Skip to content
سیما شکور کے مجموعہ "زنجیر” کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ
ازقلم:ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت۔
(اسسٹنٹ پروفیسر ) صدر شعبہ اردو
یوگیشوری کالج آمباجوگای ۔مہاراشٹر۔
اردو ادب کی تاریخ میں حیدرآباد دکن کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ شہر تہذیبی، علمی اور ادبی اعتبار سے ہمیشہ سے ہی گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار رہا ہے۔ صدیوں سے یہ سرزمین علوم و فنون کا گہوارہ اور اردو زبان و ادب کے لیے سرسبز و شاداب و زرخیز رہی ہے، جہاں مختلف علوم و فنون کی آبیاری ہوتی رہی۔ مشہور و معروف صوفیائے کرام، اولیائے کرام، عظیم شعرا اور نامور ادیبوں و نقادوں کی سرزمین ہونے کے ناطے، حیدرآباد آج کے جدید دور میں بھی تیزی سے جدید علوم و فنون کی آبیاری میں گراں قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں عثمانیہ یونیورسٹی، مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی اور کئی عظیم کتب خانوں نے شہر کی علمی و ادبی شناخت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ بہمنی، عادل شاہی، قطب شاہی اور مغل ادوار میں اس سرزمین نے ایسی عظیم ادبی شخصیات کو جنم دیا جنہوں نے اردو نثر کو نئی جہتیں عطا کیں۔
اسی فکری و ادبی روایت کی امین، عصر حاضر کی ایک با صلاحیت قلم کار سیما شکور کا نام خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ وہ ایک معروف اصلاحی مضامین نگار اور نظم نگار ہیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف زبان و بیان کی پختگی لیے ہوئے ہیں بلکہ ان میں فکری گہرائی اور معاشرتی اصلاح کا خاص پہلو بھی نمایاں ہے۔ زیرِ نظر یہ مقالہ سیما شکور کی ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے مخصوص اسلوب اور اصلاحی رجحان کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اردو ادب میں ان کے مقام کا تعین کیا جا سکے۔
سیما شکور عصر حاضر کی ان مشہور و معروف قلم کاروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور جستجو اور ادبی بصیرت سے اردو ادب میں بلند مقام پایا ہے۔ وہ ایک با اخلاق، باصلاحیت، مخلص اور محنتی شخصیت کی مالک ہیں۔ ان کی تحریروں میں صرف معاشرتی مسائل کا ادراک نظر نہیں آتا بلکہ ان کے حل کے لیے اصلاحی جدوجہد اور تعمیری نقطہ نظر بھی نمایاں ہیں۔ شیکسپیئر کا قول ہے کہ "کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت و عزت کے حامل ہوتے ہیں،” یہ قول سیما شکور کی شخصیت پر صادق آتا ہے جنہوں نے اپنی ذہنی صلاحیت اور ادبی خدمات کے ذریعے یہ بلند مقام حاصل کیا ہے۔ ان کا رجحان بنیادی طور پر اصلاحی مضامین کی طرف ہے جہاں وہ انسانی نفسیات، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو اپنا موضوع بناتی ہیں۔ سیما شکور کے ادبی سفر میں نثر اور شاعری دونوں شامل ہیں؛ وہ بہترین نظم نگار بھی ہیں۔ تاہم، ان کا رجحان خصوصاً اصلاحی مضامین کی طرف زیادہ راغب رہا ہے۔ ان کے مضامین معاشرے میں موجود خامیوں اور منفی رجحانات کو نشان زد کرتے ہوئے انہیں مثبت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں درد مندی، حقیقت پسندی اور بے باکی نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ وہ اپنے قلم کو معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین قارئین کے دلوں میں اتر کر انہیں غور و فکر پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات پر متعدد نقادوں اور اہل قلم کاروں نے اظہار خیال کیا ہے جو ان کے بلند مقام کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
"زنجیر” سیما شکور کا چوتھا اصلاحی مضامین کا مجموعہ ہے جو ۳۰ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہے۔ اس مجموعہ کا نام بذات خود ایک علامتی حیثیت رکھتا ہے؛ یہ "زنجیر” معاشرتی بندھنوں، فرسودہ خیالات اور انسانی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے جنہیں مصنفہ اپنے مضامین کے ذریعے توڑنے کی سعی کرتی ہیں۔ اس مجموعے کے سبھی مضامین پند و نصائح اور اعلیٰ قدروں سے معمور ہیں۔ مصنفہ کے یہ مضامین ان کی نرم مزاجی، رحم دلی اور انسانیت کا درس دیتے ہیں، اور لوگوں کے متعلق خیر خواہی کا علم دیتے ہیں۔ مظلوم لوگوں کے متعلق ہمدردانہ سلوک کا کھل کر درس ملتا ہے۔ ان کا گہرا مطالعہ اور گہرا مشاہدہ ان کے مضامین میں جھلکتا ہے۔ یہ مضامین قارئین کے لیے ایک بہترین علمی و ادبی خزانہ ہی نہیں بلکہ ایک قیمتی سرمایہ اور نعمت کی حیثیت رکھتے ہیں، اور معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی ایک نہایت کارآمد سرگرمی ہیں۔ ان کے مضامین میں متنوع موضوعات سمیٹے گئے ہیں جو روزمرہ کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں اور انسانی نفسیات، اخلاقی اقدار، اور معاشرتی رشتوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہیں۔ یہ سیما شکور کے مشاہدے کی گہرائی اور فکری وسعت کا آئینہ دار ہے۔
سیما شکور کے مضامین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں صداقت اور حقیقت کا رنگ صاف نمایاں ہوتا ہے۔ وہ انسانی رشتوں سے جڑی نصیحت آمیز باتوں اور اخلاقی حقائق کو نہایت سادگی، سلاست اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کا سلیقہ رکھتی ہیں۔ ان کے مضامین انسانی فطرت کا صاف آئینہ دار ہیں؛ وہ روزمرہ کی زندگی کے خاص پہلوؤں کو گہرائی سے پرکھتی ہیں اور انہیں اپنے قلم کے ذریعے قارئین تک پہنچا دیتی ہیں۔ ان کے کچھ اہم مضامین فکری گہرائی کی عکاسی کرتے ہیں: "ایمانداری کے خوبصورت رنگ” میں مصنفہ نے ایمانداری کے اعلیٰ اوصاف کو نہایت دلکش انداز میں پیش کیا ہے کہ ایمانداری انسانیت کی معراج ہے اور یہ وہ گوہر ہے جو لوگوں کی شخصیت کو معروف و مقبول بناتا ہے۔ "حوصلہ افزائی کے جب پھول مہکتے ہیں” میں سیما شکور خوبیوں کو سراہنے اور حوصلہ افزائی کرنے سے متعلق نہایت دلچسپ باتوں کا ذکر کرتی ہیں؛ وہ بتاتی ہیں کہ اعلیٰ ظرف لوگ جب حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو انہیں دلی خوشی حاصل ہوتی ہے اور اچھے کام کی حوصلہ افزائی انسان کو ترقی کی منزلوں تک پہنچا دیتی ہے۔ "بیٹی رحمت ہے، اور رحمت کبھی بوجھ نہیں ہوا کرتی” سیما شکور کا نہایت نمائندہ مضمون ہے اور مجموعے کا خاص جزو ہے۔ اس میں مصنفہ نے اپنی عمدہ نظریہ پیش کیا ہے کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں اور بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں۔ یہ مضمون گھریلو اسلوب کا حامل ہے جو انسانی دلوں میں نرمی اور ہمدردی رکھنے پر زور دیتا ہے، اور انسان کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے اور شفقت کا دامن تھامنے کا درس دیتا ہے۔ "زندہ دلی کی بارش میں بھیگ کر دیکھو” میں مصنفہ نے زندہ دل لوگوں کی ہر دل عزیزی کو بڑے پرکشش انداز میں پیش کیا ہے اور روزمرہ کے مسائل و ان کے حل کو بیان کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے بہترین اصولوں سے واقف کرایا ہے۔ "رشتوں میں مٹھاس کیوں ڈھونڈتے ہو تم” سیما شکور کا نہایت شاہکار مضمون ہے جس میں رشتوں کے احساس کو اجاگر کیا گیا ہے، اور رشتوں میں خلوص، محبت اور اتفاق کا درس ملتا ہے۔ اس مضمون میں رشتوں میں غلط فہمیاں اور بد گمانیاں عمدہ مثالیں دے کر نہایت سنجیدگی سے بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سیما شکور کے مضامین میں انسانی فطرت اور نفسیات کا گہرا مطالعہ نظر آتا ہے۔ وہ ایسے موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں جو نہ صرف قاری کے لیے قابل فہم ہوتے ہیں بلکہ انہیں فکر و عمل کی بہترین دعوت بھی ملتی ہے۔ سیما شکور کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ معاشرے کی رہبری و رہنمائی اور افراد میں مثبت تبدیلی لانا ان کا اصل مقصد ہے۔ ان کے مضامین میں اخلاقی اقدار، انسانی رویوں اور معاشرتی ذمہ داریوں پر ایک گہری بصیرت نمایاں ہوتی ہے۔
سیما شکور کا تحریری فن ہدایت آمیز ذہانت سے بھرپور، نہایت عمدہ اور دلکش ہے۔ "زنجیر” کے اس مجموعے کے سبھی ۳۰ اصلاحی مضامین فنی اعتبار سے کامیاب ہیں جو انہوں نے قارئین کے سامنے نہایت دلکشی کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ ان کی زبان و بیان سادہ، سلیس، اور عام فہم ہے جو ان کے مضامین کو مزید قابل مطالعہ بناتی ہے۔ یہ سلاست اور سادگی قارئین تک مؤثر پیغام پہنچانے میں معاون ہے۔ وہ ادبی ذہانت سے ادبی چاشنی کو برقرار رکھ کر ادبیات میں اپنا ایک منفرد مقام حاصل کی ہیں۔ ان کا یہ مجموعہ اردو ادب کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے اور مستقبل میں ان کی مزید ادبی خدمات کی امید کی جا سکتی ہے۔ سیما شکور نے اپنے مضامین کے ذریعے معاشرے کو ایک نہایت مثبت سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کام محض الفاظ کی ہیرا پھیری نہیں بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں کا خاص احساس ہے۔ مجموعہ "زنجیر” اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ ادب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاح اور بیداری کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ اردو نثر کے فروغ اور معاشرتی اقدار کی ترویج میں سیما شکور کی خدمات قابل تحسین اور قابل قدر ہیں، اور فنی اعتبار سے ان کے تمام اصلاحی مضامین کامیاب ہیں۔
Like this:
Like Loading...