Skip to content
حماس کا چھ قیدیوں کی رہائی پر اصرار، اسرائیل کا انکار برقرار
فلسطین،8اکٹوبر(ایجنسیز)مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم کئی پیچیدہ معاملات ایسے ہیں جو ان مذاکرات کی پیش رفت کو سست یا متاثر کر سکتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک اہم اور متنازعہ معاملہ قیدیوں کا مسئلہ ہے، جو ہر فلسطینی اور اسرائیلی مذاکرات میں بحث کا مرکز بنتا ہے اور اسرائیل کے اندر شدید داخلی اختلاف کو جنم دیتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن منصوبے کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، اس کے بدلے میں غزہ میں موجود 47 اسرائیلی قیدیوں کو، جن میں 25 اسرائیلیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں، واپس کیا جائے گا۔
دوسری جانب، حماس اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ ان قیدیوں کو رہا کیا جائے جو طویل عرصے سے قید میں ہیں اور جن کا تعلق تحریک کی اہم شخصیات سے ہے۔ تو آخر وہ نمایاں قیدی کون ہیں جن پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں؟
ان قیدیوں کی فہرست میں سرفہرست نام فتح کے رہنما مروان البرغوثی کا ہے، جبکہ حماس کی جانب سے مانگے گئے دیگر نمایاں رہنماؤں میں عبداللہ البرغوثی، ابراہیم حامد، حسن سلامہ، عباس السید اور عوامی محاذ کے سیکرٹری جنرل احمد سعدات شامل ہیں۔
ان میں سے ایک کو اسرائیل کی تاریخ کی سب سے طویل قید کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ دوسرے کو اسرائیل کے نزدیک سب سے خطرناک قیدی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ وہ نام ہیں جو ہر بار قیدیوں کا معاملہ زیرِ بحث آنے پر دوبارہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔
وہ چھ شخصیات جن کی رہائی حماس چاہتی ہے، ان میں مروان البرغوثی فہرست میں سب سے نمایاں نام ہے۔
قیدیوں میں سے ایک نمایاں نام مروان البرغوثی کا ہے، جو فتح تحریک کے سرکردہ رہنما اور مستقبل کے ممکنہ قائد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 1987 کی پہلی انتفاضہ کے دوران نمایاں ہوئے اور 1996 میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔
2002 سے قید
انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز پندرہ سال کی عمر میں فتح تحریک کے تحت کیا، جس کی قیادت مرحوم فلسطینی رہنما یاسر عرفات کر رہے تھے۔ مروان البرغوثی نے اپنے سیاسی سفر کے دوران فلسطینی مقصد اور دو ریاستی حل کے لیے بھرپور حمایت حاصل کی۔
انہیں 2002 میں اسرائیل نے مغربی کنارے کے شہروں پر فوجی یلغار کے دوران گرفتار کیا، جو اسرائیلی کارروائی “آپریشن ڈیفنس شیلڈ” کے نام سے جانی جاتی ہے۔ البرغوثی کو پانچ بار عمر قید اور 40 سال اضافی قید کی سزا سنائی گئی، اُن پر کئی حملوں کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنہیں وہ "دہشت گردی کی علامتیں” قرار دیتے ہیں ،ان میں مروان البرغوثی سرفہرست ہیں ،انہیں کسی بھی مرحلے پر معاہدے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
سب سے طویل عمر قید
عبداللہ البرغوثی کو حماس کے انجینئر کے لقب سے جانا جاتا ہے، وہ بارودی مواد کے ماہر ہیں۔ اسرائیل ان پر درجنوں حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کرتا ہے۔
انہیں 67 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی، جو کسی بھی فلسطینی قیدی کے لیے سب سے طویل سزا ہے، بلکہ انہیں دنیا کے طویل ترین سزا پانے والے قیدی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ وہ حماس کے سینئر رہنما انجینئر اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کے ماہر ہیں، اور ان کی عمر تقریباً 53 سال ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق یحییٰ عیاش کے بعد عبداللہ البرغوثی کو حماس کا سب سے بڑا بارودی ماہر سمجھا جاتا ہے، یا د رہے عیاش کو 1996 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
اسرائیل نے عبداللہ البرغوثی کو 2003 میں گرفتار کیا تھا، اُن پر حملوں کے ایک سلسلے میں ملوث ہونے کا الزام ہے، جن میں 2001 میں یروشلم کے "سبارو” ریستوران پر بم دھماکا بھی شامل ہے، جس میں 15 اسرائیلی ہلاک اور 130 زخمی ہوئے تھے۔ عبداللہ البرغوثی، مروان البرغوثی کے رشتہ دار بھی ہیں۔ جو مغربی کنارے میں فتح تحریک کے سابق رہنما ہیں۔
عبداللہ البرغوثی پر 2002 میں "کافے مومینٹ” دھماکے کی ذمہ داری عائد کی گئی، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے، اسی طرح عبرانی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے کا الزام بھی ان پر ہے، جس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں پانچ امریکی شہری بھی شامل تھے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، عبداللہ البرغوثی پر مجموعی طور پر 66 اسرائیلیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔
اسرائیل کے لیے خطرناک ترین قیدی
دوسری جانب اسرائیل ابراہیم حامد کو اپنے سب سے خطرناک قیدی کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے دوسری انتفاضہ کے دوران حماس کے عسکری ونگ کی قیادت کی اور 2002 میں متعدد حملے کیے۔
اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسے اس وقت اسرائیل کا سب سے خطرناک قیدی قرار دیا جاتا ہے، اور وہ عبداللہ البرغوثی کے بعد دوسرا سب سے طویل قید کی سزا پانے والا قیدی ہے۔
ابراہیم حامد مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ تھے۔ ان پر متعدد حملوں کی ذمہ داری کا الزام ہے اور انہیں 46 اسرائیلیوں کے قتل کا قصور وار ٹھہرایا گیا۔انہیں 54 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
ابراہیم حامد کا جنم 1965 میں سلواد مشرقی رام اللہ میں ہوا۔انہوں نے اپنی ابتدائی، میڑک اور انٹر تک تعلیم اپنے گاؤں کے سکولوں سے حاصل کی۔ وہ چھوٹی عمر سے اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں میں شامل رہے اور کئی بار گرفتار ہوئے، قبل اس کے کہ انہیں آخری بار 2006 میں گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد برزیت یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور سائنسز پولیٹیکل میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔بعد ازاں انہوں نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا اور مختلف تحقیقی مراکز میں کام کیا۔
انہوں نے فلسطینی مسئلے کی تاریخ پر متعدد تحقیقی کام بھی کیے جن کے متعدد ایڈیشنز زیور طبع سے آراستہ ہو چکے ہیں۔
اسیران کلب کے مطابق ابراہیم حامد نے تقریباً آٹھ سال تک الگ قید تنہائی کاٹی۔ جس میں سے سات برس سال مسلسل قید تنہائی میں گذارے۔
2002 میں گرفتاری
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل احمد سعدات 2002 میں مقبوضہ علاقوں کے محاصرے کے بعد گرفتار کیے گئے۔ ان کا شمار بھی نمایاں فلسطینی شخصیات میں ہوتا ہے۔ انہیں اسرائیلی وزیرِ سیاحت رہبعام زیئوی کے قتل کے پس منظر میں گرفتار کیا گیا۔
وہ اس وقت 30 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، اور اس سے قبل کم از کم سات بار گرفتار ہو چکے ہیں، موجودہ قید 2006 سے مسلسل جاری ہے۔
فلسطینیوں اسیران کی انجمن [کلب] کے مطابق اپنی قید کے دوران احمد سعدات کئی سالوں تک ملنے جلنے کی اجازت سے محروم رہے اور انہیں الگ تھلگ قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ قید تنہائی کے تجربے کے بعد، انہوں نے "صدا القید” کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی، جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید تنہائی کی پالیسی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اسیر سعدات کے چار بچے اور چار پوتے پوتیاں ہیں۔ سعدات کا جنم 1953 میں رام اللہ کے قصبے البیرہ میں ہوا۔ انہیں اسرائیل نے 1976 سے 1993 کے درمیان چھ مرتبہ گرفتار کیا۔
عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل ابو علی مصطفی کے انتقال سے سعدات تنظیم کے عسکری ونگ کے رہنما تھے۔ ابو علی مصطفی کی رحلت کے بعد انہوں نے عوامی محاذ کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالا۔
اسرائیل ان پر متعدد حملے کرنے کا الزام عائد کرتی ہے، جن کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
فہرست میں دیگر نام بھی شامل ہیں: عباس السید، جس پر 2002 میں نتانیا کے پارک ہوٹل پر حملے کا الزام ہے، اور حسن سلامہ، جو کتائب القسام کے نمایاں رہنماؤں میں سے ایک ہیں اور انہیں 46 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
Like this:
Like Loading...