Skip to content
لداخ کے عوام کی آواز کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہوگا.
سونم وانگ چُک کی گرفتاری ملک کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوگی
ازقلم:عبدالعزیز
لداخ کشمیر کی طرح خوبصورت مناظر کے لئے جانا جاتا ہے۔ ہندستان کی پیشانی پر یہ بھی قدرت کا ایک انوکھا تحفہ ہے جو پانچ سال پہلے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ گزشتہ پانچ سال پہلے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے جموں و کشمیر کو دی جانے والی خصوصی حیثیت ختم کردی۔ لداخ کو جموں و کشمیر سے علاحدہ کرتے وقت دونوں کو دو علاحدہ وفاق کے زیر انتظام ٹریٹریز میں تبدیل کردیا گیا۔ جب یہ تبدیلی ہوئی تو لداخ کے لوگوں کی اکثریت نے نہ صرف جشن منایا بلکہ مودی اور ان کی حکومت کی بڑھ چڑھ کر تعریف کی— لیکن پانچ سال تک جب کچھ نہیں ہوا بلکہ جو کچھ لداخ میں ترقی ہورہی تھی اس میں بھی رکاوٹ پیش آنے لگی۔ بے روزگاری کی شرح بھی کئی گنا بڑھ گئی۔ بڑے بڑے پونجی پتیوں نے زمین خریدنی شروع کردی۔ اس سے لداخ کے لوگوں میں بے چینی بڑھی۔
2019ء سے ہی لداخ کے لوگوں نے چار مطالبات مرکزی حکومت کے سامنے پیش کرنے لگے۔ پہلا مطالبہ تھا کہ لداخ کو ریاست کا درجہ دیا جائے۔ دوسرا مطالبہ تھا کہ پارلیمنٹ میں ایک کے بجائے دو نمائندگی لداخ کی دی جائے۔ ایک نمائندہ لیہ سے ہو اور دوسرا کارگل سے۔ تیسرا مطالبہ تھا کہ چھٹی شیڈول میں لداخ کو شامل کیا جائے۔ جیسے کئی شمال مشرقی ریاستوں کو چھٹی شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ چوتھا مطالبہ ’ہل کونسل‘ کی تشکیل ہے۔ یہ وہ سارے مطالبات ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے نہایت پُر امن طریقے سے لداخ کے لیڈران سونم وانگ چک کی قیادت میں اپناتے رہے۔ ان مطالبات کو منوانے کے لئے لداخ سے سونم وانگ چک کی سربراہی میں سیکڑوں لوگ پیدل چل کر دہلی پہنچے۔ 24ستمبر کو جس روز پورے لداخ میں ہنگامہ برپا ہوا سونم وانگ چک کی قیادت میں چھٹی بار 30 سے زائد افراد ’ہینگر اسٹرائیک‘ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے دو عمر دراز افراد کی حالت نازک ہوگئی تو انھیں اسپتال لے جایا گیا۔ نوجوانوں میں اس کی وجہ سے بے چینی حد سے زیادہ بڑھی۔ اس سے پہلے بھی بے چینی تھی اس بات پر کہ مطالبات پر گفتگو کرنے کے لئے لداخ کے لیڈروں کو 6 اکتوبر کی تاریخ جو مقرر کی گئی تھی اس سے بھی نوجوان ناخوش تھے۔ لمبی تاریخ کی وجہ سے اچانک نوجوانوں میں اضطراری کیفیت پیدا ہوئی اور پر امن طریقے سے پہلے سیکڑوں کی تعداد میں اور پھر ہزاروں کی تعداد میں یکایک جمع ہوگئے۔ پولس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے بجائے گولیوں کا استعمال کیا ، اس سے چار نوجوان جاں بحق ہوگئے۔ اس کی وجہ سے توڑ پھوڑ، آتشزنی یہاں تک کہ بی جے پی کے دفتر کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔
یہ سب لداخ کے نوجوانوں سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ وہاں کی جو مطالباتی مہم تھی وہ بہت پر امن تھی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ نوجوانوں میں بے روزگاری تھی اور ان کے لیڈروں کی جانب سے جو جائز مطالبات ہیں اس کی ان سنی کی جارہی ہے اس کی وجہ سے ان کے اندر شدید قسم کی اضطراری کیفیت پیدا ہوئی جو دیکھتے دیکھتے ہنگامے اور فساد کی شکل میں اُبل پڑی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی حکومت حالات کو قابو کرنے کے لئے طرح طرح کے طریقے اپنانے لگے۔ پہلے تو سونم وانگ چک جو لداخ کے ہیرو ہیں اور جن کی خدمات صرف لداخ میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی جانی جاتی ہے ان کو ویلن بناکر پیش کرنے لگی۔ گودی میڈیا بھی اسی راستے پر چل پڑی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل نے کانگریس کے ایک کونسلر کی تصویر غلط طریقے سے بھیڑ کے ساتھ چسپاں کردیا کہ کانگریسی کونسلر ہنگامے اور فساد کی سربراہی کر رہے تھے۔ جب سونم وانگ چک نے کہاکہ جو تصویر بھارتیہ جنتا پارٹی کے آئی ٹی سیل نے پیش کیا ہے وہ کانگریس کے کونسلر کی نہیں ہے بلکہ وہ کسی دوسرے شخص کی ہے۔ پھر بھاجپا کے آئی ٹی سیل سے وہ تصویر ہٹائی گئی۔ بعد میں گودی میڈیا نے بھی کانگریس کا نام لینا بند کردیا لیکن راہل گاندھی کو بدنام کرنے کے لئے ان کے ایک بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے لگے۔
مرکزی حکومت کا جو رویہ ہے اس سے زیادہ بے چینی لداخ میں پھیل سکتی ہے۔ چار افراد کی جان گئی ہے اور 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ چالیس سے زیادہ نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی ہے۔ حکومت کے اس سخت اقدام سے لداخ کے عوام میں غصے میں اضافہ ہوگا اور نوجوانوں میں بھی بے چینی بڑھے گی۔ سونم وانگ چک کی سماجی اور تعلیمی خدمات اس قدر لداخ میں اور لداخ سے باہر پائی جاتی ہیں کہ ان کو ویلن بنانا بھی آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ان پر جو الزامات عائد کئے جارہے ہیں مثلاً چین اور پاکستان سے تعلق یا فورن فنڈنگ ہنگامے کے بعد یہ سب الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ا س لئے اس پر لوگوں کا یقین بالکل نہیں ہوگا۔ سونم وانگ چک ایک ایسی سیدھی سادی زندگی گزار رہے ہیں جن کے پاس نہ اپنا کوئی سرمایہ ہے اور نہ کوئی گھر ہے۔ پوری زندگی ان کی سماجی خدمات پر گزری ہے۔ انھوں نے لداخ میں پانی کی کمی کو اپنی حکمت عملی سے کم کرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور تعلیم گاہیں اور یونیورسٹیاں قائم کی ہیں جن سے لوگوں میں تعلیم کا فروغ ہوا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت دیر یا سویر لداخ کے عوام کی آواز کو دبانے کے بجائے سننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ جو نوجوان بے روزگار ہیں، بے چین اور پریشان حال ہیں ان کی پریشانی کو بھی کم کرنے کی کوشش کرے۔ ان کے مطالبات ایسے نہیں ہیں کہ جن کو ناجائز کہا جاسکتا ہے۔ ان کو بھی حکومت پورے کرنے کی کوشش کرے۔ طاقت سے اگر حکومت کام لے گی تو نوجوانوں کے اندر جو بے چینی ہے اسے ختم کرنے سے قاصر رہے گی۔ جہاں تک سونم وانگ چک کی گرفتاری کا تعلق ہے تو اس سے بھی نہ تو ملک کو فائدہ ہوگا اور نہ لداخ میں امن بحال ہوگا۔ سونم وانگ چک نے گرفتاری سے پہلے جو باتیں کہی ہیں ان پر حکومت کو غور وفکر کرنا چاہئے۔ سونم وانگ چک نے گرفتاری سے پہلے یہ کہاکہ ان کی گرفتاری سے یہ پتہ چلے گا کہ ان کے مطالبات کیاں ہیں اور لوگوں کے اندر بیداری بھی پیدا ہوگی۔ جمہوریت میں پر امن طریقے سے احتجاج اور مظاہرے کرنے کی اجازت ہوتی ہے اس پر روک لگانے سے لوگوں کے جذبات بھڑکتے ہیں اور جمہوری راستہ اپنانے کے بجائے غیر جمہوری راستہ اپنانے پر غور کرنے لگتے ہیں۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...