Skip to content
نمک حرام کون: بھارتی ٹیکس دہندگان یا نفرت کے سوداگر؟
ازقلم: اسماء جبین
(اسسٹنٹ پروفیسر، یشونت رائو چوان
آرٹس و سائنس مہاودیالیہ،
منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر)
______
جب لفظوں میں زہر گھولا جائے تو وہ محض جملے نہیں رہتے، خنجر بن جاتے ہیں، جو کسی قوم کی روح کو چھلنی کر دیتے ہیں۔ بہار کی انتخابی ریلی میں مرکزی وزیر گِری راج سنگھ کی زبان سے نکلا ہر لفظ دراصل اس جمہوری عمارت کی بنیادوں میں ایک شگاف تھا، جسے بنانے میں نسلوں کا خون پسینہ صرف ہوا تھا۔ ”نمک حَرَام” یہ دو لفظ جب کروڑوں مسلمانوں کے ماتھے پر چسپاں کیے گئے، تو گویا بھارت کے آئینی وقار کو علی الاعلان نیلام کر دیا گیا۔ یہ محض ایک سیاسی رہنما کی بدزبانی و بد تمیزی نہیں تھی، بلکہ یہ اس تباہ کن منصوبے کی ایک اور سیاہ قسط تھی جس میں نفرت کو ایندھن اور تقسیم کو حکمت عملی بنا کر اقتدار کے تخت پر قابض رہنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جس منبر سے عوام کی خدمت اور بھائی چارے کا اعلان ہونا چاہیے تھا، وہاں سے فرقہ واریت کی آگ بھڑکائی گئی۔ یہ اس اخلاقی دیوالیہ پن کا کھلا اعلان تھا جہاں اقتدار کی ہوس، نفرت کو جواز اور تعصب کو حب الوطنی کا درجہ عطا کر دیتی ہے۔ یہ آواز گری راج سنگھ کی نہیں، بلکہ اس گہری اور تاریک سرنگ کی تھی جس میں آج کا بھارت تیزی سے دھکیلا جا رہا ہے؛ ایک ایسی سرنگ جس کے دہانے پر ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کا کھوکھلا چراغ کنارے پر ٹمٹما رہا ہے اور جس کی تہہ میں آر ایس ایس کے ”ہندو راشٹر” کا بھیانک اندھیرا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب بھارت نے دیکھ لیا کہ اس کے حکمران اپنے ہی عوام کو دشمن سمجھتے ہیں، اور ان کی سیاست کی بنیاد محبت پر نہیں، نفرت کے دلدل پر کھڑی ہوئی ہے۔
گری راج سنگھ تو محض ایک مہرہ ہیں، ایک کٹھ پتلی جس کی ڈوریاں ان ہاتھوں میں ہیں جو اس ملک کے سماجی تانے بانے کو ادھیڑ کر اقتدار کی بساط پر اپنی جیت یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا بیان کوئی اتفاقی لغزش نہیں، بلکہ ایک دہائی سے جاری اس منظم مہم کی تازہ ترین قسط ہے جس کا مقصد ہندو مسلم خلیج کو اتنا گہرا کر دینا ہے کہ اس پر صرف نفرت کے پُل ہی تعمیر کیے جا سکیں۔ جب وہ مجمع سے ”نمک حَرَام” کے نعرے لگواتے ہیں تو درحقیقت وہ اس بات کا جشن منا رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے کامیابی سے ایک پورے طبقے کو شک اور نفرت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بے شرمی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے جب ملک کا وزیر اعظم، جو خود کو 140 کروڑ بھارتیوں کا نمائندہ کہتا ہے، اس زہر افشانی پر ایک پراسرار اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ یہ خاموشی کوئی عام سکوت نہیں، یہ اس شراکتِ جرم کا اعتراف ہے جو سیاسی مفاد کی خاطر آئین کی روح کو پامال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اگر واقعی یہ حکومت دستور کے ہر شہری کو مساوی سمجھتی تو گری راج سنگھ جیسے فرنج عناصر کابینہ میں نہیں، بلکہ تاریخ کے کوڑے دان یا سلاخوں کے پیچھے میں ہوتے۔
یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر گری راج سنگھ کے منطقی دیوالیہ پن پر غور کیجیے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جو سرکاری منصوبوں سے فائدہ اٹھا کر بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتا، وہ ”نمک حَرَام” ہے۔ اس پیمانے پر تو بھارت کے 64 فیصد عوام، جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا تھا، ”نمک حَرَام” کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا وہ کروڑوں ہندو، سکھ، دلت، قبائلی اور دیگر طبقات جو اپنی سیاسی بصیرت کی بنا پر مودی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں، وہ بھی غدار ہیں؟ یہ سوچ نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہے بلکہ اس جاگیردارانہ ذہنیت کی عکاس ہے جہاں حکمران خود کو مالک اور عوام کو اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ جمہوریت خیرات کا نام نہیں، یہ حق کی بنیاد پر استوار ایک معاہدہ ہے۔ حکومت عوام پر کوئی احسان نہیں کرتی، وہ عوام کے ٹیکسوں سے چلتی ہے اور ان کی خدمت پر مامور ہے۔
اور یہیں اس المیے کا سب سے تلخ اور شرمناک پہلو سامنے آتا ہے۔ جن مسلمانوں کو آج ”نمک حَرَام” کہا جا رہا ہے، وہ اسی ملک کے وفادار شہری ہیں جو ہر روز اپنی محنت سے اس کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ان کے ٹیکس کا پیسہ قومی خزانے میں جاتا ہے، اور اسی خزانے سے گری راج سنگھ جیسے وزراء کی تنخواہیں، مراعات اور پُر تعیُّش زندگیاں رواں دواں ہیں۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی پر پلنے والے ہی ان کو غداری کے طعنے دے رہے ہیں؟ اصل نمک حَرَامی یہ نہیں کہ کوئی شہری اپنی آزاد مرضی سے ووٹ دے، اصل نمک حَرَامی یہ ہے کہ آپ عوام کے دیے ہوئے مینڈیٹ اور ان کے پیسوں کا نمک کھا کر انہی کے وجود کو گالی دیں۔ یہ توہین کی وہ انتہا ہے جہاں مظلوم کو ہی ظالم اور وفادار کو ہی غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ بیان دراصل گری راج سنگھ اور ان کی جماعت کے ماتھے پر کلنک کا وہ ٹیکہ ہے جسے تاریخ کبھی مٹا نہیں سکے گی۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ کردار ان اداروں کا ہے جنہیں جمہوریت کا محافظ سمجھا جاتا تھا۔ کہاں ہے وہ عدلیہ جو ازخود نوٹس لینے کی طاقت رکھتی ہے؟ کہاں ہے وہ الیکشن کمیشن جس کی ذمہ داری انتخابی ماحول کو نفرت سے پاک رکھنا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام ادارے کسی گہری نیند میں ہیں یا پھر انہوں نے طاقت کے سامنے اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ ان کی خاموشی نے نفرت کے سوداگروں کے حوصلے اتنے بلند کر دیے ہیں کہ وہ اب کھلے عام آئین کا مذاق اڑاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ ادارہ جاتی تباہی بھارت کو ایک ”جمہوریہ” سے ایک ”جنگل راج” میں تبدیل کر رہی ہے، جہاں قانون کی حکمرانی نہیں، بلکہ طاقتور کی من مانی چلتی ہے۔
اس آگ کو بھڑکانے میں بھارتی میڈیا، جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بیشتر ٹی وی چینلز اور اخبارات آج سچائی کے علمبردار نہیں، بلکہ حکومتی پروپیگنڈے کے بھونپو بن چکے ہیں۔ وہ گری راج سنگھ کے بیان کو ”متنازع” کہہ کر اس کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی فسطائی ذہنیت پر بحث کرنے سے کتراتے ہیں۔ شام کے پرائم ٹائم مباحثے علم و دلیل کے مراکز نہیں، بلکہ نفرت کے اکھاڑے بن چکے ہیں، جہاں اینکر حضرات خود جلتی پر تیل ڈالنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اس نفرتی صحافت نے عوام کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے اور معاشرے کو اس قدر بے حس بنا دیا ہے کہ اب نفرت انگیز بیانات معمول کی کارروائی لگنے لگے ہیں۔
گری راج سنگھ کی تاریخ ایسے ہی زہریلے بیانات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی وہ مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دیتے ہیں، کبھی کورونا کو ”مسلم وائرس” قرار دیتے ہیں۔ یہ بیانات ان کی شخصیت کا نہیں، بلکہ اس نظریے کا عکس ہیں جو بھارت کو ایک کثیر الثقافتی گُلشن کے بجائے ایک ہی رنگ کیخاردار جنگل میں بدلنا چاہتا ہے۔ یہ نظریاتی بانجھ پن آج بھارت کی عالمی ساکھ کو بھی بُری طرح مجروح کر رہا ہے۔ وہ ملک جو کبھی گاندھی، نہرو اور ٹیگور کی سرزمین کہلاتا تھا، آج دنیا میں اپنی تنگ نظری اور اقلیتی دشمنی کی وجہ سے جانا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں جب یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ بھارت کا ایک مرکزی وزیر اپنے ہی کروڑوں شہریوں کو غدار کہہ رہا ہے، تو دنیا کی نظروں میں اس کا وقار خاک میں مِل جاتا ہے۔
پس، سوال یہ نہیں کہ نمک حرام کون ہے؛ سوال تو یہ ہے کہ دستورِ ہند کی روح کو کون نیلام کر رہا ہے؟ اصل غدار وہ شہری ہرگز نہیں جو اپنے جمہوری حق کی طاقت سے کسی جماعت کو مسترد کر دے، بلکہ حقیقی غدار وہ ہیں جو آئین سے وفاداری کا مقدس حلف اٹھا کر، اسی کی جڑوں پر مسلسل تیشہ چلاتے ہیں۔ اصل نمک حرامی یہ ہے کہ اس سرزمین کی مشترکہ تہذیب اور قوم کے وسائل کا نمک کھا کر، اسی کی رگوں میں فرقہ واریت کا زہر گھولا جائے! آج بھارت ایک ایسے نازک دوراہے پر آ کھڑا ہے، جہاں ایک راستہ آئین کی سربلندی، مساوات اور اخوت کی منزل کو جاتا ہے اور دوسرا راستہ نفرت، تقسیم اور تباہی کی عمیق کھائی میں گرتا ہے۔ گری راج سنگھ اور ان کے سرپرستوں نے تو اپنا راستہ چن لیا ہے، مگر اب فیصلہ بھارتی عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے نفرت کی اس سیاست کو پاش پاش کر دیں اور آئین کے تقدس کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں۔
Like this:
Like Loading...