Skip to content
طالبان کا خیر مقدم :
یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
۲؍ اکتوبر کو ناگپور میں صد سالہ تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئےسرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے پہلگام کا حوالہ دے کر کہا کہ اس واقعہ نےدوست اور دشمن کی پہچان کرادی ۔ اس کے بعد مشورہ دیا ہمیں رضاکارانہ اور کسی مجبوری کے بغیر اپنے تمام دوست ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے ۔ مودی سرکار نے اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے افغانستان کی جانب دوستی کا بڑا ہاتھ بڑھایا کیونکہ وہ خود بھی عالمی تنہائی کا شکار تھا ۔ اس طرح ’ہم بنے تم بنے ایک دوجے کے لیے‘ والا نغمہ فضا میں گونجنے لگا ۔۴؍ سال قبل طالبانی انقلاب سے افغانستان مغربی ممالک کی آنکھوں کا تارہ تھا اور ہندوستان کو بھی چونکہ امریکہ چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا اس لیے اس کی بھی عالمی سطح پر خوب پذیرائی ہوتی تھی لیکن دیکھتے دیکھتے دنیا بدل گئی ۔امریکی صدر یوکرین کے سبب ہندوستان سے ناراض پوگئے اور مغربی استعمار ہنوز افغانستان سے اپنی شکست کو ہضم نہیں کرپایا اس لیے ہندو و افغان دونوں عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے اور یہی مجبوری انہیں ایک دوسرے کے قریب لے آئی ۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1988 کے تحت طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کے خلاف جون 2011 میں پابندیاں نافذ کی گئی تھیں وہ اب بھی برقرار ہیں۔ طالبان اور القاعدہ رہنماؤں پر نہ صرف سفری بلکہ اثاثہ جات اور اسلحہ سے متعلق پابندیاں بھی عائدہیں۔2021میں امریکہ کی رسوا کن واپسی کے بعد ان کو ازخود اٹھ جانا چاہیے تھا مگر امریکی رعونت رکاوٹ بنی ہوئی ۔ اِ دھر آپریشن سیندور کے بعد مودی سرکار نے پہلگام کے بعد ملنے والی عالمی حمایت کو گنوادیا ۔ اس نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔ اس حقیقت کا اعتراف کرکے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی پارلیمانی ارکان پر مستمل کئی وفود مختلف ممالک میں بھیجنے کا فیصلہ کرنا پڑا مگر بات نہیں بنی کوئی ساتھ نہیں آیا ۔ فی الحال افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر وطن عزیز میں گرماگرم بحث ہورہی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جس ذیلی کمیٹی سے سفری پابندیوں پر استثنیٰ دیا اس کا سربراہ پاکستان ہے ۔ اس عارضی سفری پابندیوں میں سفارتی روابط بڑھانے کی سہولت فراہم کرنے کی خاطر نرمی کیے جانے کے بعد ہی امیر خان متقی چار ملکی ماسکو فارمیٹ ڈائیلاگ میں شرکت کے بعد روس سے براہ راست نئی دہلی پہنچے۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ 46؍ قبل جس سوویت یونین نے افغانستان پر فوج کشی کی تھی اسی کا مرکز روس واحد ملک ہے جس نے بغضِ امریکہ میں پیش قدمی کرتے ہوئے افغان طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ۔ امیر خان متقی اپنے پہلے دورے پر ہندوستان پہنچے تو وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری آنند پراکاش نے استقبال کیا اور ایکس پر’گرمجوش خوش آمدید‘ لکھا ۔ 10؍ اکتوبر کو امیر خان متقی کی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے تفصیلی بات چیت ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی، تجارت اور انسانی امداد جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اس دورے کے دوران امیر خان متقی کی تاجروں اور ممکنہ طور پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے بھی بات چیت کو منصوبے میں شامل کیاگیا۔یہ دورہ ہندوستان کی افغانستان پالیسی میں ایک نیا موڑ ہے جس سے دونوں ممالک کی باضابطہ سفارتی موجودگی ممکن ہوسکے گی یعنی موجودہ تکنیکی مشن کو مکمل سفارتخانے میں تبدیل کردیا جائے گا۔اس سے تجارت، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں باہمی تعاون بڑھےگا۔ اپنی گفتگو کے بعد جے شنکر نے افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے ہندوستان کی مکمل وابستگی کا اعادہ کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ گہرا تعاون افغانستان کی ترقی اور علاقائی استحکام دونوں میں معاون ثابت ہوگا۔
امیر خان متقی نے اس کے جواب میں کہا کہ افغانستان کسی گروپ کو اپنی سرزمین دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا بلکہ انہوں نے پریس کانفرنس میں داعش جیسی تنظیموں کے افغانستان میں موجودگی کا ہی انکار کردیا۔ اس بیان کو دہشت گردی سے متعلق خدشات کے حوالے سے ہندوستان کو ایک یقین دہانی کے طور پر دیکھا گیا۔ متقی نے ہندوستان کو قریبی دوست قرار دے کر تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مشاورتی طریقۂ کار کی وکالت کی۔چین اور پاکستان کے درمیان روز افزوں قربت کے تناظر میں طالبان کے ساتھ ہندوستان کی پرجوش رفاقت دہلی و کابل کے وسیع تر سفارتی تعلق کی عکاس ہے۔وزیر خارجہ ایس جے شنکربات چیت کے بعد بولے کہ، "آپ کا دورہ ہمارے تعلقات کو آگے بڑھانے اور ہندوستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار دوستی کی توثیق کرنے میں ایک اہم قدم ہے۔ تاہم، ہماری ذاتی ملاقات خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ یہ ہمیں خیالات کے تبادلے، مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرنے اور قریبی تعاون کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔”
امیر خان متقی کے ساتھ جے شنکر دوبار فون پر گفتگو کرچکے ہیں۔ وہ بولے "ہم ہندوستان کے سکیورٹی خدشات کے بارے میں آپ کی حساسیت کی تعریف کرتے ہیں۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہمارے ساتھ آپ کی یکجہتی قابل ذکر تھی۔ ہمارا قریبی تعاون آپ کی قومی ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی استحکام اور لچک میں بھی معاون ہےجسے بڑھایا جائے گا۔ جے شنکر نے مستقبل میں افغانستان کے اندر کان کنی کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ہندوستانی کمپنیوں کو ملنے والی دعوت کو سراہا تولوگ باگ سمجھ گئے کہ اب وہاں بھی اڈانی کے لیے تجارت کی راہیں ہموار ہورہی ہیں۔اس کے برعکس امیر خان متقی نے ماضی کے حوالے سے کہا کہ دونوں فریقوں کو اپنے صدیوں پرانے تہذیبی اور عوامی تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہیے اور باہمی روابط کو بڑھانے کے لیے متعدد مسائل پر قربت کی پالیسی اپنانا چاہیے۔ وہ بولے ہندوستان اس خطے کا ایک تاریخی اہمیت کا حامل ملک ہے۔یہ صدیوں پرانے تعلق صرف جغرافیہ تک محدود نہیں ہے بلکہ ، کاروبار، تجارت اور ثقافت تک پھیلا ہوا ہے۔ متقی نے باہمی تعلقات کی مضبوطی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کے طریقہ کار کو اپنانے کی پیشکش کی اور بات چیت، مواصلات اور گفتگو کے ذریعے، باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے پر زور دیا۔
امیر خان متقی نے یاد دلایا کہ افغانستان پر امریکی قبضے کے دوران سیاسی نشیب و فراز میں بھی طالبان نے کبھی ہندوستان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا بلکہ ہمیشہ اس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے۔ان رہنماوں کی ملاقات محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں تھی بلکہ جے شنکر نے اس موقع پر دو طرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پانچ ایمبولینس گاڑیاں افغانستان کے حوالے کرنے کا اعلان کیا اورجدید طبی آلات سے لیس جملہ 20 ایمبولینس گاڑیاں اور دیگر کا تحفہ دے کر افغانی عوام کا دل جیتنے کی کوشش کی۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جس طرح امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں اسی طرح افغانستان بھی امریکی انتظامیہ سے پریشان ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ امریکہ سے کشیدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے افغانستان پر ٹیرف لگانا ممکن نہیں ہے کیونکہ دونوں کے درمیان تجارتی رابطہ نہیں ہے۔ ٹرمپ دراصل بگرام ایئر بیس واپس لینے کا خواب دیکھ رہے ہیں جس کی بابت کی تو جواب میں طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان ذاکر جلال نے کہاکہ ہم امریکہ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن افغانستان کے کسی بھی حصے میں امریکی موجودگی نہیں چاہتے۔مودی بھی اروناچل پردیش میں چین کی موجودگی نہیں چاہتے مگر طالبا اور ہندوستان کے نہیں چاہنے میں بہت بڑا فرق ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے بگرام ایئربیس امریکہ کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر نکی ہیلی نے بگرام ایئربیس پر چین کے قبضہ کرنے کا شک ظاہر کرتے ہوئے کہا تھاکہ چین افغانستان میں بھی قدم جما رہا ہے اور اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ چین نے تو خیر نہایت مہذب انداز میں اس کی تردید کی مگر طالبان حکومت نے بگرام پر ٹرمپ کے ریمارکس کی شدید مذمت کرتے ہوےخبردار کیا کہ وہ کچھ بھی کرنے سے پہلے امریکہ سمیت جس نے بھی افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ان کا انجام دیکھ لیں۔ایک سینئر افغان اہلکار نے افغانستان کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن (آر ٹی اے) پرکہا کہ ، "افغانستان نے اپنی سرزمین پر اپنی پوری تاریخ میں کبھی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔”افغانی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر سفارت کار جلالی نے یہ بھی کہا کہ ، "افغانستان اور امریکہ کو دو طرفہ احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اقتصادی اور سیاسی تعلقات پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔”
اس کے علاوہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر بھی تنازع ہے۔ امریکی انتظامیہ گوانتاناموبے میں قید محمد رحیم الافغانی کو طالبان حکومت کے حوالے کرنے کے بدلے 3؍ امریکی ریان کاربٹ، جارج گلیزمین اور محمود حبیبی کی رہائی چاہتا ہے جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ محمود حبیبی ان کے تحویل میں ہی نہیں ہے۔ ان اختلافات کے سبب امریکہ طالبان کا دشمن بن گیا اور ہندوستان بھی بگرام فوجی اڈے پر امریکہ کی مخالفت کرکے چین و پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا کردیا۔ اس طرح فی زمانہ افغانستان نے عالمی سیاسی بساط کو ایک ایک مکڑی کے جال میں تبدیل کردیا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا کیونکہ عالمی سفارتکاری جو کچھ سامنے ہوتا اس کے برخلاف پردے کے پیچھے کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ غالب کے بقول ؎
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
Like this:
Like Loading...