Skip to content
دیوالی سے دیوالیہ تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
دیوالی کو خوشحالی کا تہوار مانا جاتا ہے۔ ہندوستان ایک زرعی ملک ہے ۔ یہاں کی آبادی کے بڑے حصے کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے۔ ایسے میں اول تو شمالی ہندوستان بلکہ اب جنوبی ہند میں بھی دیوالی کا تہوار ایسے موسم میں منایا جاتا ہے جب کسان کے پاس فصل کاٹ چکنے کے بعد دولت اور فرصت دونوں میسر ہوتی ہے۔ کیرالہ اور تمل ناڈو میں اونم و پونگل بھی فصلوں کی کٹائی کے بعد منائے جاتے ہیں ۔ شمالی ہند کے ہندو اس موقع پر لکشمی کی پوجا کرتے ہیں اور برکت کی خاطر سونا چاندی خریدتے ہیں۔ اس بار سونے کا بھاو سوالاکھ فی تولہ سے تجاوز کرگیا اس لیے متوسط طبقے نےتک زیور خریدنے کا خیال اپنے دل سے نکال دیا ۔ پہلے جو غریب چاندی خرید کر اپنے آپ کو مطمئن کرتے تھے ان کو پتہ چلا کہ چاندی کی قیمت ڈیڑھ لاکھ فی کلو سے آگے بڑھ گئی ہے تو اس نے بھی سینے پر پتھر رکھ کر اس کے خریدنے کا خیال دل سے نکال دیا۔ بیروزگاری اور مہنگائی کی دو طرفہ مار نے ملک کے غریب اور متوسط طبقات کی دیوالی کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ہے ۔ وہ بیچارے اپنے ٹیلی ویژن اور موبائل میں امر کبیر لوگوں کو دیوالی کی خوشیاں کو دیکھ کر یا وزیر اعظم کی فوجیوں کے ساتھ نوٹنکی سے دل بہلا رہے ہیں ۔
یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف عوام پریشان ہیں دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نےہندوستانی معیشت کی چمک دمک کو سراہا ہے۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ ایسے وقت میں جب پوری دنیا معاشی غیر یقینی کے دور سے گزر رہی ہے، ہندوستانی معیشت ایک مضبوط ستون کے طور پر کھڑی ہےاور عالمی اقتصادی ترقی میں اہم و مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس رفتار کو برقرار رکھنے اور تیز کرنے کے لیے، ہندوستان کو کچھ گہری اور ضروری اصلاحات کو تیزی سے نافذ کرنے پر زور دیا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں سے اکثر ممالک میں مہنگائی، بیروزگاری اور کٹوتی کی پالیسیاں بڑھتی ہیں۔ معاشی اصلاحات کے نام پر عوامی فلاح وبہبود کی اسکیموں کی حوصلہ شکنی بلکہ زبردستی کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں غربت و خوشحالی کے درمیان کی کھائی وسیع سے وسیع تر ہوجاتی ہے۔ہندوستان جیسی دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی اس معیشت کے تقریباً 140 کروڈ آبادی میں سے تقریباً 100 کروڑ لوگوں کے پاس اشیائے ضروریہ کے علاوہ کچھ بھی خریدنے کو پیسے نہیں بچتے۔ 80 کروڈ کا گزارہ تو پانچ کلو سرکاری امداد پر ہوتا ہے ایسے میں وہ بیچارے کوئی تہوار کیسے منائیں گے؟
’بلوم وینچرس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ضرورت سے زیادہ کما کر خرچ کرنے والے 14-13 کروڑ لوگ اترپردیش کی آبادی سے بھی کم ہیں ۔ اس کے علاوہ 30 کروڑ لوگ دھیرے دھیرے خرچ کرنا تو سیکھ رہے ہیں، لیکن ان کی جیب میں اتنے پیسے نہیں بچتے کہ وہ اضافی رقم خرچ کر سکیں۔ ڈیجیٹل پادائیگی کی سہولت نے ہندوستانیوں کی خریداری کو آسان تو بنا دیا مگر اس کے لیے جو جمع پونجی درکار ہے وہ کہاں سے آئے گی؟ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ہندوستان میں امیروں کی تعداد اس تیز رفتاری سے نہیں بڑھ رہی جتنی تیزی سے امیروں کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے۔ یعنی غریب لوگ غریب تر اور امیر طبقہ امیر تر ہوتا چلا جارہا ہے۔مذکورہ بالا حقیقت کا اظہار مختلف طریقوں سے ہوتا ہے مثلاًمہنگے مکانات کی طلب میں تو اضافہ ہو رہا ہے مگر گزشتہ 5 سالوں میں سستے (قابل استطاعت) گھروں کی حصہ داری 40 فیصد سے کم ہو کر صرف 18 فیصد رہ گئی ہے۔ قیمتی اسمارٹ فون تو تیزی سے فروخت ہو رہے ہیں، لیکن سستے ماڈل کے خریدار کم ہو گئے ہیں۔ یہاں تک کہ کولڈ پلے اور ایڈ شیر جیسے بین الاقوامی ستاروں کے مہنگے کنسرٹس پلک جھپکتے ہاوس فل ہو جاتے ہیں، لیکن عام لوگوں کو تفریح و تہوار مہنگے محسوس ہو رہے ہیں ۔
’بی بی سی‘ کی ایک رپورٹ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ کووڈ 19 کے بعد ہندوستان میں امیروں کے لیے اچھے دن آ گئے، لیکن غریبوں کی حالت اور خراب ہو گئی۔ یعنی 1990 میں ہندوستان کے سرفہرست 10 فیصد لوگ 34 فیصد قومی آمدنی کے مالک تھےلیکن اب 10 فیصد لوگ 57.7 فیصد قومی آمدنی کے مالک ہو گئے ہیں۔ ملک کے سب سے غریب 50 فیصد لوگوں کی آمدنی 22.2 فیصد سے کم ہو کر محض 15 فیصدپر آچکی ہے۔ یعنی امیروں کی دیوالی کادیا اور بھی زیادہ روشن ہوگیا لیکن غریبوں کے چراغ ٹمٹمانے لگے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایودھیا میں ریکارڈ توڈ دولاکھ 65ہزار دئیے جلانے کے بعد دوسرے دن غریب پس انداز تیل جمع کرکے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’مارسیلس انویسٹمنٹ مینیجرز ‘نامی عالمی ادارے کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کا متوسط طبقہ کی تنخواہ میں توکوئی خاص اضافہ نہیں ہو رہا مگر مہنگائی مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں ٹیکس دینے والے متوسط طبقے کی آمدنی جمود کا شکار رہی ہے۔ یعنی مہنگائی کے لحاظ سے ان کی تنخواہ نصف ہو گئی اور بچت گزشتہ 50 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ۔ عوام کی ضروریات کے لحاظ سے آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔
عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ نے دنیا بھر میں آئی ایم ایف کے رکن ممالک کی تعداد کو44؍ سے بڑھا کر191؍تک پہونچادیا ہے ۔ ان میں 86؍ممالک کو آئی ایم ایف نے قرض کے جال میں جکڑ رکھا ہے۔ فی الحال اس کی مجموعی مقدار مجموعی قرض 162؍ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے سالانہ اجلاس میں عالمی مالیاتی بحران کا مدعا زیربحث آگیا اور اس حوالے سے امریکی تجارتی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔عالمی بنک کوئی خیراتی ادارہ نہیں ہے بلکہ سود پر قرض دیتا ہے۔ 2024ءمیں 50؍ ممالک نے آئی ایم ایف سے سود کی مد میں مجموعی طور پر5؍ ارب ڈالرس کمائے ۔آئی ایم ایف بورڈ کا مساوات سے کوئی تعلق نہیں ہے وہاں ملک کی معیشت اور آئی ایم ایف کے فنڈز میں حصے کےمطابق ووٹ کی قدرو قیمت طے کی جاتی ہے۔ اس لیے امریکہ کے پاس جملہ ووٹ کا 16.49 فیصد اور ہندوستان کے محض 2.6 فیصد کا حصہ دار ہے۔ اس طرح بورڈ کے سارےفیصلے طاقتور ممالک کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ عالمی سرمایہ داروں نے ملکوں معاشی ترقی کو اپنا مرہونِ منت بنارکھا ہے۔ موجودہ عالمی خوشحالی قرض کے بل بوتے پر چمکتی ہے۔
ورلڈ پاپولیشن ریویو کے مطابق 3 ٹریلین ڈالرقومی قرض کے ساتھ ہندوستان دنیا کا ساتواں بڑا مقروض ملک بن گیا ہےاور اس کا ہر شہری 504 ڈالر کا قرض دار ہے۔پاکستان کا 33 واں نمبر پر 260.8ارب ڈالر کا مقروض ہے اس لیے ہر پاکستانی پر 543 ڈالر کا قرض ہے۔ بنگلہ دیش کا قومی قرض بھی177.6 ارب ڈالر ہےیعنی ہر بنگلہ دیشی611ڈالر کا مقروض ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ مقروض ممالک میں سرفہرست امریکہ ہے جس پر 32.9 ٹریلین ڈالر کا قومی قرضہ چڑھا ہوا ہے اور ہر امریکی تقریباً 76ہزار ڈالر کا قرض دار ہے۔ اس کے برعکس سب سے نیچے ا فغانستان ہے جس پر قومی قرض صرف 1.6ارب ڈالر اور ہر افغان 30 ڈالر کا مقروض ہے۔ یہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ عام امریکی کے مقابلے سیدھے سادے افغانی پر قرض کا بوجھ کتنا کم ہے؟ اس میں ان کے عزت و وقار کا راز چھپا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی کے دباو میں نہیں آتے۔مقروض ممالک کی فہرست 15ٹریلین ڈالر قرض کے ساتھ چین دوسرے نمبر پر ہے۔ جاپان پر 10.9 ٹریلین ڈالر، برطانیہ3.4 ٹریلین ڈالر، فرانس 3.4 ٹریلین ڈالر، اٹلی 3.1 ٹریلین ڈالراور پھر ہندوستان 3 ٹریلین ڈالرکے ساتھ ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ مودی جی پانچ ٹریلین ڈالر معیشت کا ذکر تو خوب کرتے ہیں مگر اس قرض کو چھپا دیتے ہیں ۔ 2023 کے آخر تک ہندوستان پر ورلڈ بینک وغیرہ کا تقریباً 3.28 لاکھ کروڑ روپےکا قرض ہوچکا تھا جبکہ امسال ہندوستان کی جی ڈی پی تقریباً 3.7 ٹریلین ڈالر ہے۔2014 میں جب نریندر مودی نے عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت ہندوستان پر ورلڈ بینک کا قرض تقریباً 26.8 ارب ڈالر تھا۔جو2023 کے آخر تک 12.5 ارب ڈالریعنی (46%) بڑھ گیا۔اس طرح سالانہ اوسط اضافہ تقریباً 1.4 ارب ڈالر رہا، جو زیادہ تر ’میک اِن انڈیا‘، ’اسمارٹ سٹی‘، اور ’آیوشمان بھارت‘ جیسی اسکیموں کے لیے نئے قرضوں کی خاطر لیا گیا۔ قرض تو بڑھ گیا مگر ان محاذوں میں کوئی خاص ترقی نہیں ہوئی ۔اس میں عالمی بنک کا قرض توصرف 6% ہے ورنہ ملک پر کل بیرونی قرضہ جو 2014 میں 457 ارب ڈالر تھا 2023 میں 647 ارب ڈالر ہو گیا۔ اس میں انتخاب کے وقت حکومت کی جانب سے رشوت کے طور پر لٹائے جانے والے سرمایہ کا بھی حصہ ہے۔ مدھیہ پردیش سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ مہاراشٹر سے ہوکر بہار پہنچ چکا ہے۔ بیرونی قرض کا ایک بڑا حصہ سیاستدانوں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ اس لیے بجٹ کی ایک خطیر رقم سود کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے اور اس کے لیے بھی قرض لینا پڑتاہے۔ سرکاری دیوالی کی چمک دمک کے پیچھے قومی دیوالیہ پن کے یہ اندھیرا چھپا دیا جاتاہے۔
Like this:
Like Loading...