Skip to content
ہند میں اسلام کی تاریخ اور اس کے بقاء کی تدبیریں:
از قلم : محمد ریحان قاسمی ورنگلی
اسلام وہ ابر رحمت ہے جو عالم انسانیت کی سیرابی کے لیے عرب کے افق سے اٹھا اور دنیا کے گوشے گوشے کو سیراب کر گیا اس باران رحمت کے اثر سے کتنے نخلستانوں اور بیابانوں میں علم و حکمت اور رشد و ہدایت کی باد بہاری چلی، تہذیب و تمدن کے کتنے قافلے یہاں خیمہ زن ہوئے اور کتنے کم گشتہ راہوں نے منزل مقصود کا نشاں پایا وہ سب کی سب دامن تاریخ کی زینت نہ بن سکے؛ لیکن جن گلستانوں اور پھولوں کی عطر بیز ہواؤں نے تادیر ماحول کو معطر کیا ان میں سے کسی کسی کا کچھ تذکرہ سفر ناموں اور تاریخ و وقائع کے ذخیروں میں ملتا ہے ۔
چنانچہ سرزمین ہند بھی اس باران رحمت کی فیض رسانی سے محروم نہ رہی، ہندوستان ان خوش قسمت ممالک میں سے ایک ہے جو جغرافیائی لحاظ سے ہزاروں میل کی طول مسافت کے باوجود جزیرہ نمائے عرب سے تاریخی اعتبار سے ہمیشہ مربوط رہا ہے، عہد رسالت اور اس کے بعد تک بھی عرب و ہند کے درمیان گوناگوں تعلقات تھے؛ مگر تجارتی تعلق سب سے زیادہ قدیم اور اہم تھا، یہ تعلق اس قدر مضبوط، مستحکم اور موثر تھا کہ اہل عرب کے یہاں معزز ترین قبائل و عشائر کے افراد کے نام "ہند کی جانب منسوب” ملتے ہیں، ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مختلف قسم کی تجارتی اشیاء عرب جایا کرتی تھیں اور پھر وہاں کے مختلف بازاروں اور مختلف علاقوں میں جا کر فروخت ہوا کرتی تھیں، یوں تو پورے عرب میں ہندوستان کے مال کی کھپت ہوتی تھی اور دور جاہلیت کے ہر بازار میں یہاں کی چیزیں فروخت کی جاتی تھی؛ مگر ان کی چند خاص منڈیاں بھی تھیں، جہاں یہ چیزیں بھاری مقدار میں رہا کرتی تھیں؛ گویا یہ ہندوستانی اشیاء کے گودام تھے۔
ظہور اسلام کے بعد یہ رشتہ مزید مستحکم، ہمہ گیر اور شاخ درشاخ ہوتا چلا گیا؛ اگرچہ سندھ و ہند کے علاقے میں اسلام کو قوت و شوکت، غلبہ و اقتدار اور فروغ و استحکام، نیک طینت جواں سال مجاہد محمد بن قاسم ثقفی کی یہاں آمد اور فتح و نصرت کے بعد حاصل ہوا؛ مگر اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں: مالابار، کالی کٹ اور سندھ قدیم کے بعض شہروں کے باشندے اس سے پہلے ہی زاہد شب زندہ دار اور مردان وفا شعار مسلمانوں کے قدوم سعادت لزوم سے بہرہ ور ہو چکے تھے اور خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب کے عہد حکومت میں ہی اسلام ان علاقوں میں پہنچ چکا تھا۔
محمد بن قاسم کا سفر ہندوستان:
محمد بن قاسم کی سندھ آمد یوں تو ایک مجبوری اور بے بس مسلم خاتون کی صدائے فریاد پر لبیک کہتے ہوئے قدیم سندھ کے ستم شعار حاکم راجہ داہر بن صعصعہ کی چیرہ دستیوں کا قلعہ قمع کرنے کی غرض سے ہوئی تھی؛ مگر اس کے ہمراہ جذبہ جہاد سے سرشار اور اسلامی دعوت کو دنیا کے کونے کونے تک عام کرنے کے سوز دروں سے لبریز ایک عظیم لشکر بھی تھا جس نے نہ صرف سندھ کے باشندوں کو داہر کے ظلم و ستم سے نجات بخشی؛ بل کہ مثالی امن و امان اور عدل و انصاف پر مبنی ایک بے نظیر حکومت کی بنیاد بھی ڈالی اور محمد بن قاسم کی نیک نفسی، صلاح و پرہیزگاری، عفت و پاک دامنی نے سندھ کے متعصب ہندوؤں کے قلوب کو فتح کر کے انہیں اسلام کا غلام بے دام بنا دیا؛ لیکن محمد بن قاسم کی سندھ آمد مستقبل کے حوالے سے بہت سود مند ثابت ہوئی اس کے باعث نہ صرف یہ کہ یہاں کی صنم آشنا سرزمین زمزمہ توحید سے معمور اور نغمہ رسالت سے آباد ہو گئی؛ بل کہ اس کی مٹی سے ایسے تابدار لعل و جواہر پیدا ہوئے جو دنیائے اسلام کے آسمان علم فضل کے لئے صلاح و تقوی، سیاست و سیادت، امارت و قضاء اور جہاد و قتال کے درخشاں ستارے ثابت ہوئے اور جنہوں نے دنیا کی ہمہ جہتی خدمات کے ایسے تابندہ نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک نشان منزل کا پتہ دیتے اور اپنے اولین راہ روؤں کی عظمت و عبقریت کی خبر دیتے رہیں گے۔ (سندھ و ہند کی قدیم شخصیات:١٨ )
اسلام کے فروغ کے ذرائع اور اس کو درپیش چیلنجز:
چھٹی صدی ہجری اسلامی تاریخ میں خاص اہمیت رکھتی ہے اس صدی کے اوائل میں نیم وحشی تاتاریوں نے عالم اسلام پر مور و تلخ کی طرح یورش کی، ملک کے ملک ان کی بربریت اور وحشیانہ مظالم سے تاراج اور بڑے بڑے نامی گرامی شہر جو کبھی علم تہذیب کے علمبردار اور مدارس و خانقاہوں سے یکسر گلزار ہو رہے تھے بے چراغ ہو گئے شہروں کا امن و سکون زندگی کا نظم و نسق اور شرفاء کی عزت و ناموس خاک میں مل گئے، اس بلائے ناگہانی سے عالم اسلام کی چولیں ہل گئیں اور پوری قدیم اسلامی دنیا پر سیاسی زوال اور فکری و علمی اضمحلال کے سیاہ بادل چھا گئے، اس وقت پورے عالم اسلام میں ہندوستان ہی ایک ایسا ملک تھا جو اس فتنۂ عالم آشوب سے محفوظ رہ گیا اس انقلاب سے ہندوستان نہ صرف عالم اسلام کا ایک اہم حصہ بن گیا تھا؛ بل کہ تاریخ کا صاف اشارہ تھا کہ وہ اسلام کی فکری و روحانی قوت، علمی تحریکات اور احیاء و تجدید کا نیا مرکز بن رہا ہے.
چنانچہ ہندوستان کی فتح سے پہلے اسلام کے چاروں مشہور روحانی سلسلے قادریہ چشتیہ نقشبندیہ اور سہروردیہ وجود میں آچکے تھے اور عرصے سے پھل پھول رہے تھے، اپنے اپنے وقت پر ان میں سے ہر ایک کا فیض ہندوستان کو پہنچا اور ہندوستان کی اسلامی تعمیر و تشکیل میں سب کا حصہ رہا؛ لیکن ہندوستان کی روحانی فتح اور اس سرزمین پر اسلام کا پودا نصب کرنے کے لیے حکمت الہی نے چشتی سلسلے کو منتخب فرمایا، چنانچہ سلسلہ چشتیہ کے بانی خواجہ معین الدین چشتی اور ان کے ساتھ بہت سے علمائے کرام نے جو جو خدمات اسلام کو فروغ دینے کے لیے انجام دیں تاریخ کے اوراق پر وہ رقم ہو گئیں
یہی نہیں بلکہ جنوب ہند کے وسیع و عریض علاقے میں دینی تعلیم خصوصا حدیث کے درس و تدریس کی روایت آب زلال مالا بار کے انہی علمی سر چشموں سے نکل کر شہر در شہر قریہ در قدیہ جاری ہو گئی اس کا بہاؤ اس قدر تیز تھا کہ کئی صدیوں تک جنوب کا سارا علاقہ اس سے سیراب وہ فیضیاب ہوتا رہا تاکہ جنوبی ہند میں بہمنی سلطنت کا مستقل قیام عمل میں آیا۔ (تاریخ دعوت وعزیمت: ١٩)
تحفظ ملک ملت کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ کی مؤثر حکمت عملی:
حضرت شاہ ولی اللہ نے اس ملک کو بچانے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور طریقے پر پہلے یہ طے کیا کہ ہم کو بھی افراد تیار کرنا ہے اور انہوں نے افراد تیار کرنے کے لیے تین مرکز بنائے پہلا مرکز نجیب آباد میں نجیب الدولہ کے قلعے میں مدرسے کی صورت میں قائم کیا اور دوسرا دائرہ شاہ علم اللہ رائے بریلی میں اور تیسرا مرکز سندھ میں ٹھٹھ کا مدرسہ تھاان تینوں مراکز کے اندر لوگوں کو جمع کر کے ان کی تعلیم و تربیت شروع کی، فرمایا: دیکھو! اب شہنشاہت کا دور ختم ہو رہا ہے، یہ اب لوٹنے والا نہیں ہے؛ اس لیے ہمیں شہنشاہت نہیں؛ بل کہ جمہوریت کو لوٹانے کی کوشش کرنی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر میثاق مدینہ قائم کی تھی اس میں سب سے پہلی دفعہ مذہبی رواداری تھی۔ ہند میں آمد اسلام کے بعد اس کی بقا اور استحکام کے لیے جہاں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مجدد الف ثانی، شاہ عبدالحق دہلوی اور ان کے خانوادے نے انفرادی طور پر کارہائے نمایاں انجام دیے وہیں اجتماعی طور پر دارالعلوم دیوبند، اکابر دارالعلوم دیوبند نے تجدیدی خدمات کے ذریعے قوم و ملت کی رہبری کا فریضہ ادا کیا۔ (تاریخ کے جھروکے سے ایک بصیرت افروز خطاب: ٢٠)
دارالعلوم دیوبند ملت کا نگہبان:
یہ حقیقت ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے اسلام کے فروغ کے لیے جو خدمتیں انجام دی ہیں وہ اس کو دوسرے اداروں سے ممتاز کرتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بانیین میں بے مثال خلوص اور دین کی خدمت و تحفظ اور دینی علوم و افکار کی تشریح و اشاعت کا بے پناہ جذبہ ہے؛ یہی وجہ ہے کہ یہاں سے ایسے بے شمار جیالے پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم و فضل، فکر و نظر اور جہد و عمل سے ہندوستانی مسلمانوں کی رہبری و رہنمائی کا فریضہ بخوبی انجام دیا، مسلمانوں میں تعلیم و تربیت کو فروغ دینے کے لیے تدریس کا مشغلہ اختیار کیا اور دیوبند کے طرز پر ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کیے ان کے ذہنی و فکری نشو نما کے لیے تصنیف و تالیف سے وابستہ ہوئے۔ بلاشبہ دارالعلوم دیوبند مسلمانوں کا عظیم الشان دینی و ملی سرمایہ ہے، اس ادارے سے مسلمانوں کا ملی وہ اجتماع وجود وابستہ ہے۔
چنانچہ حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندی نے ایک موقع پر فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند صرف کتابیں پڑھانے کے لیے نہیں بنایا گیا؛ بل کہ یہ تو ایک تحریک ہے جس کے ذریعے اس ملک میں دین کا دفاع کیا جاتا رہے گا اس ادارے نے جدوجہد آزادی میں ہندی مسلمانوں کی بے مثال نمائندگی کی تھی اور اپنے جیالوں کو میدان کارزار میں اتارا تھا اور علم و دین کی حفاظت میں بھی اس کا رول نہایت ہی مضبوط اور غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا جب 1947 میں یہ ملک آزاد ہو گیا تو بہت اہم مرحلہ آیا کہ ملک کا سسٹم کیا ہو؛ اگر اس وقت اکابر دیوبند حسین احمد مدنی، حفظ الرحمن سیوہاروی، ابوالکلام ازاد نہ ہوتے تو ہندوستان کا دستور کچھ اور بنتا؛ لیکن انہوں نے یہ طے کیا کہ یہاں کے دستور میں مذہبی رواداری رہے گی اور کسی ایک مذہب کی حکومت نہیں ہوگی۔(تاریخ کے جھروکے سے ایک بصیرت افروز خطاب: ٢٦ )
ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ صورتحال:
اس وقت پورے عالم اسلام خاص طور پر ہمارا ملک ہندوستان (جو صدیوں تک اسلامی اقدار، عزت و شرف اور اسلامی علوم و فنون کا مرکز رہا ہے اور جہاں ایسی زبردست اصطلاحی تحریک، مصلحین، علمائے ربانیین پیدا ہوئے جن کی دعوت و اثرات عالم اسلام کے دور دراز ملکوں تک پہنچے) ایک ایسے ازمائشی دور سے گزر رہا ہے جس کی نظیر گزشتہ تاریخ میں صدیوں تک نہیں ملتی۔
اس دور آزمائش میں مسلمانوں کا صرف ملی تشخص دین کی دعوت و تبلیغ کے مواقع و امکانات اور ملک و معاشرے کو صحیح راستے پر لگانے اور اس کائنات کے خالق و مالک کی صحیح معرفت اور عبادت اور دین صحیح کی طرف رہنمائی کی صلاحیت اور استطاعت تو بہت بڑی چیز ہے کم سے کم اس ملک ہندوستان میں ان کی زندگی کا تسلسل جسمانی وجود، عزت و آبرو، مساجد و مدارس اور صدیوں کا دینی و علمی اثاثہ اور قیمتی سرمایہ بھی خطرے میں پڑ گیا وہ نہ صرف دور دراز قصبات اور دیہاتوں میں؛ بل کہ بڑے بڑے مرکزی شہروں میں بھی جہاں وہ بڑی تعداد میں بستے ہیں اور ممتاز صلاحیتوں، ذہنی امتیازات اور مہارتوں کے مالک ہیں کچھ عرصے سے خوف و ہراس کی زندگی گزار رہے ہیں اور کہیں کہیں اس کا نقشہ بعینہ وہ ہو گیا جس کی تصویر قرآن مجید نے اپنے بلیغ و معجزانہ الفاظ میں اس طرح کی ہے ضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم
اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہندو تہذیب میں جذب کر لیا جائے، وہ اپنی شناخت سے محروم ہو جائے، ان میں احساس کمتری پیدا ہو جائے چنانچہ ایک طرف نصاب تعلیم میں تبدیلیاں عمل میں آرہی ہیں، دوسری طرف ملک اور ملک کی ازادی کی نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے، تیسری طرف الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے ہندو تصورات اور تہذیبی طور طریقوں کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ اپنے خطرناک اقدامات ہیں کہ جن کی سنگینی کا اندازہ مستقبل ہی میں ہو سکے گا اگر ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی تو پھر ان کی تلافی شاید ممکن نہ ہوگی تاریخ کو بدلنے کا کام اتنی تیز رفتاری کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ اب مغلوں کا ظالم و لٹیرا ہونا اورنگزیب کا مندر شکن ہونا اور ایسے مسلمان فرما رواں جن کی ہندو دوستی مسلم تھی جیسے اکبر و بابر یا جن کی رواداری کی مثال دی جاتی تھی جیسے ٹیپو سلطان یا نظام حیدرآباد اور ان کا بھی فرقہ پرست اور ہندو دشمن ہونا عام پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ایک مسلم بات بنتی جا رہی ہے اس پر مزید ستم یہ کہ آر ایس ایس کے سربراہ مسٹر موہن بھاگوت نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہندستان میں مسلمان مسلم حملہ آوروں کے ذریعے آئے اور مسلم بادشاہوں یا حملہ آوروں کے ذریعے اسلام ہندستان میں پھیلا۔ اس طرح کی باتیں اسلام دشمنوں کی زبان سے اکثر سننے میں آتی ہیں کہ اسلام تلوار اور طاقت کے ذریعے پھیلا ہے، جو حقیقت میں انتہائی غلط اور لغو بات ہے۔
ہم دو ٹوک الفاظ میں ان سے کہتے ہیں کہ انڈونیشا اور ملیشیا میں کوئی بھی مسلم حملہ آور یا بادشاہ نہیں گیا تھا، پھر بھی وہاں اسلام تیزی کے ساتھ پھیلا اور تناسب کے لحاظ سے ہندستان سے کئی گنا زیادہ وہاں کی آبادی ہے۔ آج بھی دنیا کے ہر کونے اور ہر گوشے میں اسلام پھیل رہا ہے، خاص طور پر مغربی ممالک میں۔ وہاں مسلمان نہ حکمراں ہیں اور نہ کوئی ان کی تلوار اور طاقت ہے۔ اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے۔ اسلام طاقت کے زور پر نہ پھیلا ہے اور نہ پھیلے گاان شاء اللہ۔ پہلے بھی تبلیغ و اشاعت سے اسلام پھیلا ہے اور ابھی بھی تبلیغ و اشاعت سے ہی پھیل رہا ہے۔ اور آگے بھی پھیلے گا (موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں:١٤,٦)
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل:
اس وقت دنیا کے تمام مسلمانوں اور خصوصیت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کا سب سے پہلا فرض اور ضروری کام رجوع الی اللہ ،انابت، توبہ، استغفار اور دعا ہے خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ ذرا بھی کوئی پریشانی کی بات پیش آتی تو فورا نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور دعا میں مشغول ہو جاتے تھے ۔
نیز مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اسلام کی دعوت، برادران وطن میں اسلام کا تعارف، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ، مسلمانوں کو سچا اور پکا مسلمان بنانے کی فکر، سو فیصد شریعت پر عمل کرنے کے حوالے سے شعور بیداری ، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں کی طرف مسلمان تعلیم یافتہ نوجوانوں کی رہنمائی ، خدمت خلق کی نسبت سے ملک میں میدانی کام کا فروغ، مسجدوں اور مدرسوں کو مرکز بناکر محلے کے ہر طبقے کے لئے ضروریات کی فراہمی ، برادران وطن سے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش اور اس کے لئے پیش قدمی، جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے مشرکین اور مدینہ کے یہود کے ساتھ کیا تھا، خواتین کے ساتھ ظلم وزیادتی کو روکنے کی مہم ، بوڑھوں اور یتیموں کے حقوق کی طرف توجہ دہانی، اور سماج میں پیدا ہونے والے اختلافات و تنازعات کو باہمی مصالحت کے ذریعہ حل کرنے کا نظام ، اور اس طرح کے دوسرے کام، جن کی ضرورت مسلمانوں کو بھی ہے اور برادران وطن کو بھی، ان میں نہ صرف حصہ لیا جائے ؛ بلکہ قائدانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کی جائے، اور یہ کام آسان ہے، اگر سیاسی قیادت میں آپ آگے بڑھنا چاہیں گے تو مزاحمت ہوگی؛ لیکن اگر خدمت خلق کے میدان میں آگے بڑھیں گے تو اس میں مزاحمت نہیں ہوگی؛ بلکہ لوگوں کا تعاون حاصل ہوگا؛ اس لئے ہمیں ان کاموں کو ا پنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہئے۔ (شمع فروزاں: موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل)
نیز امت مسلمہ کی زبو حالی اور اس کی ہمہ گیر ذلت و خواری کا ایک بنیادی سبب نسل نو کی بے راہ روی اور مسلم نوجوانوں کی دین بیزاری ہے کیونکہ یہی چیز مسلمانان ہند کے تاریک مستقبل کی غمازی کرتی ہے اس وقت بڑی تیزی کے ساتھ نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے، نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ ان کو ذہنی وفکری انحراف کی آگ میں جھونکنے کی مہمیں چلائی جا رہی ہیں ان کے عقائد کا جنازہ نکالا جا رہا ہے بقول حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کے کہ "تقسیم ہند کے وقت بھی ہندوستان نے ایسے حالات نہیں دیکھے جیسے اب ہیں”
ان جاں بلب اور جاں گسل حالات میں سب سے زیادہ ضروری اور اہم چیز ایسے موثر مکاتب کا قیام جس میں قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینیات کے ذریعے نبوی منہج پر ان کی صحیح ذہن سازی کی جائے اللہ کی معرفت، نبی کی محبت اور قرآن کے عظمت ان کے اندر پیدا کی جائے، توحید کا عقیدہ، رسالت کا عقیدہ، آخرت کا عقیدہ گھول کر ان کو پلایا جائے مکتب کا فائدہ محض نورانی قاعدہ پڑھانا نہیں ہے؛ بل کہ مکتب کا فائدہ تحفظ ایمان و عقیدہ ہے بقول حضرت مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ کے کہ دو باتوں میں سے کسی ایک کے لیے تیار ہو جاؤ یا تو اپنے بچوں کے ذہنی اور تہذیبی ارتداد پر راضی ہو جاؤ یا پھر اس راستے میں ہمیں جو محنت کرنی ہے اس کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرو۔
Like this:
Like Loading...