Skip to content
اعمالِ زندگی کا عکس ہے حالاتِ زندگی
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جابجا پچھلی امتوں کا ذکر کیا ہے اور بہت سے مقامات پر کامیاب وناکام قوموں کے احوال و حالات بیان کرکے رہتی دنیا تک کے لوگوں کو دعوت عبرت ونصیحت کا پیغام دیا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ فَانْظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذَّبِیْنَoہَـذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ (اٰل عمران:۱۳۷،۱۳۸)’’تم سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں ،تو تم زمین میں سیر کرکے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا،عام لوگوں کے لئے تو یہ ( قرآن مجید)بیان ہے اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ونصیحت ہے‘‘ قرآن مجید میں ایک اور مقام پر انسانوں کو زمین کے دیگر حصوں پر چل پھر کر نافرمان قوموں کے انجام بد کو دیکھنے اور ان سے عبرت ونصیحت پکڑنے کی تلقین کی گئی ہے ،اللہ تعالیٰ کا رشاد ہے : قُلْ سِیْرُوا فِیْ الْأَرْضِ فَانظُرُوا کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِن قَبْلُ کَانَ أَکْثَرُہُم مُّشْرِکِیْنَ(الروم:۲۴)’’زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ پچھلی امتوں کا انجام کیا ہوا جن میں اکثر لوگ مشرک تھے‘‘ ۔
اللہ تعالیٰ نےگزشتہ جن نافرمان قوموں کو اپنے دردناک عذاب سے دوچار کیا تھا ، ان پر اپنے شدید غصہ کا اظہار کیا تھا ، ان پر اپنی پھٹکار اُتاری تھی اور انہیں رہتی دنیا تک کے لئے نشان عبرت بنادیا تھا اس کی بنیادی وجہ غرور وتکبر، غفلت،ہٹ دھرمی، من مانی اور نافرمانی تھی ،انہوں نے اپنے خالق ومالک سے بے پرواہ ہوکر من مانی کرنے لگ گئے تھے اور اپنی پیدائش اور مقصد حیات کو بھول گئے تھے ،ان کی بے پرواہی اور لاپرواہ زندگی نے انہیں خطرات کی طرف ڈھکیل دیا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے من مانی نہیں چھوڑی تھی بلکہ انجام سے بے خبر ہوکر زندگی گزار رہے تھے آخر کار وہی ہوا جس کا ڈرتھا اور جس سے پیغمبروں نے انہیں ڈرایا تھا چنانچہ عذاب الٰہی نازل ہوا اور وہ سب کے سب قہر الٰہی میں گرفتار ہوکر عبرت کا نشان بن گئے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :أَفَلَمْ یَہْدِ لَہُمْ کَمْ أَہْلَکْنَا قَبْلَہُم مِّنَ الْقُرُونِ یَمْشُونَ فِیْ مَسَاکِنِہِمْ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّأُوْلِیْ النُّہَی(طٰہ:۱۲۸)’’کیا یہ بات ان لوگوں کی ہدایت کے لئے کافی نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سے فرقوں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھر تے ہیں ،(یقینا) عقل رکھنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں‘‘ ،ہوشمندی اور دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ پچھلی قوموں کے حالات وواقعات اور گزرے ہوئے اوقات ولمحات سے سبق لیا جائے اور بقیہ اوقات کا صحیح استعمال کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ بعد میں کف افسوس ملنا نہ پڑے،زندگی کی قدر دانی اور وقت کا صحیح استعمال آدمی کو کامیابی کی منزل پر پہنچادیتا ہے اور زندگی اور لمحات زندگی کی صحیح قدردانی یہ ہے کہ اسے دینے والے اور عطا کرنے والے کی مرضی کے مطابق خرچ کیا جائے اور اس کی نافرمانی وناراضگی میں لمحہ بھر بھی نہ گزارے،عبادت واطاعت خداوندی ہی دراصل زندگی کا مقصد اور اس کا صحیح استعمال ہے ،کیونکہ جس نے یہ زندگی بخشی ہے اس کا منشا ہی اس کی عبادت واطاعت ہے نہ کہ کھیل کود اور سیر وتفریح ،دنیوی زندگی دنیا بنانے اور دنیا کمانے کے لئے نہیں دی گئی ہے بلکہ اس میں رہ کر اس کے ذریعہ آخرت بنانے اور اُسے سنوار نے کے لئے دی گئی ہے،جس نے دنیا ہی کو مقصد زندگی بنایا وہ ناکام ہوگیا اور جس نے دنیا پر آخرت کو ترجیح دی وہ آخرت کی نعمتوں اور وہاں کی ابدی سرمدوں سے بہر ور ہوگیا،سال گزشتہ چاہے قمری ہو یا عیسوی بہرے حال زندگی کی ڈور کے ساتھ شامل حال ہے ، یہ جاتے ہوئے اور سال حال آتے ہوئے زبان حال سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ وقت کسی کے روکنے پر نہ رکتا ہے اور نہ ہی کسی کے آواز دینے پر لوٹ کر آتا ہے بس وہ تو گزرتا جارہا ہے اور اس کا کام ہی گزتے جانا ہے،کامیابی وقت کے ساتھ چلنے اور اس کی قدردانی کرنے میں ہی ہے اور وقت کی نعمت عطا کرنے والے منعم حقیقی کے حکم اور منشے کے مطابق کام کرنے ہی میں ہے،سال گزشتہ بھی سال پیوستہ کی طرح عالم اسلام اور مسلمانوں کے لئے جدجہد اور جیلنجس سے بھر پور رہا ، کیونکہ ہر سال بلکہ سال کا ہر مہینہ ، ہر ہفتہ ، ہر دن ، ہر گھنٹہ اور ہر ساعت اسلام دشمن طاقتیں ہر طرف سے سازشوں کا جال بچھاتے جارہے ہیں اور اس میں مسلمانوں کو قید کر کے ان کا عرصہ ٔ حیات تنگ کرنا چاہتے ہیں، گرچہ ان کی اسلام دشمنی کوئی نئی نہیں ہے بلکہ روز اول ہی سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے ، حق وباطل کی یہ کشمکش چلتی آرہی ہے ،چل رہی ہے اور چلتی رہے گی، بعض اوقات بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باطل حق پر غالب آگیا ہے اور حق مغلوب ہو نے کو ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ باطل کے بڑھتے قدم اہل حق کی مغلوبیت کی علامت نہیں ہے ،حق تو بہرے حال حق ہی ہے اور وہ آیا ہی ہے غالب ہونے ،اپنی حقانیت ثابت کرنے اور حق وباطل میں واضح فرق دکھانے کے لئے،اللہ تعالیٰ نے حق پرستوں کی کامیابی اور ان کے غلبہ کا وعدہ فرمایا ہے، مگر خدا نے باطل پر حق کی فتح وکامیابی کو ایمان کامل اور مکمل فرماں برداری کے ساتھ مشروط کر دیا ہے،اہل ایمان کی زندگی خدا کی امانت اور ان کے لمحات خدا کی عنایت ہیں ،وہ جب اس کی قدردانی کرتے رہیں گے اور اسے اپنے خالق ومالک کی مرضی کے مطابق خرچ کرتے رہیں گے کامیابی وسر بلندی ان کے قدم چومتی رہے گی ،وہ معمولی وسائل رکھنے کے باوجود غیر معمولی کام انجام دیتے رہیں گے ،ان کی نگاہیں تیر کا کام کریں گی ،ان کے ہاتھ فولادی اثر رکھیں گے،ان کے قدم کامیابی کی سمت بڑھتے ہی جائیں گے اور ان کے دلوں کی ایمانی حرارت سے دشمن کانپ اُٹھیں گے،تاریخ گواہ ہے بلکہ ان ایمانی قوت و تاثیر رکھنے والوں اور ان کے بے مثال کارناموں سے تاریخی صفحات روشن ہیں،انہوں نے اپنی قوت ایمانی،طاقت لسانی ،عزئم کی پختگی ،ذہنی بلندی ،بلا کی ثابت قدمی ،بے مثال خود داری ،جرأت حق ،جبال استقامت اور بے باکانہ دلیری کے ذریعہ ہر طرف کامیابی وکامرانی کے جھنڈے گاڑ دئیے ،وہ جدھر کا رخ کئے ادھر کامیابی نے دو ڑ کر ان کا استقبال کیا، مگر اپنے آبا ء واجداد کی ایسی عظیم تاریخ رکھنے والوں کی اولاد آج معمولی پتھروں سے ٹھوکریں کھارہی ہیں،ترچھی نظر رکھنے والے ان کی آنکھ سے آنکھیں ملا رہے ہیں ،ناکامیوں کا رونا رونے والے آج انہیں آنسو بہانے پر مجبور کر رہے ہیں،لگتا ہے کہ کامیابی اس سے گویا روٹھ گئی ہے اور ناکامیاں ان کے تعاقب میں لگی ہوئیں ہیں، ان اسباب وعلل پر غور و فکر کرنے کے بجائے یہ ابھی بھی خواب وغفلت میں پڑے ہیں، ماہ وسال گزرتے جارہے ہیں اور یہ ہیں کہ اپنی روش تبدیل کرنے اور حالات کی سنگینی پر غور وفکر کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں، آج امت مسلمہ پر بے حسی غالب آچکی ہے ، سنجیدگی ومتانت اس سے غائب ہو چکی ہے ،مُر دنی ان پر سایہ فگن ہے
اور قوموں کی طرح یہ بھی دنیا اور اسباب دنیا کے جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، یہ احکامات خداوندی اور تعلیمات نبویؐ کو پس پشت ڈال کر شب وروز گزار رہے ہیں ،جب کہ ان کی سربلندی ، بلند پروازی اور عروج وکمال اسی کے ساتھ وابستہ ہیں ،دین اسلام اور اس کی تعلیمات ہی ان کا امتیازی نشان ہے ، جب تک یہ شرعی اصو لوں پر قائم رہیں گے اور نبوی تعلیمات پر مکمل عمل کرتے رہیں گے تب تک دنیا کی کوئی طاقت ان سے ان کا حق چھین نہیں سکتی اور نہ ہی ان کے شعائر پر بُری نظر ڈال سکے گی ،قوم مسلم تو وہ قوم ہے کسی زمانے میں وقت کے بادشاہوں نے اپنے تاج ان کے قدموں میں رکھے تھے، قلت کے باوجود وہ کثرت پر غالب تھے،بھوکے ہونے کے باوجود دشمن پر شیر کی طرح جھپٹتے تھے، آج کے حالات کے یہ خود ذمہ دار ہیں ، دین اسلام کے اس عظیم نعمت کی جب سے یہ نا قدری کرنے لگے ہیں اور اس کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر زندگی گزار رہے ہیں تب سے اللہ تعالیٰ نے ان سے جاہ وجلال ،عزت وکمال ، منصب واقتدار اور رعب ودبدبہ چھین لیا ہے ،قرآن مجید میں حالات کے بدلنے کا خود انسان کو ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِہِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللّہُ بِقَوْمٍ سُوء اً فَلاَ مَرَدَّ لَہُ وَمَا لَہُم مِّن دُونِہِ مِن وَال(الرعد:۱۱) ’’کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے !اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو سزا دینے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ بدلہ نہیں کرتا ،اور سوائے اس کے ان کا کوئی بھی مدد گار نہیں‘‘،مسلمان جب تک اپنے حالات درست نہیں کر لیتے اور اپنے آپ کو کتاب وسنت کے سپرد نہیں کر دیتے اور متحد ہوکر اللہ کی رسی کو مضبوط تھام نہیں لیتے اس وقت تک یہ حالات ان پر سایہ کی طرح مسلط رہیں گے اورد شمنان اسلام کی سازشوں کا شکار ہوتے رہیں گے ، موجود ہ عالمی حالات اور خود ہمارے اپنے ملک کے حالات ہم کو دعوت فکر دے رہے ہیں اور سنجیدہ ہوجانے کی ترغیب دے رہے ہیں، ، مسلمان ایمانی روشنی سے وہ چیزیں دیکھ لیتا ہے جو دوسرا سورج کی روشنی میں بھی دیکھ نہیں پاتا، سنجید گی، دوراندیشی ،حکمت اور دانائی اس کاگم شدہ خزانہ ہے ،جب وہ اسے پالیتا ہے تو پھر دیگر قوموں کا زوال شروع ہوجاتا ہے ،مسلمانوں کو ان حالات میں متحد ہوکر ،مجتمع ہوکر سنجید گی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ،شخصی منفعت کو بالائے طاق رکھ کر ملکی ،عوامی اور ملی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا ، ان کے سامنے صرف ایک دو مسائل نہیں ہیں بلکہ کئی مسائل اور بہت سے چیلنجس ہیں،مسلمانوں کا قبلہ ٔ اول (مسجد اقصیٰ) انہیں آواز دے رہا ہے جو فی الحال دشمنوں کے قبضہ میں ہے ، کئی ایک ممالک ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی جان ،مال ،عزت آبرو خطرہ میں ہے اور خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی شریعت کے تحفظ کا بڑا مسئلہ درپیش ہے ، یہاں مسلمانوں سے ان کی مذہبی شناخت چھیننے کی کوشش کی جاری ہیں ، یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ،ان حالات میں مسلمانوں کو چوکنا ہوکر اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری طریقہ پر جہد جہد کرنا ہوگا ،ہر حال میں دین کی حفاظت کرنی ہوگی ،یقینا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر رسول اللہ ؐ کی تعلیمات کے راستے سے گزرتے ہوئے ، صحابہ ؓ کے طریقے پر چل کر اور اکابرین امت ؒ کے نقش قدم پر گامزن ہوکر ہی ہم نشان منزل پاسکیں گے ،ورنہ اپنے احوال کو بدلے بغیر اگر ہم حالات کے تبدیلی کی امید رکھیں گے تو جان لیجئے ہم بڑا نادان کوئی اور نہیں ہے ۔
ٓٓیا ہی کے پر تولنے، اپنے اور بے گانوں کی پہنچان کرنے، انہیں جگانے ،آزمائش کے ذریعہ چمکانے ، ان کے کمزور ایمانی طاقت و قوت کو بڑھانے اور مزید خدا کا تقرب دلانے کے لئے ہوتے ہیں ، میں نئی جان انہیں حق ہی کو میابی اور سربلندی نصیب ہوتی ہے ہر دور رضی چیزوں کو مسئلہ بناکر اسے رائی کا پہاڑ بنایا جارہا ہے اور اس کے سہارے مسلمانوں پر عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں، کہیںمسلم ممالک کو آپس الجھا کر ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جارہا ہے تو کہیں جبر وتشدد کے ذریعہ ان پر اپنا تسلط قائم کیا جارہا ہے تو کہیں جمہوریت کے نام پر انہیں تہس نہس کیا جارہا ہے،ان حالات کا اگر مسلم حکمران سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیں گے ،دشمنان اسلام کی سازشوں سے چوکنا نہیں رہیں گے ،دوراندیشی کا مظاہرہ نہیں کریں گے ،شخصی منفعت کو بالائے طاق رکھ کر ملکی ،عوامی اور ملی مفادات کا تحفظ نہیں کریں گے اور سب سے بڑی قوت آپسی اتحاد کو پروان نہیں چڑھائیں گے تو وہ دن دور نہیں جب ان پر دشمن اس طرح حاوی ہوگا جس طرح باز اپنے شکاری پر حاوی ہوتا ہے، مسلمانوں کا قبلہ ٔ اول (مسجد اقصیٰ) دشمنوں کے قبضہ میں ہے اور روز بروز دشمن اپنا شکنجہ مضبوط کستے جارہے ہیں حالانکہ یہ خا ص مسلمانوں کا ہے اور ہر اعتبار سے مسلمان اس کے حقدار بھی ہیں،قبلہ ٔ اول کے ساتھ مسلمانوں کی اٹوٹ وابستگی ہے ،اس کے ساتھ مذہبی کئی چیزیں وابستہ ہیں،مسلمان جیتے جی اسے ہر گز چھوڑ نہیں سکتے اور جب تک ان کے رگوں میں لہو دوڑ رہا ہے اور جب تک جسم میں جان رہے گی ان شاء اللہ اس کا تحفظ اور صہیو نی پنجوں سے آزاد کرانے کی پوری پوری کوشش کرتے رہیں گے،ہمارے ملک ہندوستان میں بھی مسلمانوں سے تعصب برتا جارہا ہے، باضابطہ منظم طریقہ سے ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں،ان کے حقوق کی پامالی کے پلان بنائے جارہے ہیں ،ان سے ان کی مذہبی شناخت چھیننے کی کوشش کی جاری ہیں ،طلاق ثلاثہ کی آڑ میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ،ان حالات میں مسلمانوں کو چوکنا ہوکر اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوری طریقہ پر جہد جہد کرنا ہوگا اور بہرے حال دین کی حفاظت کرنی ہوگی۔
Like this:
Like Loading...
amazon black hair dye shampoo