Skip to content
طالبان کا پیغام ہندوستان کےنام
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
9؍ اکتوبر 2025 کو افغانستان قائم مقام وزیرِخارجہ امیر خان متقی کی ہندوستان میں آمد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ طالبان نے اگست 2021 میں کابل کانظم و نسق سنبھالا تھا اور اس کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا یہ پہلا سفارتی رابطہ ہے۔اس موقع پر افغان وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہاکہ ہم ہندوستان کے ساتھ ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔اس کے جواب میں ہندوستانی وزارت خارجہ کے سیکریٹری نے بھی افغان عہدیدار سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہندوستان اس بات پر غور کررہا ہے کہ ہم افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہوں، اور تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔وزیرِخارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ہم منصب کا پُرتپاک خیرمقدم کرتے ہوے کابل میں ہندوستانی سفارتخانے کو دوبارہ فعال کرنے کا اہم اعلان کیا۔
یہ دورہ اچانک وقوع پذیر نہیں ہوا بلکہ عرصۂ دراز سے اس کی خاطر درپردہ فضا ہموار کی جارہی تھی مگر امسال 8جنوری کو دبئی میں ہندوستان کے سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کی طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات والابیان تو منظرِ عام پر بھی آچکا تھا ۔ پہلگام حملہ کی جب افغانستان نے مذمت کی تو حکومتِ ہند نے اسے سراہا ۔ اس کے بعد افغانستان میں زلزلہ آیا تو ہندوستانی وزیراعظم مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس سے واپسی پر پنجاب اور کشمیر میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں پر اظہار تاسف سے قبل افغانی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کر دیا اس لیے ان پر تنقید بھی ہوئی۔ اس وقت افغان کی طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیاتھا مگرپھر بھی فوراً امدادی سامان بھجوایا گیا ۔ ویسے ہندوستان نے طالبانی حکومت کے بعد ہی جوائنٹ سیکریٹری جی پی سنگھ کی قیادت میں ایک وفد کابل بھیج کر انسانی امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے تکنیکی ٹیم کو تعینات کے لیے مذاکرات شروع کردئیے تھے اس طرح جزوی طور ہندوستانی سفارتخانہ بحال ہو گیا تھا۔
امیر خان متقی کے اس مختصر سے دورے کی خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے ایک چھوڑ دودو پریس کانفرنس کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کو آئینہ دکھا دیا ۔وزیر اعظم بننے کے بعد موصوف نے اپنے ملک میں کبھی اخبار نویسوں سے براہِ راست بات چیت کرنے کی جرأت نہیں دکھائی۔ ویسے ریہرسل کے بعد نشر ہونے والے انٹرویوز کی اہمیت ناٹک سے زیادہ کی نہیں ہے۔ اس دوران وہ منظر بھی نہیں آیا کہ جب وزیر اعظم امریکہ کی سرزمین پر سوال پوچھے جانے پر پانی پیتے نظر آئے اور پھر گول مول جواب دے کر پیچھا چھڑا گئے۔ ہندوتوا نوازوں کو پریس کانفرنس سے ڈر لگتا ہے کیونکہ بے دھڑک سچ بول دینا تو سہل ہے مگر فوراً جھوٹ گھڑ کو بولنا مشکل ہے۔پریس کانفرنس میں مشکل سوالات سے بچنے کے کئی طریقہ ایجاد کیے گئے ہیں مثلاً ابھی حال میں الیکشن کمیشن پریس کانفرنس میں ایک ساتھ پانچ سوالات لینے کی منفرد ترکیب کھوج نکالی گئی ۔ اس طرح یہ سہولت مل جاتی ہے جس سوال کا جو چاہے جواب دے دو اور جو ذرا مشکل نظر آئے اسے گول کردو۔ امیر خان متقی نے اس اعتماد کے ساتھ سوالات کا جواب دیا کہ اخبار نویسوں کے ہاتھ سے طوطے اڑگئے۔مذکورہ بالا پریس کانفرنس میں مشکل ترین سوال خواتین کی تعلیم کے حوالے سے تھا ۔ ان سے پوچھا گیا ’آپ دارالعلوم دیوبند گئے اور ایران، شام اور سعودی عرب میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا جاتا۔ انھیں ا سکول اور کالج جانے کی اجازت ہے ۔ آپ افغانستان میں ایسا کیوں کر رہے ہیں(یعنی کیوں روک رہے ہیں)، افغانستان کی خواتین کو تعلیم کا حق کب ملے گا؟‘
اس تیکھے سوال کا نہایت عمیق و بسیط جواب یہ دیا گیا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے علما، مدارس اور دیوبند کے تعلقات شاید دوسروں سے زیادہ ہیں۔‘افغانستان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے وہ بولے ’تعلیم کے لحاظ سے اس وقت ہمارے سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ایک کروڑ طالبات زیر تعلیم ہیں جن میں سے 28 لاکھ خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ یہ تعلیم دینی مدارس میں گریجویٹ سطح تک دستیاب ہے۔‘ انہوں نے کہا اسلامی نظام میں سبھی کے حقوق محفوظ ہیں اور اسی لیے پچھلے چار سالوں میں مکمل امن و امان ہے۔ متقی نے اعتراف کیا کہ ’کچھ علاقوں میں بعض پابندیاں ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم نے اسے (تعلیم) کو مذہبی طور پر ‘حرام’ قرار نہیں دیا ہے لیکن اسے اگلے احکامات تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔‘ یہ در اصل مخلوط تعلیم کا معاملہ ہے جن علاقوں میں یہ سہولت ہنوز مہیا نہیں ہوسکی وہاں رکاوٹ ہے اور جب وہ فراہم ہوجائے گی تو پابندی ہٹ جائے گی۔ مغرب نے اس بات کو جھوٹا پروپگنڈا بناکر طالبان کے خلاف ہنگامہ کھڑا کردیا ۔
پاکستان سے لڑانے کی کوشش کرنے والوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام کرتے ہوئے متقی نے کہہ دیا کہ طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے اور مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔پاکستانی عوام کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان میں کچھ مخصوص عناصر ہیں جو حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے افغانستان اپنی سرحدوں اور اپنے لوگوں کی حفاظت کرے گا۔‘امیر خان متقی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ہندوستان میں افغانستان کے سفارت خانے کو کون کنٹرول کرتا ہے؟ یہ اس قدر احمقانہ سوال ہے کہ جس تصور محال ہے۔ کیا امریکہ یا چین تو دور برما یا نیپال کے وزیر خارجہ سے بھی ایسا سوال کیا جائے گاَ ۔ اس کے جواب میں وہ بولے کہ ’نئی دہلی میں ہمارا سفارت خانہ، جہاں آپ اور میں اس وقت موجود ہیں، مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے۔‘ انہوں نے وضاحت کی کہ ’یہ سفارت خانہ افغانستان کے مشورے پر کام کر رہا ہے۔ یہاں کام کرنے والے ہمارے ساتھ ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘ طالبان حکومت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں سابقہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والے اپنی نئی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ’افغانستان کے عوام متحد ہیں، سب مل کر کام کرتے ہیں۔‘
یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کیونکہ طالبان نے نئی حکومت بنانے کے بعد ملک کا پرچم بدل دیا لیکن چونکہ اس حکومت کو تسلیم کرنے سے قبل طالبانی وزیر خارجہ کو دورے پر بلا لیا گیا تو عمارت پر پرانا اوروزیر خارجہ کے سامنے میز پر نیا جھنڈا رکھا ہوا تھا ۔ اب اس میں افغان حکومت کی کیا غلطی؟ اس معاملے میں جلد بازی کرنے کے بجائےوزیر خارجہ کو دورے پر بلانے سے قبل افغانستان کو تسلیم کر لیا جاتا یہ گڑبڑ نہیں ہوتی۔ امیر خان متقی نےوضاحت کی کہ دیگر ممالک میں فوجیں سرحد کی حفاظت کرتی ہیں مگر افغانستان پر جب حملہ ہوتا ہے تو فوج کے ساتھ عوام بھی غاصبوں کے سامنے متحد ہوکر سینہ سپر ہوتے ہیں۔ اس کا ثبوت انگریزوں ، سوویت یونین اور امریکہ کے خلاف جنگِ آزادی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ جہاد اسی پرچم کے تحت کیا گیا جو ان کے سامنے ہے اور جب بیرونی تسلط سے نجات کے بعد سنگین جرائم میں ملوث لوگوں کو بھی معاف کردیا گیا ۔ اس طرح پرانے اہلکار نئی حکومت کے لیے کام کرنے لگے ۔
افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پریس کانفرنس میں ہندوستان کو ملک کی معدنیات میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور واہگہ بارڈر کو دونوں ممالک کے درمیان تیز ترین تجارتی راستہ قرار دےکر تجارت کو آسان بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے چابہار بندرگاہ پر بھی تبادلہ خیال کا بھی ذکر کیا۔ افغانی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس اور اس سے عالمی سیاست پر ہونے والے اثرات پر مباحثہ کرنے کے بجائے ہندوستانی میڈیا نے پہلی کانفرنس میں خواتین کی غیر حاضری پر ہنگامہ کھڑا کردیا ۔ اس بابت دوسری کانفرنس میں یہ وضاحت کردی گئی کہ خواتین کی غیر حاضری جان بوجھ کر نہیں بلکہ تکنیکی وجوہات کی بناء پر تھی۔ ہندوستانی میڈیا اور سیاست دانوں کی بڑھتی ہوئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے متقی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صنفی امتیاز پر مبنی نہیں تھا۔وہ پریس کانفرنس چونکہ مختصر نوٹس پر کی گئی اور صحافیوں کی مختصر فہرست بناکر صحافیوں کی ایک مخصوص لوگوں کو دعوت نامے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کسی بھی تقریب میں مہمانوں کے انتخاب کا حق میزبان کے پاس ہوتا ہے اور اس پر زبردستی کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس بابت دلچسپ امر یہ ہے کہ خاتون صحافیوں کوپہلی پریس کانفرنس میں مدعو نہ کرنے پر میڈیا ادارے، سیاسی رہنما اور سیول سوسائٹی کے لوگ جو غم و غصے کا اظہار کررہے تھے انہیں دوسری بار بلانے پر اپنی جیت کا جشن منانے لگے اور یہ دعویٰ کرتے دکھائی دئیے کہ ہم نے طالبان کو جھکا دیا حالانکہ یہاں کسی کے جھکنے اور اٹھنے کا سوال ہی نہیں تھا ۔ امیر خان متقی اگر دوسری کانفرنس نہیں کرتے تو کوئی کیا بگاڑ لیتا؟ بات کا بتنگڑ بنانے والوں نے ایک غیر ضروری معاملے کو تو خوب اچھالا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مودی ایسی پریس کانفرنس کرسکتے ہیں یا جئے شنکر ہندی زبان اس طرح جوابات دے سکتے ہیں ۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے والوں کو اپنے گریبان میں بھی جھانک کردیکھ لینا چاہیے۔ بہر حال افغانی وزیر خارجہ امیر خان متقی نے حکومت ہند کو سفارت کے باب میں جو اہم سبق دیا ہے اس سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔
Like this:
Like Loading...