Skip to content
امریکہ،17اکٹوبر(ایجنسیز)اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے آج جمعے کے روز بتایا کہ غزہ شہر میں تا حال خوراک کی تقسیم شروع نہیں ہو سکی، کیونکہ شمالی غزہ کے مرکزی راستے بند ہیں اور صرف محدود مقدار میں امدادی سامان پہنچ سکا ہے۔
ادارے کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک روزانہ اوسطاً 560 ٹن خوراک غزہ میں داخل ہو رہی ہے، مگر یہ مقدار اب بھی خطے کی ضرورت سے بہت کم ہے۔ ادارے کی ترجمان عبیر عطیفہ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ "ہماری کوشش ہے کہ جلد ضرورت پوری کی جائے، جنگ بندی نے ایک مختصر موقع فراہم کیا ہے اور ہم امداد تیز رفتاری سے بڑھا رہے ہیں”۔
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے "فرانس پریس” سے گفتگو میں خبردار کیا کہ غزہ میں وبائی امراض کا پھیلاؤ "قابو سے باہر” ہو چکا ہے، جہاں 36 میں سے صرف 13 اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "غزہ کا صحت کا نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے اور اب صرف اس کا ایک معمولی حصہ باقی ہے”۔
بلخی کے مطابق متعدی امراض مثلاً دماغی جھلی کی سوزش (میننجائٹس)، گیلن بیری سنڈروم، اسہال اور سانس کی بیماریاں بے قابو ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "غزہ کی بحالی کے لیے جو کام درکار ہے، وہ ناقابلِ تصور ہے، ہمیں یہ مرحلہ وار کرنا ہو گا”۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب غزہ شہر میں صرف 8 جزوی طور پر فعال طبی مراکز بچے ہیں جبکہ شمالی علاقے میں صرف ایک مرکز کام کر رہا ہے، اور ان میں عملہ اتنا نہیں کہ تمام بنیادی خدمات بحال کی جا سکیں۔
بلخی نے بتایا کہ صحت کے نظام کی بحالی میں "اربوں ڈالر اور کئی دہائیاں” لگیں گی کیونکہ بہت سے اسپتال مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 800 سے زائد طبی تنصیبات پر حملے ہوئے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ "گزشتہ دو سالوں میں پیدا ہونے والے بہت سے بچوں کو غالباً کوئی ویکسین نہیں ملی”۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک زخمی ہونے والے 1,67,000 سے زیادہ افراد میں سے تقریباً ایک چوتھائی مستقل معذوری کا شکار ہیں، اور ان میں بھی پچیس فی صد بچے ہیں۔
ادارے نے کہا کہ غزہ میں ذہنی صحت کی ضروریات دو گنا ہو چکی ہیں، مگر دستیاب سہولیات اس کا ازالہ نہیں کر سکتیں۔ بلخی نے مطالبہ کیا کہ مزید زخمیوں کو علاج کے لیے مغربی کنارے یا ہمسایہ ممالک لے جانے کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے کہا "ہمیں غزہ میں مزید ایندھن، خوراک، طبی سامان، ادویات اور عملے کی ضرورت ہے۔ ہم واقعی چاہتے ہیں کہ امن مکمل طور پر قائم ہو تاکہ ہم کام شروع کر سکیں”۔
انھوں نے بتایا کہ ابتدائی بحالی منصوبے میں عام اور خصوصی مراکز کے لیے فوری امداد، مستقل معذوروں اور نفسیاتی مریضوں کی بحالی شامل ہے۔
جمعے کو اسرائیل نے اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہو گیا ہے، جو حماس کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا۔ اس کے تحت اسرائیلی قیدیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1,221 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ غزہ میں محکمہ صحت کی انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 67,967 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جنہیں اقوامِ متحدہ قابلِ اعتبار اعداد و شمار قرار دیتی ہے۔
Like this:
Like Loading...