Skip to content
اذان ؛ اسلامی شعار اور عظیم ترین عبادت!
تحریر : حافظہ شیما ناز
بنت حافظ انتظار احمد صاحب
” نماز “ ایمان کے بعد سب سے افضل اور برتر عمل ہے ، یہ وہ عظیم عبادت ہے جو انسان کو بندگی کے اعلی مقام تک پہنچاتی ہے ، دنیاوی اعتبار سے اگر کسی عمل کو سب سے بہترین کہا جائے تو وہ نماز ہے ؛ کیوں کہ یہی عمل انسان کو ربِّ ذوالجلال سے جوڑتا ہے ، آخرت کے دن سب سے پہلے جس عمل کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے ؛ اگر نماز درست ہوگی تو دیگر اعمال درست ہوں گے اور اگر نماز میں کمی ہوئی تو دیگر اعمال بھی ناقص نکلیں گے ۔
نماز ایسی عبادت ہے کہ اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی ؛ کیوں کہ یہ صرف ظاہری جھکاؤ نہیں ؛ بلکہ دل کی عاجزی، روح کی طہارت اور محبت الہی کا مظہر ہے ، یہ عاشقِ حقیقی کا اپنے معشوقِ ازلی کے دربار میں حاضری کا انمول ذریعہ ہے جہاں بندہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے ، سجدوں میں سکون پاتا ہے اور اپنے دل کے غبار کو رب کی بارگاہ میں نچھاور کرتا ہے۔
اور جب اس عظیم عبادت کی اس قدر فضلیت ہے تو اس کی عظیم عبادت کی ابتدا اذان سے ہوتی ہے ، اذان صرف مؤمنوں کو نماز کی طرف بلانے کا ذریعہ ہی نہیں ؛ بلکہ ربِ کائنات کی کبریائی اور عظمت کا اعلان ہے ، یہ وہ صدا ہے جو فضاؤں میں گونجتی ہے تو توحید الہی کی گواہی بن جاتی ہے اور جب دلوں میں اترتی ہے تو رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق بن جاتی ہے ، یہ ایک ایسی ندا ہے جو بندے کو اس کے خالق و مالک کی بارگاہ میں حاضری کی اطلاع دیتی ہے اور اسے سب سے بڑی کامیابی یعنی نماز کی طرف بلاتی ہے ، یوں کہا جائے تو بجا ہوگا کہ اذان صرف ایک آواز نہیں ؛ بلکہ ایمان کی شہادت ، توحید کی صدا اور کامیابی کی کنجی ہے ۔
*🔹اذان کی اہمیت و فضیلت*
افضل العبادۃ یعنی نماز کی اہمیت اور عظمت تو ظاہر ہے ؛ لیکن اسی کے ساتھ اس اہم ترین عبادت کا دیپاچہ یعنی اذان بھی کچھ کم اہمیت کی حامل نہیں ، اذان کی بھی بڑی فضیلت ہے ، کسی بھی عبادت کے فضائل کا جب تک علم اور اس سے مکمل واقفیت نہ ہو تو اس کی حقیقی عظمت کا احساس نہیں ہوتا۔
اذان کے لغوی معنی ہیں: ” خبردار کرنا ، اطلاع دینا اور اعلان کرنا”
شریعت کی اصطلاح میں اذان سے مراد : ”مخصوص کلمات کے ذریعے لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینا ہے”
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے: وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ (سورۃ التوبہ: 13)
"اور خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان۔”
اذان اسلامی شعار اور دین کی پہچان ہے ، یہ صرف نماز کی دعوت کا اعلان نہیں ؛ بلکہ توحید اور رسالت کا اظہار ہے ، اذان مسلمانوں کی اجتماعی پہچان ہے جس بستی میں اذان کی آواز بلند ہوتی ہے وہ مسلم بستی کہلاتی ہے۔
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
*الاذان شعار الایمان* (رواہ عبد الرزاق،باب فضل الاذان: 359/1858)
*”اذان ایمان کے شعائر میں سے ہے”*
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” احادیث میں اذان کے جو فضائل وارد ہوئے ہیں ان کی دو بنیادیں ہیں:
1: اذان اسلام کی ایک عظیم الشان عبادت ہے اس کی ایک الگ شان ہے، اس کی وجہ سے ملک دارالاسلام محسوس ہوتا ہے حدیث میں ہے کہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق کے بعد حملہ کرتے اگر اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا، أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ،
(مسلم باب الامساک عن الاغارۃ،اذا سمع الاذان: 166/1,382)
2: اذان نبوت کا ایک شعبہ ہے ، نماز کی دعوت کا ذریعہ ہے جو تمام عبادات کی جڑ ہے ، اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پسندیدہ اور شیطان کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ دینی امور ہیں جن کا فائدہ متعدی ہو اور جس سے اسلام کا بول بالا ہو۔ “
⬅️ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس قوم میں صبح میں اذان دی جاتی ہے وہ شام تک اللہ کے عذاب سے مامون ہوگی اور شام میں اذاں دی جائے تو صبح تک مامون رہے گی۔
⬅️ حضرت قیس بن حازم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اگر خلافت کا بوجھ اور مسلمانوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر نہ ڈالی جاتی تو میں اذان دیا کرتا۔
⬅️ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اگر لوگوں کو اذان اور صف اول میں کیا فضائل و برکات ہیں ان کا پتہ چل جائے، پھر ان کو صف اول اور اذان دینے کا موقع نہ ملے اور اس کے لیے قرعہ اندازی کی ضرورت پیش ائے تو لوگ قرعہ دازی کرنے کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے.
*🔹اذان کی مشروعیت*
حضرت علامہ سہیلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ” اذان کی مشروعیت بہ ظاہر ایک صحابی کے خوف کے ذریعے ہوئی، براہِ راست وحی متلو یا وحی غیر متلو سے نہیں ہوئی؛ بلکہ تائید نبوی سے ہوئی ہے ۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ اذان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے اعلان پر بھی مشتمل ہے ، آپ کے دین کی طرف لوگوں کو دوسروں کی زبانی دعوت دینا اور آپ کی عظمت و شان کو بلند کرنا ہے ، یہ کام دوسروں کی زبانی شروع کرانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ قابلِ فخر بات ہے۔
نیز علامہ سہیل رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ”مکہ مکرمہ کے زمانۂ قیام میں شب معراج کی موقع پر اسمانوں میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان سنائی دی،جب اذان کی ضرورت محسوس ہوئی لیکن مشروعیت میں تاخیر ہوئی۔
مدینہ منورہ ہجرت کے بعد نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد بنائی گئی،اب لوگوں کو باجماعت نماز میں شرکت کے لیے عام اطلاع کا کوئی طریقہ تجویز کرنے کی ضرورت پیش ائی،چنانچہ سن ایک ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع فرما کر اس سلسلے میں مشورہ فرمایا،
کسی نے عرض کیا: جب نماز کا وقت آجائے تو بطور علامت کوئی مخصوص جھنڈا بلند کیا جائے.
کسی نے رائے دی کہ:
کسی بلند جگہ پر اگ روشن کی جائے۔
کسی نے مشورہ دیا کہ:
جس طرح یہودی عبادت خانوں میں سینگ بجایا جاتا ہے اسی طرح ہم بھی نماز کے اعلان کے لیے سینگ بجائیں گے۔
کسی نے کہا کہ:
نصاری کی طرح ناقوس بجائیں گے؛لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی رائے پسند نہیں ائی اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ یہ طریقے مجوسی، یہودی اور نصاری کے ہیں۔
اخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ تجویز پیش کی کہ نماز کے وقت میں گلی کوچوں میں کسی ادمی کو بھیجا جائے جو اعلان کرے "الصلاۃ جامعۃ” اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند ائی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس کام کی ذمہ داری انجام دینے لگے۔
(مسلم باب بدا الاذان 164/1)
کسی وجہ سے اس تجویز پر فورا عمل شروع نہ ہو سکا؛ لیکن اپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلے میں بے حد فکر مند رہے،اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فکر مندی نے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو متفکر بنا دیا،انہی میں سے ایک خوش نصیب انصاری صحابی حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہ اسی فکر مندی میں سو گئے، پھر انہوں نے خواب دیکھا،وہ فرماتے ہیں:
خواب میں ایک شخص ناقوس اٹھائے ہوئے میرے سامنے آیا ،میں نے اس سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! یہ ناقوس تم فروخت کرو گے؟
اس نے کہا: تم اس سے کیا کرو گے؟
میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے اعلان کر کے لوگوں کو نماز کے لیے بلایا کریں گے۔
اس نے کہا: کیا میں اس سے بہتر چیز اس کام کے لیے نہ بتاؤں؟
میں نے کہا: ضرور بتائیے،چنانچہ اس نے کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر،اللہ اکبر ،اللہ اکبر
اشہد ان لا الہ الا اللہ،
اشہد ان لا الہ الا اللہ،
اشہد ان محمدا رسول اللہ،
اشہد ان محمدا رسول اللہ،
حی علی الصلاۃ ، حی علی الصلاۃ
حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح
اللہ اکبر اللہ اکبر ،
لا الہ الا اللہ۔
حضرت عبداللہ بن زید بن عبد ربہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
یہ پوری اذان بتانے کے بعد وہ شخص دور ہٹا،پھر کچھ وقفے بعد اقامت سکھلائی۔
وہ بیدار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خواب سنایا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ خواب سچا ہے۔
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اٹھو اور بلال کو اپنے ساتھ لے کر اذان دو بلال تمہارے بتائے ہوئے کلمات کو زور زور سے بطور اذاں کہتے رہے کیونکہ بلال کی اواز تمہاری اواز سے بلند ہے۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دینی شروع کی اور مدینہ طیبہ کی فضاؤں میں، صبح کے سناٹے میں، لوگوں کے کانوں میں تکبیر کے پر کیف اور دل سوز نغمات پڑے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو تقریبا 20 دن پہلے یہ خواب دیکھ چکے تھے اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے دربار رہی نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قسم اس ذات کی جس نے اپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الحمدللہ۔
(سنن ابی داؤد،بدا الاذان، 71/1,498)
اسی دن سے اذان کا اغاز ہوا اور یہ خوبصورت نظام قائم ہوا جو تا قیام قیامت اللہ کی عظمت وحدانیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نماز و کامیابی پر مشتمل پر کیف نغمے خشکی و سمندر، زمین و آسمانی فضاؤں میں گونجتے رہیں گے۔
*🔹اذان کے آداب*
اذان ایک مقدس اور عظیم ترین عبادت ہے ؛ لہذا اس عبادت کے چند آداب ذکر کیے جارہے ہیں جن کی رعایت کرنا ضروری ہے، اور وہ اداب یہ ہیں:
1): لوجہ اللّٰہ آذان دینا
2): مؤذن کا متقی ہونا
3): مؤذن کا اچھی اور بلند آواز والا ہونا
4): گانے کی طرز پر آذان نہ دینا
5): آذان قبلہ رخ ہو کر دینا
6): وقت کی پابندی کرنا
7): کھڑے ہو کر آذان دینا
8): باوضو آذان دینا
9): کانوں میں انگلیاں رکھنا
10): بلند جگہ پر آذان دینا
11): آذان میں مسنون الفاظ کا اہتمام کرنا
12): ٹھہر ٹھہر کر آذان دینا
13): نابالغ بچے کا آذان نہ دینا
14): حیعلتین کے وقت موذن کا اپنے چہرے کو دائیں بائیں گھمانا
15): دوران آذان بات نہ کرنا
16): مؤذن کی آذان کا جواب دینا
17): آذان کے بعد درود شریف پڑھنا
18): آذان کے بعد دعا پڑھنا
*🔹اذان کے متـــعلق نبــی ﷺ کا معمــــول*
نبی ﷺ کا اذان سے متعلق یہ معمول تھا کہ آپﷺ نہایت ادب و احترام ،غور و تدبر اور خاموشی سے اذان سنتے تھے اور آپ ﷺ کا معمول احادیث کی روشنی میں یہ ہے:
⬅️ نبی ﷺ جب اذان سنتے تو خاموش ہو جاتے، بات چیت نہیں کرتے بلکہ مؤذن کے کلمات ویسے ہی جواب میں دہراتے تھے۔
⬅️ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ:
"جب تم اذان سنو تو مؤذن کی طرح کہو” [رواہ مسلم]
⬅️ نیز حیعلتین کے وقت آپ ﷺ "لا حول ولا قوۃ الا باللہ” فرمایا کرتے تھے۔ [رواہ مسلم]
⬅️ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
"جب تم اذان سنو تو جیسے مؤذن کہے ویسے کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر اللہ سے میرے لیے وسیلہ مانگو جو جنت میں ایک بلند درجہ ہے جو صرف ایک بندے کو ملے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہوں۔” [رواہ مسلم]
⬅️ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اذان کے بعد یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلوةِ الْقَاءِمَةِ اتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَاماً مَّحْمَوْداً الَّذِي وَعَدتَهُ
⬅️نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی”
نبی کریمﷺ کی سیرت مبارکہ صرف خول و نصیحت تک محدود نہیں تھی بلکہ آپ ﷺ نے جو بات امت کو سکھائی سب سے پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھایا، آپ نے اذان کے اداب سکھائے اور جب خود اذان سنتے تو خاموشی اختیار کرتے تھے، مؤذن کی کلمات دہراتے،اذان کے بعد دعا پڑھتے وغیرہ۔
آپ ﷺ کی یہی سنت صحابہ کے دلوں میں نقش ہو گئی۔
*🔹ســــلام میــں اذان کی حکمــتیں*
اذان کا سب سے پہلا مقصد اللہ کی وحدانیت کا اعلان ہے۔
موذن کا سب سے پہلا جملہ یہی ہے کہ:
اللہ اکبر اللہ اکبر
یہ جملہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت ،کوئی لذت یا مصروفیت اللہ سے بڑی نہیں یعنی اذان کے ذریعے توحید کا اعلان ہو رہا ہے۔
اذان میں کہا جاتا ہے:
اشہد لا الہ الا اللہ
اشہد ان محمدا رسول اللہ
یہ دراصل توحید اور رسالت کا اعلان ہے،دن میں پانچ مرتبہ یہ کلمہ اعلان کرتا ہے کہ ہدایت صرف رسول اللہ ﷺ کی سنتوں میں ہے۔
اذان لوگوں کو نماز کے لیے بلانے کا ذریعہ ہے جو کہ اسلامی اتحاد، اجتماعیت اور نظم کی علامت ہے۔
جب سب ایک ہی پکار پر جمع ہوتے ہیں تو یہ امت کی یکجہتی اور اتحاد کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔
اذان مؤمن کو غفلت سے بیدار کرتی۔
انسان کو روحانی تازگی اور قلبی سکون عطا کرتی ہے۔
جہاں آذان گونجتی ہے وہاں امن و امان، ایمان و اسلام کی علامت ہوتی ہے۔
حدیث میں ہے کہ جہاں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے اسی طرح اذان کی اواز فضا کو روحانیت سے بھر دیتی ہے اور ماحول شیطانی اثرات سے پاک ہو جاتا ہے۔
*🔹 اذان غـور و ادب سے سنـنے پر اللّٰه کے انــعامــات و فضــائــل*
آذان ایک مقدس عبادت ہے اس روح پرور آواز کے ذریعے بندے کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی جاتی ہے اور جو مؤمن اس اواز کو،اس اعلان کو بڑے ہی ادب کے ساتھ غور و تدبر بر سے سنتا ہے اس پر اللہ کی خاص رحمتیں اور انعامات اترتے ہیں ایسے ہی چند اہم شخصیتوں کا تذکرہ مندرجہ ذیل ہے
*🔸اذان کے احترام کے سبب زبیدہ کا مقام و مرتبہ*
امام خلیل بن شاہین رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ:
کسی شخص نے خواب میں زبیدہ کو دیکھا کہ وہ شاندار کرسی پر بیٹھی ہے پوچھا گیا کہ اپ کو یہ مقام و مرتبہ کیسے حاصل ہوا؟فرمایا کہ ایک دن میں اپنی صحیح لی ہوں اور پڑوس کی عورتوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور گپ شپ لگا رہی تھی کہ میں نے مؤذن کی اواز سنی،جو ہی اس نے اللہ اکبر کہا میں نے ان عورتوں کو اللہ کے نام کی تعظیم اور تکریم کی خاطر چپ کر ایا،یہاں تک کہ مؤذن اذان دے کر فارغ ہوا،پس اللہ نے اسی عمل پر مجھے وہ انعامت عطا فرمائے جو تم دیکھ رہے ہو۔
یہ وہ ملک ا زبیدہ تھی جس نے حاجیوں کے لیے نہر بنوائی تھی اج بھی وہ نہر موجود ہے اور اس کے محل میں دن میں سینکڑوں قران مجید ختم ہوتے تھے لیکن ان کو یہ مقام اذان کے ادب پر ملا۔
*🔸اذان کا ادب کرنے پر امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ کا پروس مل گیا*
حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے مکان کے سامنے ایک لوہار رہتا تھا بال بچوں کی کثرت کی وجہ سے وہ سارا دن کام میں لگا رہتا اس کی عادت تھی کہ اگر اس نے ہتھوڑا ہاتھ میں اٹھایا ہوتا کہ لوہا کوٹ سکے اور اسی دوران اذان کی اواز ا جاتی تو وہ ہتھوڑا لوہے پر مارنے کے بجائے اسے زمین پر رکھ دیتا اور کہتا کہ اب میرے پروردگار کی طرف سے بلاوا اگیا ہے میں پہلے نماز پڑھوں گا پھر کام کروں گا جب اس کی وفات ہوئی تو کسی کو خواب میں نظر ایا اس نے پوچھا کہ کیا بنا؟کہنے لگا: مجھے امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ کے نیچے والا درجہ عطا کیا گیا،اس نے پوچھا کہ تمہارا علم و عمل اتنا تو نہیں تھا،اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کے نام کا ادب کرتا تھا اور اذان کی اواز سنتے ہی کام روک دیتا تھا تاکہ نماز ادا کریں اب اس ادب کی وجہ سے اللہ رب العزت نے مجھ پر مہربانی فرما دی۔
دیکھیے! اذان کا ادب کرنے سے اللہ نے کیا مقام دیا کہ امام احمد رحمہ اللہ علیہ جیسے بڑے فقیہ کا پڑوس مل گیا اس لیے اذان کا دب احترام کرنا چاہیے اذان کی گستاخی سے اپنے اپ کو بچائیں اس کی سزا بسا اوقات اللہ تعالی دنیا میں بھی دے دیتے ہیں۔
*🔹اذان کی بے ادبــی پر ســزا کے واقـعــات*
اللہ تعالی نے اذان کے ساتھ استہزاء کی خاص طور پر نشاندہی فرمائی ہے
وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبَا
"جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو یعنی اذان دیتے ہو تو یہ لوگ اسے ٹھٹا اور کھیل بناتے ہیں” [سورۃ المائدہ:58]
مفسرین نے لکھا ہے کہ مدینہ کے ایک نصرانی کو اذان سے بہت چڑ تھی، جب موذن کہتا:
"اشہد ان محمدا رسول اللہ”
تو وہ بدبخت بددعا کرتا "اخرق اللّٰہ الکاذب”جھوٹا تو وہ خود ہی تھا اللہ نے اس کی دعا اس طرح قبول کی کہ ایک دن اس کی باندی گھر میں اگ لائی اس کی چنگاری کسی چیز پر گر گئی جس سے سارے مکان کو آگ لگ گئی اور وہ عیسائی نہیں جل کر راکھ ہو گیا اللہ نے اسے گستاخی کی سزا دنیا میں دے دی اور اخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے۔
(تفسیر عثمانی،صفحہ156)
"آخرت کی فکر کرنی ہے ضرور
ورنہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضرور”
حضرت ثابت بن احمد ابوالقاسم بغدادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک موذن کو دیکھا کہ وہ مدینہ پاک میں مسجد نبوی میں صبح کی اذان دے رہا ہے اذان مؤذن نجب کہا:
"الصلاۃ خیر من النوم”
تو ایک ادمی نے اگر اس موذن کے تھپڑ مار دیا وہ موذن رویا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ! اپ کی موجودگی میں میرے ساتھ یہ ہو رہا ہے بس موذن کا یہ کہنا تھا کہ اس بے ادب ادمی پر فالج گر گیا لوگ اٹھا کر اس کو گھر لے گئے اور پھر تین دن بعد اسی مرض میں سسکتا ہوا مر گیا۔
دیکھیے! اذان کی گستاخی کی تو اللہ نے دنیا ہی میں سزا دے دی،اس لیے اذاں ہو تو سب کاموں کو چھوڑ کر اذان کا جواب دے،نماز کی تیاری کریں،اذان کی اواز سن کر اس کا ادب و احترام کریں،اذان کو اور موذن کو حقیر نہ سمجھے،دین اسلام ہر معاملے میں ادب کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم مقدس ہستیوں ، متبرک مقامات اور بابرکت چیزوں کا احترام کریں،بے ادبی اور بے ادب لوگوں سے دور رہیں۔
مولانا رومی اپنے اثار میں مختلف حکایات کے ذریعے ادب کی اہمیت بیان کرتے ہیں اور بے ادبی کے نحوست اور برائی کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
"از خدا جو نیم توفیق ادب
بے ادب محروم ماند از فضل رب”
(ہم خدا سے ادب کی توفیق چاہتے ہیں اور بے ادب ہمیشہ خدا کے فضل سے محروم رہتا ہے.)
*🔹مـؤذن کا مقــام و مرتبہ احـــادیث کی روشنــــی مــیں*
اذان دینے والے،اللہ کے منادی،اس کے ترجمان اور اس کے مبلغ کا مقام و مرتبہ شریعت اسلامی ہمیں بہت بلند ہے،احادیث شریفہ میں موذنین کے بہت سارے فضائل وارد ہوئے ہیں۔
چنانچہ رسول اللّٰهﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ نے جہنم پر موذنین کے جسموں کو جلانا حرام قرار دیا ہے۔”
(کنز العمال عن عمر:282/7،20942)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"موزنین قیامت کے دن تمام لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے”
(رواہ مسلم،باب فضل الاذان: 167/1،387)
ایک روایت میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو شخص سات سال ثواب کی نیت سے اذان دیتا رہے گا اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔” (رواہ ابن ماجہ عن ابن عباس،باب فضل الاذان:727)
ایک روایت میں ہے کہ:
"جو شخص 12 سال تک اذان دیتا رہے،اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے، اس کی اذان کے بدلے ہر دن 60 نیکیاں لکھی جاتی ہے اور اقامت کے بدلے 30 نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔”
(رواہ ابن ماجہ عن ابن عمر،باب فضل الاذان:728)
ان روایت سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں مؤذنین کی بڑی فضیلت اور اہمیت ہے ان کا راز یہی ہے کہ اذان ایمان و اسلام کا شعار ہے،اپنے معنی اور ترتیب کے اعتبار سے دین کی نہایت بلیغ دعوت اور پکار ہے،موذن اس کا داعی اور اللہ کا منادی ہے۔
*🔹 مؤذن کی صفــــات*
جب احادیث مبارکہ میں موذنین کے اتنے عظیم فضائل بیان کیے گئے ہیں تو ان فضائل کے مستحق بننے کے لیے موذن کے انتخاب کا معیار بھی واضح کر دیا گیا۔
⬅️مؤذن مرد ہو۔
⬅️ عاقل ہو۔
⬅️ موذن عالم با عمل ہو،سنت سے واقفیت رکھتا ہو۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اے بنو حطمہ! اپنی قوم میں سب سے بہترین شخص کو موذن بناؤ. (کنز العمال عن ابن سلیم:20977)
نیز فرمایا کہ: تمہارے موذن بہتر لوگ ہونا چاہیے (رواہ ابو داؤد: 87/1،59)
⬅️ مؤذن آزاد ہو۔
⬅️ اوقات صلاۃ سے واقف ہو،نماز کی ابتدائی و انتہائی،مستحب و مکروہ اوقات جانتا ہو۔
⬅️ موذن بینا ہو۔
⬅️ مؤذن اپنے عمل میں مخلص ہو،اذان کے ذریعے رضائے الہی مقصود ہو۔
⬅️ مؤذن امانت دار ہو۔
⬅️ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
"المؤذن مؤتمن”
(رواہ الترمذی: 51/1،207)
ایک دوسری روایت میں فرمایا:
"المؤذنون أمناء المسلمین علی فطورھم و سحورھم “ (کنز العمال:2089)
مؤذنین حضرات سحری و افطاری کے تعلق سے مسلمانوں کی امانت دار ہوتے ہیں،اذان کی ذمہ داری خود ایک امانت ہے،اذان کی ذمہ داری کو اس کے تمام حقوق و اداب کی رعایت کے ساتھ ادا کرنا اس امانت کی وفاداری ہے۔
*🔹 اذان کے ضـروری مسـائــل*
⬅️پنج وقتہ باجماعت نمازوں اور جمعہ کی نماز کے لیے اذان و اقامت سنت موکدہ ہے۔
⬅️ اذان وقت داخل ہونے کے بعد ہی دینے ضروری ہے،وقت داخل ہونے سے پہلے اذان دینا درست نہیں۔
⬅️ اسی طرح اذان کے بعض کلمات وقت سے پہلے ادا کر دے تب بھی وقت کے اندر اذان کا اعادہ کیا جائے۔
⬅️ نماز کا وقت داخل ہو جانے کے بعد مقررہ اوقات میں مساجد سے اذانوں کی آوازیں بلند ہوتی ہیں،یہ اذانیں کبھی بیک وقت سنائی دیتی ہے کبھی وقفہ وقفہ سے،تو ایسی صورت میں کس اذان کا جواب دیا جائے؟
اس مسئلہ کی دو صورتیں ہیں:
1: اگر مختلف مساجد سے بیک وقت اذانیں سنائی دیں تو ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ اپنے محلے کی مسجد یعنی قریبی مسجد کی اذان کا جواب دیا جائے۔
2: اگر مختلف مساجد سے کچھ وقفے کے ساتھ یعنی یکے بعد دیگرے اذانیں سنائی دیں جیسا کہ زیادہ تر اسی طرح ہی ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ ان میں سے پہلی اذان کا جواب دیا جائے اور اس صورت میں تمام اذانوں کا جواب دینا بہتر ہے۔
⬅️ اذان کا جواب دینا مستحب ہے بہت سے لوگ اذان ہوتے وقت اس کا جواب نہیں دے پاتے پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ اب جواب دینے کا موقع نہیں رہا حالانکہ یہ غلط فہمی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ:
اگر کسی نے اذان کا جواب نہیں دیا تو اذان ہو جانے کے بعد اگر زیادہ وقت نہیں گزرا تو جواب دینا بہتر ہے مناسب بھی یہی ہے۔
⬅️ واضح رہے کہ مردوں کی طرح خواتین بھی اذان کا جواب دیں اور یہ مستحب عمل ہے۔
⬅️ دور حاضر میں اذان سے پہلے بلند اواز سے مختلف الفاظ کے ساتھ درود شریف اور سلام پڑھنے کا رواج عام ہو چکا ہے،اس کو کار ثواب بلکہ عشق رسول کم معیار قرار دیا جا رہا ہے،اس کے اہتمام کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور ایسا نہ کرنے والوں کو منکر بھی باور کرایا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اذان سے پہلے درود و سلام کی مروجہ رسم واضح طور پر بدعت اور ناجائز ہے،جس سے اجتناب ضروری ہیں۔قران و سنت یہ صحابہ کے طرز عمل سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
⬅️بسا اوقات بچے کی پیدائش کے فورا بعد بچے کے کان میں اذان اقامت کہنے کے لیے مرد میسر نہ ہو تو ایسی صورت میں انتظار کر کے داخل کرنا درست سے نہیں بلکہ بالغ یا نابالغ سمجھدار لڑکے یا لڑکی یا عورت کے لیے بھی بچے کے کان میں اذان و اقامت کہنا درست ہے۔
(فتاویٰ محمودیہ: 456,455/5، نومولود کے احکام از مفتی رضوان صاحب)
*🔹 موجودہ دور میں اذان پر آنے والی پـابــندیـاں*
اذان اسلام کی عظیم الشان علامت اور دین کا جیتا جاگتا اعلان ہے،لیکن افسوس کہ اج مختلف ملکوں میں اذان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں کبھی سیاسی کبھی سماجی اور کبھی انتظامی وجوہات کے نام پر۔
اذان کی اواز لاؤڈ سپیکر یا مائک پر پابندی،بعض ممالک میں شور کی آڑ میں اذان کے لیے مائک یا ایسپیکر کے استعمال پر پابندی یا وقت کی تحدید کی جاتی ہے،جیسے:
ہندوستان کی کئی ریاستوں میں مساجد کو لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے سے پہلے اجازت لینے پڑتی ہے، مثلا: کرناٹک میں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک سپیکر کے استعمال پر پابندی ہے۔
⬅️اذان کی آواز کی حد مقرر کرنا، چند حکومتوں نے اذان کے لیے مخصوص "ڈیسی بل” حد مقرر کی ہے تاکہ اواز ایک خاص فاصلے سے زیادہ نہ جائے.
جیسے: فرانس میں رہائشی علاقوں میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اذان نشر کرنے پر آواز کی حد مقرر ہے زیادہ شور پر قانونی کاروائی ہو سکتی ہے۔
⬅️بعض ممالک میں مساجد میں لاؤڈ سپیکر سے اذان کی اجازت وقت اور شور کی حد کے تحت ہے، خاص طور پر رہائشی علاقوں میں۔
⬅️ اذان کی اوقات پر پابندی و اعتراض خصوصا فجر کی اذان پر یہ کہہ کر اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے لوگوں کی نیند متاثر ہوتی ہے۔
⬅️ غیر مسلم ممالک میں مساجد پر قانونی قیود، بعض ممالک میں مساجد کو اجازت نامے کے بغیر اذان دینے کی اجازت نہیں۔
جیسے: فرانس میں مساجد کو لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے سے پہلے مقامی انتظامیہ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔
دیگر ممالک میں بھی لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کے لیے مقامی حکومت کی اجازت شرط ہے۔
*🔸اســـــباب و وجوہات*
مسلمانوں میں خود اذان کی حقیقت،فضیلت اور اثرات سے لاعلمی بڑھ گئی ہے،جب ہم اپنی عبادات کی قدر چھوڑ دیتے ہیں تو دوسروں کے لیے وہ معمولی بن جاتی ہے۔جدید دور کے سیکولر معاشرے میں مذہب کو ذاتی دائرے تک محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اجتماعی مذہبی مظاہر جیسے: اذان کو پبلک سپیس سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے،کئی ممالک میں اذان کو اسلام کی علامت سمجھ کر مذہبی تعصب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے خصوصا وہاں جہاں اقلیتیں دباؤ میں ہوں بعض حکومتیں شور امن و امان کے نام پر پابندیاں لگاتی ہے حالانکہ دیگر مذہبوں کی اوازوں پر ایسا سخت رویہ اختیار نہیں کیا جاتا جب امت مسلمہ کمزور،تقسیم اور غیر متحد ہوتی ہے تو اس کے دینی شعائر پر آسانی سے قدغن لگائی جا سکتی ہے۔
*🔸عـــــلاج اور اصلاحی تدابیر*
⬅️مسلمانوں میں اذان کی دینی و روحانی اہمیت اور اذان کے فضائل پر دروس ، خطبات ،،م سوشل میڈیا کے ذریعے شعور پیدا کیا جائے۔
⬅️ جہاں حکومتی پابندیاں ہیں وہاں عدالتوں، تنظیموں اور آئینی حقوق کے تحت پُر امن طریقے سے اذان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی جائے۔
⬅️ اذان کا مقصد عبادت کی دعوت ہے،شور پیدا کرنا نہیں اس لیے جہاں قانون اجازت دیتا ہو وہاں اعتدال کے ساتھ آواز استعمال کی جائے تاکہ دوسروں کے لیے باعث تکلیف نہ ہو۔
⬅️ اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے ایک آواز بن کر اپنے مذہبی شعائر کی حفاظت کرے تو کوئی طاقت اذان کی صدا کو روک نہیں سکتی۔
*🔹خـــــلاصــہ*
اذان دین اسلام کی سب سے اہم ترین عبادت ہے جو توحید اور رسالت اور نماز کی دعوت کو لوگوں تک پہنچاتی ہے یہ ایسی عبادت ہے کہ اگر نبی کریمﷺ کسی علاقے میں حملہ کرنے جاتے تو اگر وہاں اذان سن لیتے تو سب کو رک جانے کا حکم دیا کرتے تھے گویا کہ اذان اسلامی علاقے کی پہچان کرواتی ہے، ایسی مقدس ترین عبادت کے لیے اسلام نے جو آداب سکھلائے ہیں ان کے لیے رعایت ضروری ہے،اسی طرح جب اذان ہو تو موذن کے ساتھ کلمات کو دہرانا اور مکمل ہونے کے بعد دعاؤں کا اہتمام کرنا یہ بھی اذان کے ادب میں شامل ہے،اذان غور سے سننا کسی بھی قسم کا شور کرنے سے اجتناب کرنا تاکہ اذان کے ادب کی فضیلت کے مستحق بن سکے اور بے ادبی سے اجتناب کریں تاکہ عذاب کے مستحق نہ بنے،اذان پر آنے والی پابندیوں سے ہرگز بھی نہ گھبرائیں بلکہ عدالتوں کے ذریعے سے اپنے حقوق حاصل کریں اور مسلمانوں میں علم و شعور کو بیدار کیا جائے نیز مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق اور حکمت عملی کو عام کرنا چاہیے اگر مسلمان ایک اواز بن جائے تو مذہبی شعائر کی حفاظت باآسانی ہو سکتی ہے اور کسی کو اس کی ہمت نہ ہوگی کہ شعائر اسلام کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی کرے۔
عالم اسلام کو برباد کرنے کے لیے
دشمنوں کی سازشوں کی کس قدر یلغار ہے
انور اس یلغار سے محفوظ رہنے کے لیے
اتحاد ملت اسلامیہ درکار ہے
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...