Skip to content
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آئی لومحمد ( میں محمد ۖ سے محبت کرتا ہوں)
ازقلم:رفیع الدین حنیف قاسمی
استاذ حدیث وادب
ادارہ کہف الایمان ٹرسٹ بورابنڈہ، حیدرآباد
”آئی لو محمد ”(میں محمد سے محبت کرتا ہوں) آج یہ لفظ ہر ہندوستانی مسلمان کے زبان زد عام وخاص ہے، کانپور واقعہ کے بعد تو ”آئی لو محمد” یہ مسلمانوں کی مہم کا ایک حصہ بن گیا، اس نعرے نے ”قومی تحریک” کی شکل اختیار کر لیا، سوشل میڈیا پر یہ ہیش ٹیاگ وائرل ٹرینڈ بن گیا، جہاں لاکھوں یوزرس اپنی پروفائل پکچرس ، اسٹیٹس اور کیشنز میں ”آئی لو محمد” کا استعمال کررہے ہیں، تاکہ اپنی ”محبت رسول” کا اظہار برملا اور برجستہ کیا جاسکے، بلکہ ”آئی لو محمد” پر نظمیں ترانے ، اسکولس میں پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں؛ بلکہ مسلمان ہاتھوں میں ”آئی لو محمد” کے بینر لئے ہوئے سڑکوں پر اترنے پر آمادہ ہیں، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اترپردیش کے ضلع کانپور میں میلاد النبی ۖ کے جلوس کے دوران ایک ”آئی لو محمد” کا بینر لگایا، اس پر شور شرابہ اور ہڑبونگ مچ گیا، توڑ پھوڑ ہوئی اور فوری طور پر بینر ہٹانے کا مطالبہ دائیں بازو کے شدت پسند عناصر نے کیا، یہ واقعہ سید نگر علاقے میں پیش آیا، جہاں عوامی سڑک پر یہ بینر نصب کیا گیا تھااور یہی سڑک رام نومی جلوس کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے ۔
لیکن اس ہنگامے نے طول پکڑا ، اس طرح ایک ہفتہ کے بعد پولیس نے 24 افراد کے خلاف ایک نیا رواج متعارف کرانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے الزام میں مقدمات درج کر لئے، اصل میں مسلمانوں نے سخت گیر لوگوں کے خلاف مقدمات درج کئے تھے، لیکن پولیس بجائے اس کے ان پر کوئی کاروائی کرتی ، ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کے مصداق مسلمانوں کو ہی ملزم ٹھہرایا گیااور جن لوگوں نے ہنگامہ بیا کیاتھا، ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔پولیس نے یہ کہہ کر عوامی سڑک پر اس نوعیت کا بینر پہلی بار لگایا گیا تھا، جسے انہوں نے”نئی روایت” یا ”نئی پرمپرہ” قرار دیا، اسی بنیاد پر نو افراد کے خلاف نامزد اور پندرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کردیا، پولیس کی کاروائی کے تناظر میں پوپی میں مسلم نوجوانوں نے جلوس نکالے جن میں مظاہرین ”آئی لو محمد” کے بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے، اس دوران کچھ جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے پھر کئی مقدمات درج کئے اور گرفتاریاں ہوئیں،حکومت کی جانب سے سختی برتنے کے خلاف مسلمانوں نے مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے اترپردیش کے مختلف اضلاع تک پھیل گیا، اور اب تک یہ سلسلہ مہاراشٹر، اتراکھند، گجرات، تلنگانہ سمیت متعدد ریاستوں میں پھیل چکا ہے ، مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ تفریقی برتاؤ کیاجارہا ہے اور مذہب کے نام پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس شعر کے مصداق جن پر ظلم ہوا ان کے خلاف شواہد ایجاد کر کے ان کے خلاف مقدمے درج ہوئے :
وہی قاتل ، وہی منصف، عدالت اس کی، وہ شاہد
بہت سے فیصلوں میں اب طرف داری بھی ہوتی ہے ۔
ایک طرف مسلمانوں کے خلاف پکڑ دھکڑ ، گرفتاریاں، کیسس درج ہوئے، دوسری طرف مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا گیا، لیکن مسلمانوں کے اللہ کے رسول اللہ ۖ کے ساتھ محبت ووارفتگی،عشق ودیوانگی ایمان کا جزء اور حصہ ہے ، بلکہ وہ اپنے آقا ۖسے اپنے اولاد، اور ماں باپ سے بھی زیادہ محبت، زیادہ لو ولگاؤ کا اظہار کرتے ہیں، مسلمان شرابی، کبابی ہوسکتا ہے ، گناہوں کا مرتکب ، معاصی کے دلدل میں پھنسا ہوا، اعمال میں کوتاہ؛ لیکن کسی بھی صورت میں اپنے پیارے رسول ۖ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی یا بد تمیزی، یا اسے یہ کہاجائے کہ وہ اپنے نبی کے ساتھ محبت کا اظہار نہ کرے ، اس سے یہ ناممکن ہے ، حضرت محمد ۖ سے محبت کا اظہار یہ کوئی جرم تو نہیں، یا بینر کا لگانا کوئی پاپ اور گناہ تو نہیں؛ لیکن مسلمانوں کوموجودہ حالات اور ملک کے سیاسی پس منظر میں ہر دم چوکنا اور ہر وقت ہوشیار رہنے کی بھی ضرورت ہے ، فسطائی طاقتیں چاہتی ہی یہی ہیں ملک کا بھائی چارہ بگڑے، امن وامان خراب ہو، ”تفریق کرواور راج کرو” انگریزوں کی اس چال پر یہ عمل پیرا ہیں، جب ان کے پاس حکومت پر براجمان رہنے ، ملک کے عوام کے ملک کی ترقی، معاشی استحکام، روز گار کے مواقع، تعلیم، صحت اور عوامی سہولیات کے حوالہ سے گفتگو پر جواب دینا ممکن نہیں ہوتا ہے تو وہ اسی قسم کے مسائل میں مسلمان اور برادران وطن کے درمیان پھوٹ ڈال کر اپنے سیاست کو چمکانے اور تخت حکومت پر براجمان ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ اپنے اس طریقہ کار میں مسلسل کامیاب بھی ہوتے آرہے ہیں۔
ہاں یہ بات ضرور ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مسلمانوں کا جزء ایمان ہے ، جیسا علامہ اقبال فرماتے ہیں:
محمد سے محبت دین حق کی شرط اول ہے ..اس میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نہ مکمل ہے ۔
محمد ۖ سے محبت مسلمان کے ایمان وعقیدے کا جزء لازم اور ان کے طریقے میں صد فیصد کامیابی، غیروں کے طریقے صد فیصد ناکامی یہی تو کلمہ کے دوسرے جز”محمد رسول اللہ ” کا مطلب ہے ، مسلمانوں سے سب چھین لیا جاسکتا ہے ، وہ اپنے عقیدے اور ایمان سے کسی بھی صورت میں وہ دست بردار نہیں ہوسکتا، وہ رہے گا تو اپنے عقیدے کے ساتھ،جئے گا تو اپنے اسلامی اصول کے ساتھ، اپنی ایمان کے ساتھ، اپنے نبی کی محبت اور عشق کے ساتھ، ہر قسم کا سودا گوارا ہے ، دین مصطفوی سے سرمو انحراف یہ ہر گز منظور نہیں، سب نثار کیا جاسکتا ہے ، لیکن نبی سے محبت کو چھینا نہیں جاسکتا۔
البتہ ا ن احوال میں ضرورت اس بات کی ہے مسلمان صبر کا دامن تھامے رکھیں، شرپسند عناصر اس واقعہ کو ہوا دے کر اس کو سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتے، انہوں نے بھی اس کے خلاف ”آئی لو مہادیو” کی ایک مہم شروع کردی ہے ، مسلمان امن ورواداری اور حلم وبرد باری کا دامن تھامے رکھیں، ہر گز فتنہ وفساد بپا ہونے نہ دیں، خود آقا کی عشق کی لو اپنے دلوں میں جلائیں، سنت رسول سے زندگی کو مزین کرنے کی کوشش کریں، آقا کی سیرت کا مطالعہ کریں، عملی نمونہ بن کر حضور اکرم ۖ کے خلاف جس بعض وعداوت اور کینہ وکپٹ کا اظہار ان فاسشسٹ طاقتوں کی طرف سے کیا جاتا ہے ، پیار اور محبت اور آقا کی اخلاق وکردار پر مشتمل سیرت کو اپنائیں، اپنے عمل سے جہاں عشق رسول کا اظہار، سنت رسول پر عمل پیرانے ہونے کا جذبہ ، اخلاق رسول کا اپنے آپ کو نمونہ بنانے کا جہاں ولولہ ہو، وہیں حضور اکرم ۖ کی سیرت اور پیغام اور اخلاق وعادات کو ہمارے بردران وطن کے درمیان عام کرنے کی تگ ودو ہو ۔
اسلام زندہ تھا، زندہ ہے اور زندہ رہے گا، حضور اکرم ۖ کی پیشن گوئی ہے کہ ہر کچے پکے مکان میں اسلام کا پیغام داخل ہو کر رہے گا، حضور اکرم ۖ کی شان میں گستاخی چاند پر تھوکنے کی نا تمام کوشش ہے ، جس سے خود کے ملوث ہونے کا اندیشہ ہے ، اسلام کا پیغام زندہ جاوید پیغام ہے ، یہ آفاقی مذہب ہے ، یہ مذہب دلوں کو اپیل کرتا ہے ، زندگی کے فلسفہ کو سمجھاتا ہے ، انسانی فطرت سے ہم آہنگ اور قریب ترین ہے ، حضور اکرم صلی اللہ کی تعلیمات اور سنن اور طریقوں میں سارے جہاں کے لوگوں کی کامیابی مضمر ہے ، اللہ عزوجل کا ارشاد گرامی ہے ، یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ یہ ان کو کتنا ہی ناگوار ہو ۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
Like this:
Like Loading...