Skip to content
ہندوستان میں کاسٹ سسٹم – تاریخی ، ثقافتی اور معاصر منظر نامہ
محمد رضی الاسلام ندوی
آج صبح جماعت اسلامی ہند ، حلقہ دہلی کے تحقیقی ادارے ‘انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈی اینڈ ریسرچ نئی دہلی (ISRD) کی جانب سے منعقدہ توسیعی خطبات کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا – امیر حلقہ محترم سلیم اللہ خاں نے خواہش کی کہ میں اس پروگرام کی صدارت کروں مجھے چنانچہ ان کی خواہش کی تعمیل کرنی پڑی –
حلقہ دہلی کا یہ تحقیقی ادارہ علمی و فکری اور سماجی موضوعات پر لیکچرس کا اہتمام کرتا ہے – اس نے ہندوستانی سماج کا فہم حاصل کرنے کے لیے لیکچر سیریز کا آغاز کیا ہے ، تاکہ ان کے ذریعے ہندوستانی سماج کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے ، باشندگانِ ملک کے سماجی ، مذہبی ، لسانی ، ثقافتی اور طبقاتی تنوّع کے بارے میں وابستگانِ جماعت کو علم حاصل ہو اور دعوتی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہنے والوں کی علمی اور عملی تریبت ہو ۔
یہ پروگرام جماعت اسلامی ہند کیمپس میں واقع اسکالر اسکول کے کانفرنس ہال میں واقع ہوا – نظامت برادر عزیز محمد اسعد فلاحی نے کی – محمد آصف اقبال صاحب نے انسٹی ٹیوٹ کا تعارف کرایا – امیر حلقہ نے استقبالیہ کلمات پیش کیے – پہلا لیکچر ‘ہندوستان میں ذات پات کے نظام کا تاریخی ، ثقافتی اور موجودہ منظرنامہ’ کے عنوان پر ڈاکٹر پردیپ شِنڈے اسسٹنٹ پروفیسر اسکول آف سوشل سائنس JNU نے پیش کیا – انھوں نے فرمایا کہ ہندوستان میں انگریزوں نے کاسٹ سسٹم کو تقویت دی – انھوں نے ہندومت کے ورن سسٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذات پات کا نظام اس سے مختلف ہے – ہر ورن میں کئی ذاتیں ہیں – انھوں نے یہ بھی کہا کہ ذات پات اور اونچ نیچ کا تصور تمام مذاہب میں ، حتّی کہ اسلام میں بھی پایا جاتا ہے – انھوں نے دلتوں پر مظالم کے بہت سے واقعات بیان کیے اور ملک و بیرونِ ملک میں Anti cast مہمات کا تذکرہ کیا ، لیکن یہ بھی بتایا کہ انہیں کوئی خاص کام یابی نہیں مل سکی ہے – ذات پات کے نظام کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟ اس پر ان کی طرف سے کوئی رہ نمائی نہیں ملی –
دوسرا لیکچر پروفیسر شَشِی شیکھر سنگھ ستیاوتی کالج دہلی یونی ورسٹی کا ‘ ہندوستان میں دلت برادری اور ملک کے سماجی و ثقافتی تنوّع پر اس کے اثرات’ کے عنوان پر ہوا – موصوف نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ ذات پات ہندوستانی سماج میں ایک حقیقت ہے – انھوں نے فرمایا کہ مذہب تبدیل کیا جاسکتا ہے (جیسا کہ امبیڈکر نے کہا تھا : میں ہندو پیدا ہوا ہوں ، لیکن ہندو کی حیثیت سے نہیں مروں گا ، چنانچہ انھوں نے بودھ دھرم قبول کرلیا) ، لیکن ذات کو نہیں بدلا جاسکتا – انھوں نے فرمایا کہ ذات پات کا نظام تعلیم کے فروغ ، شہریت پسندی اور معاشی استحکام کی وجہ سے کچھ کم زور ہوا ہے ، دوسری طرف ملک کے حکم راں اور سیاست داں اپنے ووٹ بینک کی وجہ سے اسے بڑھاوا دے رہے ہیں – ششی شیکھر صاحب نے منوسمرتی کے ذات پات کے نظام کا تذکرہ کیا اور اسے بالکل نامعقول بتایا – انھوں نے فرمایا کہ جاتی واد کا مظاہرہ عام طور سے شادی بیاہ کے موقع پر ہوتا ہے – انھوں نے یہ بھی کہا کہ صرف Anti cast قوانین بنانے سے mindset نہیں بدلے گا ، اس کے لیے بڑے پیمانے پر تحریک چلانے کی ضرورت ہے – آخر میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ بین مذہبی شادیوں کو رواج دینے سے ذات پات پر مبنی نظام کم زور ہوسکتا ہے –
صدارتی کلمات میں میں نے ایسے پروگراموں کے انعقاد کو وقت کی ضرورت بتایا اور جماعت کے دہلی حلقے کے ذمے داروں کو مبارک باد پیش کی – دعوتی مقصد سے مخاطبین کے مذاہب ، نظریات ، تہذیب و ثقافت ، رہن سہن ، عادات و اطوار اور سوچنے سمجھنے کے انداز کو جاننا ضروری ہے – میں نے اس کا بھی اظہار کیا کہ مہمان مقررین کے لیکچرس سے دلت سماج کے منظر نامے کے بارے میں بہت سی اہم باتیں معلوم ہوئیں – لیکن یہ بھی صراحت کی کہ ان کی بعض باتوں سے مجھے اتفاق نہیں ہے –
بین مذہبی شادیوں کے بارے میں میں نے عرض کیا کہ اگرچہ اس کا رواج پہلے بھی رہا ہے اور اب بھی اس کا چلن ہے ، لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے یہ جائز نہیں ہے – اسلام کسی بھی مسلمان مرد اور عورت کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ دوسرے مذہب کی عورت یا مرد سے نکاح کرے – جن لوگوں نے نکاح کیے ہیں انھوں نے اسلامی احکام کی خلاف ورزی کی ہے –
میں نے کہا کہ ذات پات کے سسٹم کو ختم کرنے کی بات کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی جڑیں کہاں تک پیوست ہیں؟ کینسر کے مریض کا علاج چند درد کش گولیوں اور چند زخموں پر مرہم پٹی سے نہیں ہوسکتا ہے – اونچ نیچ کا تصور ورن ووستھا کے نظام پر مبنی ہے – اسے مذہب کی حمایت حاصل ہے اور ہزاروں برس سے اس پر عمل ہورہا ہے ، اس لیے اس تصور پر ضرب لگائے بغیر اس کا مداوا ممکن نہیں –
میں نے اسلامی تعلیمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی – میں نے کہا : اسلام کی بنیاد وحدتِ الہ پر ہے – جب پیدا کرنے والا ایک ہے تو انسانوں کے درمیان بھی بھید بھاؤ ، اونچ نیچ نہیں ہوسکتی – قرآن مجید میں تمام انسانوں کو ایک ماں باپ سے پیدا کیے جانے کی صراحت ہے – (النساء :1 ، الحجرات : 13) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : عربی کو عجمی پر ، عجمی کو عربی پر ، گورے کو کالے پر، کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، اگر کسی کو کسی پر فضیلت ہوسکتی ہے تو صرف تقویٰ کی بنیاد پر –
میں نے عرض کیا کہ اسلام کی مساوات کی تعلیم دنیا کے جن حصوں میں پہنچی وہاں کے باشندوں کو اس نے متاثر کیا اور وہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے ، لیکن بعد میں اسلام کی یہ تعلیم گدلا گئی اور اس کے ماننے والوں میں بھی اونچ نیچ اور اشرف و ارزل کے تصورات پیدا ہوگئے –
میں نے عرض کیا کہ یہ حقیقت ہے کہ ذات پات اور اونچ نیچ کے تصورات مسلمانوں میں بھی پائے جاتے ہیں ، لیکن فرق یہ ہے کہ اس کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں ہے ، ہندوستان میں صدیوں ہندو مت کے ماننے والوں کے درمیان رہنے کی بنا پر ان کے اثرات کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ، جب ہندوؤں میں اس کی مذہبی بنیاد موجود ہے – منوسمرتی میں انسانوں کو 4 طبقات تقسیم کیا گیا ہے –
بعد میں کھانے پر ششی شیکھر صاحب نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ منوسمرتی مذہبی کتاب نہیں ہے ، بلکہ قانون کی کتاب ہے ، مذہبی کتاب رِگ وید میں ذات پات کی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے –
Like this:
Like Loading...