Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محبتِ رسول ﷺ – دعوے سے حقیقت تک
محمد عبد اللہ جاوید
رسول اللہ ﷺسے ہماری محبت اتنی ہی سچی ہے جتنی سچی یہ بات کہ ہمارے سینوں میں دل دھڑک رہے ہیں۔ کیوں نہ ہو کہ یہ محبت ان تمام محبتوں سے یکسر مختلف ہے جن میں عموماً ہر انسان مبتلا رہتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺسے اس حقیقی محبت کی پہچان ہمیں حضرت عمر فاروق ؓ کے اس قول سے ہوئی جب آپ نے فرمایا تھاکہ اے اللہ کے رسولﷺ:
لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي،
آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں‘ سوا ئےمیری اپنی جان کے۔
یہ سن کر نبی کریمﷺ نے فرمایا:
لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ
نہیں‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ (ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔
یہ سننا تھا کہ حضرت عمرؓ نے فوری کہا:
الْآنَ وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي
پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔
نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ ہاں‘ عمر! اب تمہارا ایمان مکمل ہوا۔(صحيح بخاري‘كتاب الأيمان والنذور)۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت محض زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک قابل پیمائش حقیقت ہے۔ انسان کے اندازِ زندگی‘ وضع قطع اور چال ڈھال سے صاف جھلکنے لگتا ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں اصل محبت کس کی ہے۔حضرات صحابہ کرامؓ نے محبت رسولﷺ کو عمل میں اس طرح ڈھال دیا تھا کہ ہر ایک صحابیؓ اپنی جگہ ‘ اللہ کے رسولﷺ سے محبت کے ایک ایک پہلو کو بڑے احسن انداز سے پیش کرتے تھے۔گویا ان کی ذات کی حیثیت ایک ایسی منشور کی سی تھی جو اللہ کے رسولﷺ کی تعلیمات کو جذب کرکے‘ عبادات اور اخلاق وکردار کے مختلف النوع رنگ بکھیرتی ہو۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھنے والے صحابہ کرامؓ نے اپنی جان‘ مال اور وقت سب کچھ قربان کیا۔ غزوات میں ان کی وفاداری‘مشکل حالات میں صبر و استقامت اور دین کی خدمت کے لئے شب و روز محنت سب محبت کی علامت تھی۔ حضرت بلالؓ کی اذان میں‘ حضرت ابو بکرؓ کی صدق وسخاوت میں ‘حضرت عمر ؓ کی حق و باطل کی تمیز میں‘حضرت علیؓ کی شجاعت میں اور حضرت خدیجہؓ کی وفاداری میں وہی محبت رسول ﷺ جھلکتی ہے۔محبت کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ سچی محبت صرف زبانی دعووں تک محدود نہیں رہتی بلکہ قربانی کی بھٹی سے گزر کر کندن بن جاتی ہے۔یہ محبت ایک مسلسل ارتقاء کا نام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ انسان کے قول و عمل کو سنوارتا اور اسوۂ حسنہ کے قریب تر کرتا رہتا ہے۔
رسول اکرمﷺ سےمحبت کو عملی جامہ پہنانا جتنا ضروری ہے اتنا ہی ضروری یہ جاننا بھی کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ کیونکہ دل ‘محبت کے اظہار میں تو پیش پیش رہتا ہے لیکن جب اس محبت کے اظہار کی بات ہو جو تمام محبتوں سے بڑھ کر ہے تو پھر وہی دل ہیلے بہانے بنانے لگتا ہے۔ جس کا بخوبی اندازہ ہماری موجودہ صورت حال‘رسول اکرم ﷺ سے محبت کے دعوے اور آپﷺ کی کی تعلیمات کے مطابق زندگیوں کو سنوارنے اور سجانے کی کیفیات سے ہوجاتا ہے۔
محبت رسول ﷺ کو عمل کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ہمارے سامنے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زندگیاں ہیں‘ جن میں سے ہر ایک کے بارے میں آپﷺ کا یہ ارشاد ‘ زوردار ترغیب کا ذریعہ بنتا ہے:
أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔)بروایت حضرت عمر بن خطابؓ‘مشکوۃ المصابیح‘ کتاب المناقب)۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضرات صحابہ کرامؓ کا وجود ایسی اٹوٹ محبت کے ساتھ تھا جس کا عکس ان کی زندگی کے تمام گوشوں سے جھلکتا تھا۔ یہ وہ جانثاران رسول ﷺتھے جن کی زبانوں پرفِداکَ اُمِّی و اَبِی کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ‘کے الفاظ دل سے ادا ہوتے رہتے تھے۔ کیا مرد و خواتین‘ سب کے سب رسول اکرم ﷺ سے ٹوٹ کر محبت کیا کرتے تھے۔ان کی مبارک زندگیوں سے ہمیں بے شمار اسباق ملتے ہیں جن سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی سے سچی محبت ہو تو زندگی کس ڈگرپر گزرتی ہے‘ شب و روز کے معاملات کس خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاتے ہیں اوراخلاق و کردار اور معاملات میں کس قدر شفافیت آجاتی ہے۔
آج بھی جو کوئی محبت رسول اللہﷺکا دعویٰ کرتا ہے ‘اس کے دعوے کی جانچ کے لئے چند واضح پہلو موجود ہیں۔ بطور خاص پانچ پہلوؤں سے دیکھنا چاہئے کہ وہ کہاں کھڑا ہے؟ زندگی کے نشیب و فراز میں جن جن انفرادی و اجتماعی معاملات کو وہ انجام دیتاہے ان میں کس حد تک اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات اور نصیحتوں سے رہنمائی شامل ہے؟
(1) انفرادی واجتماعی معاملات میں اللہ کے رسول ﷺکی تعلیمات پیش نظر رکھنا
رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی اس لئے اسوہ حسنہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کے تمام ہی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ صبح اٹھنے سے رات سونے تک کے تمام معاملات میں‘ چاہے ذاتی ہو یا اجتماعی‘ آپ ﷺ کی تعلیمات انتہائی خوش اسلوبی سے ان کا صحت مند رخ متعین کرتیں ہیں۔ لہذا یہ محبت رسولﷺ کا تقاضہ ہے کہ ہر چھوٹا بڑا کام‘ آپ ﷺکی تعلیمات کی روشنی میں انجام دیا جائے۔یوں زندگی ایک کشمکش ہے‘ ہر دم یہ امتحان ہوتا رہتا کہ ہمارے سینوں میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت اور اس کے عین مطابق رہنمائی حاصل کرنےکا معاملہ کس قدر درست اور چست ہے؟
جس طرح کوئی بھی آلہ‘ چاہے وہ ترازو ہو‘ تھرمامیٹر یا کمپاس‘صحیح نتیجہ دینے کے لیے بار بار معیار (standard) کے مطابق اس کو درست(calibrate) کیا جاتا ہے‘ بالکل اسی طرح انسان کا ذہن اور مزاج بھی ہدایت حاصل کرنے کے لئےہر معاملہ میں سیرتِ رسول ﷺ کے معیار پر ڈھلنے کا محتاج ہے۔اگر آلہ معیار کے مطابق سیٹ نہ ہو تو اس کے ناپ تول پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر انسان کا دل و دماغ ‘تعلیمات رسول ﷺ کے مطابق ہم آہنگ نہ ہوں تو اس کے فیصلے اور اعمال میں غلطی اور انحراف پیدا ہو جاتا ہے۔جیسے :
(۱) میں چاہتا ہوں کہ ٹیک دے کر آرام سے کھاؤں لیکن آپﷺ کا یہ اسوہ سامنے آجاتا ہے:
أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا
میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔(بروایت حضرت ابوجحیفہؓ‘ سنن ترمذی‘ كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم)۔
یعنی میں اپنے مزاج کو اس اسوہ نبی ﷺ کے مطابق درست(calibrate) کرلوں۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ٹیک دینا ہی نہیں چاہئے‘ لیکن اس کا مطلب یہ ضرور ہے کہ محبوب کی اتباع میں ایسا کیا جاسکتا ہے ۔کیوں کہ اگر مرد ٹیک لگا کر یعنی بڑے آرام سے کھانے لگیں تو اس کا بار گھر کی خواتین پر ضرور پڑے گا۔ پھر اس سلسلہ میں کن کن تکلفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ اس کا ہمیں بخوبی اندازہ ہے۔
(۲) میں چاہتا کہ اپنی بیوی کے ساتھ ویسا رہوں جیسا میرا جی چاہتا ہے‘ اپنی ہی چلاؤں پر اس کی چلنے نہ دوں۔غصہ آئے تو ماروں اور برا بھلا کہوں‘ لیکن جب میں رسول اللہﷺ کے اسوہ کو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میرا اچھا ہونا‘ میری بیوی بچوں کے ساتھ اچھے رہنے سے جڑاہوا ہے۔
خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي
تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔(براویت حضرت عائشہؓ‘ سنن ترمذی‘کتاب المناقب)۔
مجھے اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے اور اس کو برا بھلا کہنے سے سختی سے بچنا چاہئے‘بلکہ رسول اللہﷺکا میرے لیے یہ خاص حکم ہے کہ میں اپنی شریک حیات کا ہرطرح سے خیال رکھوں:
أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ أَوِ اكْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ
کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ‘ جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ‘ چہرے پر نہ مارو‘ برا بھلا نہ کہو اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی اختیار نہ کرو۔
(برو ایت حضرت معاویہ بن حیدہؓ‘ سنن ابی داؤد‘ کتاب النکاح)۔
(۳) خواتین کے لئے خاص نصیحت کی گئی کہ گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنے اور بڑوں چھوٹوں کے درمیان حسن تعاون اورعمل برقرار رکھنے کے لئے نرم گفتگو کو لازم کرلیں۔زبان پر قابو رکھیں۔ایسا نہ ہو کہ جذبات میں آکر جو جی میں آئےکہہ دیں ‘ بات کوکدھر سے کدھر لے جائیں‘ غلط فہمیوں اور غلط بیانیوں کا دروازہ کھول دیں‘ اور پھر پچھتانے لگیں‘بہتر ہے کہ ان سب کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔زبان کا محتاط استعمال ہو۔ اللہ کے رسولﷺ نے کس بہتر انداز سے نصیحت فرمائی کہ جب خواتین نرم لب ولہجہ اپناتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کیسے ان کے آپسی معاملات کو درست فرمادیتا ہے اورانہیں کیسے من پسند انجام سے روشناس کرادیتا ہے؟ رسول اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ کو نصیحت فرماتے ہوئے تمام ہی خواتین اسلام کو اس جانب متوجہ فرمایا:
یَا عَائِشَۃُ إِنَّ اللّٰہَ رَفِیْقٌ یُّحِبُّ الرِّفْقَ وَیُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا یُعْطِيْ عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لَا یُعْطِيْ عَلَی مَا سِوَاہُ
اے عائشہ !بے شک اللہ تعالیٰ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر جو دیتا ہے وہ سختی اور دیگر اشیاء پر نہیں دیتا۔(صحیح مسلم / کتاب البر والصلۃ والآداب)۔
(۴) اگر کوئی رشتہ دار ہم سے دوری اختیار کرلے تو بدلے میں ہم کیاکرتے ہیں؟ وہ اگر اپنی دعوت میں نہ بلائے تو کیا ہم اس کو اپنی دعوت میں مدعو کرتے ہیں؟ اگر کوئی ہم پر ظلم کرے تو کیا ہم خاموشی اختیار کرلیتے ہیں؟ یہ روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے معاملات ہیں‘اگر ان سے متعلق مزاج کو ‘رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ہم آہنگ نہ کرلیا جائے تو ہمارے رویوں اور دوسروں کے رویوں میں بظاہر کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ محبت رسول ﷺکا تقاضا ہے کہ ان تمام ہی معاملات میں آپﷺ کی رہنمائی کے مطابق رویوں کو درست کرلیا جائے۔ دوری اختیار کرنے والوں سے دوری اختیار کی جائے تو درمیان میں دوریاں ہی دوریاں باقی رہ جائیں گی‘جو بڑھتے بڑھتے آپسی رشتوں کے درمیان ایسی خلیج بنالیں گی کہ کناروں پر کھڑے ایک دوسرے کو دیکھنا توممکن ہوسکتا ہے لیکن ملنا اور آپسی دوریاں پاٹنا انتہائی مشکل ہوگا۔چنانچہ لوگوں کی بے رخی اور ترش رویوں پر نبویﷺ نصیحتوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے:
صِلْ مَنْ قَطَعَكَ ،واعْفُ عمَّنْ ظَلَمَكَ ، وأحسنْ إلى مَنْ أساءَ إليكَ ،
جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جڑجاؤ‘ جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو‘ جو تم سے بُرائی سے پیش آئے تم اس سے اچھائی کے ساتھ پیش آؤ۔(براویت حضرت عقبۃ بن عامرؓ‘صحیح الترغیب)۔
تواضع و انکساری کے بغیر ایسا رویہ ممکن نہیں ‘اگر کوئی اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر نبی رحمتﷺ کے اس ارشاد پر عمل کی جانب متوجہ ہوتو ہی بات بن سکتی ہے:
وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ
معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت کو بڑھاتا ہے اور کوئی شخص صرف اللہ کی خاطر تواضع (انکساری) اختیار نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اس کا مقام بلند کر دیتا ہے۔(بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ‘ صحيح مسلم‘كتاب البر والصلة والآداب)۔
(۵) اگر اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو مال و دولت سے خوب نوازا ہو تو وہ اس غریب رشتہ دار کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا جس سے اس کے تعلقات درست نہ ہوں یا وہ غریب رشتہ دار اس سے دشمنی کرتا ہو؟کچھ دینا تو دور‘وہ شخص تو اس کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔لیکن سوچئے! اگر یہی شخص یہ حقیقت جان لے کہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایسے ہی رشتہ دار کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے‘ چاہے وہ دشمنی ہی کیوں نہ کرتا ہو تو اس کے مزاج میں کس قدر غیر معمولی تبدیلی آ جائے گی۔اس کے سامنے تو حضرات صحابہ کرامؓ کا وہ سوال آئے گا جو انہوں نے رسول اکرمﷺ سے کیا تھا کہ کونسا صدقہ افضل ہے؟جواب میں آپﷺ نے فرمایا:
أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَي ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ
سب سے افضل صدقہ وہ ہے‘ جو دشمنی رکھنے والے رشتے دارکو دیاجائے۔(بروایت ام کلثوم بنت عقبہؓ‘ البیہقی وحاکم المستدرک)۔
یہ ہمارے روزہ مرہ کے چند معاملات کی مثالیں تھیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسوہ حسنہ ﷺکی اس قدر وسعت ہے کہ زندگی کے ہر ہر معاملے کو اپنی روشنی میں نہ صرف واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ ان میں حسن و خوبصورتی بھی پیدا کرتی ہے۔اور ایک پیمانہ بھی فراہم کرتی ہے یہ جانچنے کا کہ رسول اللہﷺ کی محبت اور اس کے مطابق عمل کی صورت حال کیا ہے۔اگر ہمارے معاملات صرف اپنی خواہشات اور وقتی حالات کے تقاضوں کے تحت طے پاتے رہیں تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ محض زبانی ہے‘ عملی نہیں۔
رسول اللہ ﷺسے محبت کے معنی آپ کی تعلیمات کے ساتھ جینے کے ہیں۔ جب کوئی شخص تعلیمات نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو نہ صرف ان کی اہمیت اور فضیلت آشکار ہوتی ہے بلکہ دل میں آپ ﷺ کی محبت بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔کیونکہ محبت کا فطری تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی ہدایت پر عمل کیا جائے اور جب ان ہدایات کے نتیجے میں دل کو سکون‘ زندگی کو آسانی اور کردار کو نکھار ملنے لگے تو محبوب کی محبت کا ایک کے بعد ایک درجہ طے ہونا گویا ایک منطقی اور لازمی نتیجہ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے طبیب کے بتائے ہوئے نسخے پر عمل کرنے سے صحت میں بہتری آتی ہے اور اس کی مہارت و قدر دل میں مزید بڑھتی چلی جاتی ہے۔
(2) القاب سے نوازا جانا
اللہ کے رسول ﷺ کو معاشرہ نے الصادق اور الامین جیسے درخشاں القاب سے یاد کیا۔ مکہ مکرمہ کے تاریک اور بگڑے ہوئے ماحول میں آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی ایک روشن مینار کی طرح تھی‘ جس سے بخوبی معلوم ہورہا تھا کہ اصل میں سچائی اور دیانت داری کیا ہوتی ہے۔ معاشرے نے ان القاب کو محض زبان سے نہیں دہرایا بلکہ آپ ﷺ کی ذات میں ان اعلیٰ صفات کو جیتا جاگتا‘ مجسم نمونہ پایا۔یہ القاب محض چند لفظ نہیں تھے بلکہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے انسانیت نے جانا کہ وہ اخلاقی قدریں کیا ہیں جن کے بغیر زندگی کا کوئی وقار اور کوئی بقا ممکن نہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے جاں نثار صحابہ کرامؓ کا بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ انہوں نے محبت رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں کا عنوان بنا لیا تھا۔ ان کی عبادت‘ ریاضت‘ بلند کردار اور بے مثال اخلاص نے معاشرے کو متاثر کیا اور لوگوں نے انہیں بھی مختلف القاب سے یاد کیا۔ ہر ہر لقب ایک ایک صحابیؓ کی انفرادیت اور ان کے میدان عمل میں کی گئی خالص جدوجہد کا حسین عنوان ہے‘ جو آج بھی ہم اہل ایمان کے لئے مشعل راہ ہے۔ذیل میں چند صحابہ کرامؓ کے القاب ملاحظہ فرمائیں:
• حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کو ان کی عبادت اور اتباع سنت کی کثرت کی وجہ سے معاشرے نے ’’العابد‘‘ کہا۔ (سیر اعلام النبلاء)۔
• حضرت عبدالله بن عباسؓ کو ان کے علم اور تفسیر میں مہارت کی وجہ سے انہیں ’’حبر الأمة‘‘ کہا جانے لگا۔ (تہذیب التہذیب)۔
• حضرت بلال بن رباحؓ کو اذان دینے میں ان کی عظمت کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سید المؤذنين کا لقب دیا ۔(الإصابة)۔
• حضرت ابو هريرةؓ کو سب سے زیادہ احادیث بیان کرنے کی وجہ سے معاشرے نے انہیں راوية الإسلام کا لقب دیا ۔(تذکرة الحفاظ)۔
• حضرت طلحہ بن عبیداللهؓ کی سخاوت اور ایثار کی وجہ سے معاشرے نے انہیں طلحۃ الجود، طلحۃ الخير جیسے القاب دیئے۔ (طبقات ابن سعد)۔
• حضرت عبدالله بن مسعودؓ کو لوگوں نے صاحب النعلین کا لقب دیا کیونکہ آپ نبی کریم ﷺ کی جوتیاں اٹھانے کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ (الإصابة)۔
• حضرت ابو ذر غفاریؓ زہد و ورع کی وجہ سے معاشرے میں زاهد الأمة لقب سے مشہور ہوئے ۔(سیر اعلام النبلاء)۔
• زمانہ جاہلیت میں بھی اپنی پاک دامنی اور عزت کی بنا پر حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ ’’الطاھرہ‘‘ (پاکیزہ) کہلاتی تھیں۔ (الاستیعاب)۔
• حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ علم و فقہ میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے صحابہ اور تابعین انہیں فقيهة الصحابة یا عالِمة الصحابة کا لقب دیا تھا۔(تہذیب التہذیب)۔
• حضرت زینب بنت جحشؓ کا لقب أم المساكين معاشرے میں بہت مشہور تھا کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتیں (چمڑا سیتی تھیں) اور جو کچھ کماتیں اسے فقراء و مساکین پر خرچ کر دیتی تھیں ۔(مسند احمد)۔
• حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ : ہجرت کے موقع پر انہوں نے اپنے کمر بند (نطاق) کو دو حصوں میں پھاڑ کر ایک سے زادِ راہ باندھا اور ایک سے مشکیزہ، اس وجہ سے معاشرے میں ’’ذَاتُ النِّطَاقَيْن‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔(صحیح بخاری)۔
• حضرت حفصہ بنت عمرؓ کثرتِ روزہ و قیام کی وجہ سے صوّامة القوامة لقب سے جانی جاتی تھیں (الإصابة)۔
• حضرت صفیہ بنت عبدالمطلبؓ (رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی) شجاعت و جرأت کی وجہ سے مشہور ہوئیں؛ بعض روایات انہیں فاختة کہا گیا۔(طبقات ابن سعد)۔
• رسول اللہ ﷺ کی خادمہ اور پرورش کرنے والی حضرت ام ایمنؓ معاشرے میں ’’مبارکہ‘‘ لقب سے جانی جاتی تھیں ( الإصابة)۔
• حضرت ام عطیہؓ غزوات میں زخمیوں کی تیمارداری کرتی تھیں، اس خدمت کی وجہ سے معاشرے نے انہیں ممرضة الصحابة کا لقب دیا۔ (الإصابة)۔
• حضرت ام عمارةؓ (نسیبة بنت کعبؓ) کو غزوہ اُحد میں جان نثاری کی وجہ سے مجاهدة أحدکا لقب ملا ۔(طبقات ابن سعد)۔
• حضرت فاطمہ بنت رسول الله ﷺ کو عبادت اور طہارت کی وجہ سے معاشرے میں الزهراء کے لقب سے مشہور ہوئیں ۔(سیر اعلام)۔
نہ صرف صحابہ کرامؓ و صحابیاتؓ بلکہ تابعین اور تبع تابعین کی زندگیاں بھی اسی درخشاں سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم کو اپنی سانسوں کی لَے اور زندگی کا معمول بنا لیا تھا۔ ان کے کردار سے معاشرہ یہ سمجھتا رہا کہ اہل ایمان کی زندگی کیسی مثالی اور معیاری ہوتی ہیں اور کیسے ان کی زندگیوں کو دنیا کے لئے ایک رہنما اور میزان بنایا جاسکتا ہے۔
یہ حقیقت صاف ظاہر کرتی ہے کہ جب کسی معاشرے میں رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے والے اور پیروکار موجود ہوں تو وہ اپنے ایمان‘ اپنے عمل صالح‘ اپنی عبادت اور اپنے کردار سے ایسی گہری چھاپ چھوڑتے ہیں کہ معاشرہ ان کی عظمت کا اعتراف کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ ان کی عبادت و خدمت‘ ان کے بلند اخلاق و معاملات اور معاشرتی زندگی کو ایسی خوشبو عطا کرتے ہیں جس کی مہک زمانوں تک باقی رہتی ہے۔
اور اب یہ ہمارا دور ہے‘ اور ہم ہیں۔ ہم بھی دعویٰ محبت رسول ﷺ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں ہمارا معاشرہ کن القاب سے یاد کرتا ہے؟ کیا ہماری عبادت‘ ہماری خدمت اور ہمارے اخلاق و معاملات اس قابل ہیں کہ معاشرہ ہمیں بھی عزت و تکریم سے یاد کرے؟واضح رہے معاشرے کی جانب سے ملنے والے ایسے القاب دراصل ہماری عملی زندگی میں محبت رسول ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر ہوتے ہیں۔ یہ وہ دنیوی برکتیں ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں نصیب ہوتی ہیں‘ جیسا کہ رب کریم نے فرمایا:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا
یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے‘ عنقریب رحمٰن ان کے لئے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔(سورۃ مریم: ۹۶)
(3) مدینہ کی طرح اپنے شہر کو مثالی بنانا
ہجرت سے پہلے مدینہ ایک عام سا شہر تھا جس کو یثرب کہا جاتا تھا۔ یہاں کے دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج تھے۔ ان کی طویل دشمنی نے انہیں انتشار میں مبتلا کر دیا تھا‘ اس لئے یہاں کوئی مضبوط مرکزی قیادت نہیں تھی۔لیکن اس شہر کی عظمت اور تقدس میں بدرجہا اضافہ ہوا جب رسول اکرم ﷺ اپنے صحابہ کرام ؓ کے ہمراہ ہجرت فرماکریہاں سکونت اختیار کی اور اس شہر میں امن کی بحالی اور ترقی کا بہترین انتظام فرمایا۔ہجرت کے فوری بعد ‘مدینہ طیبہ کی ہمہ جہت ترقی و خوشحالی کی آپ ﷺنے بڑی حکیمانہ منصوبہ بندی فرمائی۔جوکام ترجیحی طور پر انجام دیئے گئےوہ حسب ذیل ہیں:
• رسول اکرم ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد مؤاخات (بھائی چارہ) کا نظم قائم فرمایا۔ مہاجرین و انصار کے درمیان اخوت و بھائی چارگی قائم فرمائی تاکہ مہاجرین کو سہارا ملے اور ایک مثالی اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں آسانی ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب)۔
• پھر میثاقِ مدینہ (دستورِ مدینہ) کی تشکیل فرمائی۔ مدینہ میں بسنے والے مختلف قبائل اور یہودی گروہوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا‘ جسے تاریخ میں "صحیفۂ مدینہ” یا "میثاقِ مدینہ” کہا جاتا ہے۔ اس کو دنیا کا پہلا تحریری دستور مانا جاتا ہے۔(ابن ہشام، السیرة النبویة)۔
• مسلمانوں کے لیے مارکیٹ کا نظم قائم فرمایا تاکہ معاشی خودکفالت ہو اور یہاں رائج یہودی سودی نظام سے آزادی ملے۔ (ابن ماجہ، کتاب التجارات)۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی اقدامات فرمائے تاکہ اس نئے مقام پر مکہ سے آئے مہاجر صحابہؓ اور مدینہ میں موجود انصار صحابہ ؓباہمی اشتراک و تعاون سے دعوت دین اور شہر کی ترقی و خوشحالی میں اپنا رول ادا کرسکیں۔اللہ کے رسول ﷺکے اسوہ حسنہ کا یہ پہلو‘ امت محمدیہ ﷺکے ہر فرد پر ایک عظیم حقیقت واضح کرتا ہے کہ جہاں جس مقام پر بھت وہ رہتے ہیں وہ دراصل ان کااپنا مقام ہے۔کیونکہ حقیقیت یہی ہے:
العِبادُ عِبادُ اللهِ ، و البِلادُ بِلادُ اللهِ
بندے‘ اللہ کے بندے ہیں اور شہر‘ اللہ کے شہر ہیں۔(بروایت حضرت عائشہؓ‘البیہقی‘ الدار قطنی)۔
جس سرزمین پر ہم رہتے ہیں اس کی ترقی و خوشحالی کی فکر کرنا اور وہاں دین کی حفاظت کے لئے حالات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرناہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہر مسلمان کا اپنے مستقر سے قلبی رشتہ ہونا چاہئے۔کیونکہ ایسا تعلق ہی اس کو صرف اپنے شہر تک محدود نہیں رکھتا‘بلکہ وہ سارے جہاں کو اپنا سمجھتا ہے۔ جب بھی وہ کسی مقام کا سفر کرے‘ اس حقیقت کولازماً محسوس کرے گا کہ ہر زمین اللہ کی زمین ہے اور ہر بستی اس کے لئے مانوس ہےاور اس سے اپنائیت کا ایک خاص تعلق ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے اس موقع پر ایسی دعا کی تلقین فرمائی جو اس احساس کو مزید گہرا کر دیتی ہے اور انسان کے دل سے اجنبیت کے پردے ہٹا دیتی ہے۔ یوں وہ جہاں بھی جائے‘ خود کو بیگانہ نہیں سمجھتا بلکہ اس شہر کو بھی اپنے ہی مستقر جیسا سمجھتا ہے۔کسی شہر میں داخل ہونے سے پہلے جن دعاؤں کی آپ ﷺنے تلقین فرمائی ہے‘ ان پر ذرا غور کرکے دیکھ لیں‘یہ حقیقت بخوبی واضح ہوجائے گی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا
اے اللہ! میں تجھ سے اس شہر کا خیر مانگتا ہوں اور اس کے باشندوں اور جو کچھ یہاں پایا جاتا ہے ان سب کا خیر مانگتا ہوں۔اور تجھ سے اس شہر کے شر سے‘ اس کے باشندوں اور جو کچھ اس میں موجود ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔(براویت حضرت صہیبؓ‘ صحیح مسلم‘ کتاب الحج)۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاهَا، وَحَبِّـبْنَا إِلٰى أَهْلِهَا، وَحَبِّبْ صَالِحِيْ أَهْلِهَا إِلَيْـنَا
اے اللہ! ہمیں اس شہر کے خیر وبرکت سے سرفراز فرما اور ہمیں اس کے باشندوں میں محبوب بنا اور اس کے نیک باشندوں کو ہمارے لیے محبوب بنا۔
(بروایت حضرت عائشہ ؓ‘ سنن نسائی‘کتاب الاستعاذہ)۔
ہمارے لئے یہ دنیا کیا ہے؟ دراصل اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو ہمارے تابع کردیا ہے۔ مگر اس نعمت کی حقیقت تب سامنے آتی ہے جب ہم اپنی فکر کو نبوی ﷺ منہج پر استوار کریں۔ جب یہ شعور دل میں جاگزین ہوجاتا ہے تو کوئی کہیں بھی اجنبیت محسوس نہیں کرتا‘نہ اپنے شہر میں اور نہ ہی کسی ایسے شہر میں جہاں وہ بظاہر مقیم نہ ہو۔اللہ کے رسول ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں بھی اپنےشہر کی ترقی‘ خوشحالی اور فلاح کی فکر کو اپنا مقصدحیات بنالینا چاہیے۔ یاد رکھیے!آپ کا شہر ہر لحاظ سے آپ کا ہے۔یہاں کے رہنے والے آپ کے ہیں۔یہاں کے مسائل آپ کے مسائل ہیں۔یہاں کی ضروریات کی تکمیل آپ کی ذمہ داری ہیں۔لہذا جب یہ سب آپ کا ہے تو ان کے حل کی جستجو بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ بھوکوں کی بھوک مٹانا‘ پیاسوں کی پیاس بجھانا‘ بے سہارا لوگوں کے مسائل حل کرنا‘یہ سب آپ ہی کے فرائض ہیں۔یوں سمجھیے کہ معاشی‘ سماجی‘سیاسی‘ عائلی‘ ماحولیاتی غرض تمام ہی امور آپ کی اپنی امانت ہیں‘ بالکل ایسے ہی جیسے گھر کے ہر معاملے کی ذمہ داری گھر کے فرد پر عائد ہوتی ہے۔
محبت رسولﷺ کا اصل فیض یہ ہے کہ وہ انسان کو حرکت و عمل کابے پناہ جذبہ عطا کرتی ہے۔ لیکن یہ جذبہ تب بارآور ہوتا ہے جب اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت شامل ہو۔ وسائل کی کمی یا فراوانی اصل معیار نہیں‘ اصل طاقت اخلاص‘ استقامت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں پروان چڑھنے والی بے لوث جدوجہد ہے۔ایک مسلمان وسائل کے نہ ہونے پر شکوہ نہیں کرتا اور نہ ہونے کی صورت میں آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وسائل نہیں بلکہ ایمان‘ اخلاص اور عمل صالح ہی مسائل کے حل اور انسانیت کی ضروریات پوری کرنے کا اصل ذریعہ ہیں۔
(4) انسانوں کی بے لوث خدمت کرنا
رسول اکرم ﷺسے محبت کا تقاضہ ہے کہ انسانوں کی بے لوث خدمت ہماری پہچان بنے۔ خود آپ ﷺکا یہ عالم تھا کہ کبھی مانگنے والا آپ کے ہاں سےکبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹا۔ حتی کہ کوئی بھی آپ سے جہاں چاہے کام لینے کے لئے اپنا حق جتا سکتا تھا۔چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
• مدینہ کی لونڈیوں میں سے کوئی بھی اگر رسول اللہ ﷺ سے کچھ کام لینا چاہتی تو وہ آپ ﷺ کو جہاں چاہتی لے جاتی (اور آپ اس کے ساتھ چلے جاتے تاکہ اس کی ضرورت پوری کرسکیں )۔(صحیح بخاری، کتاب الأدب)۔
• رسول اللہ ﷺ نہ صرف اپنے صحابہؓ بلکہ غیر مسلم بھی بیمار ہوجاتے تو ان کی بھی عیادت فرماتے تھے۔ ایک یہودی لڑکا آپ ﷺ کی خدمت کرتا تھا‘ وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ (صحیح بخاری، کتاب الجنائز)۔
• آپ ﷺ یتیموں اور کمزوروں کی خبرگیری فرماتے اور ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (اور آپ ﷺ نے دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا)۔ (صحیح بخاری، کتاب الأدب)۔
• آپ ﷺ نے غلاموں کے ساتھ نرمی کرنے اور انہیں آزاد کرنے کی خاص تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں۔ جو خود کھاؤ وہی انہیں کھلاؤ‘ جو خود پہنو وہی انہیں بھی پہناؤ ۔(صحیح بخاری، کتاب العتق)۔
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی رسول اللہ ﷺ سے محبت کا ثبوت آپ کے نقش قدم پر چل کر دیا اور انسانوں کی بے لوث خدمت کو اپنی پہچان بنالی۔ صحابہ کرامؓ‘ مرجع خلائق تھے۔ یعنی لوگ ہر چھوٹی بڑی ضرورتوں کے لئے ان برگزیدہ ہستیوں سے رجوع کیا کرتے تھے۔چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
• حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بننے کے بعد بھی لوگوں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ ایک انصاری عورت روزانہ دیکھتی کہ کوئی شخص اس کے محلے کی بیوہ اور یتیم بچوں کے گھر جا کر ان کا دودھ دوہ دیتا ہے‘ ان کے لیے کھانا پکاتاہے اور صفائی کرتا ہے۔ تحقیق پر پتا چلا کہ وہ خود خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکرؓ ہیں۔(طبقات ابن سعد)۔
• حضرت عمر فاروقؓ رات کے وقت گشت کے دوران ایک خیمے میں بھوک سے بلکتے بچے دیکھے۔ ماں نے ہانڈی میں پانی ڈالا تھا کہ بچے سمجھے کھانا پک رہا ہے۔ حضرت عمرؓ فوراً بیت المال گئے‘ آٹے کی بوری اپنے کندھے پر اٹھائی اور خود اس کے گھر پہنچائے۔ (ابن جوزی، مناقب)۔
• مدینہ میں پانی کی شدید کمی تھی۔ ایک یہودی کے پاس "بئر رومہ” نامی کنواں تھا جس سے وہ پانی بیچتا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔(صحیح بخاری، کتاب الوصایا)۔
• حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت سے نوازا تھا۔ آپ اس میں سے کثرت سے غریبوں پر خرچ کرتے۔ ایک مرتبہ سات سو اونٹوں کا قافلہ مالِ تجارت کے ساتھ آیا توآپ نے سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا۔ (طبقات ابن سعد)۔
• حضرت زید بن ثابتؓ انصار کے یتیم بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاتے اور ان کی کفالت کرتے تھے۔ (طبقات ابن سعد)۔
• ایک مرتبہ حضرت فاطمہ الزہراءؓ اور حضرت علیؓ نےاپنے ہاں کا کھانا یتیم‘ مسکین اور قیدی کو دے دیا اور خود بھوکے رہے۔قرآن مجید نے اس ایثار کو محفوظ فرمایا اور کہا :
وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا
یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (سورہ الدھر:۸)
• حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس جب بھی مال آتا تو اسے صدقہ کر دیتیں‘ حتیٰ کہ خود کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہتا۔ ایک دن 70 ہزار درہم صدقہ کر دیے اور شام کو خود کے پاس افطار کے لیے کچھ نہ تھا۔(طبقات ابن سعد)۔
• حضرت رُفیدہ اسلمیہؓ پہلی "خاتون ڈاکٹر ” تھیں۔ غزوات میں زخمی مجاہدین کی مرہم پٹی کرتیں اور ان کی خدمت انجام دیتیں۔( الاستيعاب)۔
• حضرت عائشہؓ کے پاس خواتین اپنے مسائل لے کر آیا کرتی تھیں۔ کبھی تو وہ اپنے علم و فہم اور قرآن و سنت کی بنیاد پر خود ہی ان کے مسائل کا حل بیان فرما دیتیں۔ اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہوتا جس میں مزید وضاحت یا رہنمائی درکار ہوتی تو وہ براہِ راست رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لے جاتیں اور وہاں سے جواب یا فتویٰ لے کر خواتین کو مطمئن کرتیں۔
ہہمارے مقام پر لوگوں کی بے لوث خدمت سے متعلق ہماری کیا پہچان بنی ہے؟کیا لوگ ہمیں اپنی ضرورتوں کے لیے یاد کرتے ہیں؟ کیا وہ ہم پر اعتماد کر کے اپنے مسائل ہمارے سامنے رکھتے ہیں؟خوب اچھی طرح جان لیں کہ اللہ کے رسول ﷺ سے محبت وہ غیر معمولی قوت ہے جو ایک مسلمان کو بیدار کرتی ہے اور اسے میدان عمل میں اتار دیتی ہے۔ یہ محبت اسے بے لوث خدمت کا پیکر بنا دیتی ہے۔ اس جانب اگر ہماری توجہ مرکوز ہو تو ممکن ہے کہ ہم بھی اپنے اسلاف کی طرح لوگوں کا سہارا بن جائیں‘ مرد بھی اور خواتین بھی۔ وہی اسلاف جن کے دروازے ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے‘ جو مرجعِ خلائق تھے اور جن کی شخصیتیں معاشرے کے لیے پناہ گاہ اور سہارا تھیں۔اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے لوگوں کی فضیلت کو نہایت جامع الفاظ میں بیان فرمایا:
السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ
بیواؤں اور مسکینوں کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے جیسا ہے۔(اس شخص کے برابر اس کو ثواب ملتا ہے )جو نماز میں کھڑا رہتا ہے تھکتا ہی نہیں اور جو برابر روزے رکھے چلا جاتا ہے افطار ہی نہیں کرتا ہے۔(بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ‘صحيح بخاري‘كتاب الأدب)۔
اللہ کے رسولﷺ کا یہ ارشاد مبارک دعوت دیتا ہے کہ ہم بھی اپنے شہر میں ایسے ہی معاون‘ ایسے ہی سہارا اور ایسے ہی خیر کے سرچشمے بنیں۔
(5) کٹر سے کٹر دشمن کو بھی اپنا بنالینا
اللہ کے رسول ﷺسے محبت کا ایک عظیم تقاضہ یہ ہے کہ ہم دشمنی اور نفرت کی دیواروں کو توڑ کر‘دلوں کو جوڑنے والے بنیں۔ جو جتنا زیادہ نفرت اور عدوات میں ڈوبا ہوا ہو‘ اس کے ساتھ اتنا ہی زیادہ قربت اور خیرخواہی کا مظاہرہ کریں۔قرآن مجید میں خوشخبری سنائی گئی کہ اگر برائی کا جواب بھلائی سےدیا جائے تو سخت سے سخت دشمن بھی ایک دن مخلص دوست اور گہری محبت رکھنے والا رفیق بن سکتا ہے۔رسول اکرم ﷺ کی سیرت اس قرآنی اصول کا روشن ترین نمونہ ہے۔ رسول اکرم ﷺنے کٹر سے کٹر دشمن کو اپنا بنالیا۔ اس کی خیرخواہی کا حق ادا فرمایا۔ دشمنی پر اتر آئے افراد اور قبیلوں کے حق میں آپﷺ نے دعائیں فرمائیں۔ جن کے دل نرم ہوئے وہ ایمان کی روشنی سے منور ہو کر اسلام کے سب سے بڑے حامی و مددگار بن گئے‘ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
• حضرت عمر بن خطابؓ
• حضرت خالد بن ولیدؓ
• حضرت ابو سفیانؓ
• حضرت ثمامہ بن اثالؓ
• قبیلہ دوس اور ثقیف
اب ذرا ان کی نفرت اور دشمنی کا حال ملاحظہ فرمائیں:
• حضرت عمر بن خطابؓ قبولِ اسلام سے پہلے سخت دشمن تھے۔ وہ خود فرماتے ہیں: میں نے ارادہ کیا تھا کہ محمد ﷺ کو قتل کر دوں‘ لیکن جب قرآن کی آیات (سورۂ طٰہٰ) سنی تو دل پگھل گیا اور ایمان لے آیا۔ ایمان لانے کے بعد کہا: اب محمد ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب اور عزیز نہیں۔ (طبقات ابن سعد)۔
• حضرت خالد بن ولیدؓ احد اور خندق میں اسلام کے خلاف تلوار اُٹھائی۔لیکن جب دل میں ایمان کی روشنی آئی تو کہا:میں نے نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں جو وقت ضائع کیا وہی میری سب سے بڑی محرومی ہے۔ اسلام لانے کے بعد کہا کرتے تھے: رسول اللہ ﷺ کی محبت دل میں والدین اور اولاد سب سے بڑھ گئی۔ (طبقات ابن سعد)۔
• حضرت ابو سفیانؓ طویل عرصے تک اسلام کے دشمن اور مکہ میں اسلام کو مٹانے کے درپے رہنے والے گروہوں کےقائدئین میں شامل رہے۔ لیکن فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ ﷺ سے زیادہ کوئی شخص روئے زمین پر میرے نزدیک مبغوض نہ تھا اور آج آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں۔ (البدایہ والنہایہ)۔
• حضرت عکرمہ بن ابی جہلؓ اپنے والد ابوجہل کی طرح اسلام دشمنی میں پیش پیش رہے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تو کہا: اے محمد ﷺ! کل تک آپ میرے نزدیک سب سے ناپسندیدہ تھے‘لیکن آج آپ سب سے محبوب ہیں۔ (الاصابہ)۔
• حضرت عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں:اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی چیز مجھے اس سے زیادہ محبوب نہ تھی کہ میں رسول اللہ ﷺ کو قتل کر دوں اور میرے لئے اس سے زیادہ محبوب کچھ نہ تھا کہ میں کافر ہی مرجاؤں۔ لیکن جب اللہ نے اسلام کے لئے میرا دل نرم کر دیا تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں بیعت کروں۔۔۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد روئے زمین پر رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب اور باوقار میرے نزدیک کوئی نہ تھا۔ (صحیح مسلم، کتاب الإيمان)۔
• حضرت عبداللہ بن سلام ؓاسلام سے پہلے مدینہ کے سب سے بڑے یہودی عالم تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو دیکھتے ہی کہا:یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔بعد میں گواہی دی:آپ ﷺ کی محبت میرے دل میں اپنی جان سے بھی بڑھ گئی۔ (صحیح بخاری، کتاب مناقب الأنصار)۔
• حضرت ثمامہ بن اثالؓ پہلے دشمن تھے‘ آپ ﷺ نے ان کے لئے دعا کی اور قید میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک فرمایا۔ وہ ایمان لائے اور کہا: اللہ کی قسم! آج سے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی نہیں۔ (صحیح بخاری)۔
یہ حقیقت ہے کہ اسلام اور اہل ایمان کو سخت ترین دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا، ایسے دشمن جو عداوت کی آخری حدیں بھی پار کر گئے تھے۔ لیکن رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے یہ روشن سبق ملتا ہے کہ اہل ایمان کا تعلق کسی دشمن سے اس کی دشمنی کی بنیاد پر نہیں ہوتا‘ بلکہ انسانیت کی بنیاد پر‘ اس کی خیرخواہی کے پیش نظر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کی سب سے سخت کارروائیاں بھی اہل ایمان کو آپے سے باہر نہیں کرتیں‘ بلکہ وہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ کہیں وہ اپنی ابدی زندگی کو برباد نہ کر بیٹھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسے ایسے دشمنوں کو معاف کر دیا جن کی دشمنی کی شدت کا تصور بھی لرزا دینے والا ہے۔ ایک طرف ہندہ تھیں‘ جنہوں نے آپ ﷺ کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چبا ڈالا تھا‘ لیکن جب وہ اسلام لے آئیں تو آپ ﷺ نے ان سے کوئی بدلہ نہ لیا‘ بلکہ انہیں معاف فرما دیا۔ اسی طرح طائف میں جب لوگوں نے پتھر مار مار کر آپ ﷺ کو لہو لہان کردیا تو فرشتے نے عرض کیا: اگر آپ اجازت دیں تو ان پہاڑوں کو ملا کر ان سب کو تباہ کر دوں۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں! میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔ (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق)۔یہی ہے آپ ﷺ کی عظمت کردار اور وہ آفاقی اسوہ جو انسانیت کو عداوت سے نکال کر محبت‘ نفرت سے نکال کر خیرخواہی اور انتقامی جذبات سے نکال کر معافی اور عفو ودرگذر کی راہ دکھاتا ہے۔
جب دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت جاگزیں ہو تو پھر کسی کی دشمنی انسان کو مشتعل نہیں کر سکتی۔ نفرت اور عداوت کی آگ ہمارے رویوں کو بدل نہیں سکتی‘ کیونکہ ہمارے نزدیک سب سے بڑا مقام اللہ تعالیٰ کا ہے اور سب سے زیادہ اہمیت رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات اور نصیحتوں کی ہے۔ پھر کسی کے نازیبا رویے سے ہم اپنی ترجیحات کیوں بدلیں؟کیوں نہ ہم اللہ تعالیٰ کے ارشاد مبارک پر عمل کریں اور اپنی آنکھوں سے وہ انقلاب دیکھیں جس کا وعدہ قرآن نے کیا ہے کہ جانی دشمن جگری دوست میں بدل جائے گا۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ
اور اے نبیؐ ‘نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔
تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی دشمنی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔(سورہ حم السجدہ:۳۴)۔
محبت رسول ﷺ اور ہماری عملی زندگیاں
رسول اکرم ﷺ سے محبت محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں‘ بلکہ یہ وہ نور ہے جو ہماری عملی زندگی کے ہر گوشے کو روشنی بخشتا ہے۔ جب محبت اور عمل کا حسین امتزاج ہو تو زندگی ایمان کی خوشبو سے مہکنے لگتی ہے۔ ذرا سوچئے‘ کتنے مبارک اور بابرکت ہوں گے وہ الفاظ جو ہماری زبانوں سے اس شان کے ساتھ ادا ہوں:
• ہم نے اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کو شامل کرلیا ہے۔ اب ہماری زندگیوں میں اندھیرا نہیں رہے گا‘ غلطی اور گمراہی کے راستے بند ہوجائیں گے۔
• ہم نے اپنے عائلی مسائل کے لئے رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کو رہنما بنا لیا ہے۔ اب ہمارے گھروں اور خاندانوں میں محبت‘ سکون اور خیر کا چرچا ہوگا۔ شوہر اپنی بیویوں کے لئے شفیق اور مہربان ہوں گے اور ہماری عورتیں حقیقی معنوں میں مثالی بیویاں اور ماں بن کر نئی نسل کی بہترین تربیت کریں گی۔
• ہم نے اپنے خاندانی تعلقات کو نبی اکرم ﷺ کی ہدایات کے مطابق سنوارنے کا پختہ عزم کرلیا ہے۔ اب نہ کوئی رشتے ٹوٹیں گے اور نہ ہی کوئی فرد خاندان خود کو بے سہارا یا تنہا محسوس کرے گا۔ ہر فرد کے لئے خاندان جائے پناہ اور محبت کامحفوظ قلعہ بنے گا۔
یہی ہے محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی رنگ‘کہ ہماری سوچ‘ ہمارے گھروں کا ماحول‘ ہمارے رشتے ناتے ‘ہمارے معاملاتاور ہمارا پورا سماج سیرتِ نبوی ﷺ کی خوشبو سے مہک اُٹھے۔ہمارے اس دعوے اور ان مبارک الفاظ کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا وہ ارشاد ہے جسے اُس نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان کے لازمی تقاضے کے طور پر بیان فرمایا:
وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
جو کچھ رسولؐ تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں اس سے رُک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (سورہ الحشر: ۷)
اور یہ بات بھی بڑی وضاحت اور تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی کہ تمام انفرادی و اجتماعی معاملات کا فیصلہ صرف اور صرف رسول اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ہونا چاہئے:
فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
نہیں‘ اے محمدؐ! تمہارے رب کی قسم‘ یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تمہیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں‘ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ پورے دل سے تسلیم کرلیں۔ (سورہ النساء: ۶۵)۔
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمّدؐ سے اُجالا کر دے
Like this:
Like Loading...