Skip to content
مایا وتی کا جن اپنے آقا کے لیے بھسماسور
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اتر پردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ نے بڑی چالاکی سے ’آئی لو محمدؐ‘ کے خلاف جبر تشدد کی آڑ میں اپنی سیاست چمکانے کا خواب دیکھا لیکن ایک قتل، ایک جوتے اور ایک خودکشی نے اسے چکنا چور کردیا ۔ سیاست کا رخ ہندو مسلم سے ہٹ کر دلت بی جے پی کی جانب مڑگیا ۔ اس کی ابتدا رائے بریلی ضلع میں ایک دلت کی ماب لنچنگ سے ہوئی اس کے بعد سپریم کورٹ میں دلت سی جی آئی پر جوتا چلا مگر بات یہیں نہیں رکی بلکہ ہریانہ میں ایک دلت افسر نے خودکشی کی اور اس سے گھبرا کر یوگی کو لکھنو میں مایا وتی کی ریلی کروانی پڑی۔ مایا وتی نے بیک وقت اکھلیش یادو پر سخت تنقید اور یوگی کی تعریف کرکے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ اس طرح بلی کے تھیلے سے باہر آجانے نے دو نقصانات کردئیے۔ ایک تو جو بھولے بھٹکے مسلمان بہوجن سماج پارٹی کے قریب چلے جاتے تھے اب وہ بی ایس پی کے بجائے سیدھے بی جے پی کا رخ کریں گے کیونکہ کسی دلال کے ذریعہ مال خریدنےمیں دلالی کا خسارہ اور دھوکے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ مایا وتی نے چونکہ اپنے خطاب میں نہ تو سی جی آئی پر حملے کی اور نہ ماب لنچنگ کا مذمت کی اس لیے بی جے پی سے ناراض دلت اب رام بھگت مایا وتی کے بجائے راون کا رخ کریں گے ۔ سنسکرت میں اسے وناش کالے وپریت بدھی یعنی تباہی کے دوران عقل کا الٹنا کہتے ہیں۔
رائے بریلی میں ہری اوم والمیکی کے ہجومی قتل کے بعد جب سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی گئی ۔ اس واقعہ کا یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے خوب فائدہ اٹھاتے ہوئے سخت مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی اے (پسماندہ، دلت، قبائل اور اقلیت) اب ذلت ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ اکھلیش نے ایکس پر لکھا، ’’پی ڈی اے سماج کی بے عزتی کرنے والے ایسے جاہل لوگ دراصل اپنے گھمنڈ کے مارے ہوتے ہیں۔ ان کی برتری کی سوچ ہی نفرت کو جنم دیتی ہے۔ یہ نفرت صرف ملک کے سب سے اونچے عدالتی عہدے پر فائز شخصیت کے لیے نہیں بلکہ سماج کے سب سے کمزور فرد کے لیے بھی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ برتری کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔‘‘ سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پی ڈی اے کا مطلب ہے ’پیڑت، دکھی اور اپمانت‘ یعنی وہ طبقے جو صدیوں سے ناانصافی کا شکار رہے ہیں۔بی جے پی والے بار بار ایک ہزار سالہ غلامی کی بات کرتے ہیں حالانکہ اس دوران براہمنوں نے کبھی بھی آزادی کی جنگ نہیں لڑی بلکہ انگریزوں سے لے کر مسلمانوں تک کی جوتیاں سیدھی کرتے رہے۔ راجپوتوں کا تو روٹی بیٹی تک کا رشتہ تھا اس کا سب سے بڑا ثبوت جودھا بائی ہیں۔
اکھلیش اس معاملے کو ایک کے بجائے پانچ ہزار سال تک لے گئے۔ انہوں نے کہا پی ڈی اے سماج نے اپنی وسعتِ قلبی اور نرمی کے باعث گزشتہ ۵؍ہزار سال سے ایسے رویوں کو برداشت اور معاف کیا لیکن اب وہ مزید ذلت نہیں سہے گا۔سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے اس موقع پر بی جے پی پر بھی حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ، ’’بی جے پی اور اس کے ساتھی اپنی حکومت کے آخری دور میں ہیں، کیونکہ ان کی بدعنوان انتخابی سازش بے نقاب ہو چکی ہے۔ اب وہ اقتدار میں واپس نہیں آ سکیں گے، اسی لیے مایوسی میں ایسے شرمناک کام کر رہے ہیں۔‘‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کے یقیناً بہار میں اپنی ہار دیکھ رہی ہے اور بوکھلاہٹ کے عالم میں پہلے تو اس نے چیف جسٹس پر جوتا پھینکنے والے کے حامیوں کو تحفظ دیامگر اب گرفتار کررہی ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے؟
اکھلیش یادو نے بڑےاعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ ملک میں اس وقت ’اپمان بمقابلہ سمان‘ (ذلت بمقابلہ احترام) کا دور چل رہا ہے۔ 90 فیصد آبادی اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہو چکی ہے اور اب محض 10 فیصد کا غرور اور تسلط زیادہ دن باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی اے اپنے وقار اور خوداری کی اس حتمی جدوجہد میں فیصلہ کن جیت حاصل کرے گا۔ یوگی ادیتیہ ناتھ ایک زمانے میں بیس اسیّ کی ریاضی سمجھاتے تھے اب اس کے مقابلے دس نوےّ کا تناسب آکر کھڑا ہوگیا ہے ۔ بہار کے اندر 2015 میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے تو بس یہ کہہ دیا تھا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اپنی ریزرویشن پالیسی پر نظرثانی کرے۔‘‘ اس ایک بیان نے مودی لہر کے باوجود بہار کا انتخابی ماحول بدل دیا نیز راشٹریہ جنتا دل اور جنتا دل (یونائیٹڈ) نے بی جے پی کے خلاف دلت اور پسماندہ طبقات کو متحد کرکے بی جے پی کو زبردست شکست سے دوچار کردیا تھا ۔بہار میں تقریباً پانچواں حصہ دلت ووٹروں کا ہے۔ ان میں اس واقعے سے شدید غصہ ہے اور وہ اسے ’اعلیٰ ذات کے غرور‘ سے جوڑ کر بی جے پی کو گھیر رہے ہیں ۔
این ڈی اے کی قیادت چیف جسٹس کی توہین کو نرم لہجے میں ’افسوسناک‘ کہہ کر دبانے کی کوشش کررہی ہے نیز مرکزی وزراء چراغ پاسوان اور جیتن مانجھی کوئی سخت بیان دینے سے کترا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مختصر سا بیان جاری کر کے واقعے کو بس ’ناقابلِ قبول‘ قرار دینے پر اکتفاء کیا ، جبکہ مایاوتی نے بھی ہلکے انداز میں وکیل کے عمل کو بس ’غیر مہذب‘ قرار دیا۔ ایسے میں جبکہ دلت برادری کو متحدہ قومی محاذ کی جانب سے سردمہری ہاتھ آرہی ہے کانگریس نے بہار یونٹ کمان ایک دلت رہنما راجیش رام کو صوبائی صدر بناکر انتخاب کا نقشہ بدل دیا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ ’’اگر ملک کا چیف جسٹس بھی محفوظ نہیں تو ایک عام دلت کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟‘‘ اتفاق سے کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے بھی دلت سماج سے آتے ہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی کے ایک مشترکہ بیان میں اسے ’سماجی انصاف کے اصولوں کی توہین‘ اور ’آئین کے خلاف جرم‘ قرار دیا ہے۔ وہ اتر پردیش میں دلت نوجوان کی پٹائی سے موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات صرف افراد نہیں بلکہ سماجی ضمیر کے خلاف حملہ ہے ۔
اس بیچ ہریانہ سے آندھرا پردیش کے رہنے والے وائی پورن کمار نامی 2001 بیچ کے آئی پی ایس افسر کے خودکشی کی خبر آگئی۔ مرکزی حکومت سے انعام یافتہ52 سالہ دلت آئی پی ایس افسر،نے پولیس سروس میں بدعنوانی، ذات پات کی نمائندگی، اور انصاف پسندی کے خلاف 7 ؍اکتوبر کو چنڈی گڑھ کے سیکٹر 11 میں اپنی رہائش گاہ پر گولی مارکر خود کو ہلاک کرلیا تھا ۔وائی پورن کمار نے پورے ہریانہ میں کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دیتے ہوئے امبالہ و روہتک رینج کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، ہوم گارڈز، ٹیلی کمیونیکیشن، اور ڈائل 112 ایمرجنسی رسپانس پروجیکٹ جیسے محکموں کی سربراہی کی۔کمار کی بیوی، امنیت پی کمار، ایک سینئر آئی اے ایس افسر ہے۔ موت کے وقت وہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی کے ساتھ جاپان میں سرکاری دورے پرتھیں ۔پون کمار نے سی ایم سینی اور چیف سکریٹری کو خطوط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ انتظامی فیصلوں میں دلت افسران کو نظرانداز کیا جا تا ہے۔اپنی خودکشی کی وصیت میں پورن کمار نے ہریانہ کے ڈی جی پی شتروجیت کپور اور روہتک کے ایس پی نریندر بجارنیہ سمیت 8 سینئر آئی پی ایس افسران کے نام لیے ہیں، جن پر انہیں مبینہ طور پر پریشان کرنے اور بدنام کرنے کا الزام ہے۔
اپریل 2024 میں، کمار نے اپنی سرکاری گاڑی واپس کر کے، الزام لگایا تھا کہ آئی پی ایس افسران کوبھید بھاو کرکے کاریں مختص کی گئی تھیں۔ انہوں نے پروموشن کے عمل کو چیلنج کرکے اسےغیر قانونی قرار دیا تھا۔اس سے قبل 2023 میں بھی انہوں ایک سینئر آئی اے ایس افسر کے خلاف متعدد شکایات درج کرائیں، ان پر “ہراساں اور تذلیل” کا الزام لگایا تھا نیز انسپکٹر جنرل آف پولیس (ہوم گارڈز) کے طور پر اپنی تعیناتی کو ’’ذلت‘‘ قرار دیا تھا۔ اپنی ۹؍ صفحات پر مشتمل خودکشی نوٹ میں سینئر پولیس افسران اور سیاست دانوں کے خلاف توہین آمیز الزامات لگائے گئے ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے آئی پی ایس افسر وائی پورن کمار کی آئی اے ایس اہلیہ کو خط لکھا ہے۔ سونیا گاندھی کے مطابق پورن کمار کی موت اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا متعصب اور جانبدار رویہ سینئر افسران کو بھی سماجی انصاف سے محروم کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پورن کی اہلیہ امنیت پی کمار سے کہا کہ وہ اور ملک کے لاکھوں لوگ انصاف کی راہ پر ان کے ساتھ ہیں۔
سونیا گاندھی نے امنیت پی کمار کو لکھے خط میں کہا کہ ’’آپ کے شوہر اور سینئر آئی پی ایس افسر وائی پورن کمار کے افسوسناک انتقال کی خبر حیران کن اور انتہائی افسوسناک ہے۔ اس مشکل وقت میں، میں آپ کے اور آپ کے پورے اہل خانہ کے تئیں اپنی دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔‘‘ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے متوفی آئی پی ایس پورن کمار کی اہلیہ امنیت کمار کو خط لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے آئی پی ایس پورن کمار کی خودکشی کے معاملہ کو لے کر اہل خانہ سے تعزیت کی اور اس واقعہ کی مذمت بھی کی۔ کانگریس صدر نے لکھا کہ ’’امینت پی کمار جی، یہ خط آپ کو لکھتے وقت میں دلی طور پر بہت مغموم اور پریشان ہوں، تکلیف کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آپ کے شوہر اور ہریانہ کیڈر کے سینئر آئی پی ایس افسر اے ڈی جی پی وائی پورن کمار نے سماجی تعصبات اور ناانصافیوں سے لڑتے ہوئے اپنی زندگی ختم کر لی۔ اس واقعہ سے مجھے دلی طور پر کافی تکلیف پہنچی ہے۔‘‘ اس صورتحال سے گھبرا کر مایا وتی کے جن کو بوتل سے باہر لایا گیا لیکن اس بھسما سور نے اپنے آقا یعنی بی جے پی کا ہی گلا ریت دیا اور وہ در د سے کراہ رہی ہے۔
Like this:
Like Loading...