Skip to content
متقی کا دورہ ، مشیت کاکوڑا اور یوگی کی رسوا ئی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
یہ حسنِ اتفاق ہے کہ ‘افغانستان اسلامی امارات’ کے طالبانی وزیر اعظم امیر خان متقی ایک ایسے وقت میں ہندوستان کے دورے پرہیں جبکہ ہندو راشٹر کا خواب دیکھنے والاراشٹریہ سیوم سیوک سنگھ اپنی صد سالہ تقریبات منا رہا ہے۔ آر ایس ایس جس اکھنڈ بھارت کا سپنا سجاتا ہے اس کے نقشے میں پاکستان، بنگلا دیش ، برما ،نیپال سری لنکا کے علاوہ افغانستان بھی شامل ہے۔ تین سال قبل سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ہری دوار میں کہا تھا کہ ’ویسے تو 20 سے 25 سال میں اکھنڈ بھارت قائم ہوگا لیکن اگر ہم تھوڑی سی کوشش کریں تو 10 سے 15 سال میں ہی قائم ہو جائے گا۔ اس کے راستے میں آنے والے مٹ جائیں گے‘۔ دہلی میں ڈبل انجن سرکار کے ہوتےبھی اگرگودی میڈیا کا کوئی صحافی افغانستان کے وزیر خارجہ سے سوال کردیتا کہ بھائی آپ کب ہندو راشٹر کا حصہ بننے جارہے ہو ؟ تو خود مودی سرکار اس پر این ایس اے لگا دیتی ۔ آریس ایس کے اکھنڈ بھارت میں افغانستان کے علاوہ بھوٹان بھی شامل ہے جس نے حال ڈوکلام چین کے حوالے کردیا اور چین کا حصہ تبت بھی موجود ہے ۔ چین سے تبت واپس لینا تو درکنار اروناچل پر دیش میں دراندازی روکنا مشکل ہورہا ہے۔ موہن بھاگوت کو اس کو چھڑانا تو دور اس کی مذمت بھی نہیں فرماتے اور تھائی کے خواب بیچتے ہیں ۔
آر ایس ایس سربراہ نےیہ بھی کہا تھا کہ’’ہم عدم تشدد کی بات تو کریں گے لیکن ہاتھ میں ڈنڈا بھی رکھیں گے، کیونکہ یہ دنیا طاقت پر یقین رکھتی ہے۔‘‘ بیچارے موہن بھاگوت نے جانتے کہ زمانہ بہت آگے بڑھ گیا فی الحال ڈنڈے کا استعمال ماب لنچنگ کے علاوہ کسی کام کے لیے نہیں ہوتا اور اس طرح اکھنڈ بھارت تو نہیں بنے گا بلکہ اس بھارت کو اکھنڈ رکھنا ضرور مشکل ہوجائے گا۔2023 میں موہن بھاگوت جی نے فرمایا تھا کہ اکھنڈ بھارت کے حقیقت بننےکی وجہ یہ بتائی تھی کہ’’ بھارت سے الگ ہونے، والے اپنی غلطی محسوس کررہے ہیں اور ایک بار پھر بھارت کا حصہ بن جانا چاہتے ہیں۔ بھارت حصہ بننے کے لیے انہوں نے نقشے پر بنی لکیر کو مٹا کر بھارت کے مزاج کو اپنانے کی تلقین کی تھی ۔ ایسے کون لوگ ہیں وہ بھاگوت جی کو کہاں مل گئے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں لیکن اس کی تصدیق اگر افغانستان کے وزیر خارجہ سے پہلی یا دوسری پریس کانفرنس میں کروالی جاتی تو اچھا تھا۔ ہمارے وزیر خارجہ جے شنکر توافغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے ہندوستان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں تاکہ افغانستان کی ترقی اور علاقائی استحکام دونوں میں ہندوستان تعاون کرسکے اور بھاگوت جی پورے ملک کو نگل کر اکھنڈ بھارت میں شامل کرلینا چاہتے ہیں۔ بیک وقت یہ دونوں باتیں کیونکر ممکن ہیں ؟ بھاگوت اور جے شنکر کو ساتھ بیٹھ کر اس سوال کا جواب تلاش کرنا چاہیے۔
افغانی وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورے نے 1999 کے ایک واقعہ کی یاد تازہ کردی جب نیپال سے ایک ہندوستانی طیارے کو اغوا کرکے طالبان کے زیرِ انتظام قندھار لے جایا گیا تھا ۔ وہ اٹل جی کا زمانہ تھا اور اس وقت حالیہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال نے طالبان حکومت سے مذاکرات میں حصہ لیا تھا جس میں متقی ایک وزیر کے طور پر شامل تھے۔ آگے چل کر مولانا مسعود اظہر کو چھوڑنے کی خاطر سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ خود افغانستان تشریف لے گئے تھے ۔ اس بار امیر خان متقی کے دیوبند دورے کی تو خوب چرچا ہوئی مگر ان کے نئی دہلی میں واقع وویکانند انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (VIF) کے زیر اہتمام ایک تقریب میں ہندوستانی تجزیہ کاروں اور ماہرین سے بات چیت کو نظر انداز کردیا گیا۔ یہ وہی ادارہ ہے جس کے ساتھ اجیت دوول وابستہ رہے ہیں ۔ آر ایس ایس کے تھنک ٹینک کی حیثیت سے اس کی ساری دنیا میں شناخت ہے۔ اس محفل میں کئی نامور خواتین دانشور بھی شامل تھیں۔ پہلی پریس کانفرنس میں خواتین کی عدم موجودگی پر شور مچانے والے اگر اس تقریب کی تصاویر دیکھ لیتے ان کا غصہ کسی نہ کسی حد تک کم ہوجاتا۔ افغانی وزیرخارجہ نے مذکورہ بالا اجلاس میں رابندر ناتھ ٹیگور کے کابلی والا کے تذکرہ کرکے سامعین کا دل جیت لیا اور ہندوستان کے ساتھ اپنے ملک کے گہرے تعلقات پر بات کرتے ہوئے سامعین کو مسحور کرکےدونوں ممالک کےبیچ گہرے اقتصادی، تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی تعلقات کو اجاگر کیا۔
نئی دہلی میں قائم وویکانند فاونڈیشن نامی تھنک ٹینک کے پروگرام میں خارجہ امور، قومی سلامتی اور حکمت عملی اور عوامی پالیسی میں مہارت رکھنے والے لوگ موجود تھے۔یہ اطلاع ایکس پر متعدد تصاویر کو شیئر کرکے پوسٹ کی گئی ۔وہاں متقی نے دعویٰ کیا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔پریس کانفرنس میں تنقید کرنے والے اشتعال انگیز سوالات پر کمال متانت کا مظاہرہ کرتے ہوئےموصوف نے یاد دلایا کہ طالبان کی حکومت سے پہلے افغانستان میں روزانہ 200 سے 400 افراد ہلاک ہوتے تھےلیکن ان چار سالوں میں ایسا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ قانون کی حکمرانی ہے، اور سب کے حقوق بحال کردئیے گئے ہیں اور اسلامی نظام نافذ ہے اس لیے لوگوں کوپروپیگنڈکا شکارنہیں ہونا چاہیے۔ وہ بولے "ہر ملک کے اپنے رسم و رواج، قوانین اور اصول کے مطابق چلتاہے۔ لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا درست نہیں ہے اور اگر لوگ نظام اور قوانین سے خوش نہیں ہیں تو امن کیسےلوٹ آیا؟” ہندوستان کے تناظر میں یہ سوال قابلِ غور ہے۔
افغانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہندوستان کے سات روزہ دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اس لیے انہوں نے اتر پردیش کے تاریخی دارالعلوم دیوبند کا دورہ بھی کیااور وہاں علماء کے ساتھ بات چیت کی ۔ ہندوستان میں جنگ آزادی میں اس درس گاہ کا کردار طالبان کے لیے نمایاں علامتی اور نظریاتی مطابقت رکھتی ہے۔ بہت سے سینئر طالبان رہنماؤں نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں دیوبند کےطرز پر قائم شدہ دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے ۔ دارالعلوم دیوبند میں جس جوش و خروش کے ساتھ افغانی وزیر خارجہ کا عوامی استقبال ہوا اس کی مثال کوئی اور عالمی رہنما نہیں پیش کرسکتا ۔ یہ امت کے عالمی اخوت کا ایک ثبوت تھا۔ امیر خان متقی سے پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ ’آپ دارالعلوم دیوبند گئے اور ایران، شام اور سعودی عرب میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جاتا۔ ۔ آپ افغانستان میں کیوں روک رہے ہیں، افغانستان کی خواتین کو تعلیم کا حق کب ملے گا؟‘ تو جواب ملا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے علما، مدارس اور دیوبند کے تعلقات دوسروں سے زیادہ ہیں۔تعلیم کے لحاظ سے اس وقت ہمارے(افغانی )ا سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ایک کروڑ طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں جن میں سے 28 لاکھ خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ یہ تعلیم دینی مدارس میں گریجویٹ سطح تک دستیاب ہے۔‘
امیر خان متقی کے دورہ دیوبند سے یوگی جیسے لوگوں کو شدید جھٹکا لگا جو طالبانی مذہبی فِکر کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دے کر اپنی سیاست چمکاتے رہے۔ آئی لو محمد ؐ کی مخالفت کا گھسا پٹا راگ الاپنے والوں کے اب منہ چھپانا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ مودی سرکار کے کہنے پر یوگی کے ہوتے ہوئے اترپردیش کے دیوبند میں یہ دورہ ہوا کوئی کچھ نہ کرسکا ۔ یوگی نے دیوبند میں اعلان کیا تھا کہ وہ طالبانی سوچ کو نیست و نابود کردیں گے مگر متقی کے دورے نے ان کے دعوے کو دریا برد کردیا ۔ اس سے بڑی رسوائی اور کیا ہوسکتی ہے کہ یوگی کے پاس افغانی وزیر خارجہ کو تحفظ فراہم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس موقع پر سنبھل سے سماج وادی رکن پارلیمان ضیاء الرحمان برق نے یاد دلایا کہ ان کے والد اور پارٹی کے رہنما شفیق الرحمان برق پر طالبان کی حمایت کے سبب مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بی جے پی لیڈر راجیش سنگھل کی شکایت کے بعد ان پر تعزیرات ہند کی دفعہ 124 اے (غداری) دفعہ 153A (مذہب، نسل، مقام پیدائش، رہائش، زبان کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور 295A (جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں، جس کا مقصد کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ وہ غداری الزام اور مذہبی جذبات اب کہاں چلے گئے؟یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ انہیں (برق) کو شرم آنی چاہیے۔ طالبانی وزیر خارجہ اترپردیش کےدورے پرہیں اور یوگی حکومت انہیں مکمل سیکورٹی فراہم کر رہی ہے۔ ایسے میں ضیاء الرحمان برق نے سوال کیاکہ یوگی حکومت کا یہ دوہرا معیار کیوں؟ اب کس کو شرم آنی چاہیے ؟’ یوگی نے تو خیر صرف زبانی نفرت انگیزی پر اکتفاء کیا تھا لیکن آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے تو ریاست کے 11 اضلاع سے 14 افراد کو سوشل میڈیا پر افغانستان کے حوالے سے پوسٹس کرنے اور طالبان کے افغانستان پر قبضے اور 20 سال بعد اقتدار میں واپسی کی حمایت کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔ان میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا رہنما سمیت ایک میڈیکل کا طالب علم بھی شامل تھا ۔ افغان وزیر خارجہ کے دورے نے ان سارے اسلام دشمنوں کے منہ پر یوگی اور مودی کی قیادت میں کالک پوت دی ہے۔ یہ مشیت کاکوڑا ہے۔
Like this:
Like Loading...