Skip to content
امن کے وعدے، بارود کی زبان
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
دنیا کی تاریخ میں کچھ باب ایسے ہوتے ہیں جنہیں محض خبروں یا سیاسی تجزیوں سے نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ وہ صرف کاغذ پر نہیں لکھے جاتے وہ انسانوں کے لہو، آنسوؤں اور دعاؤں سے تحریر ہوتے ہیں۔ غزہ کی موجودہ صورتحال بھی ایسا ہی ایک باب ہے، جہاں سیاست، طاقت، اور انسانیت ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہیں۔ ہر دن ایک نیا اعلان، ہر رات ایک نئی ویرانی، اور ہر صبح ایک نیا وعدۂ امن!!! مگر زمین پر پھیلا ہوا دھواں اب بھی گواہی دیتا ہے کہ ظلم کی زبان بدلی ہے، مگر اُس کا مفہوم وہی ہے۔
یہ تحریر اُن لمحوں کی روداد ہے جو انسانیت کے امتحان کی گواہی بن چکے ہیں۔ اس میں صرف سیاست کی خبر نہیں، بلکہ ضمیر کی پکار ہے؛ صرف طاقتوں کے فیصلے نہیں، بلکہ کمزوروں کے صبر اور یقین کی کہانی ہے۔ یہاں غزہ کے ملبے سے اُٹھتی ہوئی گرد میں بھی ایک پیغام چھپا ہے کہ اگرچہ جسم مٹائے جا سکتے ہیں، مگر ایمان کی خوشبو کو کوئی بارود ختم نہیں کر سکتا۔ یہ مضمون اس تاریخ کے اُس حصّے کا بیان ہے جو ابھی لکھا جا رہا ہے، ایک ایسی داستان جس میں حماس کا عزم، اسلامی جہاد کا اتحاد، عالمی احتجاج کی بیداری، اور مظلوموں کی خاموش دعائیں سب ایک ہی رُخ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں: کہ شاید ظلم کے اس طویل اندھیرے کے بعد اب روشنی کی پہلی کرن طلوع ہونے والی ہے۔
یہ خبر محض ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ تاریخ کے اس المناک باب کا تسلسل ہے، جہاں طاقت کے نشے میں چور اقوام نے کمزوروں کی زمین، خواب اور سانس تک چھین لینے کو اپنی “حکمتِ عملی” کا حصہ بنا رکھا ہے۔ امریکی صدر کے بیس نکاتی امن منصوبے پر رسمی رضامندی کے بعد اسرائیل کی جانب سے اچانک رویّے کی تبدیلی کوئی نئی بات نہیں؛ یہ دراصل اُس پالیسی کا تسلسل ہے جو ’’امن‘‘ کے پردے میں ’’جبر‘‘ کو قانونی رنگ دینے کی سعی کرتی ہے۔ ٹرمپ کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت نے نہ صرف اپنی پرانی روش برقرار رکھی بلکہ فلسطینیوں کو ایک نئی اور بھیانک دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ہی گھروں، اپنے ہی ملبوں اور اپنی ہی یادوں کے شہر—غزہ—کی طرف واپسی سے گریز کریں۔
غزہ شہر کے بارے میں اسرائیلی فوج کا تازہ عربی زبان میں جاری کردہ بیان دراصل ایک نفسیاتی جنگ ہے۔ اس میں فلسطینیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کی سرزمین اُن کے لیے اب “موت کا میدان” بن چکی ہے۔ “واپس نہ جاؤ، اپنی جان بچاؤ”، یہ جملے کسی خیرخواہی کے نہیں، بلکہ اُس طاقت کے اعلان ہیں جو انسانیت کے ہر پیمانے کو روند کر بھی خود کو مہذب دنیا کا محافظ کہلواتی ہے۔ یہ وہی غزہ ہے جہاں کبھی اذانوں کی گونج اور بچّوں کے قہقہے ایک دوسرے سے ہم آہنگ تھے۔ آج وہی گلیاں ٹینکوں کے دھوئیں اور بمباری کی گرد سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی ٹینکوں نے شہر کے مرکزی راستوں کو بند کر رکھا ہے؛ گویا زندگی کی شاہراہ ہی مسدود کر دی گئی ہو۔
یہ اقدام اُس “امن منصوبے” کے چہرے سے نقاب نوچ لینے کے مترادف ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ خطے میں ایک نئی صبح کا آغاز کرے گا۔ مگر وہ صبح بھی خوں رنگ طلوع ہوئی، اور اُس کے ساتھ ہی فلسطینیوں کے زخموں پر ایک اور نمکین لہر بہہ نکلی۔ فلسطینیوں کے لیے یہ صرف زمین کا نہیں بلکہ وجود کا مسئلہ ہے، ایک ایسا وجود جو ہر دھمکی کے باوجود مٹایا نہیں جا سکا۔ وہ جانتے ہیں کہ غزہ کی گلیاں صرف ملبے کا ڈھیر نہیں، اُن کے آباؤ اجداد کی یادوں، اُن کے شہید بچّوں کے خوابوں، اور اُن کے ایمان کی علامت ہیں۔
دنیا خاموش ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں قراردادیں اب بھی الفاظ کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہیں۔ مگر تاریخ کی آنکھ یہ سب کچھ نوٹ کر رہی ہے۔ آنے والے وقتوں میں جب مورخ اس دور کے باب کھولے گا تو لکھے گا کہ ایک طرف طاقتوروں نے “امن” کے نام پر خون بہایا، اور دوسری طرف مظلوموں نے “خون” کے نام پر بھی امن کی امید زندہ رکھی۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سیاست اپنی اخلاقی معنویت کھو چکی ہے، اور انسانیت پھر ایک بار امتحان میں کھڑی ہے۔ غزہ کے بچّے آج بھی آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کرتے ہیں — “اے خدا! ہماری زمین کو ہمارے لیے محفوظ بنا دے” — مگر زمین کی حفاظت کے فیصلے اب زمینی خدا کرتے ہیں، جو شاید بھول چکے ہیں کہ ظلم کی کوئی حکومت کبھی دائمی نہیں رہی۔
یہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے زمانے کے ضمیر پر لکھا ہوا وہ لرزہ خیز باب ہے، جس میں طاقت، سیاست، اور انسانیت ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔ غزہ کی زمین، جو کبھی زیتون کے درختوں، اذانوں کی گونج، اور بچّوں کی قہقہوں سے آباد تھی، آج پھر بمباری کے شور میں لرز رہی ہے۔ ادھر صحافی تنظیموں اور طبی ذرائع کی رپورٹیں اس المیے کی گواہی دے رہی ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو حملے روکنے کی واضح ہدایت کے باوجود، فضائی اور زمینی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ گویا امن کی زبان بولنے والوں کے ہاتھوں میں تلوار اب بھی لہرا رہی ہے۔
ٹرمپ کا تازہ بیان جس میں انہوں نے حماس کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ’’فوری فیصلہ‘‘ کرنے کا الٹی میٹم دیا۔ دراصل اس پیچیدہ سیاسی کھیل کا نیا موڑ ہے، جہاں انسانی المیے کو سفارتی مفادات کے توازن میں تولا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل نے بمباری روک دی ہے، مگر غزہ کی گلیوں سے اٹھنے والا دھواں کسی اور ہی حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ، طبی اہلکار، اور انسانی حقوق کے کارکنان چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ نہیں، یہ نسلوں کی تباہی ہے۔ غزہ میں بھوک اور بیماری اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اقوام متحدہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ یہ خطہ انسانی زندگی کے لیے ’’ناقابلِ برداشت‘‘ بنتا جا رہا ہے۔ وہاں بچے روٹی نہیں، ماں کی گود ڈھونڈ رہے ہیں؛ وہاں بوڑھے پانی نہیں، سایہ مانگ رہے ہیں۔
اسی دوران اسپین کی نائب وزیراعظم یولنزا ڈیاز کی آواز انسانی ضمیر کی وہ نادر گونج ہے جو اس شور میں بھی صاف سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع کر دینے چاہئیں۔ یہ ایک ایسی اپیل ہے جو صرف سیاست نہیں بلکہ اخلاقیات کی بنیادوں کو جھنجھوڑتی ہے۔ مگر افسوس، عالمی طاقتوں کے کانوں تک یہ صدائے احتجاج جیسے نہیں پہنچتی۔ وہ انسانی آنسوؤں کو ’’اعداد و شمار‘‘ میں بدل کر رپورٹوں کی فائلوں میں بند کر دیتے ہیں۔
اسی پس منظر میں “صمود فلوٹیلا” کی کہانی امید اور جرأت کا استعارہ بن کر ابھرتی ہے۔ یہ وہ فلوٹیلا ہے جس نے سمندروں کو اپنا راستہ بنایا، تاکہ محصور فلسطینیوں تک امداد پہنچا سکے۔ مگر اسرائیلی فوج نے ان بے سلاح رضاکاروں پر بھی تشدّد کیا، وہ رضاکار جن کے ہاتھوں میں بندوق نہیں، انسانیت کا پرچم تھا۔ استنبول پہنچ کر ترک صحافی ایرسن سیلک نے بتایا کہ اُن سمیت تمام 137 انسانی حقوق کے کارکنوں کو اسرائیلی حراست میں اذیت دی گئی۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کا تعلق مختلف براعظموں سے تھا، مگر دل سب کے ایک مقصد کے لیے دھڑک رہا تھا: “غزہ کے بچّوں کے لیے سانس، روٹی، اور روشنی واپس لانا”۔
اب بین الاقوامی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (FFC) نے اعلان کیا ہے کہ گیارہ کشتیوں پر مشتمل ایک نیا بحری قافلہ امداد لے کر روانہ ہو چکا ہے۔ ان کشتیوں نے اٹلی کے شہر اوترانتو سے سفر کا آغاز کیا، اٹلی اور فرانس کے جھنڈے لہراتے ہوئے۔ یہ منظر کسی رزمیہ داستان کی طرح ہے، جیسے تاریخ نے ایک بار پھر قلم تھام لیا ہو اور لکھ رہی ہو کہ ’’اب بھی کچھ دل باقی ہیں جو خاموشی کے بوجھ کو قبول نہیں کرتے‘‘۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں غزہ محض ایک جغرافیہ نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان بن چکا ہے۔ ہر بم کے ساتھ زمین لرزتی ہے، مگر ایمان رکھنے والے دل اب بھی نہیں لرزتے۔ وہ جانتے ہیں کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، حق اتنا ہی روشن ہوتا ہے۔ دنیا کی آنکھیں اگر بند بھی رہیں، تو تاریخ کے صفحے کبھی خاموش نہیں رہیں گے۔ آنے والے زمانے جب ان مناظر کو یاد کریں گے، تو لکھیں گے کہ “غزہ کی زمین زخمی تھی، مگر اُس کے باسی زندہ تھے کیونکہ اُن کے سینوں میں یقین کی دھڑکن باقی تھی”۔
یہ خبر دراصل اُس نئے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں طویل خوں ریز تصادم کے بعد ایک کمزور مگر امید افزا کرن نمودار ہوئی ہے۔ غزہ کے آسمان پر دھوئیں کی تہوں کے بیچ اب ایک ہلکی سی روشنی دکھائی دینے لگی ہے، روشنی جو اگرچہ دھندلی ہے، مگر امید کا استعارہ ضرور بن سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ بیس نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے حماس کی آمادگی کا اعلان ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ برسوں کے محاصرے، تباہی، اور لاشوں کے درمیان یہ وہ آواز ہے جو خون اور ملبے سے لپٹی زمین پر ’’امن‘‘ کا لفظ پہلی بار احتیاط سے رکھتی ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں چاہے وہ زندہ ہوں یا جاں بحق—کو رہا کرنے پر تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل انخلا کرے اور جنگ کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ یہ بیان محض ایک سیاسی دستاویز نہیں، بلکہ مظلوم قوم کی اس خواہش کا اظہار ہے جو جنگ سے زیادہ انصاف چاہتی ہے۔ یہ اعلان دراصل انسانی وقار کی بازیابی کا مطالبہ ہے، جو برسوں سے بمباری کے شور میں دب کر رہ گیا تھا۔ حماس کا کہنا ہے کہ اگر امن کی ضمانت مل جائے تو وہ غزہ کا نظم و نسق ایک آزاد فلسطینی ماہرین (ٹیکنوکریٹس) پر مشتمل عبوری ادارے کو سونپنے پر تیار ہے۔ مگر یہ ادارہ محض سیاسی ضرورت کے طور پر نہیں بلکہ ’’فلسطینی قومی اتفاق رائے‘‘ اور ’’عرب و اسلامی حمایت‘‘ کے فریم ورک میں قائم کیا جائے گا۔
یہ وہ جملہ ہے جس میں پورے مشرقِ وسطیٰ کی امیدیں بندھی ہوئی ہیں کیونکہ یہ اعلان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حماس طاقت نہیں، اتفاق چاہتی ہے؛ جنگ نہیں، وقار چاہتی ہے؛ اور انتقام نہیں، تسلیم شدہ شناخت کی بحالی چاہتی ہے۔ حماس نے ثالثی ممالک کے ذریعے فوری مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر دنیا سنجیدہ ہو تو امن محض ایک خواب نہیں بلکہ ممکنہ حقیقت بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیے جائیں گے۔ گویا فلسطینی مزاحمت نے خود کو ایک منظم سیاسی قوت کے طور پر منوانے کی طرف ایک اور قدم بڑھا لیا ہے۔
لیکن اس اعلان کے ساتھ ہی ایک نازک سوال بھی جنم لیتا ہے، کیا اسرائیل اور اس کے اتحادی اس امن کے موقع کو واقعی غنیمت سمجھیں گے؟ یا پھر تاریخ ایک بار پھر دھوکے، تشدّد اور وعدہ خلافی کے گرداب میں پھنس جائے گی؟ دنیا کے ضمیر کے لیے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ ایک طرف وہ قوم ہے جس نے ملبے سے اُمید کا بیج نکالا، اور دوسری طرف وہ طاقت جو اپنی عسکری برتری کے نشے میں زمین کو قبرستان بنانے پر مصر ہے۔
غزہ آج بھی زخمی ہے، مگر اس کے دل میں جو صبر اور ثبات ہے، وہ کسی بھی فوجی قوت سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہ سر زمین اب بھی ایمان کے سائے میں سانس لے رہی ہے۔ حماس کا یہ اعلان اسی ایمان کا تسلسل ہے۔ ایک ایسا اعلان جو کہتا ہے: “ہم امن چاہتے ہیں، مگر ظلم کی قیمت پر نہیں؛ ہم صلح چاہتے ہیں، مگر غلامی کی شرط پر نہیں؛ ہم معاہدہ چاہتے ہیں، مگر وقار کی بنیاد پر”۔ اگر یہ الفاظ سچے ارادوں سے سنے جائیں، تو شاید غزہ کے بچّے ایک دن بغیر خوف کے آسمان دیکھ سکیں، اور دنیا کے مورخ لکھ سکیں کہ ’’جہاں بارود بولا کرتا تھا، وہاں کبھی امن نے بھی زبان پائی تھی۔‘‘
حماس کے تازہ بیان نے اس بحران کے بیچ ایک سیاسی شعور اور اخلاقی بلندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی تجویز میں غزہ کے مستقبل، فلسطینی عوام کے جائز حقوق، اور خطے کے امن سے متعلق جو نکات شامل ہیں، وہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ ایک اجتماعی عزم سے بندھے ہوئے ہیں۔ حماس نے اعلان کیا کہ ان امور کو ایک جامع فلسطینی قومی ڈھانچے کے تحت طے کیا جائے گا، ایسا ڈھانچہ جو داخلی اتفاق، بین الاقوامی قوانین، اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر استوار ہو۔ یہ بات خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ فلسطینی مزاحمت اب بندوق کے ساتھ ساتھ بصیرت کی زبان بھی جانتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس اس قومی ڈھانچے میں اپنی ذمّہ دارانہ شرکت اور تعمیری کردار ادا کرے گی۔ یہ الفاظ محض سیاسی شائستگی نہیں، بلکہ ایک نئے فکری باب کی نشاندہی ہیں، جہاں مزاحمت اور مفاہمت دونوں کو باہم جوڑا جا رہا ہے۔ مگر دوسری طرف زمینی حقیقتیں کسی اور داستان کا پتہ دیتی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے بظاہر اپنی فوج، یعنی آئی ڈی ایف، کو غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کو وقتی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے، لیکن یہ "روک” بھی ایک ظاہری وقفہ ثابت ہوئی۔ امریکی صدر کی واضح ہدایات کے باوجود فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اور ہر گزرتا لمحہ ایک نئی تباہی کا پیام لاتا ہے۔
غزہ کے آسمان پر موت کا راج ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق صہیونی جارحیت کے نتیجے میں ایک سو پندرہ سے زائد فلسطینی شہید اور پونے تین سو کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ بچّے بھی شامل ہیں جو ابھی حروفِ تہجی سیکھ رہے تھے، اور وہ مائیں بھی جو اپنے گھروں میں امن کی دعائیں مانگتی تھیں۔ عرب میڈیا کے مطابق صہیونی فوج نے بارودی مواد سے درجنوں عمارتوں کو زمین بوس کر دیا۔ بیس گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے، اور بیشتر رہائشی ملبے کے نیچے دم توڑ گئے۔
غزہ اب صرف ایک شہر نہیں رہا، یہ ایک اجتماعی قبر بن چکا ہے۔ ہر اینٹ کے نیچے ایک کہانی دفن ہے، ہر چیخ کے پیچھے ایک خواب ٹوٹا ہے۔ بھوک اور بیماری نے وہ کام مکمل کیا جو بارود نے شروع کیا تھا، علاج کی کمی سے دو مزید بچّے جاں بحق ہو گئے۔ اب خوراک کی قلت سے مرنے والوں کی تعداد تقریباً پانچ سو تک جا پہنچی ہے۔ یہ اعداد و شمار نہیں، انسانیت کے ماتھے پر لکھی شرمندگی ہیں۔ صہیونی فوج نے اب ایک اور ہولناک ہتھیار استعمال کیا، ریموٹ کنٹرول دھماکہ خیز گاڑیاں، جن کے ذریعے پوری پوری بستیاں تباہ کر دی گئیں۔ یہ جنگ اب ہتھیاروں سے زیادہ ضمیر کی شکست کی جنگ بن چکی ہے۔
غزہ کے افق پر دھواں چھایا ہے، مگر اُس کے اندر اب بھی ایک شعلہ ہے، مزاحمت کا، ایمان کا، اور انسان ہونے کے حق کا۔ دنیا اگر چاہے تو یہی شعلہ امید کی مشعل بن سکتا ہے، مگر اگر خاموش رہی تو یہ شعلہ تاریخ کے صفحات کو جلا دے گا۔ کیا عالمی ضمیر اب بھی سنے گا؟ کیا وہ طاقتیں جو امن کی بات کرتی ہیں، کبھی ظلم کے اس شور کے بیچ اپنی آواز بلند کریں گی؟ یا پھر دنیا ایک بار پھر تماشائی بن کر دیکھتی رہے گی کہ کیسے ایک قوم اپنے ہی گھروں کے ملبے میں دفن ہو کر بھی زندہ رہنے کا عزم دہراتی ہے؟ غزہ آج بھی کہہ رہا ہے: "ہم ملبے کے نیچے بھی سانس لیتے ہیں، ہم راکھ میں بھی روشنی ڈھونڈ لیتے ہیں، کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو مر کر بھی زندہ رہتی ہے”۔
یہ خبر محض سیاسی ردِعمل یا عالمی مظاہروں کی روداد نہیں، بلکہ وہ نغمۂ احتجاج ہے جو ظلم کی راکھ سے ابھرتا ہے، اور جو دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ غزہ کی سر زمین پر جاری خوں ریز داستان کے بیچ، اب امید کی ایک اور آواز اُبھری ہے، وہ آواز جو نہ صرف فلسطینی اتحاد کی علامت ہے بلکہ عالمِ انسانیت کے بیدار شعور کی گواہی بھی۔
فلسطینی اسلامی جہاد نے حماس کے امن منصوبے پر ردِّعمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان کسی رسمی تائید کا نام نہیں، بلکہ ایک اجتماعی عزم کا اعلان ہے، ایسا عزم جو فلسطینی مزاحمت کے تمام دھڑوں کو ایک محور پر لا رہا ہے۔ اسلامی جہاد نے کہا کہ حماس کا جواب صرف ایک جماعت کا موقف نہیں، بلکہ پوری فلسطینی مزاحمتی تحریک کے متفقہ ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب برسوں سے بکھرے ہوئے فلسطینی دھڑے ایک نکتۂ اتفاق پر اکٹھے نظر آ رہے ہیں، "آزادی”۔ وہ آزادی جو نہ کسی سیاسی معاہدے کی محتاج ہے، نہ کسی طاقت کی اجازت کی۔ وہ آزادی جو خون، قربانی، اور عزم کے رنگوں سے لکھی جا رہی ہے۔
اسلامی جہاد، جو حماس کی قریبی اتحادی تنظیم ہے، نے نہ صرف سیاسی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک اخلاقی پیغام بھی دیا کہ فلسطین کی مزاحمت اب انتشار نہیں بلکہ شعور میں ڈھل چکی ہے۔ اُن کے قبضے میں موجود چند اسرائیلی یرغمالیوں کے باوجود اُنہوں نے واضح کیا کہ اصل مقصد بدلہ نہیں، انصاف ہے؛ طاقت نہیں، توقیر ہے۔ دوسری جانب، دنیا کے بڑے شہروں میں غزہ کے حق میں اُٹھنے والی صدائیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ظلم اب صرف ایک سرحدی مسئلہ نہیں رہا، یہ عالمی ضمیر کا سوال بن چکا ہے۔ یورپ کے دل میں لندن، روم، میڈرڈ، بارسلونا، اور لزبن کی سڑکوں پر ہزاروں افراد اپنے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم تھامے اُس مظلوم قوم کے لیے نعرے لگا رہے ہیں، جس کی زبان پر اب بھی "سلام” کا پیغام ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسپین کے بڑے شہروں میں یہ مظاہرے کئی ہفتے قبل ہی طے کر لیے گئے تھے، گویا انسانیت نے ظلم کے خلاف پیشگی عزم باندھ رکھا تھا۔ جب کہ روم اور لزبن میں احتجاجی کال اُس وقت دی گئی، جب اسرائیلی افواج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر انسانی خدمت کے لیے جانے والے تقریباً چار سو چالیس سے زائد کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ ان میں قریباً چالیس سے زائد ہسپانوی شہری شامل تھے، جن میں بارسلونا کے سابق میئر بھی موجود تھے۔ ایک ایسا منظر جس نے دنیا کو یاد دلایا کہ حق کی حمایت کے لیے عوامی ضمیر کسی سرحد کا پابند نہیں ہوتا۔
یہ مظاہرے صرف سیاسی جلسے نہیں تھے، بلکہ وہ انسانی بیداری کے جلوس تھے، جن میں مختلف نسلوں، مذاہب اور زبانوں کے لوگ ایک ہی نعرہ بلند کر رہے تھے۔ "غزہ کے بچّوں کے لیے انصاف!”، "انسانیت کے نام پر جنگ بند کرو!”۔ یہ مناظر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ جہاں عالمی طاقتیں سفارتی بیانات میں الجھی ہوئی ہیں، وہاں عام انسانوں نے سڑکوں پر نکل کر اپنی روح کی گواہی دی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں ایک لطیف مگر طاقتور تبدیلی جنم لے رہی ہے، فلسطین اب صرف جغرافیہ نہیں رہا، بلکہ ایک عالمی اخلاقی مسئلہ بن چکا ہے۔ حماس اور اسلامی جہاد کا باہمی اتفاق اس سیاسی بصیرت کی علامت ہے جو قوموں کے مقدر بدلنے کے لیے ضروری ہوتی ہے، اور یورپ کے مظاہرے اس بیداری کی علامت ہیں جو ظلم کے خاتمے کی نوید دیتی ہے۔ غزہ کے زخمی آسمان کے نیچے شاید ابھی اندھیرا ہے، مگر دنیا کے شہروں میں جو چراغ جلنے لگے ہیں، وہ اس بات کا اشارہ ہیں کہ روشنی واپس آئے گی۔ "یہ زمین اگرچہ لہو سے تر ہے، مگر اس کے ذروں میں دعا باقی ہے۔ یہ قوم اگرچہ محصور ہے، مگر اس کے دل میں آزادی کی صدا باقی ہے”۔
🗓 (05.10.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
○○○○○○○○○
Like this:
Like Loading...