Skip to content
بھارت میں مسلمانوں کی شرح پیدائش Fertility rate میں تیزی سے کمی
ازقلم: شیخ سلیم،ممبئی
پچھلے دنوں وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک انتخابی مہم کے دوران دعویٰ کیا کہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس کے اعداد و شمار پیش کیے۔ بعد میں انہوں نے کہا یہ اضافہ دراندازی کی وجہ سے ہو رہا ہے اور انہوں نے حاضرین سے سوال کیا کیا آپ دراندازوں کو ووٹ دینے دیں گے؟ لوگوں نے جواب دیا نہیں۔ بہار میں الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا تھا کہ بہار میں بہت سارے دراندازہیں مگر جب ایس آئی آر رپورٹ الیکشن کمیشن نے شائع کی تو اس میں کوئی بھی درانداز نہیں ملا۔ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہوا، بھارت کی مردم شماری کے اعداد و شمار گزشتہ سات دہائیوں میں کچھ اس طرح سے ہیں۔
1951 اور 2011 کے درمیان، ہندوستان کی مسلم آبادی مطلق تعداد میں 3.54 کروڑ سے بڑھ کر 17.23 کروڑ ہو گئی۔ پھر بھی، اسی عرصے کے دوران، شرح نمو ( rate Fertility) میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے ۔
مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ 1950 کی دہائی میں 32.77 فیصد سے 2011 تک 24.67 فیصد تک ہوا ہے ۔قومی خاندانی صحت سروے (NFHS) کا ڈیٹا اس رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔ NFHS-2 (1998–99) کے مطابق، مسلمانوں میں شرح پیدائش (Fertility rate) 3.59 تھی، جو NFHS-3 (2005–06) میں گر کر 3.09، پھر NFHS-4 (2015–16) میں 2.61، اور مزید NFHS-5 (2019–21) میں 2.36 ہو گئی۔ یہ کمی واضح، مسلسل اور خاصی پیچیدہ ہے۔ یہ 3.59 سے 2.36 کیوں ہوا؟ موجودہ شرح پیدائش معلوم نہیں ہے، کیونکہ حکومت نے حالیہ برسوں میں مردم شماری کی ہی نہیں اور نہ ہی کوئی تازہ ترین ڈیٹا جاری کیا ہے۔ حقیقت میں مسلمان بھارت میں معاشی جمود اور پسماندگی کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان کی شرح پیدائش مسلسل گر رہی ہے۔
ہندوستانی مسلمانوں میں شرح پیدائش کی یہ کمی ایک دلچسپ تضاد پیش کرتی ہے۔ یہ سماج کی محدود معاشی ترقی کے باوجود واقع ہوئی ہے جب دوسرے سماج سے اس کا موازنہ کیا جائے۔ 2006 کی سچر کمیٹی رپورٹ اور بعد کے مطالعات study نے بار بار یہ ظاہر کیا ہے کہ مسلمان معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہیں۔ انہیں تعلیم تک کم رسائی، کم روزگار کے مواقع، اور قومی اوسط سے زیادہ غربت کا سامنا ہے۔ اور ان کی شرح پیدائش میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ یہ تبدیلی صرف معاشی خوشحالی کی بجائے وسیع تر سماجی اور معاشی عوامل کی وجہ سے آ رہی ہے۔
ملک بھر میں بہتر عوامی صحت ایک اہم عامل (factor) رہا ہے۔ آزادی کے بعد، سرکاری کوششوں نے ویکسینیشن، زچگی کی صحت کی دیکھ بھال، اور صاف پینے کے پانی تک رسائی کو زیادہ تر لوگوں تک پہنچایا، بشمول معاشی طور پر کمزور طبقات۔ ان سرکاری کوششوں نے بچوں کی اموات کو ڈرامائی طور پر کم کیا ، جو ماضی میں بڑے خاندانوں کے اہم محرکات میں سے ایک تھی۔ جب والدین کو زیادہ بھروسہ ہوتا ہے کہ ان کے بچے زندہ رہیں گے، تو وہ کم بچے پیدا کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، مسلمانوں میں تعلیم میں بتدریج پیش رفت ہوئی ہے، خاص طور پر خواتین کی خواندگی میں، جو کیرالہ، تامل ناڈو اور مہاراشٹر جیسے کئی علاقوں میں 1951 سے کافی بڑھی ہے۔ یہاں تک کہ معمولی تعلیمی فوائد، خاص طور پر خواتین کے لیے، خاندانی منصوبہ بندی کے فیصلوں کو تشکیل دینے اور چھوٹے خاندانوں کو فروغ دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
معاشی ماحول بھی اس تبدیلی کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے زندگی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں، تمام سماج کے خاندان اپنے گھرانوں کے سائز پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ مسلمانوں میں، شہری ہجرت(Migration) نے نئے سماجی رجحانات، بڑھتے ہوئے رہائشی اخراجات، اور مکانات کی کمی سے مسائل پیدا کیے ہیں۔ اب بہت سے خاندان محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ معیشت میں زیادہ بچوں کی پرورش اور تعلیم دینا تیزی سے مشکل ہو رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معاشی عدم تحفظ اور محدود مواقع بڑے خاندانوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، نہ کہ دولت مندی کی وجہ سے، بلکہ وسائل کی کمی کے احساس کی وجہ سے۔
ان سماجی و معاشی عوامل کے علاوہ، میڈیا، موبائل فون، اور سماجی آگاہی مہمات کی رسائی تقریباً سب تک پہنچ چکی ہے، قطع نظر آمدنی یا تعلیم کی سطح سے۔ صحت، مانع حمل، اور خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا، اور کمیونٹی نیٹ ورکس کے ذریعے آزادانہ طور پر گردش کرتی ہیں، جو مثالی خاندانی سائز کے بارے میں سماجی رویوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے خاندان ان معاملات سے زیادہ آگاہ ہوتے ہیں، وہ جدید تولیدی رویے (کم بچے) اپنانے لگتے ہیں۔
تاہم، شرح پیدائش میں کمی کی وجوہات ہندوستان میں مختلف سماج کے لیے مختلف ہیں، اور ماہرین ذمہ دار عوامل کے صحیح امتزاج پر بحث جاری رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاملے میں، شرح پیدائش میں کمی اس عدم یقینی اور عدم تحفظ سے بھی جڑی ہے جس کا تجربہ مسلمانوں نے حالیہ برسوں میں کیا ہے۔ کئی سماجی ماہرین نے مشاہدہ کیا ہے کہ حکمران سیاسی جماعت کی طرف سے خوف کا ماحول پیدا کرنا، مسلمانوں کے خلاف قانون سازی، بلڈوزر کا استعمال، وقف ترمیم بل اور مجوزہ یکساں سول کوڈ کے ارد گرد بحثیں، مسلمانوں میں خدشات پیدا کرتی ہیں۔ تجزیہ کار یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مرکزی دھارے کے میڈیا کے کچھ حصوں میں منفی تصویر کشی اور سیاسی مہموں میں مذہبی تقسیم کے استعمال کے اثرات، جو ان کے مطابق اجنبیت کا احساس پیدا کرنے میں معاون ہوئے ہیں۔ مزید برآں، تعلیم، روزگار، اور کاروباری شعبوں پر مرکوز پالیسی فریم ورک میں مسلمانوں کی محدود شمولیت کے بارے میں خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ طویل سماجی اور سیاسی دباؤ میں رہتے ہوئے، بہت سے مسلم خاندان زیادہ محتاط ہو گئے ہوں گے اور اپنے گھرانوں کو بڑھانے کے بارے میں کم پر امید ہو گئے ہیں۔ لہٰذا، ان کی آبادیاتی تبدیلی جزوی طور پر خوشحالی یا جدیدیت کی عکاسی نہیں کر سکتی، بلکہ ایک ایسے ماحول کے لیے محتاط موافقت کی عکاسی کر سکتی ہے جسے غیر یقینی یا اخراجی سمجھا جاتا ہے۔ شرح نمو میں کمی کی ایک بڑی وجہ معاشی مشکلات کی وجہ سے شادی کا دیر سے کرنا بھی ہے پہلے لڑکوں کی شادی 21 سال تک ہو جاتی تھی سرکاری نوکری ملنا یا کوئی پکی نوکری ملنا اتنا مشکل نہیں ہوتا تھا نوکری لگتے ہی شادی کے لئے کوشش کی جاتی تھی اب معاشی حالت ایسی نہیں یے لڑکے جلدی شادی کرسکیں شادی کے لئے لڑکے کو نوکری کاروبار اور گھر کی ضرورت ہے اگر یہ نہ ہو تو شادی میں دیری ہوتی ہے ظاہر ہے لڑکوں کی شادی میں دیری یعنی لڑکیوں کی شادی میں دیری اور مسائل ہی مسائل۔۔ بڑے شھروں میں گھروں کی کمی جس کی وجہ سے ایک گھر میں ایک سے زیادہ افراد کو غربت کے باعث رہنا پڑرہا ہے یا مشترکہ خاندانی نظام میں رہنا پڑرہا ہے اور اکثر لڑکیاں ایسی جگہ شادی نہیں کرنا چاہتی کیوں کہ روز روز کے پیچیدہ مسائل اور جھگڑوں کے بجائے شادی میں دیری کو ترجیح دے رہی ہیں اور دیر سے شادی کی وجہ سے شرح نمو واضح طور پر کم ہو جاتی ہے یہ سارے مسائل غربت سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں ۔ماہرین کو اس پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔اگر کسی خاندان کو ایک ہی بچہ ہوگا تو آگے چل کر بوڑھے ماں باپ کو کون دیکھے گا ؟ فرض کیجئے کسی کو ایک بیٹی ہے یا ایک بیٹا ہے آگے چل کر کیا ہوگا؟
آبادیاتی ماہرین اور سماجی سائنس دانوں کو ہندوستانی مسلمانوں میں شرح پیدائش میں کمی کی وجوہات پر کھلی، ڈیٹا پر مبنی بحث کرنی چاہیے، کیونکہ یہ رجحان پیچیدہ سماجی اور سیاسی سوالات پیدہ کرتا ہے جو محض اعداد و شمار سے آگے ہیں۔ اگرچہ مردم شماری اور NFHS ڈیٹا واضح طور پر دہائیوں میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی دکھاتے ہیں، بنیادی وجوہات متنازعہ ہیں۔ کچھ ماہرین اسے بہتر صحت کی سہولیات، تعلیمی ترقی، اور شہری مسائل سے منسوب کرتے ہیں، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ معاشی عدم تحفظ، سماجی پسماندگی، اور ترقیاتی پالیسیوں میں محدود نمائندگی بھی اتنی ہی ذمہ دار ہیں۔آبادیات کے ماہرین، ماہرین معاشیات، ماہرین سماجیات، اور پالیسی سازوں اور علماء کرام کے درمیان ایک قومی بحث کی فوری ضرورت ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ کس طرح سماجی و معاشی عوامل، مسلمانوں کے تاثرات، اور پالیسی فریم ورک ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے اندر آبادیاتی رویے کو متاثر کر رہے ہیں، اور اس کا ملک کی جامع ترقی کے لیے کیا مطلب ہو سکتا ہے۔
Like this:
Like Loading...