Skip to content
پاکی آدھاایمان ہے!!
از مدثر احمد شیموگہ ۔
9986437327
اسلام میں پاکیزگی کو نہایت اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "الطھور شطر الإیمان” یعنی پاکی ایمان کا آدھا حصہ ہے۔ یہ حدیث پاکیزگی کی اہمیت کو واضح کرتی ہے، جو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی، اخلاقی اور ماحولیاتی پاکیزگی کو بھی شامل کرتی ہے۔ لیکن آج کے دور میں، خصوصاً مسلم معاشروں میں، پاکیزگی کا تصور صرف ظاہری حسن تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ اچھے کپڑوں، مہنگے پرفیومز اور میک اپ کو پاکیزگی کا معیار سمجھا جا رہا ہے، جبکہ گھروں، گلیوں اور شہروں کی صفائی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہ تنزلی ہماری اجتماعی ذمہ داری اور اسلامی تعلیمات سے دوری کی عکاس ہے۔آج کل پاکیزگی کا تصور بدل چکا ہے۔ لوگ اپنی ذاتی ظاہری شکل و صورت پر توجہ دیتے ہیں، لیکن گھر کے باہر کوڑا پھینکنا، گلیوں میں گندگی پھیلانا اور ماحول کی صفائی کو نظرانداز کرنا معمول بن چکا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی گاڑیاں گھروں سے کوڑا اٹھانے آتی ہیں، لیکن بہت سے لوگ اپنا کچرا گلیوں یا خالی پلاٹوں میں پھینک دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ سڑکوں پر کھڈال کھود کر چھوڑ دینا، تعمیراتی ملبہ بغیر کسی انتظام کے پھیلانا، اور گندے پانی کے نالوں کی صفائی نہ کرنا ہمارے معاشرے کی اجتماعی لاپرواہی کی واضح مثالیں ہیں۔اسلام ہمیں نہ صرف ذاتی بلکہ ماحولیاتی پاکیزگی کا بھی درس دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "گندگی کو راستے سے ہٹانا صدقہ ہے۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحول کی صفائی ہمارے ایمان اور نیک اعمال کا حصہ ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اس تعلیم کو فراموش کر دیا ہے۔ ہم میونسپل یا حکومتی اداروں کے انتظار میں رہتے ہیں کہ وہ ہمارے گھروں، گلیوں اور شہروں کو صاف کریں، حالانکہ پاکیزگی ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک عام رجحان یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اگر گلی میں کوڑا پڑا ہے تو ہم میونسپل کمیٹی کو کوسنے لگتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ہم خود اس گندگی کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارے گھروں سے نکلنے والا کچرا اگر مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو وہ گلیوں اور نالوں میں جمع ہوتا ہے۔ اسی طرح، سڑکوں پر کھڈال کھود کر انہیں واگزار نہ کرنا بھی ہماری لاپرواہی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف ہمارے معاشرتی شعور کی کمی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہماری دینی اقدار سے دوری کو بھی عیاں کرتا ہے۔اس صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، ہمیں اپنے ذہنوں سے یہ تصور نکالنا ہوگا کہ صفائی صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ہر فرد کو اپنے گھر، گلی اور محلے کی صفائی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ کوڑے کو مناسب ڈسٹ بنز میں ڈالنا، کچرے کی ری سائیکلنگ کو فروغ دینا، اور گلیوں میں صفائی کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرنا چند عملی اقدامات ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، مساجد اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکیزگی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔ اسکولوں میں بچوں کو ماحولیاتی صفائی کے بارے میں تعلیم دی جائے تاکہ نئی نسل میں یہ شعور پیدا ہو۔ میونسپل اداروں کو بھی اپنی کارکردگی بہتر کرنی ہوگی اور شہریوں کے ساتھ مل کر صفائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔پاکی صرف اچھے کپڑوں اور میک اپ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے ایمان، اخلاق اور معاشرتی ذمہ داری کا آئینہ دار ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، گلیوں اور شہروں کو صاف رکھیں گے تو نہ صرف ہماری صحت بہتر ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی خوبصورت اور پرامن نظر آئے گا۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کو اپنا کر اور اجتماعی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پاکیزگی ہمارے ایمان کا آدھا حصہ بنے، نہ کہ محض ایک رسمی عمل۔ آئیے، ہم سب مل کر اپنے ماحول کو پاکیزہ بنائیں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔
Like this:
Like Loading...