Skip to content
مختصر تعارف امیر ملت مولانا حمید الدین حسامی ؒ
از:محمد زید حسامی
(آفس سکریٹری دارالقضاء امارت ملت اسلامیہ)
حضرت مولانا محمد حمید الدین عاقل حسامی علیہ الرحمہ جامع کمالات سے متصف شخصیت تھے اللہ نے آپ کو خداداد صلاحیتوں سے نوازا تھا بچپن ہی سے انتہائی ذہین تھے،ماں باپ کے فرما ں بردار تھے والد ماجد کی پدرانہ شفقت میں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا یا،ابتدائی تعلیم والد ماجد کے پاس حاصل کی پھر جامعہ نظامیہ سے مولوی میں فراغت حاصل کی پھر عثمانیہ یونیورسٹی سے عصری علوم میں مہارت حاصل کی پی یچ ڈی میں داخلہ حاصل ہوا پھر والد ماجد کے حکم پر وعظ ونصائح وپیغمبرانہ مشن میں مشغول ہوئے، والد ماجدؒ نے آپؒ کی صلاحیتوں اور دینی جذبہ کی حمایت کرتے ہوئے آپ کو اپنی خلافت سے نواز ا،آپ ؒنے تبلیغ دین کی خاطر کئی اسفار کئے، سفروں کی مشقتیں برداشت کیں ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میرے پیر ومرشد مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل اپنے والدماجد کے ساتھ بس میں سفر کر رہے تھے اور اپنا سامان سفر بس پر رکھا ہوا تھا کچھ حاجت ہوئی تو آپ سامان نکالنے کیلئے بس پر چڑھے، ڈرائیور کو یہ خیال نہیں رہا کہ حضرت اوپر چڑھے ہوئے ہے،اس نے گاڑی آگے بڑھائی تو آپ بس سے نیچے گر پڑے لیکن اللہ نے مشغولیت وتبلیغ دین کی برکت سے محفوظ رکھا۔ آپؒ کی ساری زندگی عشق نبی ؐ سے سر شار تھی آپ ؒ نے حضور ﷺ سے محبت ووارفتگی میں کتاب نذرانہ عاقل کے نام سے لکھی جسمیں نعتوں کا مجموعہ اور حضور ؐ سے اپنی محبت کا اظہار ہے۔آپ ؐانتہائی عقیدت و احترام سے نعتیہ محافل وسیرت النبی ؐ کے محافل کا انعقاد فرماتے تھے حضرت کا کمال یہ تھا کہ وجدانی کیفیت میں ایک ہی نشست میں نعت منظوم فرمادیتے تھے۔آپ ؐ علم اور علماء کرام سے حد درجہ محبت رکھتے تھے۔اسی محبت کے سبب اور تبلیغ واشاعت دین کی خاطر آ پ ؒ نے دارالعلوم حیدرآباد کا قیام عمل میں لایا ۔اس کے علاوہ آپ نے دینی وملی تنظیمیں بھی قائم فرمائی۔ ہمیشہ مسلمان کے غم خوار ی اور داد رسی فرماتے اور امت کی اصلاح کے لئے فکر مند رہتے تھے۔ مسلم پرسنل لا ء بورڈ کو حیدرآباد میں متعارف فرمایا۔ امارت ملت اسلامیہ کے امیر رہے اس کے علاوہ کئی اعلی عہدوں پر فائز رہے۔دین اور شریعت کے خلاف کوئی آواز اٹھتی تھی توآپ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ پر زور جواب دیتے تھے۔ آپ ؒ اپنے والد ماجد علامہ فاضل ؒکے نقشہ قدم پر ثابت قدم رہتے ہوئے وعظ نصائح کے سلسلہ کو آخری عمر تک بھی جاری رکھا۔بالآخر آپ ؒ 83سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالی آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آپ کے قائم کردہ اداروں کوبدنظری سے بچائیں اور تا قیامت اسکے فیوض برکات جاری فرمائیں۔میرے پیر ومرشد حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ صاحب اپنے والد بزرگ وار ہی کی طرح انکے ہی نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی،ملی،فلاحی کاموں کو انجام دیتے ہوئے اپنی تمام مشغولیت کو دعوت دین میں صرف کر رہے ہیں اور دین اسلام و ملت اسلامیہ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کاحق گوئی وبیباکی سے مقا بلہ کر تے ہیں۔اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ ان کی کاوشوں کو بارگاہ الہی میں شرف قبولیت عطاء کریں اور آپ کا سایہ عاطفت ملت اسلامیہ پر تادیر قائم ودائم رکھیں۔
Like this:
Like Loading...