صفا انسٹی ٹیوٹ فار میڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم کے زیراہتمام صحافتی اخلاقیات اور سیرت رسولؐ کے عنوان سے مذاکرہ کاانعقاد
مولانامحمدعلاء الدین ندوی،عبیداللہ ناصر،مولاناجہانگیرعالم قاسمی،مولاناذکی نورندوی کااظہارخیال
لکھنؤ،15؍ستمبر( بذریعہ مولانامنورسلطان ندوی) صفا انسٹی ٹیوٹ فار میڈیا لٹریسی اینڈ جرنلزم کے زیراہتمام انجمن فلاح دارین کے ہال میں صحافتی اخلاقیات اور سیرت رسول کے عنوان سے ایک مذاکرہ کاانعقاد ہوا،معروف ادیب اور بانگ حرا کے سابق ایڈیٹرمولانامحمدعلاء الدین ندوی نے صدارت کی،سینئرصحافی عبیداللہ ناصرمہمان خصوصی کے حیثیت سے شریک ہوئے جبکہ مولانامحمد جہانگیرعالم قاسمی،مولاناذکی نور عظیم ندوی اورشاہین اسلام انصاری نے خصوصی خطاب کیا۔
مولانامحمد علاء الدین ندوی نے صدارتی کلمات میں کہاکہ قلم اللہ کی بڑی نعمت ہے،اس کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوگی،قلم کے تقدس کو سمجھنااوراس تقدس کو پامال ہونے سے بچاناوقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ نبی کے معنی خبردینے والے کے ہیں اور رسول کامعنی بھی پیغام پہونچانے کے ہیں،ان دونوں الفاظ سے صحافت کی اہمیت اور صحافی کے مقام کااندازہ ہوتاہے،نبی نے جس طرح اللہ کاپیغام بندوں تک پہونچایاوہ صحافت ہی سب سے کامیاب مثال ہے،ایک صحافی کے قلم کے نیچے ہزارجان ہوتی ہے،مسلم صحافی کی ذمہ داری ہے کہ صحافتی اخلاقیات کے ساتھ دینی اصولوں کوبھی ملحوظ رکھیں۔
عبیداللہ ناصرنے کہاکہ صحافت کافرض پوری ایمانداری کے ساتھ اداکرنا،اورسماج کوفائدہ پہونچانااصل صحافت ہے اوریہی سیرت رسول کے مطالعہ کا خلاصہ ہے،انہوں نے مزیدکہا کہ آج صحافت کے نام پر جھوٹ کو پھیلایاجارہاہے،لیکن چندایسے صحافی بھی ہیں جو اپنافرض اداکررہے ہیں۔
مولاناجہانگیرعالم قاسمی صدرانجمن فلاح دارین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کاکمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہرمعاملہ میں انسان کی رہبری کرتاہے، زبان اللہ کا انعام ہے،اس کوکیسے استعمال کرناہے،اس بارے میں بھی شریعت میں ہدایات موجود ہیں،قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ کسی بات کو کہنے سے پہلے اس کی تحقیق کرناضروری ہے،احادیث میں زبان کے استعمال پربڑی توجہ دلائی گئی ہے،ایک مسلم صحافی کو ان باتوںکالحاظ کرناچاہئے۔
مولاناذکی نورعظیم ندوی نے میڈیااور مسلم سماج کی ذمہ داری کے موضوع پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ صحافت ایک بڑی ذمہ داری کانام ہے،صحافت کے لئے علم بہت ضروری ہے،کیونک صحافت کے لئے عربی میں اعلام کالفظ استعمال ہوتاہے،اوراعلام کالفط علم سے ہی بناہے،انہوں نے مزیدکہاکہ اسلام اس بات کی تاکید کرتاہے کہ ہمیشہ حق اور سچ کہیں،مگرہرسچ کو کہنا ضروری نہیں ہے،انہوں نے میڈیاکی صورت حال پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ حقیقت کچھ ہوتی ہے اور پیش کچھ اور کیاجاتاہے،اس لئے مسلمانوں کے حوالے سے منفی پروپگنڈوں کاجائزہ لینابہت ضروری ہے۔
مفتی منورسلطان ندوی نے کہاکہ ابلاغ کے جتنے بنیادی عناصرہیں ان سب سے متعلق شریعت میں ہدایت موجود ہیں،پیغام دینے والے کوسچ کہنے اور سچ بولنے کی تاکید کی گئی ہے،وہیں جوپیغام ریسیوکرتے ہیں پڑھ کر یادیکھ کر ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ خبروں کی تحقیق کریں،اور بلاتحقیق کسی مواد کوآگے نہ بھجیں، انہوں نے مزیدکہاکہ ہمارا مزاج یہ ہوناچاہئے کہ ایڈیٹرکوخط لکھ کر یاسوشل میڈیا میں ڈس لائک اور رپورٹ کے ذریعہ ہم ردعمل بھی دیں،اس سلسلہ میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔
پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے غفران نسیم نے صفاانسٹی ٹیوٹ کاتعارف کرایا،اور موضوع کی اہمیت پرروشنی ڈالی،انہوں نے کہاکہ ایک مسلم صحافی کی ذمہ داری ہے کہ صحافت کی اخلاقیات کے ساتھ شریعت میںدی گئی رہنمائی سے بھی واقف ہو،اور ان اخلاقیات کو برتنے کی کوشش کرے۔
اس پروگرام میں شاہین اسلام انصاری،مسعودجیلانی نے بھی خطاب کیا،قاری اسعدکی تلاوت سے جلسہ کاآغازہوا،جمشیدقادری نے نعت پیش کی، مولانا مصطفی ندوی مدنی کی دعاپرجلسہ کااختتام ہوا،اس مذاکرہ میں عذراجیلانی،ڈاکٹرتبسم ،ڈاکٹرادریس ندوی،مولانامناظرمنعم رحمانی، مولانا سرفرازندوی، ایڈوکیٹ عبدالحفیط ،شبلی بیگ اور نوجوان صحافی واہل قلم کی ایک تعداد شریک ہوئی۔