Skip to content
ٹرمپ کا ٹیرف اور مشکلات سے دوچار بھارتی لیدر انڈسٹری
ازقلم:اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی
دنیا آج ایک ایسے بازار میں تبدیل ہوچکی ہے جس کی لگام چند ایسے سرمایہ دار ملک کے ہاتھوں میں ہے جو صرف اپنے مفادات کو مد نظر رکھ کر اس میں کھینچ تان کرتے رہتے ہیں، اس میں ریاستہائے متحدہ امریکہ سر فہرست ہے۔ بالخصوص جب سے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت سنبھالا ہے ٹیرف کے نام پر تجارتی دنیا میں ایک بھونچال بر پا کر رکھا ہے۔ آئے دن موصوف کچھ نہ کچھ ایسا کرتے رہتے ہیں جس سے بازار کا اتار چڑھاؤ غیر یقینی ہوکر رہ گیا ہے۔ وہ چونکہ خود ایک تاجر ہیں اس لئے ہر مسئلے کو تجارتی نقطہء نظر سے ہی دیکھتے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ موجودہ دور سرمایہ داروں کا دور ہے اور دنیا کے اکثر ممالک میں حکومتیں سرمایہ داروں کے دباؤ میں یا تعاون سے چل رہی ہیں، ایسے میں اگر کسی سے اپنی بات منوانی ہے تو اس کا آسان طریقہ اس کی تجارت میں اڑچن پیدا کرکے ہی ممکن ہے۔ اپنی اس حکمت عملی کو بروئے کار لا کر امریکی صدر نے دنیا کے کئی ممالک کی برآمدات پر ٹیرف کے نام سے کچھ ایسے اضافی ٹیکس عائد کر دئے ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک کا اقتصادی ڈھانچہ ہل کر رہ گیا ہے۔بالخصوص وطن عزیز ہندوستان پر انہوں نے ہمارے وزیر اعظم سے دوستی کا غیر معمولی اظہار کرنے کے باوجود پچاس فیصد ٹیرف لگا کر ہماری معیشت کو گہری چوٹ پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ الزام یہ ہے کہ بھارت روس سے پابندی کے باوجود لگاتار کچا تیل درآمد کرتا آرہا ہے جس کی وجہ سے اور اسی ہمت پر روس یوکرین جنگ کو اور طول دیتا جارہا ہے۔
امریکہ کی اس غیر منصفانہ رویے سے ہندوستان کی تجارت کو ایسا دھچکا لگا ہے کہ جس کے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔ ہندوستانی مصنوعات پر پچاس فیصد امریکی محصولات عائد ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی برسوں سے چلے آنے والے تجارتی تعلقات کا گراف تیزی سے گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ اس نئے امریکی محصولات سے ہندوستان سے امریکہ برآمد ہونے پچپن فیصد اشیاء متاثر ہوںگے۔ جن میں چمڑے کی مصنوعات، سمندری غذائیں، جواہرات، کپڑا اور لباس، آٹو پارٹس شامل ہیں۔
چمڑے کی مصنوعات پر پچاس فیصد محصولات عائد ہونے کے بعد سے ہندوستان کا چمڑا بازار تیزی سے گراوٹ کی جانب گامزن ہے۔ یاد رہے کہ ہندوستانی برآمدات میں صرف چمڑے کے شعبے کی حصہ داری آٹھ سے نو فیصد کے درمیان ہے۔ گزشتہ مالی سال 24-2023 ہندوستان کے چمڑے کی مصنوعات کی برآمدات کی لاگت 69۔4 ڈالر رہی۔ جس میں 90۔20 فیصد امریکہ کی حصہ داری ہے۔ باقی زیادہ تر یورپی ممالک کو برآمد کئے گئے اور تھوڑا بہت ایشیائی اور دوسرے ممالک کو برآمد کیا گیا۔
دنیا بھر میں چمڑے کی مصنوعات برآمد کرنے والے ممالک میں ہندوستان کا نمبر چوتھا ہے۔ دنیا بھر کے چمڑے کی مصنوعات کا تیس فیصد حصہ ہندوستان میں تیار ہوتا ہے جس سے 4۔4 ملین لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ ان مصنوعات میں تقریبا پچاس فیصد جوتے اور چپل اور اس کے اجزاء ہوتے ہیں اور باقی پچاس فیصد میں رنگے ہوئے چمڑے، گارمنٹس، بیلٹس، دستانے، پرس اور دیگر مصنوعات ہوتے ہیں۔
پہلے ہی سے ایک جانب جہاں مقامی سطح پر ماحولیاتی آلودگی کے لئے ذمہ دار قرار دے کر مختلف پابندیوں سے دوچار چمڑے کی صنعت، بازار میں مصنوعی متبادلات کی وافر مقدار میں موجودگی اور سخت عالمی مسابقت کی وجہ سے مسلسل گراوٹ میں مبتلا تھی،وہیں دوسری جانب روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے یورپی بازار میں مانگ کی کمی سے متاثر ہورہی تھی ایسے میں 27 آگست سے لگے پچاس فیصد امریکی محصولات نے گویا اس کی کمر ہی توڑ کر رکھ دی ہے۔
ریاست ٹمل ناڈو آگرہ اور کانپور کے ساتھ چمڑے کی مصنوعات کا کل ستر فیصد حصہ امریکہ کو برآمد کرتا ہے۔ ان مصنوعات میں جوتے، گارمینٹس، والیٹس، بیلٹس اور بیگس شامل ہیں۔ ریاست ٹمل ناڈو میں بننے والے چمڑے کی مصنوعات کا نصف حصہ امریکہ کو برآمد ہوتا ہے۔ یہ مصنوعات ریاست کے مختلف شہروں جیسے چنئی، رانی پیٹھ، میل وشارم، پیرنامبٹ، آمبور، وانم باڑی، ترچی، ڈنڈیکل اور ایروڈ میں تیار ہوتے ہیں اور یہاں ان کے بڑے بڑے کارخانے موجود ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس صنعت سے جڑ کر ملازمت کررہے ہیں۔ برآمدات میں کمی کا راست اثر ان ملازموں پر پڑرہا ہے۔ یہ مزدور، سماج کے غریب طبقے کے ہیں اور ان کی روزی روٹی کا مکمل انحصار انہیں ملازمتوں پر ہے۔ اگر یہ ملازمتیں ان سے چھن گئیں تو گویا ان کی اور ان کی اولادوں کی زندگی مکمل تباہ ہوسکتی ہے۔ اس بات کو لے کر ان کے درمیان بڑی پریشانی ہے۔ ملازمین میں بڑی تعداد عورتوں کی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے گھروں میں خوش حالی آئی ہوئی تھی جس پر اب غیر یقینی حالات کی وجہ سے سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ریاست تمل ناڈو کے ان فیکٹریوں میں اڈیسہ، بہار، آسام اور بنگال سے لوگ آکر ملازمت کر رہے ہیں اور ان سے ملازمتیں چھن گئیں تو اس کا اثر ان ریاستوں میں بھی محسوس ہوگا۔
اس مسئلے کو لے کر بھارت کی چمڑے اور جوتے کی صنعت کے نمائندوں نے 2 ستمبر 2025 کو مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی تاکہ امریکہ کی جانب سے برآمدات پر حالیہ پچاس فیصد ٹیرف میں اضافے کے اثرات پر بات کی جا سکے۔ یہ ملاقات کونسل فار لیدر ایکسپورٹس کی جانب سے منعقد کی گئی تھی جس میں چیئرمین آر کے جالن، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آر سیلوام اور دیگر صنعت کار شریک ہوئے۔ وفد نے وضاحت کی کہ اگست 2025 میں ٹیرف میں اضافے کے بعد برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے طلب میں کمی اور سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ محترمہ سیتا رمن نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت برآمد کنندگان کی مدد کے لیے پرعزم ہے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدام پر غور کر رہی ہے۔
بعد میں پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا ہے کہ ’’مرکزی حکومت ایک جامع پیکج پر کام کر رہی ہے تاکہ اُن برآمد کنندگان کی مدد کی جا سکے جنہیں امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے 50 فیصد سخت ٹیرف سے متاثر ہونا پڑ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف محکموں کی سطح پر مشاورت اور سرگرمیاں جاری ہیں تاکہ بھارتی برآمدات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ مختلف صنعتیں اپنے اپنے محکموں اور متعلقہ وزارتوں کو اس اضافے کے اثرات سے آگاہ کر رہی ہیں، کیونکہ ٹیرف کا دوسرا حصہ (25%) 27 اگست 2025 سے نافذ ہو چکا ہے۔‘‘
’’ہم ان (محکموں) کی رائے حاصل کر رہے ہیں، کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان برآمد کنندگان کا ہاتھ تھاما جا سکے جو امریکہ کے 50 فیصد ٹیرف سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب تک ہمیں مکمل تخمینہ نہیں ملتا، ہم کیسے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اثرات کتنے ہیں؟ اسی لیے ہر وزارت اپنے اسٹیک ہولڈرز سے بات کر رہی ہے اور ان سے براہِ راست یہ پوچھ رہی ہے کہ کتنا آپ کے اوپر اس کا اثر پڑے گا‘۔ ہمیں یہ سب دیکھنا ہوگا ۔‘‘
زمینی سطح پر حکومت کی جانب سے ابھی تک اس مسئلے کو لے کر کوئی جوابی حل نہیں ملا ہے۔ اس بیچ بہت سارے کارخانوں میں مزدوروں کو ہمیشہ کی چھٹی دے دی گئی ہے تو کچھ جگہوں پر ہفتہ میں چار دن کی چھٹی اور دو دن کا کام دیا گیا ہے۔ صرف ان ٹینریس اور کارخانوں میں کام چل رہا ہے جو یورپی مارکیٹ یا دیگر ممالک کے مارکیٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ ٹینریس اور کارخانے جن کا انحصار امریکی برآمدات پر تھا یا تو مکمل طور پر بند کر دئے گئے ہیں یا بند کرنے کی کگار پر ہیں اس مسئلے پر مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آل انڈیا لیدر ایکسپورٹرز اینڈ ٹینرز ایسوسی ایشن کے صدر پدم شری ڈاکٹر ایم رفیق احمد نے کہا ہے کہ
’’ دوماہ قبل امریکی حکومت نے دنیا کے مختلف ممالک پر 10 فیصد سے 50 فیصد تک ٹیکس عائد کیا تھا۔ چمڑے اور جوتے کی برآمد میں مقابلہ کرنے والے ممالک جیسے ویتنام، کمبوڈیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش وغیرہ پر 20 فیصد ٹیکس لگایا گیا، لیکن بھارت پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا۔ ایک ہفتے بعد امریکہ نے یہ شرط رکھی کہ بھارت روس سے خام تیل کی درآمد بند کرے کیونکہ اس سے روس کو زیادہ منافع ہو رہا ہے۔ لیکن بھارتی حکومت نے اس شرط کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح امریکہ نے یہ بھی شرط رکھی کہ بھارت امریکی زرعی مصنوعات درآمد کرے، لیکن بھارت نے اس شرط کو بھی مسترد کر دیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ نے بھارت سے برآمد ہونے والی تمام اشیاء پر 50 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا۔ اس فیصلے سے بھارت کے برآمدکنندگان کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ خاص طور پر ضلع ویلور میں چمڑے اور جوتے کی صنعت پر شدید اثر پڑا ہے۔ اسی طرح تریپور اور کوئمبتور کے برآمدی صنعتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘‘
’’ہم نے مرکزی حکومت کو اس مسئلے سے آگاہ کیا تھا۔ حکومت نے ایک ہفتے میں جواب دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن چھ ہفتے گزر جانے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا۔ جوتے کی فیکٹریوں میں 90 فیصد خواتین کام کر رہی ہیں۔ اگر وہ بے روزگار ہو گئیں تو ان کے خاندان متاثر ہوں گے۔ 50 فیصد ٹیکس کے باعث برآمد ممکن نہیں رہا، اس لئے برآمدات بند کرنے پڑے جس کی وجہ سے کارخانے بھی بند ہونے لگے۔ فی الحال میری فیکٹری میں (جو امریکہ کو برآمد کرتی ہے) 12 ہزار مزدور کام کر رہے تھے۔ سب متاثر ہوئے ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی اور حکومت کی طرف سے کوئی ریلیف نہ ملا تو ان 12 ہزار مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے، جس سے اتنے ہی خاندان متاثر ہوں گے۔ امریکہ کو برآمد کرنے والی زیادہ تر بڑی کمپنیاں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ آمبور میں ہی تقریباً 25 ہزار خاندان متاثر ہوں گے۔ یہ صورتحال اگلے دو ہفتوں میں سامنے آسکتا ہے۔ اس کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت کو ریلیف دینا ہوگا۔ میری فیکٹری میں کام کرنے والے 2 ہزار مزدور پہلے ہی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ مزید یہ کہ آمبور میں امریکہ کو برآمد کرنے والی تین فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔ یہ تینوں فیکٹریاں آمبور کے جوتوں کی 60 فیصد پیداوار کرتی تھیں۔ اگر امریکہ ٹیکس کم بھی کر دے تو برآمدات کا سیزن ختم ہوچکا ہے۔ اگر نئے آرڈر بھی آئیں تو اس میں چھ ماہ لگیں گے۔ اس وقت تک اگر حکومت ریلیف فراہم کرے تو ہی مزدوروں کو بچایا جاسکتا ہے۔‘‘
آمبور ٹینرس اسوسیشن کے نائب معتمد فتح خان طہٰ محمد جو سماجی کاموں میں بھی کافی فعال ہیں، نے اس مسئلے کو لے کر پوچھے گئے سوال پر دعوت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیونکہ شہر آمبور کے اکثر ٹینریس میں جو چمڑا تیار ہوتا ہے وہ زیادہ تر آمبور کے شو فیکٹریس میں استعمال ہوتا ہے یا آگرہ بھیج دیا جاتا ہے اور وہاں سے بھی امریکہ کو ہی بر آمد کیا جاتا ہے۔ ٹیرف کے بعد آمبور شو فیکٹریس کی جانب سے بھی آرڈرس آنا بند ہوگئے ہیں اور آگرہ والوں نے بھی پہلے سے دئے ہوئے آرڈرس رد کر دئے ہیں۔ لگ بھگ 60 فیصد کام کارخانوں میں بند ہوگیا ہے اور جہاں تک ملازمین کا تعلق ہے، جو روزانہ کے اجرت پر مزدور بھرتی کئے جاتے تھے وہ مکمل روک دیئے گئے ہیں، تنخواہ دار ملازموں میں بھی لگ بھگ پچیس فیصد افراد کو فارغ کردیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ کے ایک ہفتے کے اندر اس مسئلے پر کچھ ٹھوس فیصلہ لینے کے وعدے کے باوجود ابھی تک حکومت کی جانب سے کسی قسم کی راحت کا اعلان نہیں ہوا ہے۔‘‘
ہندوستانی چمڑے کی صنعت میں ایک معتبر نام پٹیل محمد یوسف نے دعوت سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکہ ہمارا بہت بڑا گاہک ہے، ہمارے یعنی لیدر انڈسٹری کے برآمدات کا لگ بھگ تیس فیصد حصہ اس کے خریداری میں آتا ہے،باقی دنیا بھر کے ممالک کو جاتا ہے۔اسی طرح اور چیزوں میں بھی اس کے برآمدات زیادہ ہیں کیونکہ اس کی آبادی بہت بڑی ہے بانسبت دوسرے ممالک اور وہاں کے لوگوں میں صارفیت بھی کچھ زیادہ ہی ہے اس کی وجہ کافی مال وہ لوگ خریدتے ہیں۔ جہاں تک گارمنٹ اور گلوز کا معاملہ ہے اس کا بھی اچھا خاصا حصہ امریکہ کو ہی جاتا ہے۔ اس کے لئے باقی مارکیٹ بہت مختصر ہیں مثلًا یورپ کے تعلق سے یہ بات مشہور ہے کہ سارا یورپ مل کر بھی برآمدات میں امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ایک اور بات یورپی مارکیٹ کے حوالے سے یہ ہے کہ یوکرین جنگ جب سے شروع ہوئی ہے یورپ کی معاشی اور اقتصادی حالت کمزور ہونا شروع ہوگئی ہے۔ یہ عام بات ہے کہ جب بھی کہیں کے اقتصادی حالات کمزور ہوتے ہیں تو لوگ لگژری چیزوں کی خریداری بند کردیتے ہیں اور اپنی بنیادی ضرورت کی چیزیں خریدنے پر ہی سارا زور دیتے ہیں اس وجہ سے بھی وہ وہاں کے برآمدات متاثر ہوئے ہیں۔اگر ادھر دیکھیں جیسے جاپان ہے تو اس کی آبادی ہمارے کسی بڑے شہر کی آبادی جتنی ہی ہے تو وہاں ہمارے مال کی اتنی کھپت نہیں ہوسکتی،ایسے میں امریکہ کے بغیر لیدر انڈسٹری میں بڑی کمزوری آ سکتی ہے، اگر دیکھا جائے تو کمزوری آچکی ہے۔ ہمارے یہاں کچھ لوگ امریکہ کے ساتھ تیس چالیس فیصد جڑے ہوئے تو کچھ لوگ ستر فیصد اور کچھ لوگ تو سو فیصد اسی کے ساتھ کاروباری رابطے میں ہیں۔ ان سب کے کاروبار میں بڑا فرق پڑ چکا ہے۔ وانم باڑی جو فنش لیدر کا بڑا مارکیٹ ہے یہاں سے بھی گارمنٹس اور شو بنانے والوں نے اپنی خریداری بند کر دی ہے اس وجہ سے فنش لیدر کا مارکیٹ بھی ڈاؤن ہوگیا ہے۔ اب رہا مسئلہ یہاں پر کام کرنے والوں اور مزدوروں کا تو یقیناً اس میں اچھا خاصا فرق پڑے گا۔ لوگ ممکن ہے دو تین مہینہ انہیں برداشت کرلیں اور تنخواہ دیتے رہیں لیکن آگے بھی ایسا ہی چلتا رہے یہ بہت محال ہے۔ کچھ جگہ تو ابھی سے ملازمین کو چھاٹنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ایسا صرف ہمارے انڈسٹری میں ہی نہیں ہورہا ہے بلکہ اور مارکیٹس میں بھی ٹیرف کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ وانم باڑی میں ممکن ہے اس کے زیادہ اثرات اسی ماہ سے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں اور ملازمین اور مزدروں کو ایک لمبی چھٹی دے دی جائے، خاص کر فیکٹریوں میں کام کرنے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے، جو کما کر اپنے گھر کو سنبھال رہی ہیں، ان کے بے روزگار ہوجانے سے مسائل اور زیادہ گمبھیر ہوجائیں گے۔ وانم باڑی کے ٹیناریس میں اندازاً چالیس فیصد تک لوگوں کو نکالنا پڑے گا اور کارخانوں کی بات کی جائے تو وہاں ستر فیصد کے قریب کام کرنے والوں کو فارغ کرنا پڑے گا۔ ان سب کی وجہ شہر کی معاشی حالت پر بہت بڑا فرق پڑ ے گا۔ اس سلسلے میں ہم لوگوں نے حکومت کے آگے بہت سارے مطالبات پیش کئے تھے مگر حکومت کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی راحت کا اعلان نہیں ہوا ہے،دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘
ٹرمپ کے اس پچاس فیصد ٹیرف کے زمین پر کیا اثرات ہیں یہ جاننے کے لئے جب ٹینریس اور چمڑے کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور دیگر اسٹاف سے بات چیت کی گئی تو پتہ چلا کہ حالات تیزی سے بد سے بد تر ہورہے ہیں۔ ان ٹینریس اور کارخانوں میں جہاں کے برآمدات یورپی یا مشرقی و مغربی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہوتے ہیں کچھ خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ مگر جن کا دار و مدار امریکہ پر تھا یا جو اپنے برآمدات کا کچھ حصہ امریکہ کے ساتھ رکھتے تھے ان کے یہاں پریشانی دیکھی جارہی ہے۔ ندیا نامی ایک عورت نے کہا کہ وہ ایک شو فیکٹری میں کافی عرصے سے کام کر رہی تھی مگر اب وہاں سے کام نہ ہونے کی بنا پر اُسے نکال دیا گیا ہے، اس نے مزید کہا میرے شوہر بھی اسی فیکٹری میں کام کرتے ہیں انہیں بھی کام پر آنے سے منع کردیا گیا ہے۔ ہم بہت پریشان ہیں، ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں۔ ہمارا پورا انحصار اسی ملازمت پر تھا۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں۔ مرکزی حکومت سے ہماری گذارش ہے کہ وہ اس سلسلے میں کچھ کرے جس سے ہمارے مسائل حل ہو سکیں۔آمبور کے ایک قریبی دیہات کے پرمیلا اور جیوتی نامی عورتوں سے بات چیت پر انہوں نے کہا کہ وہ آمبور کے ایک شو فیکٹری میں گزشتہ دس برسوں سے کام کرہی تھیں لیکن ٹرمپ کی ٹیرف کی وجہ سے کام نہیں ہے کہہ کر انہیں نکال دیا گیا۔ اس وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اور کتنے لوگ اس طرح پریشان ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہزاروں لوگ اس سے متاثر ہوکر پریشان ہیں۔ انہوں نے بھی حکومت سے اس مسئلے میں مداخلت کی اپیل کی۔ اسی طرح ایک اور مزدور سندر سولن کا کہنا ہے کہ وہ لگ بھگ بیس سالوں سے ٹینریس اور شو فیکٹریوں میں کام کرتے آرہے ہیں، امریکہ کی ٹیرف کی وجہ سے تین فیکٹریاں بند کر دی گئی ہیں۔ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو تقریباً بیس ہزار کے قریب افراد کے روزگار چھن جانا یقینی ہے۔ مرکزی حکومت سے میری اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے فوری اقدام کرے۔وانم باڑی کے سید جاوید احمد، جن کی کاٹن باکس تیار کرنے کی فیکٹری ہے جو ایکسپورٹ فیکٹریوں کو کاٹن باکس بناکر دیتے ہیں، نے کہا کہ جب سے ٹرمپ کا ٹیرف لگا ہے ایکسپورٹس میں واضح کمی آگئی ہے جس کی وجہ سے ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو ساٹھ فیصد ملازمین کو رخصت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایک اور بات یہ بھی کہی کہ کاٹن باکس بنانے کے لئے وہ جو کاغذات خریدتے ہیں ان پر اٹھارہ فیصد جی ایس ٹی لگتا ہے مگر جب وہ اسے کاٹن باکس میں ڈھال کر فروخت کرتے ہیں تو صرف پانچ فیصد جی ایس ٹی لگانا پڑتا ہے، یعنی کل 13 فیصد کا نقصان انہیں بھگتنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے ان مسائل پر توجہ دینی کی بات بھی رکھی۔ وانم باڑی کے ایک بڑی ٹینری کے منیجر اعجاز اسلم نے اس مسئلے کو لے کر اور اس سے جڑے لوگوں میں جو بے چینی کا ماحول ہے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ وانم باڑی پر ابھی تک اس کے اثرات کافی کم ہی ہیں۔ کیونکہ یہاں کے اکثر ٹینریس اور کارخانے راست امریکی برآمدات سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ بہت جلد انڈسڑی کے روزمرہ معاملات میں بہت بڑا فرق آنے والا ہے۔ چنئی پلاورم سے ہیچ مختار احمد جو ایکسپورٹ اسارٹمنٹ کا کام دیکھتے ہیں اور لیدر انڈسٹری پر کافی گہری نظر رکھتے ہیں، نے کہا کہ چنئی پلاورم میں صرف دوچار کمپنیاں ہی راست امریکی برآمدات پر منحصر ہیں، باقی کمپنیاں اکثر دوسرے ممالک سے جڑی ہوئی ہیں اس لئے یہاں ذیادہ سے ذیادہ پچیس فیصد تک فرق پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ٹرمپ کی ٹیرف کے مہیب اثرات بھارتی لیدر انڈسٹری پر دھیرے دھیرے پڑنا شروع ہوگئے ہیں، لوگ ایک امید کے ساتھ کہ یہ چیزیں وقتی ہیں اور بہت جلد اس کا حکومت کچھ نہ کچھ حل نکال لے گی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ مگر جیسے جیسے دن گزرتا جارہا ہے، امیدیں ٹوٹ رہی ہیں۔ اگر اس مسئلے پر مرکزی حکومت نے کوئی فوری کاروائی نہیں کی اور اس کے حل کی جانب ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو یہ بات یقینی ہے کہ اس سے جڑے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ ملک کی اقتصادی ترقی پر بھی اس کا واضح اثر پڑے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
Like this:
Like Loading...