Skip to content
قطر میں حملہ کرکے اس نے ا پنا ہی نقصان کیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
حماس کو امریکہ اور اسرائیل دہشت گرد قرار دیتے ہیں لیکن اس تحریک مزاحمت سے تعلق ر کھنے والے شہیدوں کے نمازِ جنازہ میں شریک ہو کرامیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ساری دنیا کو ایک سخت اور واضح پیغام دیا ہے ۔ انہوں نے مغرب کو بتایا کہ جو اس کے نزدیک دہشت گرد ہیں ان کی نظر میں وہ مجاہدین آزادی ہیں۔ اس کے برعکس دوحہ پر اسرائیلی حملہ "ریاستی دہشت گردی” ہے۔ یہ بات قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے امریکہ کے سی این این چینل سے گفتگو میں کہی ۔ وہ بولے : "میں الفاظ نہیں ڈھونڈ پا رہا کہ اس حملے پر اپنے غصے کو کیسے بیان کروں‘‘۔انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور غزہ کو بھوکا مار رہے ہیں۔ انہیں عالمی فوجداری عدالت کے کٹہرے میں پیش ہونا چاہیے۔ ماضی میں اسرائیل غزہ کے علاوہ مغربی کنارے پر حملہ کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ لبنان، شام ، یمن اور ایران تک پر وہ حملے کرچکا ہے۔ اس لیے مسلم ممالک پر حملہ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس حملے نے نہ صر ف پوری اسلامی دنیا کو متحد کردیا بلکہ ساری دنیا کے ساتھ اپنے قریب ترین حلیف امریکہ اور ہندوستان کوبھی ناراض کرکے مذمت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
اسرائیل نے قطر میں حماس کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی جو فضائی کارروائی کی اس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی۔ اس حملے کی عالمی سطح پر مذمت اس قدر بڑھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی مگر مچھ کے آنسو بہانے پر مجبور ہونا پڑا حالانکہ ایسا کرنا ان کی رعونت آمیز شخصیت کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اس معاملے میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ہدایت دی تھی کہ قطر کو حملے کے بارے میں خبردار کریں تاہم یہ اطلاع بہت دیر سے پہنچی۔ ایسے میں محض اطلاع اور وہ بھی تاخیر سے دینا ایک ناٹک تھا۔ امریکہ اگر سنجیدہ ہوتا تو وہاں موجود اپنے فوجی اڈے سے اس حملے کو ناکام بناسکتا تھا اور اگر ایسا ہوجاتا تو اسرائیل کو ایک سخت پیغام ملتا مگر وہ دونوں تو’ چور چور موسیرے بھائی‘ ہیں اس لیے ایسی توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اس موقع پر قطر نے جس لب و لہجے میں امریکہ کو جواب دیا اس سے نام نہاد وشوگرو نریندر مودی کو سبق لینا چاہیے۔ قطر نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی قسم کا پیشگی انتباہ نہیں ملا اور امریکی اہلکار کا فون اس وقت آیا جب دوحہ میں دھماکے ہورہے تھے۔یعنی صاف صاف کہہ دیا کہ امریکہ جھوٹ بول رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس پھٹکار کے باوجود لکھنا پڑاکہ ”قطر ایک خود مختار ملک اور امریکہ کا قریبی اتحادی ہے، جو امن قائم کرنے کی کوششوں میں ہمارے ساتھ جرأت مندانہ کردار ادا کررہا ہے۔ ایسے ملک پر یکطرفہ بمباری امریکہ یا اسرائیل کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔“ ۔ انہوں نے حملے کے طریقہ کار کو نا مناسب بتایا۔اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے گفتگو کی اور قطری قیادت کو یقین دلایا کہ ” ان کی سرزمین پر ایسی کارروائی دوبارہ نہیں ہوگی“۔ انہوں نے حملے کے مقام پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس کارروائی سے ”خوش نہیں“ ہیں۔ ان کے بقول ”یہ اچھی صورت حال نہیں ہے، ہم یرغمالیوں کی واپسی چاہتے ہیں لیکن جو کچھ آج ہوا اس پر ہم مطمئن نہیں ہیں۔“ٹرمپ جس وقت یہ بیان دےرہے تھے قریب ہی موجود مظاہرین ”فری فری فلسطین“ اور ”نسل کشی کو ہتھیار دینا بند کرو“ کے نعرے لگا رہے تھے۔
ٹرمپ کے رویہ کا وزیراعظم نریندر مودی پر یہ اثر ہوا کہ انہوں نے بھی ہمت کرکے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے فون پر بات کی اور دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم مودی نے قطر کے امیر سے بات کرنے کی جانکاری ایکس پر دی اور حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ قطر کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے دوحہ میں حالیہ اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دے کر اس کے جواب کا حق محفوظ رکھنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دوحہ کو اس حملے کے جواب کا حق حاصل ہے اور وہ ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے بتایا کہ خلیجی ملک کے ردعمل کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ موصوف نے بھی اپنے امیر کی تائید میں امریکی پیشگی اطلاع کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ الثانی کے مطابق امریکی حکام نے قطر کو اسرائیلی حملے کے 10 منٹ بعد آگاہ کیا، جو ”صد فیصد غداری“ تھی۔قطری وزیراعظم نے واضح کیا کہ ثالثی کی کوششیں قطر کی قومی تشخص کا حصہ ہیں اور کوئی بھی اقدام اسے اس کردار سے نہیں روک سکتا۔ قطر نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لانے کا عزم دوہرایا لیکن اس حملے کے بعد موجودہ بات چیت میں کسی پیش رفت کا امکان سے مایوسی ظاہر کی۔انہوں نے اسرائیل پر امن کے مواقع کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ”ریاستی دہشت گردی“ کا مرتکب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے حالیہ کارروائیوں سے ثالثی عمل کو سبوتاژ کیا ہے۔دنیا اور قطر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے اسرائیلی وزیر اعظم نے اس احمقانہ حرکت سے کلہاڑی پر پیر مار کر خود اپنے آپ کو زخمی کرلیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ساری دنیا سے ہونے والی مذمت کے جواب میں کہا کہ میں قطر اور دہشت گردوں کو پناہ دینے والے تمام ممالک سے کہتا ہوں کہ یا تو انہیں ملک بدر کریں یا انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں کیونکہ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو ، ہم کریں گے ۔ یہ دھمکی وہ شخص دے رہا جس کے عالمی عدالتِ انصاف نے نسل کشی کا وارنٹ نکال رکھا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے دنیا کے بیشتر ممالک میں وہ قدم نہیں رکھ سکتا۔ نیتن یاہو نے دوحہ میں منگل کو حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے حملے کا دفاع کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف اس طرح کیا اگرچہ حماس کی کوئی بھی سینئر سیاسی شخصیت ہلاک نہیں ہوئی ، حماس نے پانچ نچلے درجے کے ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ، جن میں غزہ میں گروپ کے رہنما اور اس کے اعلی مذاکرات کار خلیل الحیا کا بیٹا اور تین باڈی گارڈز شامل ہیں۔ وہ حماس کے 7؍ اکتوبر 2023 کے حملے کو امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ واشنگٹن نے اسے اپنی نام نہاد "دہشت گردی کے خلاف جنگ” شروع کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے بالکل وہی کیا جو امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے ساتھ کیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی تعریف کرنے والے ممالک کو اب اسرائیل کی مذمت کرنے پر "خود سے شرمندہ ہونا چاہیے”۔یہ آدھا سچ ہے نیتن یاہو کو یاد رکھنا چاہیے کہ افغانستان کو شکست دینے کی خاطر امریکہ نے ناٹو ممالک کے ساتھ مل کر چڑھائی کی اور خود کو اپنی 20سالہ طویل ترین جنگ میں جھونک دیا مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’بڑے بے آبرو ہوکر ‘ وہاں سے نکلنا پڑا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسی قطر نے طالبان کے ساتھ ثالثی کی جس پر اسرائیل فی الحال برہم ہے ۔ 9/11 کو جواز بنا کر افغانستان پر امریکہ نےحواریوں سمیت جو فوج کشی کی تھی اس میں 2 ہزار 448 امریکی فوجی جمع تین ہزار 846 امریکی ٹھیکے دار ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر نیٹو ممالک کے ایک ہزار 144 اہلکاربھی مارے گئے۔ ان لوگوں نے افغان فوج اور پولیس کے 66 ہزار اہلکاروں سمیت 42 ہزار 245 شہریوں کی جان لی ۔ علاوہ ازیں 444 امدادی کارکن اور 72 صحافی بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ناٹو سے لڑتے ہوئے51 ہزار 191 طالبان اور دیگر حکومت مخالف جنگجو شہید توہوئے مگرانہوں نے امریکہ کو ذلیل ورسوا کرکے بھگا دیا۔ مالی خسارے کی بات کریں تو امریکہ نے افغانستان اور عراق میں تقریباً دو کھرب ڈالر قرض لے کر خرچ کیے اور ایک اندازے کے مطابق سنہ 2050 تک اس قرض کی رقم پر سود کی مد میں امریکی حکومت 6 کھرب ڈالر سے زائد ادا کرے گی۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق میں لڑنے والے چالیس لاکھ فوجیوں کی صحت، معذوری، کفن دفن اور دیگر اخراجات پر تقریباً دو کھرب ڈالر سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ اتنا سب کرنے کے باوجود اگر امریکہ کو اپنے سارے حلیف ممالک کو ساتھ افغانیوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے تو کیا اسرائیل اور کیا شوربہ کہ جس کے ساتھ فی الحال امریکہ کے سوا کوئی بڑا ملک نہیں کھڑا ہے۔ نیتن یاہو اگر ان حقائق پر غور کرلیتے تو بھول کر بھی ۱۱؍ ستمبر کا حوالہ نہیں دیتے لیکن جب دماغ میں تکبر بھر جائے تو عقل کام کرنا بند کردیتی ہے۔
Like this:
Like Loading...