Skip to content
اسلامی چھاتر شِبر کا اشارہ :یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
بنگلہ دیش کے اندر عبوری حکومت قائم ہونےکے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی یونین کا یہ پہلا الیکشن تھا اوراس میں طلبہ کا جوش و خروش قابلِ دید تھا۔ اس بابت بنگلہ دیش کے معروف اخبار دی بزنس سٹینڈرڈ نے لکھا کہ ’اس الیکشن میں 78 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، حالانکہ کچھ جگہوں پر بے ضابطگیوں کے الزامات تھے۔‘ ان کے علاوہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں ڈویلپمنٹ سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر آصف شاہان کے مطابق ’معمولی بے ضابطگیوں کے باوجود 78 فیصد بہت بڑی تعداد ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘ اس موقر اخبار نے یہ پیشنگوئی بھیم کردی کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈھاکہ سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کے نتائج پر بہت پرجوش ہے اور عام انتخابات میں بھی ایسی ہی کارکردگی کی توقع کر رہی ہے۔ یہ فطری خوشی ہے مگر اس سے دنیا بھر کے روشن خیال دانشوروں کے قلب و ذہن تاریکی میں ڈوب گئے ۔ششی تھرور جیسے لوگوں نے بھی اپنی مایوسی و اضطراب کا اظہار کردیا۔ انہوں اپنے ایکس ہنڈل پر لکھا، ’’یہ خبر بھارت کے لیے چھوٹی لگ سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج دوررس ہو سکتے ہیں۔ کیا بھارت کا سب سے بڑا دشمن حکومت میں آئے گا اور ہمیں اس سے نمٹنا ہوگا؟‘‘ ششی تھرور بھول گئے کہ ’انڈیا آوٹ‘ کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والے مالدیپ کے صدر موئزو سے وزیر اعظم نریندر مودی ابھی حال معانقہ کرچکے ہیں اس لیے ششی تھرور جیسے لوگوں کو بشیر بدر کا یہ شعر یاد رکھنا چاہیے؎
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی عوام کے لیے کون مفید یا مضر ہے اس کا فیصلہ کیا کس بنیاد پر ہوگا؟ کیا اس کے لیے بنگلہ دیشی عوام کی کسوٹی یہ ہوگی کہ ہندوستان کس پارٹی کو اپنا دوست یا کسے دشمن سمجھتا ہے؟ ویسے کانگریسی رکن پارلیمان نے اپنے پیغام میں یہ اعتراف بھی کیا کہ بنگلہ دیش میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں، عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) سے عوام کی ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ دونوں جماعتیں کرپشن اور بدانتظامی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے ووٹر اب جماعتِ اسلامی کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔تھرور نے واضح کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ ووٹر مذہبی انتہا پسند ہوں، بلکہ چونکہ جماعتِ اسلامی اب تک کرپشن کے الزامات سے محفوظ رہی ہے اس لیے وہ کشش محسوس کرتے ہیں حالانکہ وہ بیگم خالدہ ضیاء کے ساتھ سرکار میں رہ چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کیا جماعت اسلامی کا بدعنوانی سے عاری ہونا اس کا قصور ہے اور عوام کا بدعنوان جماعتوں کو چھوڑ کر پاک صاف پارٹی کی طرف آنا ان کی غلطی ہے؟ کیا تھرور چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے لوگ بدعنوانی کی چکی میں پستے رہیں اور شیخ حسینہ کے مظالم سے کبھی نہ نکلیں؟
جماعت اسلامی کے اقتدار میں آنے کے خوف سے تشویش کا اظہار کرکے مستقبل میں اسے ایک خطرناک اشارہ کہنا جلد بازی ہے ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش اگر وہاں برسرِ اقتدار آجائے تو بعید نہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لیے بھیجے جانے والے وفد کا سربراہ ششی تھرور کو بناکر روانہ کردیں اس لیے کہ موصوف کاان پر وزیر خارجہ جئے شنکر سے زیادہ بھروسا ہے۔ششی تھرور اور ان جیسے دیگر دانشور ابھی سے اس سوال کو لے کر پریشان ہیں کہ ان کے الفاظ میں ’’فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات میں یہ صورتحال کس طرح کےاثرات ڈالے گی؟ کیا نئی دہلی کو اپنی سرحد کے قریب موجود ملک میں جماعتِ اسلامی کی ممکنہ اکثریتی حکومت سے نمٹنا پڑے گا؟‘‘ اس طرح تھرور حکومت بلا واسطہ یہ مشورہ تو نہیں دے رہے کہ وہاں بھی ووٹ چوری کرکے اپنی پسند کی حکومت قائم کردی جائے؟ کیونکہ ان کے خیال میں اگر یہ تنظیم عام انتخابات میں بڑی طاقت کے طور پر ابھرتی ہے، تو ہندوستان کی مشرقی سرحد پر سلامتی کے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے بننے سے لے کر اب تک ہندوستان نے وہاں بہت خرچ کیا مگر پھر بھی عام بنگالی ہندوستان سے متنفر ہوگیا کیونکہ اس کو اپنے سیاسی عمل میں غیر ملکی مداخلت برداشت نہیں ہے۔ یہ صورتحال ابھی حال میں نیپال کے اندر بھی نظر آئی جہاں جماعت اسلامی تو دور مسلمان بھی نہیں کے برابر ہیں۔ وہاں پر بھی ہندوستان کے گودی میڈیا کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ احساسات و جذبات کا نمائندہ ہے۔ ششی تھرور ڈھکے چھپے الفاظ میں جو مشورہ دے رہے ہیں اسی نے جنوب مشرقی ہم سایوں میں ہندوستان کو تنہا کردیا ہے۔ اسی سبب سے سری لنکا ہو یا بنگلہ دیش اور نیپال ہویا ما لدیپ ہرکوئی ہم سے بھاگ کر چین نواز ہوچکا ہے مگر اس سے کوئی سبق لینے کا رجحان دکھائی نہیں دیتا۔ بنگلہ دیش کےماہرین کا کہنا ہے کہ وہاں کی عوام دونوں روایتی جماعتوں سے مایوس ہو چکی ہے۔ مسلسل بدعنوانی ، بے روزگاری اور مہنگائی نے رائے دہندگان کو متبادل کی تلاش پر مجبور کیا ہے۔ یہ ان کا حق ہے اور اگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش اس خالی جگہ کو بھرنے کی کوشش کر رہی ہے تو اس پر کسی کو اعتراض یا تشویش کیوں ہے؟ڈاکہ یونیورسٹی کے یہ نتائج اگر بنگلہ دیش کی سیاست میں نئے سیاسی توازن اور امکانات کی طرف اشارہ کر تے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ نئی دہلی میں پناہ گزین شیخ حسینہ کے زمانے ہی میں انہوں ہندوستان کی پروا کیے بغیر چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرلیے تھے ۔ بیگم خالدہ ضیا تو ان سے دو قدم آگے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ حکومتِ ہند کی شیخ حسینہ کی حمایت رہی ہے۔ نیپال کانگریس کو دہلی حمایت کے سبب وہاں کے اشتراکی ہندوستان کو چھوڑ کر چین کی گود میں بیٹھ گئے۔ ہم سایہ ممالک کے حزب اختلاف کی حمایت کرکے برسرِ اقتدار حکومت کو ناراض کرنے کی سفارتکاری ناقابلِ فہم ہے کیونکہ اٹل جی بھی کہہ چکے ہیں ’ہم دوست بدل سکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں‘۔ حکومتِ ہند کو اپنے مخالف کے احساسات و جذبات کی بھی قدر دانی کرنی ہوگی۔ ڈھاکا یونیورسٹی میں جب جامعہ کی سینیٹ نے یونین الیکشن کے نتائج میں اسلامی چھاتر شبر کی کامیابی کا اعلان کیا تو طلبہ نے اسی مقام پر سجدۂ شکر ادا کیا جہاں نصف صدی قبل ان کے رہنما عبدالمالک کو شہید کیا گیا تھا۔1971 کے بعد جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کے طلبہ ونگ کو غدار قرار دے کر کچلنے کی کوشش کی گئی۔ کئی رہنما پھانسی پر جھولے، کارکنان نے زندانوں میں زندگیاں گزاریں مگر 54 برس بعد وہی طلبہ تنظیم ڈھاکا یونیورسٹی میں فتح یاب ہوگئی۔ نتائج کااعلان ہونےکے بعد کارکنان نے جوش و خروش سے جشن منایا اوران شہداء کی قربانیوں کو یاد کیا جو گزشتہ سال حسینہ واجد کا دھڑن تختہ ہونے تک دی گئیں۔
اس ٹربیونل نے سرکار کے اشارے پر جماعت اسلامی کے امیر 72 سالہ مطیع الرحمان نظامی سمیت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے دیگر اہم رہنماؤں کو پھانسی کی سزا سنائی ۔موصوف 1971 میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے منسلک بھی نہیں تھے مگر ان پراس کی ایک ذیلی تنظیم سے منسلک ہونے کا الزام دھر کے پاکستانی فوج کی اعانت کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کے علاوہ عبدالقادر ملّا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختہ دار تک پہنچا دیا گیا۔2017؍ میں بنگلہ دیش کی اسی بدنامِ زمانہ عدالت نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے چھ ارکان کو 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگِ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے لیے موت کی سزا سنائی تھی۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اس عدالت کا طریقۂ کار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں پایا اور ناقدین نے جنگی جرائم کے ٹرابیونل کو شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے ذریعہ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنے کا آلۂ کار بتایا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کی یونین کے الیکشن میں نائب صدارت کے لیے اسلامی چھاترا شبر کے صادق قیم 14042ووٹ لے کر منتخب ہوئے جبکہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(خالدہ ضیا) کی حامی طلبہ تنظیم چھاترا دَل کے عابد الاسلام کو 5708 ووٹ جبکہ ، شمیم حسین نے 3389 ووٹ اور امامہ فاطمہ نے 3389 ووٹ حاصل کیے۔جنرل سیکرٹری کی نشست کے لیے چھاترا شبر کے ایس ایم فرہاد 10794 ووٹ لے کر منتخب ہوئے، چھاترا دل کے تنویر حمیم نے 5283 ووٹ اور مگمولرباسو نے 4949 ووٹ لیے۔اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری کی نشست کے لیے اسلامی چھاترا شبر کے محمد محی الدین 11772 ووٹ لے کرکامیابی درج کرائی، چھاترا دل کے تنویر الہادی نے 5064 ووٹ، اور اشریفہ خاتون نے 900 ووٹ لیے۔ گزشتہ برس شیخ حسینہ کے خلاف کوٹہ مخالف تحریک کا آغاز ڈھاکہ یونیورسٹی ہی سے ہوا تھا۔ بعدازاں حکومت مخالف طلبہ تحریک ’بنگلہ دیش جنرل اسٹوڈنٹس رائٹس پروٹیکشن کونسل‘ کے پرچم تلے انقلاب میں تبدیل ہوگئی اور بالآخر1971 کے بعد یہ پہلی بار کسی اسلامی طلبہ تنظیم کی اتنی بڑی کامیابی پر منتج ہوئی ۔ یہ اس نئے دور کے آغاز کا اشارہ جس کی جانب علامہ اقبال نے اشارہ کیا تھا؎
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
Like this:
Like Loading...