Skip to content
آئینی آوازوں کو دبانا ملک کے ضمیر کو خاموش کرنے کے مترادف ہے : تشار گاندھی
ناانصافی کے شکار: پورن کمار سے سونم وانگچک تک — جمہوری قدروں پر حملے تشویشناک
ممبئی، 16 اکتوبر (نامہ نگار)
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) اور یونائیٹڈ اگینسٹ اِن جسٹس اینڈ ڈسکرمنیشن (UAID) کے اشتراک سے ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مقررین نے ملک میں بڑھتی ہوئی ناانصافی، ذات پر مبنی امتیاز اور شہری آزادیوں پر حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔
پروگرام کی نظامت شاکر شیخ نے کی، جبکہ تُشار گاندھی، ایڈوکیٹ سریش مانے، سرفراز آرزو، ایڈوکیٹ کریم پٹھان اور ڈاکٹر سلیم خان نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ پورن کمار کی موت اور ڈاکٹر سونم وانگچک کی گرفتاری جمہوری قدروں پر کھلا حملہ ہیں۔ ایسے واقعات شفافیت، احتساب اور انصاف کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
تُشار گاندھی نے کہا کہ ناانصافی کے خلاف خاموش رہنا سماج سے غداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس منو سمرتی کے نظریے کو نافذ کر کے آئین کی روح کو کمزور کر رہی ہے۔ گاندھی جی کے نظریات کے برعکس، آج ملک میں خوف، نفرت اور طاقت کے بل پر خاموشی مسلط کی جا رہی ہے۔
ایڈوکیٹ سریش مانے نے کہا کہ پورن کمار سے لے کر سونم وانگچک تک مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی شخصیات پر ظلم ایک بڑے رجحان کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ناقدین کی آواز دبانے کے لیے ریاستی مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے، جو آئینی جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
ایڈوکیٹ کریم پٹھان نے عدالتی زاویے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے عدلیہ کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر انصاف میں تاخیر یا چشم پوشی جاری رہی تو عوام کا نظامِ قانون پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔
سرفراز آرزو نے کہا کہ میڈیا کو اپنی اصل ذمہ داری یعنی سچ بولنے اور مظلوموں کی آواز بننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ آج کے میڈیا کا بڑا حصہ طاقتور طبقے کے اثر میں آ گیا ہے، جو جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ پورن کمار کی بیوی کی اپیل کے باوجود انصاف نہیں ملا، جو نظام کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوموں پر ظلم کرنے والوں کو بچانا اور سچ بولنے والوں کو نشانہ بنانا ایک نیا رواج بنتا جا رہا ہے۔ اگر اس روش کو نہ روکا گیا تو ملک میں انصاف کا جنازہ نکل جائے گا۔
پریس کانفرنس میں درج ذیل مطالبات کیے گئے:
1. ملک میں امتیاز، تعصب اور "بلڈوزر راج” پر روک لگاتے ہوئے شفافیت، قانون کی بالادستی اور افسران و شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
2. ظلم و بربریت کے ذمہ داروں کو فوری سزا دی جائے اور چار احتجاجیوں کی اموات کی آزاد عدالتی تفتیش کرائی جائے تاکہ عوام کا آئینی نظام پر اعتماد بحال رہے۔
3. ڈاکٹر سونم وانگچک کی فوری و غیر مشروط رہائی عمل میں لائی جائے۔
4. میڈیا ٹرائل اور کردار کشی کے خلاف پریس کونسل آف انڈیا کارروائی کرے۔
5. لداخ کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان 15 دن کے اندر بامعنی مذاکرات شروع کیے جائیں اور اختلافِ رائے کو جمہوری حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
آخر میں عزم ظاہر کیا کہ ناانصافی اور امتیاز کے شکار افراد کے لیے قانونی، سماجی اور عوامی سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی تاکہ انصاف، مساوات اور آئینی اقدار کو مضبوط کیا جا سکے۔
رابطہ: شعیب انعامدار (9028196427)، اشرف خان (9820992162)
Like this:
Like Loading...