Skip to content
مولانا سعدکاندھلوی سےڈاکٹر عمر خالد تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سال 2020 میں مودی نے ٹرمپ کو نمستے کرنے کے لیے احمد آباد بلایا ۔ اس کےفوراً بعد دہلی میں فرقہ وارانہ فساد ہوگیا ۔ اسی کے ساتھ کورونا کی وباء پھیل گئی ۔ اس کی آڑ میں نہ صرف شاہین باغ کی تحریک روک دی گئی بلکہ تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و عناد کی جنگ چھیڑ دی گئی۔ عمر خالد سمیت بے شمار بے قصور مسلم نوجوانوں کو این آر سی کے خلاف تحریک چلانے کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ لوگ پانچ سال سے ضمانت کے منتظر ہیں لیکن کم از کم یہ ہوا کہ تبلیغی جماعت کے امیر مولانا سعد کو بری کردیا گیا۔ مولانا اگر خدا نخواستہ گرفتار ہوتے تو اب بھی رہائی نہیں ملتی کیونکہ تب تو یہ حکومت کی ناک کا مسئلہ بن جاتا ۔ مودی سرکار کا یہ حال ہے کہ جب وہ کسی تنازع کو انا کا مسئلہ بنا لیتی ہے تو جبر و استبداد کی ساری حدود پار کرنے میں پس وپیش نہیں کرتی۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع کو ہندوستان کی جانب سے عوامی اجتماعات سے متعلق رہنما خطوط کی خلاف ورزی قرار دینے والے بھول گئے کہ اس سے فوراً پہلے ٹرمپ کی خدمت میں خود وزیر اعظم نے لاکھوں لوگوں کو جمع کیا تھا حالانکہ اس سے قبل کورونا کی ملک میں آمد ہوچکی تھی ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مودی کی نمستے ٹرمپ ریلی میں جمع ہونے والے لاکھوں لوگوں کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔5؍ اپریل 2020 کو وزارت صحت کے سابق جوائنٹ سکریٹری لوو اگروال نے دعویٰ کیا تھاکہ نظام الدین میں اجتماع کے سبب ملک میں کورونا کے پھیلنے کی شرح دوگنا ہوگئی۔ آگے چل گودی میڈیا نے مسلمانوں پر ‘کورونا جہاد’ پھیلانے کا جھوٹا اور قابل مذمت الزام اس زور و شور سے لگایا کہ 2020 میں امریکہ کے معروف ادارہ پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں ریاست یا معاشرے کے ایک طبقے کے ذریعہ مخصوص مذہبی گروہوں کے خلاف کووڈ 19 سے متعلق دشمنی سے جڑے انڈیکس میں ہندوستان کوسرِ فہرست رکھا گیا۔ یہ حکومت مودی کا منفرد اعزاز ہے جس سے پیچھا چھڑانے کے لیے پھر کسی وباء کے آنے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ مذکورہ بالا سانحہ کے ساڑھے پانچ سال بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے موجودہ تفتیشی افسر نے سینئر حکام کو مطلع کیا کہ مرکز نظام الدین کے امیرمحمد سعد کاندھلوی کے لیپ ٹاپ سے برآمد کیےجانےوالی تقریروں میں ‘کچھ بھی قابل اعتراض’ نہیں ملا ۔
اس اعترافِ حق کو31 ؍ مارچ 2020 کے سابق ایس ایچ او کی طرف سے درج کی گئی شکایت کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ حضرت نظام الدین پولیس اسٹیشن کےانچارج نے اس وقت مولانا محمدسعد اور دیگر کے خلاف غیر ارداتاً قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ایس ایچ او نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ ’21 مارچ 2020 کو مبینہ طور پر(مولانا) سعد کی ایک آڈیو ریکارڈنگ وہاٹس ایپ پر وائرل ہوئی تھی، جس میں مقرر کو اپنے پیروکاروں سے لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کی خلاف ورزی کرنے اور مرکز میں مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے کہتے سنا گیا تھا‘۔ پانچ سال بعد جب 17 جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے غیر ملکیوں کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے الزام میں 70 ہندوستانیوں کے خلاف درج 16 مقدمات میں چارج شیٹ کو خارج کردی تو دہلی پولیس کو اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرناپڑا۔ اس پتہ چلتا ہے کہ حکومت کا رویہ نرم ہو تو انتظامیہ اور عدلیہ ازخودموافق ہوجاتے ہیں اور دیر سویرانصاف مل ہی جاتا ہے ورنہ شرجیل امام اور عمرخالدجیسا سلوک ہوتا ہے۔
مولانا سعد کاندھلوی سرکاری عتاب سے اس لیے بچ گئے کیونکہ وہ ایک بہت بڑی تحریک کے سربراہ ہیں ۔ اس تحریک کی سرگرمیاں امیر پر لگنے والے الزامات یا مقدمہ سے متاثر نہیں ہوتیں بلکہ بدستور جاری و ساری رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ تبلیغی جماعت کی اصلاحی محنت سے حکومت وقت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس لیے یہ سرکاری پیغام دیا گیا کہ ’ذکر و فکر و صبح گاہی‘ سے اسےکو کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن اگر اس کے ظلم و جبر کو چیلنج کیا جائے گاتو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ سرکار کے اہلکاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر حق کی راہ میں جدو جہد کرنے والوں کو ا بتلاء و آزمائش کے طوفان روکنا ممکن نہیں ہے ۔ ان کے لیے قرآن کا فرمان ہے کہ :’’ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ (یونہی بلا آزمائش) جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر تو ابھی ان لوگوں جیسی حالت (ہی) نہیں بیتی جو تم سے پہلے گزر چکے، انہیں توطرح طرح کی سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور انہیں (اس طرح) ہلا ڈالا گیا کہ (خود) پیغمبر اور ان کے ایمان والے ساتھی (بھی) پکار اٹھے کہ اﷲ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ بیشک اﷲ کی مدد قریب ہے‘‘۔ آزمائش کی توقع اور نصرت الٰہی کا یقین امت مسلمہ کے جیالوں کو صبرو استقامت کے ساتھ طاغوت سے بر سرِ پیکار رکھتا۔ امت کا تو مزاج ہے؎
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی روحِ امم کی حیات کشمکشِ انقلاب
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
پچھلے ماہ اگست میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار جلال الدین کو ضمانت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر عدالتیں قابل ضمانت معاملا ت میں بھی ضمانت سے انکار کریں گی تو یہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ وہ معاملہ بھی شرجیل کے آبائی وطن بہار ( پھلواری شریف ) کا تھا ۔ وہاں جلال الدین نامی شخص نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو اپنی زمین کرایہ پر دی تھی ۔ اس پر اپنی زمین ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے مبینہ رکن کو کرایہ پر دینے کا الزام لگایا کرکہا کہ تنطیم نے اس زمین کا استعمال اپنے اراکین کو ٹریننگ دینے کیلئے کیا۔ وہ لوگ وہاں اسلامک اسٹوڈنٹ مومنٹ آف انڈیا اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے اراکین کو ملا کر ایک نئی تنظیم تشکیل دے رہے تھے ۔یہ معاملہ پٹنہ ہائی کورٹ میں آیا توخان کی درخواست ضمانت رد کر دی گئی ۔ اس سے قبل اور اس سے قبل خصوصی این آئی اے عدالت نے بھی یہی کیا تھا کیوں کہ مرکزی حکومت نے2022ء میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا پریو اے پی اے کے تحت5؍ سال کیلئے پابندی عائد کر دی اس لیے خان کو بھی انہیں دفعات کے تحت گرفتار کرلیا گیا۔
این آئی اے کے مطابق 2022میں اس تنظیم کی غیر قانونی سرگرمیاں اس وقت منظر عام پر آئیں، جب کرایہ پر لی گئی اس زمین پر پولیس نے چھاپہ مارا تو پتہ چلا وہاں بہارسے باہر کے افراد نے ٹریننگ لی تھی۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ پہنچا تواس نے صاف کہا کہ جب معاملہ ضمانت کا ہو تو عدالت کو اس میں پس و پیش نہیں کرنا چاہئے۔ الزام سنگین ہو تب بھی عدالت کا فرض ہے کہ ضمانت کی عرضی پر آئین کے مطابق سماعت کرے،لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’ ضمانت ضابطہ ہے جبکہ قید آخری راستہ ہے ۔‘‘یہ اصول خصوصی معاملات میں بھی نافذ ہوگا۔سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ’’ اگر عدالتیں قابل ضمانت معاملے میں بھی ضمانت دینے سے انکار کرنے لگیں تو یہ دفعہ 21؍ کے تحت دئیے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ فی الحال یہ معاملہ ملک بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کیس نے شہری آزادیوں اور انسداد دہشت گردی قوانین کی تشریح پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ ‘‘ کاش کہ یہ اصول دہلی پولیس کو معلوم ہوتا جس کو غلط فہمی ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام جیسے "سنگین” جرائم کے معاملے میں، ‘ضمانت ہی اصول ہے اور جیل استثنائی ہے’ کے اصول کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
سوال یہ ہے کہ کب کون سا اصول استعمال کیا جائے اور کب نہیں یہ فیصلہ عدالت کرے گی یا پولیس ؟ اور ان سب سے آگے نکل کر سرکار ؟ اس لیے عدلیہ اور انتظامیہ تو صرف حکومت کے چشمِ ابرو پر نگاہ لگائے رہتا ہے۔ ان کو عدل انصاف سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو فیصلہ مولانا سعد کاندھلوی کے لیے آتا ہے وہ شرجیل امام اور عمر خالد وغیر کے لیے نہیں آتا۔ اس ملک میں فی الحال قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ اندھی نگری چوپٹ راج چل رہا ہے۔ سرکار کی مرضی کا اندازہ سب سے بڑے سرکاری وکیل تشار مہتا کے دلائل سے لگایا جاسکتا ہے۔ عمر خالد کے معاملے میں سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ ان کے اندر چھپی کینہ پروری کو ظا ہر کرتا ہے۔ انہوں نے ہائی کورٹ میں ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئےکہا تھا "اگر آپ اپنی قوم کے خلاف کچھ کرتے ہیں، تو بہتر ہے کہ آپ بری ہونے تک جیل میں رہیں ۔” سوال یہ ہے کہ تشار مہتا وکیل ہے یا جج؟ اس کو یہ کیسے پتہ چل گیا کون قوم کے خلاف کچھ کررہا ہے؟ سچ تو یہ ہے اس ملک میں عدل و انصاف کے قیام کی خاطر تو خود تشار مہتا اور ان کے آقاوں کا جیل میں جانا بہت ضروری ہے۔
Like this:
Like Loading...