Skip to content
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ یاہو نے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک فوجی معاہدے کو بہت سارے ماہرین کو چونکا دیا ۔ اس لیے کہ انہیں یاد آیا پہلگام حملے کے وقت مودی جی سعودی عرب کے دورےپر تھے اور ان کے ہم منصب ولیعہد محمد بن سلمان نے بھی اس دہشت گردی کی سخت مذمت کی تھی۔ حکومتِ ہند نے اس کا الزام پاکستان پر ڈال کر آپریشن سیندور تک چلا دیا۔ ایسے سعودی عرب کو پاکستان کے خلاف ہندوستان کے شانہ بشانہ ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا مگر الٹا ہوگیا۔ اس نے ہماری دوستی کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کا ہاتھ تھام لیا۔ ایسے میں سوال ہیدا ہوتا ہے کہ آخر مودی جی کا دورہ بے اثر کیونکر ہوگیا؟ کیونکہ مودی جی جس وقت سعودی عرب کے دورے پر تھے گودی میڈیا پاکستان کو عار دلاکر خوب شور شرابہ کررہا تھا لیکن آگے چل کر پتہ چلا کہ موصوف وہاں بن بلائے غیر سرکاری دورے پر نکل گئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنے اخراجات ہندوستان کے سرکاری خزانے سے ادا کرنے پڑے ورنہ سعودی والے ایسے مسکین بھی نہیں ہیں کہ مہمان سے خرچ کروائیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے اس نصف دن کے دور ےپر جملہ 15.54 کروڑ روپئے پھونک دئیے گئے تھے ۔ اس میں سے 10.26 کروڑ روپے تو ہوٹل کا بل تھا اور 4.05 کروڑ روپےآمدو رفت پر خرچ ہوئے تھے۔ تاہم یہ دورہ چونکہ صرف 12 گھنٹے کا رہا اس لیے 1.29؍ کروڈ روپیہ فی گھنٹہ اڑا یا گیا ۔ یہ ان کا 2025 کا دوسرا سب سےمہنگا غیر ملکی دورہ ثابت ہوا تھا۔ یہ کوئی حزب اختلاف کی الزام تراشی نہیں بلکہ سرکاری طور آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل کردہ معلومات ہے۔ یہ اسی آر ٹی آئی کارکن اجے باسودیو بوس کا کارنامہ ہےجس نے وزیر اعظم کی ڈگری کے بارے میں سوال کرکے ملک بھر میں ہنگامہ کھڑا کردیا تھا۔
ہمارے چائے والے وزیر اعظم کو قومی خزانے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ موصوف نےفروری میں، فرانس کے 4 روزہ سفر پر 25.59 کروڑ روپے خرچ کردئیے تھے مگر وہ اوسطاً 6.40 کروڑ روپے روزانہ بنتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ایک روزہ دورے پر 16.54 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ تھائی لینڈ کے ایک روزہ دورے پر 4.92 کروڑ روپے اور سری لنکا کے تین روزہ دورے پر 4.46 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ان تمام دوروں کے مقابلے میں سعودی عرب کے صرف 12 گھنٹے کے سفر پر 15.54 کروڑ روپے کا خرچ بہت زیادہ لگتا ہے مگر روپیوں سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے اس پوری مشق کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔پہلگام کے حملے سے شروع ہونے والی ہندوستان سعودی دوستی کہانی آپریشن سیندور سے ہوتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے تک پہنچ گئی ۔ اس کے نہ صرف خطے بلکہ بین الاقوامی سیاست پر بھی غیر معمولی اثرات پڑیں گے کیونکہ دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق اس ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدے‘ کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘
وزیر اعظم مودی نے اگر مستقبل میں آپریشن سیندور کو آگے بڑھاتے ہوئے پھر سے پاکستان کو نشانہ بنایا تو وہ سعودی عرب پر حملے کے مترادف ہوگا۔ اس کے جواب میں اگر وہاں سے خام تیل کی برآمدات متاثر ہوجائیں تو ملک کے عوام مہنگا پٹرول خرید کر اس کی قیمت چکائیں گے۔ سچائی تو یہ ہے کہ نو ستمبر کو قطر میں اسرائیلی کارروائی کے بعد کسی خلیجی ریاست کی جانب سے اُٹھایا گیا یہ پہلا بڑا دفاعی ردعمل ہے۔ اسرائیل کے احمقانہ حملے نے امریکہ کے تئیں خلیجی ممالک کے خدشات کو ہوا دی اور انہیں اپنا دفاع کرنے کے لیے امریکہ سے منہ موڑنے پر مجبور کردیا۔ صدر ٹرمپ کا زبانی جمع خرچ عرب ممالک کا اعتماد بحال نہیں کرسکا ۔ امریکہ کو اس حملے کا علم تھا ۔ وہ اگر اپنے بحری بیڑے کے ذریعہ اسرائیلی حملے کو ناکام کردیتا یا کم از کم دوڑا بھی دیتا تو عرب ممالک اس قدر نالاں نہ ہوتے مگر امریکہ اور ہندوستان نے عربوں کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اب ان لوگوں نے باہمی اتحاد کے ساتھ اس مجبوری سے نجات حاصل کر نے نسخۂ کیمیا ڈھونڈ لیا ہے ۔ اس خوش آئند تبدیلی کی جانب علامہ اقبال نے اشارہ کیا تھا (مع ترمیم)؎
مسلماں کو مسلماں کر دیا ڈونلڈ، یاہو نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
دوحہ پر اسرائیلی حملے کوجس وقت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ’وحشیانہ جارحیت‘ قرار دے کر عرب، اسلامی اور بین الاقوامی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا تھا تو اسی وقت ایک بیداری کی کرن چمکی تھی ۔اس کے بعد جب پاکستان کے ساتھ معاہدہ ہوا تو آسٹرین انسٹی ٹیوٹ فار یورپ اینڈ سکیورٹی پالیسی کی ڈائریکٹر ریسرچر ویلینا چاکارووا نے اسے ’اچانک اور چونکا دینے والی جغرافیائی سیاسی پیش رفت‘ کا نمائندہ قرار دیا ۔اُن کے بقول یہ ریاض کے مکمل طور پر ’امریکی جوہری تحفظ‘ پر انحصار سے عدم اطمینان کا اظہار ہے۔ اس پیش رفت پر یوروپی دانشوروں کو حیرت ضرورہے مگر سعودی عرب کے سیاسی محقق مبارک العطیٰ کو حیرانی نہیں ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کا 80 سالہ تعاون جگ ظاہر ہے۔ اس کے باوجود یہ حقیقت قابلِ توجہ ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا جبکہ خطہ اور عالمی برادری انتہائی پیچیدہ سیاسی صورتحال سے گزر رہی ہے۔ویسے سارے مبصرین اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی کارروائیاں اور قطر پر اسرائیل کے حملے کے دوران امریکہ کی دھوکہ دہی نے یہ سب سہل کردیا۔ کئی دہائیوں سے امریکہ اور۶؍ خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان تیل اور گیس کی فراہمی کے عوض جو تحفظ کی ضمانت کا جو اعتماد تھا اسےبالآخر نتین یاہو اور ٹرمپ کی ناعاقبت اندیشی نے تباہ و برباد کردیا ۔
امریکہ نے 2019 میں ایران نواز حوثی باغیوں کے سعودی عرب اور 2022کے اندر متحدہ عرب امارات پر حملے کے وقت بھی عربوں کو مایوس کیا تھا۔ آپریشن سیندور کے بعد عالمی سطح پر اور عرب دنیا میں پاکستان کی فوجی صلاحیت پر اعتماد بڑھا ہے۔ یہ معاہدہ طاقت کے علاقائی توازن میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز کر سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی مشرق وسطیٰ میں پاکستان کا عمل دخل بڑھے گا ازخود چین کی راہ آسان ہوجائے گی۔ وہ دن دور نہیں جب عرب ممالک امریکہ کے بجائے چین سے ہتھیار خریدنا شروع کردیں ۔ اس طرح یوروپ اور امریکی اسلحہ سازوں کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ یہ معاہدہ پاکستان کو سعودی سرزمین پر بغیر کسی استثنیٰ کے اپنے میزائل یا اپنا کوئی بھی ہتھیار نصب کر نے کی اجازت دیتا ہے۔اس لیے اب اسرائیل کی ناک کے نیچے چینی میزائل نصب ہوں گے اور انہیں چلانے کے لیے امریکہ کا تعاون اور اجازت درکار نہیں ہوگا ۔ نیا سعودی-پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدہ ’حکمت عملی‘ کی سطح پر میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا احاطہ کرتا ہے یعنی سعودی عرب سے ہوتے ہوئے پاکستان کا جوہری بم اسرائیل کے سر پر پہنچ گیا ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کے امریکی انحصار کا خاتمہ اور خود مختار فیصلہ سازی کی طاقت کا غماز ہے۔ یہ معاملہ چونکہ امریکہ کے حریف روس یا چین کے بجائے اس کے دوست پاکستان کے ساتھ ہوا ہے اس لیے ٹرمپ کے لیے اس کی مخالفت بھی آسان نہیں ہے۔
پاکستان جیسا بھی ہو مگر وہ واحد جوہری ہتھیار سے لیس مسلم ی ملک ہے ۔ اسلام آباد کے پاس نہ صرف 170 سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں بلکہ اس مواد لیجانے والے وار ہیڈز موجود ہیں۔ اس کے ساتھ سعودی عرب نے اس معاملے کو دفاعی ضرورت سے آگے بڑھا کر معیشت تک پھیلا دیا ہے اور پاکستان کے مختلف شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری کو 25 ارب ڈالرز تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔بلومبرگ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ پاکستان میں معدنیات اور پیٹرولیم کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کے مرکزی بینک میں اپنے ڈپازٹ دو ارب ڈالرز تک بڑھانے کی سوچ رہا ہے۔ ویسے صدر ٹرمپ بھی یہ حیران کن اعلان کرچکے ہیں کہ بہت جلد ہندوستان کو پاکستان سے تیل خریدناپڑسکتا ہے۔ آپریشن سیندور اور اس کے بعد آپریشن مہادیو کے بہانے سیاست چمکانے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مساجد کے دفاع کے لیے بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’اتحاد کو بنیاد‘ بنایا جارہا ہے۔ برسوں سے پاکستانی سفارت کار سعودی عرب کوپاکستانی ’جوہری طاقت‘ سے فائدہ اٹھا نے ترغیب دیتے ر ہے ہیں لیکن بالآخرنیتن یاہو کی حماقت اور ٹرمپ کی منافقت نے ان کے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کردیا ۔ سعودی عرب کے بعد دیگر ممالک کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کرنے کا دروازہ کھل گیا ہے ۔یہ معاہدہ دراصل مسلم ممالک کے ناٹو جیسے اتحاد کی جانب ایک ٹھوس قدم ہے۔اقبال نے اسی اتحاد کا پیغام دیا تھا ؎
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانی
بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی
Like this:
Like Loading...
بھترین سیاسی تجزیہ ہے اسلامی اخوت تو قدرتی میل جول ہے ، لیکن غربت کا بہترین علاج ہے ، اللہ اس کاوش کو اور ترقی دے