Skip to content
تاریخ کا آئینہ اور عوامی شعور
نیپالی تجربہ اور ہندوستانی تناظر
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا معلم ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے ایوان کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں، اور تخت و تاج کتنے ہی مضبوط کیوں نہ نظر آئیں، عوامی شعور اور اجتماعی ارادے کے سامنے وہ ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ نیپال کی تاریخ اسی حقیقت کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں ایک طویل عرصے تک مذہبی بادشاہت کو آسمانی تقدیر سمجھا جاتا رہا، لیکن جب عوام نے سوال اٹھایا اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہوئے، تو وہی بادشاہت لمحوں میں قصۂ پارینہ بن گئی۔
ہندوستان کی سر زمین بھی اسی خطے کا حصّہ ہے، اور یہاں کی جمہوری روایات، سیکولر آئین اور عوامی تحریکیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ عوامی آواز کو ہمیشہ خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے نیپال میں دبے ہوئے طوفان نے صدیوں کے جمود کو توڑ ڈالا، ویسے ہی ہندوستان میں بھی عوامی شعور کبھی نہ کبھی اپنی پوری قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ یہ مضمون دراصل اسی تاریخی ربط کو سمجھنے کی کوشش ہے: نیپال کا تجربہ، ہندوستان کا سفر، اور عوامی طاقت کا وہ لازوال پیغام جو وقت کی صدا میں بار بار سنائی دیتا ہے۔
نیپال کی تاریخ میں ایک طویل عرصے تک ہندو راجتنترا (بادشاہت) کا دور قائم رہا۔ وہاں کا بادشاہ محض ایک سیاسی حکمران نہیں بلکہ ایک مذہبی علامت بھی سمجھا جاتا تھا، جس کے وجود کو دیوی دیوتاؤں کی تائید حاصل مانا جاتا تھا۔ عوامی زندگی کے بیشتر شعبے اسی تصور سے جکڑے ہوئے تھے۔ لیکن وقت کے دھارے میں جب عوامی شعور بیدار ہوا، تو نیپالی عوام نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کا وجود صرف ایک مخصوص مذہبی طبقے کے لئے ہے یا تمام شہریوں کے لئے؟ یہی سوال بغاوت کی بنیاد بنا۔
1990ء کی عوامی تحریک (Jana Andolan I) نے بادشاہت کو محدود کرنے کی جدوجہد کی۔
پھر 2006ء میں عوامی تحریک دوم (Jana Andolan II) نے بادشاہت کے خاتمے کا ناقوس بجایا۔
اس جدوجہد میں محض سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ محروم طبقات، دلت، مقامی قومیتیں اور خواتین بھی پیش پیش تھیں۔ ان سب نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کا وجود تبھی بامعنی ہے جب وہ سب شہریوں کے لئے برابری کے اصول پر کھڑی ہو۔ بین الاقوامی دباؤ نے بھی اس عمل کو تیز کیا۔ دنیا اس حقیقت سے واقف تھی کہ جدید ریاستیں مذہب یا نسل کی بنیاد پر پائیدار نہیں رہ سکتیں۔ اسی لئے نیپال پر یہ دباؤ بڑھا کہ وہ بادشاہت کے بجائے ایک سیکولر جمہوری آئین اپنائے۔ 2008ء میں نیپال نے اپنے آپ کو دنیا کے نقشے پر ایک سیکولر جمہوریہ کے طور پر منوایا، اور اس طرح ہزاروں سالہ بادشاہت کا باب بند ہو گیا۔
یہ منظر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تاریخ کا پہیہ صرف ایک طاقت کے زور سے نہیں چلتا، بلکہ عوامی شعور اور محروم طبقات کی آوازیں جب یکجا ہوتی ہیں تو وہ بڑے سے بڑے تخت و تاج کو ہلا دیتی ہیں۔ جیسے دریا کے بہاؤ کو بند کرنے کے لئے بند باندھ دیا جائے، مگر جب پانی کا دباؤ بڑھتا ہے تو وہ بند ٹوٹ جاتا ہے اور دھارا اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ نیپال کی تحریک بھی دراصل ایسے ہی دبے ہوئے سیلاب کی طرح تھی جو برسوں کے جمود کو توڑ کر ایک نئی دنیا کا دروازہ کھول گئی۔
اب اگر ہندوستان کی طرف دیکھا جائے تو چند پہلو قابلِ غور ہیں:
آئین ہند
ہندوستان کا آئین برصغیر کی تاریخ کا وہ عظیم دستاویز ہے جو آزادی کے بعد کروڑوں انسانوں کی امیدوں اور خوابوں کا امین بنا۔ یہ آئین آغاز ہی سے سیکولر اور جمہوری اصولوں پر قائم کیا گیا، تاکہ ریاست کسی ایک مذہب، فرقے یا گروہ کی جاگیر نہ رہے بلکہ تمام شہری اس کے دائرۂ کرم میں برابر کے شریک ہوں۔ یہ حقیقت نہایت اہم ہے کہ ہندوستان کے آئین سازوں نے یورپ کی قرونِ وسطیٰ کی مذہبی جنگوں اور نیپال جیسے خطوں کی مذہبی بادشاہتوں سے سبق حاصل کیا۔ اسی لئے ہندوستان میں ابتدا ہی سے یہ اصول طے پایا کہ ریاست کسی مخصوص عقیدے یا مذہب کی خادم نہیں ہوگی، بلکہ وہ سب شہریوں کی مشترکہ امانت ہوگی۔
آئین کے ابتدائی حصّے میں دی گئی تمہید (Preamble) اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستان ایک "خودمختار، سوشلسٹ، سیکولر، جمہوری جمہوریہ” ہوگا۔ یہاں "سیکولر” کا مطلب مذہب دشمنی نہیں بلکہ مذہبی غیر جانبداری ہے۔ یہ غیر جانبداری اس طرح سے عملی شکل اختیار کرتی ہے کہ ایک طرف مسلمان کو اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی آزادی ہے، تو دوسری طرف ہندو اپنے مندروں میں پوجا کرسکتا ہے، سکھ اپنے گرودوارے میں کیرتن کرسکتا ہے، اور عیسائی اپنے گرجا گھروں میں گھنٹیاں بجا سکتے ہیں۔ یہ وہ تنوع ہے جسے آئین نے قانونی ضمانت فراہم کی۔ اس کے برعکس، نیپال کی بنیاد ایک ہندو راجتنترا پر رکھی گئی تھی، جہاں بادشاہ کو دیوی دیوتاؤں کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا اور ریاستی طاقت ایک مخصوص مذہبی شناخت کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے وہاں کے اقلیتی طبقات خود کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کرتے تھے، اور یہی احساس انقلابی بیداری کا باعث بنا۔
ہندوستان کے آئین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے یکجتی کو آئینی رنگ دیا۔ جیسے گنگا اور جمنا کی دھارائیں مل کر ایک ندی بن جاتی ہیں لیکن اپنی الگ پہچان برقرار رکھتی ہیں، ویسے ہی ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ اور دیگر مذاہب اس ملک میں اپنی انفرادیت کے ساتھ ایک اجتماعی وحدت کی صورت میں جیتے ہیں۔ یہ آئین محض کاغذ پر لکھے گئے الفاظ نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کے لئے وہ عہد ہے جو انہیں مساوات، آزادی اور انصاف کی یقین دہانی کراتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی ان اصولوں پر عمل درآمد میں کمی آتی ہے، تو عوام اپنے حق کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ آئین ان کی مشترکہ میراث ہے، کسی ایک گروہ کی جاگیر نہیں۔
معاصر سیاست
گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کی سیاسی فضاء میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہ سر زمین جو کبھی اقوام و مذاہب کے سنگم کے طور پر پہچانی جاتی تھی، وہاں رفتہ رفتہ اکثریتی سیاست اور ہندوتوا نظریہ غالب آتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان گویا ایک ایسا سایہ ہے جو آئین کے روشن چراغ پر دھند ڈالنے لگا ہے۔ اکثریتی سیاست کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی پالیسیوں اور سماجی رویّوں میں اکثریت کے جذبات کو اس قدر فوقیت دی جائے کہ دیگر طبقات کے حقوق اور احساسات پس منظر میں چلے جائیں۔ اس کے نتیجے میں ملک کے وہ شہری، جنہیں آئین نے مساوی حیثیت عطاء کی تھی، اپنے آپ کو غیر مرئی دیواروں کے پیچھے قید محسوس کرنے لگتے ہیں۔
اس کی جھلک ہم نے مختلف واقعات میں دیکھی:
کبھی شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کی وفاداری پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے۔
کبھی دہلی، لکھنؤ اور علی گڑھ کی گلیوں میں نوجوان لڑکیاں ہاتھوں میں ترنگا اور آئین کی کاپیاں اٹھا کر یہ اعلان کرتی نظر آئیں کہ ہندوستان سب کا ہے۔
کبھی یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ گاؤ رکشا کے نام پر بے گناہوں کی جان لے لی گئی، اور پورا معاشرہ سوالیہ نگاہوں سے آئین کے دیباچے کو تکتا رہ گیا۔
ان حالات نے اقلیتوں کے دلوں میں عدم تحفّظ کی ایک لہر دوڑا دی۔ وہ سوچنے لگے کہ جس آئین نے انہیں برابری اور آزادی کی ضمانت دی تھی، کیا اس کی روح کہیں دھندلا تو نہیں رہی؟ جیسے بارش کے بعد قوسِ قزح کے رنگ مدھم ہو جائیں، ویسے ہی آئینی سیکولرزم کی روشنائی ماند پڑتی محسوس ہونے لگی۔ اس پس منظر میں آئینی سیکولرزم پر سوال اٹھنا کوئی غیر فطری بات نہیں۔ جب انصاف کا توازن بگڑتا ہے تو عوام کے ذہن میں یہی خیال ابھرتا ہے کہ ریاست کی کشتی سب کے لئے یکساں محفوظ ہے یا صرف اکثریت کے لئے۔ اگر کشتی کا وزن ایک جانب زیادہ ہو جائے تو وہ ڈوبنے کے خطرے میں آجاتی ہے۔ یہی اندیشہ آج ہندوستان کے اقلیتی حلقوں کو بے چین کر رہا ہے۔
عوامی آگہی
عوامی بیداری ہمیشہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے والی قوت رہی ہے۔ نیپال میں جس طرح لاکھوں افراد نے شاہی اقتدار کے خلاف اپنی آواز بلند کی، اور وہ آواز رفتہ رفتہ طوفان میں ڈھل گئی، اسی طرح ہندوستان کی سر زمین پر بھی وقتاً فوقتاً ایسی لہریں اٹھتی رہی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ معاشرہ مکمل طور پر خاموش نہیں ہے۔
جب اقتدار کی زبان نے کسانوں کے خون پسینے کو نظر انداز کیا اور تین زرعی قوانین کے ذریعے ان کی زندگیوں پر بوجھ ڈالا گیا، تو پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کھیت کھلیانوں سے نکلنے والے کسان دہلی کی سرحدوں پر ڈٹ گئے۔ وہاں خیمے لگے، لنگر چلے، عورتیں اور بزرگ رات کی سرد ہواؤں اور گرمی کی دھوپ میں صبر آزما دن گزارنے لگے۔ ایک سال سے زیادہ جاری رہنے والی یہ تحریک دراصل اس بات کا اعلان تھی کہ زمین کے بیٹے اپنے حق کے لئے خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ آخرکار یہ دباؤ حکومت کے لئے ناقابلِ برداشت ہو گیا اور قوانین واپس لینے پڑے۔
اسی طرح شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج ہندوستان کی تاریخ کا ایک اور روشن باب ہے۔ شاہین باغ کی عورتیں سردیوں کی راتوں میں اپنے بچّوں کے ساتھ سڑکوں پر بیٹھی رہیں۔ ہاتھوں میں ترنگا اور لبوں پر آئین کی تمہید پڑھتے ہوئے انہوں نے یہ پیغام دیا کہ سیکولر ہندوستان کسی ایک طبقے کی جاگیر نہیں۔ دہلی سے کیرالا تک، لکھنؤ سے کولکتہ تک، جگہ جگہ احتجاجی دھرنے یہ بتانے لگے کہ عوامی شعور ابھی زندہ ہے اور خاموشی کے پردے کے پیچھے ایک دھڑکتا ہوا دل موجود ہے۔
یہی نہیں، مختلف ریاستوں میں طلبہ کی تحریکیں، مزدوروں کے احتجاج، اور ماحولیاتی مسائل پر عوامی آوازیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستانی سماج یکطرفہ جبر کو آسانی سے قبول کرنے والا نہیں۔ یہاں جب بھی حق تلفی کی جاتی ہے، کہیں نہ کہیں سے آواز بلند ہو جاتی ہے۔ عوامی بیداری گویا وہ ہوا ہے جو موم بتی کے شعلے کو بجھنے نہیں دیتی۔ وہ کبھی کسانوں کے نعرے میں جھلکتی ہے، کبھی خواتین کی دعاؤں میں، کبھی طلبہ کے قلم کی سیاہی میں، اور کبھی مظلوموں کی آہوں میں۔ یہ سب مل کر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہندوستان کا ضمیر ابھی زندہ ہے، اور اس کے اندھیرے کمرے میں بھی روشنی کا چراغ جلتا رہے گا۔
عالمی تناظر
ہندوستان کا عالمی کردار نیپال کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور اثر انگیز ہے۔ نیپال ایک چھوٹا سا کوہستانی ملک ہے، جس کی سیاسی اتھل پتھل بنیادی طور پر داخلی معاملات اور سرحدی ہمسایوں تک محدود رہتی ہے۔ لیکن ہندوستان کی حیثیت ایک ایسے برِاعظم نما ملک کی ہے، جو نہ صرف آبادی اور جغرافیے کے اعتبار سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے بلکہ اس کی سیاسی و معاشی پالیسیاں پورے خطے اور عالمی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں کسی بھی بڑی سیاسی یا نظریاتی تبدیلی کو دنیا محض ایک "اندرونی معاملہ” نہیں سمجھتی۔
اگر یہاں جمہوریت کمزور ہوتی ہے، تو پوری دنیا میں جمہوری اقدار پر سوال اٹھتے ہیں، کیونکہ دنیا ہندوستان کو سب سے بڑی جمہوریہ کے طور پر دیکھتی ہے۔
اگر یہاں سیکولر ڈھانچہ کمزور پڑتا ہے، تو یہ پیغام جاتا ہے کہ کثرت میں وحدت (Unity in Diversity) کا ماڈل اپنی کشش کھو رہا ہے۔
اور اگر یہاں اقلیتوں پر دباؤ بڑھتا ہے، تو یہ صرف داخلی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور مغربی جمہوریتوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
اس کی ایک مثال امریکہ اور یورپی ممالک کی وہ رپورٹیں ہیں، جن میں گزشتہ برسوں میں ہندوستان کے مذہبی آزادی کے ریکارڈ پر سوال اٹھائے گئے۔ اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیموں نے کسان تحریک کے دوران دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے لاکھوں کسانوں کی حالتِ زار کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان میں عوامی تحریکیں محض داخلی سیاست کا حصّہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان بھی بن جاتی ہیں۔
علاؤہ ازیں، ہندوستان کا معاشی اور تزویراتی (strategic) کردار بھی بہت اہم ہے۔ یہ ملک عالمی منڈی میں ایک بڑی کھپت (market) رکھتا ہے، دفاعی لحاظ سے ایٹمی طاقت ہے، اور سفارتی سطح پر "کواڈ” (QUAD)، "برکس” (BRICS)، اور اقوام متحدہ جیسے اداروں میں کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ اس لئے اگر یہاں کوئی بڑی عوامی بیداری یا سیاسی تغیر رونما ہو، تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر نیپال میں تبدیلی کا طوفان ایک پہاڑی ندی کی مانند تھا، جو اپنے کناروں تک محدود رہا، تو ہندوستان میں کسی بڑی تبدیلی کی لہر ایک ایسے سمندر کی مانند ہوگی، جس کی گونج دور دور تک سنائی دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی طاقتیں ہندوستان میں "نیپال جیسا تجربہ” دیکھنے کے معاملے میں نہایت حساس ہیں، کیونکہ یہاں کے حالات ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سیاست کے دھاگے ہلا دیتے ہیں۔
ہندوستان میں "بالکل نیپال جیسی صورتحال” کا پیدا ہونا فی الحال مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ یہاں کا سیاسی و آئینی ڈھانچہ ابتداء ہی سے جمہوری اور سیکولر بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا۔ نیپال کو بادشاہت کے خول کو توڑ کر جمہوریت کی دہلیز پر آنا پڑا، جب کہ ہندوستان نے آزادی کے لمحے ہی سے اپنی شناخت عوامی اقتدار، آئینی مساوات اور مذہبی غیر جانب داری کے اصولوں پر قائم کر لی تھی۔ اس فرق کی بنا پر دونوں ملکوں کے سفر میں نمایاں امتیاز موجود ہے۔
مزید یہ کہ عالمی طاقتوں کے مفادات ہندوستان کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔
ایک طرف امریکہ اور یورپ اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتے ہیں،
تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک ہندوستان کو اپنی معیشت اور مزدوروں کی برآمدات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
چین اور روس جیسے بڑے کھلاڑی بھی اس خطے میں ہندوستان کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
ایسے میں کوئی بھی بڑی تبدیلی محض داخلی معاملہ نہیں ہوگی بلکہ عالمی معیشت، تجارت اور تزویراتی تعلقات پر براہِ راست اثر ڈالے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں یکسر "نیپالی تجربہ” دہرانا سہل نہیں۔
تاہم، یہ تصویر کا صرف ایک رُخ ہے۔ اگر اکثریتی سیاست کا جبر مزید بڑھتا ہے، اگر آئین کے سیکولر وعدے کو کھوکھلا کیا جاتا ہے، اور اگر معاشرتی انصاف کے بجائے مذہبی اکثریت کی خواہشات ہی قانون بننے لگیں، تو پھر عوامی دباؤ خود بہ خود ایک نئی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
ہم نے اس کی جھلکیاں پہلے ہی دیکھی ہیں:
شاہین باغ کی خواتین جب ترنگا اٹھا کر آئین کی تمہید پڑھنے لگیں تو یہ محض احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ اس سیکولر روح کا اعلان تھا جو ہندوستان کی بنیاد میں پیوست ہے۔
کسان تحریک جب ملک کے کونے کونے سے دہلی کی سرحدوں تک پھیل گئی تو یہ محض زرعی قوانین کی مخالفت نہیں تھی، بلکہ یہ عوامی طاقت کا عملی مظاہرہ تھا کہ جب جبر حد سے بڑھ جائے تو وہ تخت و تاج کو جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
اسی طرح طلبہ کی تحریکیں، عدلیہ میں انصاف پسند آوازیں، اور سول سوسائٹی کی کوششیں یہ اشارہ ہیں کہ ہندوستانی معاشرہ اپنی بنیاد کو فراموش نہیں کر سکتا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر حالات میں بگاڑ آتا بھی ہے تو اس بگاڑ کی کوکھ سے ایک بڑی اصلاحی لہر بھی جنم لے سکتی ہے۔ جیسے نیپال میں عوامی دباؤ نے صدیوں پر محیط بادشاہت کو ختم کر کے ایک نئے عہد کا آغاز کیا، ویسے ہی ہندوستان میں بھی عوامی شعور کسی دن اکثریتی سیاست کے غلبے کو توڑ کر واپس آئینی نظام کی طرف ایک بڑی لہر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہی جمہوری نظام کی اصل طاقت ہے کہ وہ بار بار اپنے آپ کو درست کرتی ہے، اور جب بھی کسی جانب جھکاؤ بڑھتا ہے، تو عوامی دباؤ ترازو کو دوبارہ توازن پر لے آتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی طاقت، خواہ وہ بادشاہت ہو یا اکثریتی سیاست کا غلبہ، ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتی۔ جب عوامی شعور بیدار ہوتا ہے تو وہ پہاڑوں کو ہلا دیتا ہے اور صدیوں کے جمود کو بہا کر لے جاتا ہے۔ نیپال کی داستان اسی حقیقت کی ایک روشن مثال ہے، جہاں بادشاہت کو تقدیر سمجھا جاتا تھا لیکن عوامی بیداری نے اسے ماضی کا قصّہ بنا دیا۔ ہندوستان کی کہانی مختلف ضرور ہے، مگر اس کے اندر بھی وہی عناصر کارفرما ہیں جو ہر بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ یہاں آئین کی صورت میں ایک مضبوط بنیاد موجود ہے، جو سب شہریوں کو برابری، آزادی اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن جب اس بنیاد پر دھند چھانے لگتی ہے اور اکثریتی سیاست کے سائے بڑھنے لگتے ہیں، تو عوامی بیداری ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو کاٹتی ہے۔
یہی جمہوریت کی اصل روح ہے کہ وہ اپنی اصلاح کا سامان اپنے اندر رکھتی ہے۔ اگر کبھی ترازو کا پلڑا ایک طرف جھک بھی جائے تو عوامی دباؤ اسے دوبارہ توازن پر لے آتا ہے۔ ہندوستان میں بھی یہی امکان زندہ ہے کہ جب عوام کی آواز یکجا ہوگی تو وہ سیکولرزم اور آئین کی روح کو دوبارہ زندہ کر کے دکھائے گی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نیپال کا سبق ہمارے لیے محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے۔ اس آئینے میں جھانک کر ہم اپنے حال اور مستقبل کو پہچان سکتے ہے۔ اگر عوامی شعور کو دبایا گیا تو تاریخ کا دھارا خود کو دہرا دے گا، اور اگر اسے احترام دیا گیا تو ہندوستان اپنی شناخت کے ساتھ ایک روشن مثال بن کر دنیا کے سامنے کھڑا ہوگا۔
🗓 (13.09.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...