Skip to content
جب تعلیم محض ڈگری بن جائے: علم اور افادیت کی کشمکش میں کھوئی ہوئی نسل
از قلم: اسماء جبین فلک
(اسسٹنٹ پروفیسر،
یشونت راؤ چوان آرٹس و سائنس مہاودیالیہ،
منگرول پیر، ضلع واشم، مہاراشٹر)
لکھنئو کے ایک متوسط طبقے کے گھر میں سترہ سالہ عائشہ اپنے والد سے کہتی ہے، "ابو، مجھے ادب پڑھنا پسند ہے، لیکن سب کہتے ہیں کہ اس میں نوکری نہیں ملتی۔” اسی وقت دہلی میں ایک نوجوان طالب علم حامد انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کرنے کے باوجود خود کو ادھورا محسوس کرتا ہے، کیونکہ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ یہ دو مثالیں محض افسانے نہیں، بلکہ ہماری پوری نسل کے تعلیمی بحران کی عکاس ہیں، جہاں علم کی قدر صرف بینک اکاؤنٹ میں جمع ہونے والے عدد سے ماپی جانے لگی ہے۔
امریکا کی نیشنل ایسوسی ایشن آف کالجز اینڈ ایمپلائرز کے ۲۰۲۴ کے اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں: کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے نئے گریجویٹس ۸۸,۰۰۰ ڈالر سالانہ کماتے ہیں، جب کہ انسانیات اور سماجی علوم کے فارغ التحصیل طلبہ کو محض ۴۸,۷۰۰ ڈالر پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فرق محض معاشی اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک گہری تہذیبی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ آج تعلیم کا مقصد حکمت کا حصول نہیں، بلکہ بازار میں اپنی قیمت بڑھانا بن گیا ہے۔ لیکن کیا یہ تبدیلی ناگزیر ہے؟ کیا ہم نے واقعی تعلیم کی روح کو بازار کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے؟
یہ سوال اُس وقت اور بھی اہم ہو جاتا ہے جب ہم اسلامی تاریخ کے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں۔ آٹھویں صدی میں بغداد کا "بیت الحِکمہ” محض ایک کتب خانہ نہیں تھا، بلکہ ایک علمی انقلاب کا مرکز تھا۔ یہاں یونانی فلسفہ، فارسی طب، اور بھارتی ریاضی کا عربی میں ترجمہ ہوتا تھا، اور ساتھ ہی اصل تحقیق بھی۔ دسویں صدی میں قرطبہ کی جامعہ یورپ کا سب سے بڑا علمی مرکز بنی، جہاں عیسائی، یہودی اور مسلمان اساتذہ ایک ساتھ پڑھاتے تھے۔ وہاں کوئی یہ نہیں پوچھتا تھا کہ فلسفہ پڑھنے سے کتنی تنخواہ ملے گی یا طب کا علم زیادہ منافع بخش ہے۔ امام غزالیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "إحیاء عُلوم الدِّین” میں علم کو دو حصوں میں تقسیم کیا: شرعی اور عقلی۔ لیکن انھوں نے طب، ریاضی، اور فلکیات کو "عُلومِ محمودہ” یعنی قابلِ تعریف علوم قرار دیا، بشرطیکہ ان کا مقصد انسانی فلاح ہو۔ ان کے نزدیک "قابلِ مذمت” وہ علوم تھے جو فتنہ و فساد پھیلائیں، نہ کہ وہ جو دنیاوی ضروریات پوری کریں۔ یہ توازن آج کہیں گم ہو گیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم محض ماضی کی رومانوی تصویر دیکھ رہے ہیں اور آج کی معاشی حقیقتوں کو نظرانداز کر رہے ہیں؟ جواب نفی میں ہے۔ بھارت کی سچر کمیٹی رپورٹ (۲۰۰۶) نے انکشاف کیا کہ مسلمانوں کی شرحِ خواندگی ۵۹.۱ فیصد تھی، جو قومی اوسط سے کم تھی، اور صرف ۴ فیصد مسلمانوں نے گریجویٹ ڈگری حاصل کی تھی۔ اس تناظر میں معاشی خودمختاری کی اہمیت کو نظرانداز کرنا خود فریبی ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم انجینئرنگ یا طب پڑھیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم صرف اسی لیے یہ شعبے اختیار کریں کہ ان میں زیادہ تنخواہ ملتی ہے، اور باقی تمام علوم کو "بے کار” سمجھنے لگیں۔
علامہ اقبالؒ نے قریب ایک صدی قبل اسی خطرے کی طرف اشارہ کیا تھا:
"وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دو کفِ جو”
اقبال جدید تعلیم کے مخالف نہیں تھے، بلکہ وہ اُس علم کے خلاف تھے جو انسان کو تنقیدی سوچ، اخلاقی جرأت، اور روحانی آزادی سے محروم کر کے محض معاشی مشین کا پُرزہ بنا دے۔ اور آج ہم ٹھیک یہی دیکھ رہے ہیں: جامعات تنقیدی شعور پیدا کرنے کے بجائے صرف نوکری کی تکنیکی مہارتیں سکھانے والی فیکٹریاں بن گئی ہیں۔
یہ بحران خاص طور پر تعلیمِ نسواں پر بہت بھاری پڑتا ہے۔ جب معاشرہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف نوکری ہے، تو لڑکیوں کی تعلیم کو "کم ضروری” سمجھا جانے لگتا ہے۔ عالمی بینک کی ۲۰۱۸ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں لڑکیوں کے محدود تعلیمی مواقع کی وجہ سے ۱۵ سے ۳۰ کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ اگر افریقی ممالک ۲۰۴۰ تک لڑکیوں کی تعلیم بہتر بنائیں، تو انھیں ۲.۴ کھرب ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔
تو پھر راستہ کیا ہے؟ ترکی میں کوچ یونیورسٹی نے اپنے انجینئرنگ کے طلبہ کے لیے "فلسفہ اور اخلاقیات” کے کورسز لازمی کر دیے ہیں، جہاں وہ ٹیکنالوجی کے سماجی اثرات پر بحث کرتے ہیں۔ ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے طب، انجینئرنگ، اور کاروبار کے نصاب میں اسلامی اخلاقیات کو مربوط طریقے سے شامل کیا ہے۔ مراکش کی القرویین یونیورسٹی، جو دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے، نے اپنے روایتی نصاب کو جدید سائنسی مضامین کے ساتھ ملایا ہے۔ یہ مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ توازن قائم کرنا ممکن ہے۔
بھارت کے تناظر میں، نیشنل ایجوکیشن پالیسی ۲۰۲۰ نے کثیر الشعبہ تعلیم کی اہمیت تسلیم کی ہے، جہاں سائنس کا طالب علم ادب اور فلسفہ بھی پڑھ سکے۔ لیکن اس پالیسی کو مسلم تعلیمی اداروں میں کیسے لاگو کیا جائے؟ مدارس میں جدید تعلیم اور اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کو کیسے شامل کیا جائے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہمیں مل کر تلاش کرنے ہوں گے۔
عملی سطح پر، ہمیں چند اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ پہلا، طبی اور انجینئرنگ کالجوں میں صرف ایک "اخلاقیات” کا پرچہ رکھنے کے بجائے، ہر سال ایسے کیس اسٹڈیز پر بحث ہو جہاں طلبہ سمجھیں کہ ان کا علم معاشرے پر کیا اثر ڈالے گا۔ دوسرا، امتحانات میں رٹے کے بجائے تجزیاتی سوالات پوچھے جائیں۔ او ای سی ڈی کی ۲۰۲۴ کی پیزا رپورٹ بتاتی ہے کہ ۲۰۱۲ سے طلبہ کی تنقیدی سوچ میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ تیسرا، برادری کی سطح پر شادی بیاہ کے فضول اخراجات کو کم کر کے وہ رقم تعلیمی وظائف اور نوجوانوں کے کاروباری منصوبوں میں لگائی جائے۔ چوتھا، لڑکیوں کی تعلیم کو "اچھا کام” نہیں بلکہ "ضروری سرمایہ کاری” سمجھا جائے۔
نوجوانوں کے لیے عملی مشورہ یہ ہے: اگر آپ انجینئرنگ یا طب پڑھ رہے ہیں، تو ساتھ میں کچھ کتابیں بھی پڑھیں جو آپ کی فکر کو وسعت دیں۔ اگر آپ ادب یا فلسفہ پڑھ رہے ہیں، تو کچھ تکنیکی مہارتیں بھی سیکھیں تاکہ آپ معاشی طور پر آزاد رہ سکیں۔ توازن یہی ہے۔ والدین کے لیے یہ پیغام ہے: اپنے بچوں کو صرف "ڈاکٹر یا انجینئر” بننے پر مجبور نہ کریں، بلکہ انھیں "سوچنے والا انسان” بنائیں۔ اور اساتذہ کے لیے یہ کہ وہ صرف نوٹس نہ لکھوائیں، بلکہ کلاس میں بحث کریں، سوالات اٹھائیں، طلبہ کو چیلنج کریں۔
آخر میں، اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے نوجوان کتنا کماتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کیا بنتے ہیں۔ اگر ہماری جامعات ہمیں وسیع النظری، اخلاقی جرأت، اور فکری استقامت نہیں دے سکتیں، تو وہ صرف مہنگی ڈگریاں فروخت کر رہی ہیں۔ ملتِ اسلامیہ کی تقدیر ایسے ماہرین پیدا کرنے میں نہیں جو صرف دنیا بنانا جانتے ہوں، بلکہ ایسے مفکرین تیار کرنے میں ہے جو دنیا میں جینے کا مقصد بھی سمجھتے ہوں۔ یہ توازن ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے۔
Like this:
Like Loading...