مرکوز کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ موقف اس وقت کی نئی سیاسی جماعت، انڈین نیشنل کانگریس کے نظریات سے متصادم تھا۔ سر سید نے مسلمانوں کو کانگریس میں شامل ہونے سے روکا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اکثریت کے غلبے والے سیاسی نظام میں مسلمانوں کو نقصان ہو سکتا ہے، جیسا کہ مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد علی جوہر جیسے رہنماؤں نے بعد میں اس کی توثیق کی۔ سر سید کا یہ دور اندیشانہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی راہ ہموار کرنے کا باعث بنا۔ ان کی اس بصیرت کا اعتراف خود جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب "ڈسکوری آف انڈیا” میں کیا ہے، جہاں انہوں نے سر سید کو ایک "دانشمند اور حقیقت پسند” رہنما قرار دیا۔
سر سید احمد خان کی تمام تر جدوجہد کا نچوڑ ایک ایسی جامع تحریک ہے جس نے مسلمانوں کو ماضی کے بوجھ سے آزاد کر کے مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار کیا۔ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کی فکری اور علمی رہنمائی کی بلکہ ان میں وہ خود اعتمادی اور خود شناسی بھی پیدا کی جو کسی بھی قوم کے زندہ رہنے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے اپنی بصیرت سے ایک قوم کو اس وقت تاریکی سے نکالا جب اس کے زوال کی ہر امید ختم ہو چکی تھی۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک فرد اپنی سچی لگن اور اخلاص سے پوری قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ وہ 28 مارچ 1898 کو 81 برس کی عمر میں علی گڑھ میں انتقال کر گئے، لیکن ان کا لگایا ہوا پودا آج ایک تناور درخت بن کر علم کی روشنی پھیلا رہا ہے اور ان کی فکری بصیرت آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
Like this:
Like Loading...