Skip to content
عیدِ میلاد النبی ؐ کے پیغامات اور سنبھل
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عید میلاد النبیؐ کے موقع پرحسبِ روایت صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کرکےپیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کی رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا۔ ملک کی اولین شہری صدر جمہوریہ نے کہا، ’’پیغمبر محمد (ﷺ ) کے یوم ولادت، میلاد النبیؐ کے مقدس موقع پر میں تمام ہم وطنوں، بالخصوص ہمارے مسلم بھائیوں اور بہنوں کو دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔‘‘ یہ تو ایک رسمی جملہ تھا مگر آگے وہ رقمطراز ہیں : ’’پیغمبر محمد (ﷺ) نے اتحاد اور انسانیت کی خدمت کا پیغام دیا۔ اس مبارک موقع پر ہمیں ان کی تعلیمات سے ترغیب حاصل کرکے بھائی چارے کے جذبے کو آگے بڑھانے کا عزم کرنا چاہئے۔‘‘ ملک کا اتحاد پارہ پارہ ہورہا ہے۔ عوام کو مذہب کے علاوہ ذات پات اور زبان کے نام پر بانٹا اور کاٹا جارہا ہے۔ مہاراشٹر جیسی ریاست میں ہندی بولنے والوں کے خلاف تشدد اس انحطاط کی علامت ہے۔ ڈھائی سال سے انسانیت کی دہائی دینے والے منی پور سے وہ خود اور وزیر اعظم نظریں چرا رہےہیں۔ سیلاب زدہ پنجاب میں اسلام کے علمبردار تو انسانیت کی خدمت کررہے ہیں لیکن دنیا کی سب سے بڑی این جی او آر ایس ایس ندارد ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا ’’میلاد النبیؐ کی دلی مبارکباد۔ یہ مقدس دن ہمارے سماج میں امن اور خوش حالی لے کر آئے۔ عمل ، خدمت اور انصاف کی قدریں ہمیں ہمیشہ راہ دکھاتی رہیں۔‘‘ وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کا فرض منصبی انصاف کی اقدار کو ٹُکرٹُکر دیکھنا نہیں بلکہ عمر خالد اور سنجیو بھٹ جیسے لوگوںکو عدل مہیا کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں ایک بہتر اور ہم آہنگ معاشرہ قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وزیر اعظم سے معاشرے میں ہم آہنگی کی امید وابستہ ہے۔ اس بار وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بھی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عید میلاد النبیؐ کا تہوار امن، خوشی اور خدمت کے جذبات کو بڑھاتا ہے اور یہ دن ہمیں انسانیت کے اعلیٰ اقدار کو اپنانے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ بیان مسلم ممالک کے لیے دینا پڑا ورنہ وہ تو دیوالی کا پیغام بھی نہیں دیتے۔
اس موقع پر سب سے چونکانے والے یوپی سرکار کے پیغام کہا گیا کہ ’’سی ایم یوگی نے عید میلاد النبیؐ کے موقع پر ریاست کے عوام کو دلی مبارکباد دی۔ یہ دن پیغمبر حضرت محمد ﷺ کے یوم ولادت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ موقع سماج میں امن و آشتی کو بڑھانے کے لیے نئی تحریک ثابت ہوگا۔‘‘ ادیتیہ ناتھ کا پیغام بظاہر روکھا سوکھا ہے لیکن اس سے پہلے جب ان سے پوچھا گیا تھا تو انہوں جواب دیا تھا میں ہندو ہوں یعنی میرا عید سے کیا لینا دینا؟ ان پیغامات سے ایسا لگتا ہے برف پگھل رہی ہے۔ یوگی کے سب اہم مسئلہ سنبھل کے تعلق سے جولائی اور اگست کا آخری ہفتہ ریاستی سرکار کی نیند اڑانے والا تھا ۔ 26؍جولائی کو الہ باد ہائی کورٹ نے ممتاز وکیل اور سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کو ضمانت دے دی ہے۔22؍ اگست کو سپریم کورٹ نے سنبھل مسجد کے بارے میں الہ باد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگائی اور تین دن بعد ہندو فریق کو نوٹس دے کر یکم ستمبر تک جواب دینے کا وقت دیا ۔اسی دباو میں28؍ اگست کوکمبھ کرن کی نیند میں سوےہوے جوڈیشیل پینل نے اچانک بیدار ہوکرایک اوٹ پٹانگ رپورٹ وزیر اعلیٰ کی خدمت میں پیش کردی اور ہندووں کےنقل مکانی کا جعلی بیانیہ گھڑنا شروع کردیا۔
یہ سب ایسے وقت میں وقوع پذیر ہوا جبکہ ’ووٹ چور گدی ّ چھوڑیاترا‘میں شرکت کے لیے اکھلیش یادو نے بہار جانے کا اعلان کیا تاکہ اس کے خوشگوار جھونکوں کو اتر پردیش لایا جاسکے ۔ پچھلے سال قومی انتخاب کے اندر سماجوادی پارٹی کے ہاتھوں زبردست ہزیمت کا سامنا کرنے والے یوگی ادیتیہ ناتھ سمجھ گئے کہ یہ آندھی اگر اترپردیش میں آگئی تو اگلے صوبائی انتخاب میں ان کے خیموں کی طنابیں اکھڑ جائیں گی۔ قومی انتخاب میں تو بی جے پی ارکان کی تعداد توقع سے تقریباً نصف ہوگئی تھی اب تو وہ ایک چوتھائی بھی نہیں بچے گی ۔ یوگی کو امید تھی کہ دو سال بعد منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں وہ سنبھل کے کمبل میں چھپ کر اپنی سیاست چمکائیں گے مگر اب تو نہ صرف عدالت عظمیٰ بلکہ عدالتِ عالیہ کا رخ بھی ان کی توقعات کے خلاف دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں یوگی ادیتیہ ناتھ کا بے چین ہوجانا فطری امر ہے اور ایک حواس باختہ شخص سے حماقت کے سوا کسی اور چیز کی توقع کرنا بیوقوفی ہے۔ یوگی ادیتیہ ناتھ سے اسی طرح کی غلطی کے منتظر نہ صرف اکھلیش یادو بلکہ خود امیت شاہ بھی ہیں۔
ذرائع ابلاغ میں مودی کی عمر کے ضابطے اور قویٰ کی کمزوریوں کے سبب سبکدوشی کا چرچا خوب ہے اس لیے ان کی ولیعہدی کے دونوں دعویداران امیت شاہ اور یوگی ادیتیہ ناتھ کے درمیان مسابقہ تیز ہوگیا ہے کیونکہ کب ایسے حالات بن جائیں اور وزیر اعظم کو جھولا اٹھا چل دینا پڑے یہ کوئی نہیں جانتا؟ ابھی حال میں انڈیا ٹوڈے نے ’موڈ آف نیشن‘ نام کا جو جائزہ پیش کیا اس کے مطابق مودی کی جانشینی کے طور پر یوگی اور شاہ میں معمولی سا فرق صرف ۳؍ فیصدی کا ہے اس لیے شاہ صاحب بھی پریشان ہیں اور وہ اپنی پریشانی کو دور کرنے کے لیےیوگی کو پریشان کرنا ان کی مجبوری ہے۔ سیاست چیز ہی ایسی ہے کہ جہاں کوئی کسی کادوست نہیں ہوتا۔ سب کے سب مطلب کے یارتو ہوتے ہیں مگر موقع ملتے ہی وار کرنے سے نہیں چوکتے۔ کسی زمانے میں اپنے راستے سے راجناتھ سنگھ کا کانٹا نکالنے کی خاطر ادیتیہ ناتھ کو لانے والے امیت شاہ کی آنکھ کا کانٹا فی الحال وہی یوگی بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بعید نہیں کہ اس کانٹے کو نکالنے کی خاطر امیت شاہ خود راجناتھ سنگھ کا تعاون لینے پر مجبور ہوجائیں ۔ غالب امکان یہ کہ انہیں راجناتھ کا تعاون مل جائے گا کیونکہ یوگی ادیتیہ ناتھ نے اترپردیش میں ان ٹھاکروں کو اپنا بنالیا ہے جنھیں راجناتھ بڑی محنت کرکے پارٹی میں لائے تھے۔ اپنے کھوئے ہوئے ووٹ بنک پر دوبارہ قبضہ جمانے کے لیے یوگی کو ٹھکانے لگانا راجناتھ سنگھ کے لیے لازمی ہوگیا ہے۔ خیر یہ وقت وقت کی بات ہے کہ کل کا دشمن آج کا دوست اور کل دوست آج کا دشمن ہوجاتاہے۔
امیت شاہ اور راجناتھ کا دباو تو خیر داخلی ہے مگر اکھلیش یادو نے بہار جاکر جو جملہ پھینکا وہ یوگی کے لیےبڑابھیانک ہے۔ انہوں نے بہاری عوام سےکہا ہم نے بی جے پی کو اودھ سے بھگا دیا اور آپ لوگ اسے مگدھ سے بھگا دو۔ یہ صرف ردیف قافیہ کا معاملہ نہیں ہے۔ ایودھیا میں رام مندر کا زبردست افتتاح بھی سماجوادی پارٹی کےاکھلیش سنگھ پاسی کاو ہرا نہیں سکا ۔ ایودھیا میں بی جے پی امیدوار کی ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ ہندو عوام اب مندر مسجد کے کھیل سے اکتا گئے ہیں ۔ اودھ کا علاقہ جہاں ایک طرف رام کی نام نہاد جنم بھومی ہے وہیں بہار میں واقع سیتا مڑھی رام چندر کی سسرال ہے۔ ایسے میں یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اگر اودھ میں مندر کے باوجود بی جے پی کو ہرایا جاسکتا ہے تو مگدھ میں کیوں نہیں؟ اس لیے کہ بہار میں سیتا مندر کا خواب ابھی بہت دور ہے۔ ہندوعوام کو اس میں اس لیے بھی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ وہاں کسی مسجد کوہٹا کر مندر نہیں بنایا جارہا ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ بی جے پی کو ہندو رائے دہندگان مندر بنانے کے لیے نہیں بلکہ مسجد ہٹانے کی خاطر ووٹ دیتے تھے۔ اسی لیے یوگی نے سنبھل کی مسجد کا معاملہ اٹھایامگر اب ایسا لگتا ہے کہ ہندو ووٹر اس فریب کاری کو سمجھ گیا ہے ۔
آر ایس ایس کو بھی غالباً اس کا احساس ہوگیاہے اس لیے اپنی صد سالہ تقریبات کے تحت سنگھ کے سو سال اور نئے افق کے تحت خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت نے مندروں کے حوالے سے بہت گول مول باتیں کہیں ۔ اول تو انہوں نے اپنا پرانا موقف یاد دلایا کہ ہر مسجد کے نیچے شیولنگ نہ ڈھونڈا جائے اور یہ بھی واضح کیا کہ آر ایس ایس خود متھرا اور کاشی کی تحریک نہیں چلائے گا لیکن اسی کے ساتھ مسلمانوں کو یہ مشورہ بھی دے دیا کہ وہ ازخود یہ عبادتگاہیں ہندووں کے حوالے کردیں ۔ ان کے بیان کا دو تہائی تو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب مندر مندر کے کھیل میں دم نہیں ہے لیکن پھر ہندو نواز عوام کی ناز برداری کے لیے آخری فقرہ بھی کہہ دیا ۔ موہن بھاگوت نہیں جانتے کہ ملک کے ہندو عوام کی طرح مسلمانوں کو ڈرانا یا بہلا پھسلا کر ورغلانا آسان نہیں ہے۔مسلمان زعفرانی سنپولوں کی نس نس سے واقف ہیں اور کبھی بھی ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ بہار میں راہل تیجسوی یاترا کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ اب تو ہندو بھی ان کے قابو سے باہر ہورہے ہیں۔ یوگی کو بھی اس کا احساس ہو مگر اس بیچارے نے پچھلے ۸؍ سال میں کچھ ایسا کیا ہی نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر ووٹ مانگ سکے اس لیے سنبھل کو بنیاد بنانا یوگی کی سیاسی مجبوری ہے۔
Like this:
Like Loading...