Skip to content
ہری اوم والمیکی ہجومی قتل اور منو سمرتی کا بول بالا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
2025کا 2؍ اکتوبر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس گاندھی جینتی کے دن آر ایس ایس اپنی صدسالہ تقریبات کا افتتاح کررہا تھا ۔ اس سے قبل شام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک سکہ جاری کیا جس میں گاندھی جی کی تصویر کو بھارت ماتا کی ایسی علامت سے بدل دیا گیا تھا جسے چند لوگ آر ایس ایس کے مخصوص انداز میں سلامی دے رہے تھے ۔ اس تبدیلی کے اثرات کی جان اشارہ کرنے والا ایک ایسا واقعہ اس رات رونما ہوگیا جس نے پورے ملک کو شرمندہ کردیا ۔ رائے بریلی میں ہری اوم والمیکی نامی ایک دلت کا ہجومی قتل ہوگیا ۔ مقتول نے مرنے سے قبل راہل گاندھی کا نام پکارا تو جواب ملا ہم بابا (یعنی یوگی) بابا کے لوگ ہیں۔ ناگپور میں سرسنگھ چالک کی تقریر سے قبل اس واقعہ نے موہن بھاگوت کا دل خوش کردیا ہوگا؟ اس سانحہ کے پانچ دن بعد دلت چیف جسٹس بی آر گوائی کے اوپر بھری عدالت میں جوتا پھینکنے کا شرمناک واقعہ پیش آیا۔ اس حرکت کا ارتکاب کرنے والے وکیل راکیش کشور پر کوئی کارروائی تونہیں ہوئی الٹا تعریف و توصیف کرکے اسے پدم بھوشن جیسے قومی اعزاز سے نوازنے کا مطالبہ کیا گیا۔اس سانحہ کے ایک ماہ بعدچنڈی گڑھ میں پورن کمار نامی سینئر آئی پی ایس افسر کے خودکشی کی اندوہناک خبرسامنے آگئی ۔
یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں تھاکہ پورن کمار کی موت کے ایک ہفتہ بعد روہتک میں اے ایس آئی سندیپ لاٹھر نے خودکشی کرلی اور اس کی وصیت کو بنیاد بناکر پورن کمار کی آئی اے ایس زوجہ امنیت کمار کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگئی۔ ہریانہ کے اندر جس دن یہ زیادتی کی جارہی تھی اسی دن مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا ہائی کورٹ میں مجسمہ نصب کرنے کے خلاف شہر سر پر اٹھا لیا گیا اور ان پر ایسے ایسے الزامات لگائے گئے جن کا تصور محال تھا ۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ یہ سارے واقعات ڈبل انجن سرکار والی ریاستوں میں رونما ہوئے۔ دلت سماج پر ہونے والے مظالم فی الحال ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوے ہیں کیونکہ یکے بعد دیگرے اس طرح کے واقعات کاسلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے پہلےچنڈی گڑھ میں پورن کمار اور پھر فتح پور ضلع میں واقع ہری اوم والمیکی کے آبائی گھر جانے کا اعلان کیا تو بی جے پی کے خیمے میں کھلبلی مچ گئی ۔ بابا جی کی انتظامیہ ان کو روکنے کی سعی میں جٹ گئی۔
راہل گاندھی کے دورے سےپہلے ہری اوم کی بہن کُسم کو فتح پور میڈیکل کالج میں اسٹاف نرس کی عارضی ملازمت کا تقرری خط جاری کیا گیا اور چند گھنٹے قبل اس کے بھائی شیوَم والمیکی کے ذریعہ خاندان کے ساتھ ایک ویڈیو جاری کرائی گئی ۔ اس میں کانگریس رہنما کو اس سانحہ کے سیاسی مقاصد کی خاطر استعمال سے منع کیا گیا۔ شیوَم سے ویڈیومیں کہلوایا گیا کہ : "ہم حکومت سے خوش ہیں اور ہمیں یہاں سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔” اس کے باوجود جب راہل گاندھی نے ہری اوم کے گھر گئےتو اس کے والد گنگادین، بھائی شیوَم اور بہن کُسم وہاں ملاقات کے لیے کیوں موجود تھے؟ راہل ان سے ہمدردی کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔راہل گاندھی کے دورے سے پہلے متاثرہ کے گھر کی طرف جانے والے راستے میں "دُکھ کا فائدہ نہ اُٹھاؤ، واپس جاؤ” جیسے الفاظ والے پوسٹر لگائے گئے تھے۔سوال یہ ہے کہ اس سے قبل، اتر پردیش کے وزیر راکیش سچان اور ریاستی وزیر برائے سماجی بہبود اسیم ارون نے ہری اوم کے والد گنگادین سے ملاقات کیوں کی تھی ؟کیا اس موقع پر 6.62 لاکھ روپئے کا چیک دینا بھی دُکھ کا فائدہ اٹھانا تھا؟
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی متاثرہ خاندان سے 11؍ اکتوبر کو لکھنؤ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر یوگی نے انصاف دلانے اور مکمل مدد کا یقین دلایا۔ سوال یہ اس ملاقات اور یقین دہانی کو کس زمرے میں ڈالاجائے؟ والمیکی قتل معاملے میں 14؍ افراد کی گرفتاری اور رائے بریلی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ دو سب انسپکٹرز سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو معطلی سے کیا انصاف مل جائے گا؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو سامنے دیکھ کر بابا کےبلڈوزر کا پہیہ کیوں پنکچر ہوگیا ہے ؟ بی جے پی والے دوسروں پر نازبرداری کا الزام لگا کر سب کے ساتھ انصاف کا جو نعرہ لگاتے ہیں کیا یہی اس کی حقیقت ہے؟ راہل گاندھی سے یوگی کو اس لیے ڈر لگتا ہے کیونکہ جب وہ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے تازہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ:’’اس حکومت میں دلتوں پر ظلم اپنی انتہا پر ہے اور اس معاملے میں اتر پردیش سب سے آگے ہے‘‘ تو سارا میڈیا اسے نشر کردیتا ہے اور سنگھ پریوار کی قلعی کھل جاتی ہے۔
ہری اوم والمیکی کے خاندان سے ملاقات کی تصویر ایکس پر لگا کر راہل نے لکھا: "ہری اوم والمیکی کے بے رحمانہ قتل نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ ان کے خاندان کی آنکھوں میں دکھ کے ساتھ ایک سوال تھا – کیا اس ملک میں دلت ہونا اب بھی جان لیوا جرم ہے؟” اسی پوسٹ میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ: "اتر پردیش میں انتظامیہ متاثرہ خاندان کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔انہوں نے مجھے ملنے سے روکنے کی بھی کوشش کی۔ انصاف کو نظر بند نہیں کیا جا سکتا۔ بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ خاندان پر دباؤ ختم کرے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دلائے۔”راہل گاندھی نے یقین دلایا کہ : "میں ہری اوم والمیکی کے خاندان اور ملک کے ہر مظلوم، محروم اور کمزور شہری کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہوں۔ یہ لڑائی صرف ہری اوم کے لیے نہیں – ہر اس آواز کے لیے ہے جو ناانصافی کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے۔”
ہری اوم کے خاندان سے ملاقات کے بعد راہل نے یہ اہم بات کہی کہ:’’یہ اسی نظام کی ناکامی ہے جو ہر بار مجرموں کی ڈھال بن کر متاثرہ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔” یہ ظالمانہ نظام کیسے کام کرتا ہے اس کو سمجھنے کی خاطر پورن کمار کی خودکشی اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہے۔آئی پی ایس افسر وائی پورن کمار نے مبینہ طور پر 7؍ اکتوبر کو چنڈی گڑھ کے سیکٹر 24 میں واقع اپنے سرکاری رہائش گاہ پر خودکشی کر لی۔ ہری اوم والمیکی کی مانند وائی پورن کمارکوئی عام آدمی نہیں تھے ۔ آندھرا پردیش سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر وہ ہریانہ کیڈر میں 2001 بیچ کے آئی پی ایس افسر تھے۔ امبالہ و روہتک رینج میں موصوف انسپکٹر جنرل آف پولیس کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ 52 سالہ پورن کمار کومرنے سے قبل ہریانہ کے روہتک میں پولیس ٹریننگ سینٹر (پی ٹی سی)، سوناریا میں منتقل کردیا گیا جس کے خلاف وہ احتجاجاً چھٹی پر تھے۔ ان کی اہلیہ آئی اے ایس آفیسر ہیں اور ہریانہ حکومت میں محکمہ خارجہ کو تعاون کرنے والے شعبے میں کمشنر اور سکریٹری کے طور پر کام کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ واردات کے وقت ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی کے ساتھ جاپان کے دورے پر جانے والے وفد کا حصہ تھیں۔
راہل گاندھی نے والمیکی کے گھر والوں سے ملاقات کے بعد یہی کہا تھا کہ یہ حکومت ظالموں کو چھوڑ کر مظلومین کے خلاف کام کرتی ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہیں ۔ مالیگاوں میں شب برأت کے موقع پر قبرستان کے اندر دھماکے ہوئے اور اس میں مسلمان شہید ہوئے ۔ اس جرم میں ملوث سادھوی پرگیا کو بچانے کے لیے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ آگے چل کر اس گوڈسے کی مداح کو ایوان پارلیمان کا ٹکٹ دے کر کامیاب کیا گیا اور این آئی اے کے وکیل نےہ سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا مگر عدالت نے رہا کردیا ۔ دہلی فساد کروانے والے کپل مشرا کو بچا نے کے لیے پہلے جسٹس سری دھرن کا تبادلہ کیا گیا۔ اس کے بعد اسے الیکشن میں کامیاب کرکے وزیر انصاف بنادیا گیا ۔ اس فساد میں اپنا دفاع کرنے والے سارے مظلومین کو جیل بھیج دیا گیا۔ نیز سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لڑنے والے شرجیل امام اور عمر خالد کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا۔ اسی طرح پون کمار کے قاتلوں کو بچانے کے لیے امنیت کمار کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کسی زمانے میں شودر کے کانوں میں اشلوک کی آواز پڑ جانے پر بولنے والے برہمن کے بجائے بے قصور سننے والے کے کان میں سیسہ پلا کر ڈال دیا کرتے تھے۔ بی جے پی کی ڈبل انجن سرکاریں منو سمرتی کے اسی ظالمانہ نظام کو پھر سے نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ ملک آگے چل کر 22ویں صدی میں جائے گا یا 5000 سال پرانے ظالمانہ قوانین کی جانب لوٹ جائے گا؟
Like this:
Like Loading...