Skip to content
پاسبانِ ملتؒ دکن میں جمعیۃ علماء کے ترجمان تھے
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی نبیرہ حضرت قطب دکنؒ
خطیب جامع مسجد اشرفی قلعہ گولکنڈہ حیدرآباد
9849270160
اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں بھیجے جانے والے سب سے پہلے انسان حضرت سیدنا آدمؑ ہیں ، آپؑ ہی کے ذریعہ دنیا میں انسانوں کی آبادی کا آغاز ہوا اور آپؑ کی ذریت کے ذریعہ دنیوی آبادی کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ،اللہ تعالیٰ نے دنیا کے وقت کو متعین فرمادیا ہے اور دیگر مخلوقات کی طرح دنیا میں انسانوں کے قیام کا وقت بھی مقرر فرمادیا ہے اور یہ بات سچ ہے کہ کسی بھی انسان کے دنیوی قیام کا علم اللہ تعالیٰ کے علا وہ کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مخلوق ہزارہا کوششیں کرکے اسے معلوم کر سکتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں دنیا کے قیام اور اس میں بسنے والے انسانوں کی زندگی کو نہایت مختصر بتایا ہے اور یہ بھی بتلایا ہے کہ یہاں آنے والے ہر ایک کو دنیا اور سامان دنیاچھوڑ کر جانا ہے ،چاہے کوئی کتنا ہی بڑا شخص ہو یا کتنا مصروف ترین آدمی ہو یا پھر اس کے چاہنے والے خواہ لاکھوں کی تعداد میں ہوں ان کی چاہت پر نہ وہ کچھ دیر رک سکتا ہے اور نہ ہی دنیا والے اسے ایک لمحہ کے لئے روک سکتے ہیں ،حقیقت یہ ہے جب انسان اپنا وقت پورا کر لیتا ہے تو موت اسے آن واحد میں دبوج لیتی ہے اور اسے اِس جہاں سے اُس جہاں منتقل کردیا جاتا ہے،دنیا چھوٹتے ہی اس کے اپنے ہی اسے اپنے کندھوں پر سوار کرتے ہوئے شہر خموشاں یعنی مردوں کےشہر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ کر چلےجاتے ہیں اور پھر ان کا اپنا ،چہیتا،لاڈلا اور محبوب منوں مٹی کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے اور دنیا میں اس کا جو کچھ ساز وسامان تھا رشتہ داروں میں اسے تقسیم کردیا جاتا ہے اس کے بعد اس کی صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں،قیام دنیا سے لے کر آج تک لاکھوں لوگ آئے اور چلے گئے اور قیامت تک لاکھوں لوگ آتے رہیں گے اور مقررہ وقت گزار کر جاتے رہیں گے ،موت تو ہر جاندار کے لئے ہے اور سب کو اس کا مزہ چکھنا ہے ،ہر انسان کو موت کی تلخیوں سے گزرکرجانا ہے مگر موت موت میں فرق ہوتا ہے ،ایک موت تو عام انسان کی ہوتی ہے جو پیدا ہوتا ہے اور کھاتا پیتا ہے ، پہنتا اوڑھتا ہے ، سوتا پھرتا ہے اور مرجاتا ہے یعنی ایک شخص وہ ہوتا ہے جس کے پاس اپنی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا یا پھر وہ شخص ہوتا ہے جو صرف اپنے لئے جیتا ہے اور ایک شخص وہ ہوتا ہے جو زندگی اور اس کے لمحات کو قیمتی جان کر زندگی دینے والے کی مرضی کے مطابق گزار کر دنیا سے گزر جاتا ہے یا وہ شخص ہوتا ہے جس کی زندگی کا مقصد ہی انسانیت کی خدمت اور اس کے ذریعہ خالق کی خوشنودی ہوتی ہے ،یہ شخص جسمانی موت تو مرتا ہے لیکن اس کے کارنامے اسے حیات جاودانی عطا کرتے ہیں اور لوگ اس کے مرنے پر سخت رنج وغم کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی موت پر زما نہ افسوس کرتا ہے ، انسانوں کا درد رکھتے ہوئے اور ان کی خدمت کرتے کرتے موت کی آغوش میں چلے جانے والوں کے بارے میں کہنے والے نے خوب کہا ہے ؎
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں آئے ہیں سبھی مرنے کے لئے
جن لوگوں کی موت پر صرف ان کے رشتے دار ہی نہیں روتے بلکہ پوری ملت اور قوم روتی ہے اور زمین والوں سے لے کر آسمان والوں تک اپنی پلکیں بھگو کراظہار افسوس کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں میں سے ایک پاسبانِ ملت،فدائے ملتؒ کے بااعتماد،اکابر علمائے دکن کے نور نظر،حضرت قطب دکن کا انتخاب ، جمعیۃ علماء ہند کے عظیم خادم اور دکن میں جمعیۃ علماء کی پہچان حضرت حافظ پیر شبیر احمد صاحب ؒ تھے ، پاسبان ملتؒ ۲۶؍ ربیع الثانی ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۹؍اکتوبر ۲۰۲۵ء ،بروز اتوار نماز فجر کے وقت ۷۸سال کی عمر میں دار فانی سے دار بقا کی طرف چلے گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون، پاسبان ملتؒ کے انتقال کی خبر صبح واٹس ایپ کے ذریعہ ملی ، دل پر شدید چوٹ لگی اور گہرا صدمہ پہنچا ، سادہ لباس میں ملبوس سادگی کا پیکر اور مسکراتا ہوا چہرہ نظروں کے سامنے گھومنے لگا اور بے ساختہ زبان پر یہ جملہ آیا کہ ’’تھکے مسافر کو آخر آرام مل ہی گیا‘‘،پاسبان ملت ؒ کی رحلت جنوبی ہند اور خاص طور سے تلنگانہ وآندھرا کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑا نقصان ہے ،پاسبان ملتؒ کی زندگی اپنے اندر دینی وملی خدمات کا عظیم دفتر رکھتی ہے، آپؒ مسلمانوں کے مسائل کے لئے ہمہ وقت دستیاب رہتے تھے ، دیہات دیہات سفر کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل سے واقفیت حاصل کرتے اور شخصی دلچسپی لے کر اسے حل کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر حکومت کے عہدہ داروں سے پُر زور انداز میں نمائندگی کرتے تھے اور جب تک مسئلہ حل نہیں ہوجاتا چین لیتے تھے۔
پاسبان ملت ؒ نے عنفوان شباب ہی سے جمعیۃ علماء سے وابستہ ہوگئے تھے اور ہمیشہ ایک ادنیٰ کارکن اورسچے سپاہی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے،اگر یہ کہاجائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ پچھلے تیس پینتیس سالوں سے متحدہ آندھرا کے قریہ قریہ ،گاؤں گاؤں اسفار کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے جمعیۃ علماء کا تعارف پیش کیا ، اکابر کی اس عظیم تنظیم کے کارناموں اور خدمات سے واقف کروایا اور ان کے سامنے جمعیۃ علماء کی شاندار تاریخ اور اکابرین جمعیۃ علماء کی قربانیوں پیش کی، پاسبان ملتؒ کی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے کبھی بھی عہدہ طلب نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اکابرین کی ایمااور ان کے اشارروں پر کام کی طرف توجہ دی ،پاسبان ملتؒ نے متحدہ آندھرا بلکہ دکن کے علاقہ میں اس دَور سے جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے دینی ورفاہی خدمات انجام دینے لگے تھے جس دور میں اس علاقہ میں جمعیۃ علماء عموماً علماء کے درمیان ہی معروف تھی اور خال خال و شاذ ونادر ہی لوگ اسے جانتے تھے ، پاسبان ملتؒ کی جمعیۃ علماء سے وابستگی،سچی لگن اور غیر معمولی خدمات کو دیکھ کر اکابر جمعیۃ علماء کا آپ پر اعتماد بڑھتا گیا اور انہوں نے آپ کی صلاحیت سے استفادہ کرنا مناسب سمجھا چنانچہ آپ کو جمعیۃ علماء کی مجلس عاملہ کا رکن منتخب کیا گیا ،ایک طویل عرصہ تک آپ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے رکن رہے ،متحدہ آندھرا میں جمعیۃ علماء کے ریاستی صدارت کا مسئلہ درپیش ہوا تو اس عظیم عہدہ و منصب کے لئے پاسبان ملتؒ کے نام کی تجویز پیش کرنے والوں میں نمایاں نام جنوبی ہند اور خصوصاً سر زمین دکن کی عظیم دینی، علمی،دعوتی اور روحانی شخصیت مرد قلندر ،جنیدِ وقت قطب دکن حضرت مولانا شاہ محمد عبدالغفور قریشی قاسمیؒ سابق مہتمم جامعہ عربیہ قاسم العلوم اودگیر( مہاراشٹرا) و شاگرد رشید وخلیفۂ اجل شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ تھے،بلاشبہ حضرت قطب دکنؒ کو جنوبی ہند میں حضرت شیخ الاسلامؒ کا علمی و روحانی جانشین کہاجاتا تھا،یہی وجہ تھی کہ فدائے ملت جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید اسعد مدنی ؒ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند آپ کا حد درجہ ادب ولحاظ فرمایا کرتے تھے ، قطب دکنؒ نے فدائے ملتؒ سے فرمایاتھا میری نظر میں ریاستی صدارت کے لئے حافظ پیر شبیر احمد بہترین انتخاب ہوگا ،یہ انتخاب ریاستی جمعیۃ علماء اور عوام الناس دونوں کے لئے سود مند ثابت ہوگا اور اس وقت میری نگاہیں بہت کچھ وہ چیزیں دیکھ رہی ہیں جس کا آگے چل کر آپ لوگ مشاہدہ کریں گے ، بس پھر کیا تھا فدائے ملتؒ نے پاسبان ملتؒ کو ریاستی جمعیۃ علماء کا صدر منتخب کردیا ، ریاستی صدر منتخب ہونے کے بعد پاسبان ملتؒ نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنے عزم وحوصلے سے ایک تاریخ رقم کردی اور زبان حال وقال سے یہ پیغام دیا کہ ؎
جوانو! یہ صدائیں آرہی ہیں آبشاروں سے
چٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزمِ سفر پیدا
پاسبان ملتؒ نے اپنے بڑوں اور اکابرین کے انتخاب کو درست کر دکھایا اور 1993 سے اپنی وفات (۲۰۲۵) تک جمعیۃ علماء کے لئے وہ کارہائے نمایا انجام دئے جس کے ذکر کے لئے ایک ضخیم کتاب درکار ہے ۔
پاسباان ملتؒ کی ایک نمایا خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر معاملہ میں اپنے بڑوں اور چھوٹوں دونوں ہی سے مشورہ طلب کرتے تھےاور فرمایا کرتے تھے کہ بڑوں کے تجربات اور چھوٹوں کے جذبات کی قدردانی ضروری ہے ،بڑوں کےتجربات سے جہاں صحیح سمت قدم اٹھانے میں مددملتی ہے وہیں چھوٹوں کے جذبات سے کام میں قوت وطاقت حاصل ہوتی ہے،جو شخص صرف عہدہ کے خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے اس سے کام ہوتا نہیں بلکہ کام ہَوا (کافور) ہوجاتا ہے،چنانچہ پاسبان ملتؒ بڑوں کی باتوں کو حکم کا درجہ دیتے تھے اور چھوٹوں کے مشوروں کو ہمت کا درجہ دیتے تھے،اسی کا نتیجہ تھا کہ بہت کم عرصے میں جمعیۃ علماء کو شہر شہر ،قصبہ قصبہ اور قریہ قریہ میں نہ صرف مضبوطی حاصل ہوئی بلکہ جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے دینی ،ملی اور رفاہی کاموں کے انجام دینے کا ایک سلسلہ چل پڑا اور کاموں کے انجام دینے میں بڑی حدتک سہولت حاصل ہوئی،پاسبان ملتؒ کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے ہمیشہ ہی جمعیۃ علماء کے نظریات اور اس کے اغراض ومقاصد کو پیش نظر رکھ کر کام کئے ، اکابرین جمعیۃ علماء کی جانب سے جب کبھی جوبھی ہدایات دی جاتی تھیں نہایت خوش اسلوبی سے اسے انجام دیتے تھےخاص طور پر فسادات زدہ یا پھر آفات زدہ علاقوں میں مضبوط ٹیم بناکر منظم انداز میں مصیبت زدہ اور پریشان حال لوگوں کی بلا لحاظ مذہب ومشرب ضروریات کی تکمیل کی کوشش کرتے تھے،خدمت گزاروںاور کارکنان جمعیۃ علماء کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لئے جائے وقوع پر بنفس نفیس حاضر ہوتے تھے، صحت وسہولت کا خیال کرتے ہوئے اگر کارکنان تشریف آوری کی زحمت سے بچانا چاہتے تو ان سے پاسبان ملتؒ فرما تے تھے کہ ذمہ دار کی ذمہ دار ہے کہ وہ اپنا خیال رکھنے سے زیادہ ان کا خیال رکھے جو اس وقت آپ کی مدد ونصرت کے منتظر ہیں ،اگر میری حاضری سے انہیں تسلی حاصل ہو سکتی ہے تو اس پر میں دسیوں صعوبتیں برداشت کرنے کے لئےتیار ہوںکیونکہ رسول اللہؐ کا ارشاد ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چھپی ہوتی ہے ۔
پاسبان ملتؒ کو ریاست کے موقر اور بزرگ علمائے کرام کا اعتماد حاصل تھاجن میں قابل ذکر قطب دکن حضرت مولانا شاہ محمد عبدالغفور صاحب قریشیؒ خلیفۂ اجل شیخ الاسلامؒ ،حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ سوریا پیٹ سابق ناظم مجلس علمیہ آندھرا پردیش وسابق رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند،واعظ دکن حضرت مولانا حمید الدین حسامی عاقلؒ سابق امیر ملت اسلامیہ آندھرا پردیش ومہتمم دارالعلوم حیدرآباد کے نام شامل ہیں ، عزیز ملت حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ پاسبان ملتؒ کی سلیقہ مندی ،مستقل مزاجی اور کام کی لگن دیکھ کر بھر پور مسرت کا اظہار فرماتے اور پُر زور انداز میں حمایت فرماتے تھے،ایک موقع پر فرمایا تھا کہ کام والے کو کام کرنے دینا چاہئے اور جو شخص پہلے سے کسی کام میں مصروف ہے ،کام کی نوعیت سے واقف ہے اور دلچسپی و شفافیت کے ساتھ کر رہا ہے تو اس کی کام میں مدد کرنا ہی دانشمندی اور کام کی کامیابی ہے، بلاشبہ اکابرین کی توجہ اور ان کے اعتماد ہی کا نتیجہ تھا کہ پاسبان ملتؒ تین دہوں سے زائد عرصے تک ریاستی جمعیۃ علماء کے صدر رہے ۔
اللہ تعالیٰ نے صالحین کی صحبت میں بڑی تاثیر رکھی ہے ،ان کی صحبت کی برکت سے صحبت پانے والے کی زندگی میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں صالحین کی صحبت سے مستفید ہونے کی تلقین کی گئی ہے،صالحین کی صحبت کا فائدہ بتاتے ہوئے حضرت قطب دکنؒ فرماتے ہیں کہ ’’صالحین کی صحبت ناکارہ کو کارآمد ،ناکام کو کامیاب اور بدکار کو نیکو کار بنادیتی ہے‘‘ ،پاسبان ملت ؒ نے ایک موقع پر اپنے آپ کو نہایت خوش قسمت بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے اہل اللہ کی صحبتیں حاصل رہی ہیں خاص طور سے دو بزرگوں نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا ہے ایک قطب دکن شاہ محمد عبدالغفور قریشیؒ اور دوسرے محی السنہ شاہ ابرارالحق ہردوئیؒ ، مجھے ان دونوں کی صحبت وتربیت سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ،اگر یہ بات کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ ان دونوں ہی کا فیض بابرکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اکابر ین کی قدیم وعظیم جماعت ’’جمعیۃ علماء‘‘ کی خدمت کا موقع عنایت فرمایا ،اگر ان بزرگوں کی توجہ اور حوصلہ افزائی نہ ہوتی تو مجھ سے جو کچھ کام ہوا ہے شائد نہیں ہوپاتا ، قطب دکنؒ کی دوچیزوں نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ایک جفاکشی و مجاہدہ اور دوسرے استقامت جس نے ناممکن کو ممکن بنادیاتھا ، اسی طرح حضرت محی السنہؒ کی دوچیزوں سے میں بے حد متاثر ہوا ہوں،ایک سنتوں کا اہتمام اور دوسرے سلیقہ مندی، کام کرنے والوں کے لئے اس میں بہترین سبق ہے ، اگر کام کرنے والا کچھ کام کرنا چاہتا ہے تو اسے لازمی ہے کہ وہ بڑوں کے تجربات سے استفادہ کرے اور ان کی خوبیوں کو اپنے اندر منتقل کرنے کی کوشش کرے، ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ کام کی کامیابی سے زیادہ کام پر نظر رکھیں ،انہماک سے کیا گیا کام آدمی کو ضرور کامیابی تک پہنچاتا ہے، بلاشبہ پاسبان ملتؒ کو ان کے انہماک ،استقامت اور اخلاص نے کامیابی تک پہنچایا تھا۔
پاسبان ملت ؒجمعیۃ علماء کے ذریعہ جہاں بہت سے دینی ورفاہی خدمات انجام دیں وہیں خصوصیت کے ساتھ دونوں ریاستوں(تلنگانہ وآندھرا) میں سیرت النبی ؐ کے اجتماعات کے ذریعہ ملت کی اصلاح کی عظیم تحریک چلائی تھی،جس کے ذریعہ ایک طرف معاشرہ کے اصلاح کی فکر فرمائی تو دوسری طرف رسول اللہؐ کی مبارک سیرت اور سنت کو عوام الناس تک پہنچانے ، سنتوں کی عظمت واہمیت دلوں میں پیدا کرنے اور اس پر عمل کی طرف توجہ دلانے کی اہم ترین فریضہ انجام دیا ، عموماً ماہ ربیع الاول میں ریاست کے مختلف علاقوں میں ’’عشرۂ سریت محسن انسانیتؐ‘‘ اور ماہ محرم الحرام میں’’عشرۂ عظمت صحابہؓ واہل بیت اطہار‘‘ کا اہتمام کرتے اور خدامِ جمعیۃ علماء سے اپنے اپنے علاقوں میں ان اجتماعات کے منعقد کرانے اور ان میں عوام کو جوڑ نے کی فکر دلاتے اور مقامی علمائے کرام کے علاوہ دیگر علاقوں کے ممتاز علمائے کرام سے استفادہ کرتے اور بالخصوص مبلغ دارالعلوم دیوبند اور اساتذۂ دارالعلوم سے وقت لے کر ان کے ساتھ مختلف اجتماعات میں شرکت فرماتے تھے ،ان اجتماعات کے ذریعہ کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح عوام الناس اور بالخصوص نوجوان نسل رسول اللہؐ کی مبارک زندگی سے واقف ہوجائے کیونکہ سیرت نبویؐ امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے ،سیرت نبوی ؐ کے مطابق زندگی گزارنا ہر مومن کے لئے لازم ہے اور اسی میںاس کی دنیوی کامیابی اور اخروی نجات مضمر ہے ،سیرت نبوی جانے بغیر صرف زبانی محبت کرنا محبت نہیں بلکہ ایک رسم ہے اور رسمی محبت کی اسلام میں گنجائش نہیں ہےاور یہ بات طے ہے کہ رسمی محبت وتعلق کے اظہار سے کامیابی تو درکنار کامیابی کا تصور بھی محال ہے،غرض پاسبان ملت ؒ چاہتے تھے کہ ان اجتماعات سے لوگوں کے اندر دین کا شعور پیدا ہوجائے اور وہ دینی تعلیمات کو رسمی طور پر نہیں بلکہ شعوری طور پر ادا کرنے والے بن جائیں،پاسبان ملت ؒ کی محنت رنگ لائی ، عوام الناس میں کافی حد تک شعور بیدار ہوا ہے ،انہیں بات سمجھ آنے لگی ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ بڑے شوق سے سیرت کے جلسوں میں شریک ہو رہے ہیں اور ان کی عملی زندگیوں میں تبدیلی واضح طور پر نظر آرہی ہے ۔
پاسبان ملتؒ جمعیۃ علماء کے اسٹیج سے قوم و ملت کے حق میں ہمیشہ آواز لگاتے رہتے تھے، جب کبھی ملت کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو اس کے حل کے لئے کوشاں رہتے اور کوشش کرتے کہ کسی قیمت پر اسےنتیجہ تک پہنچایا جائے تاکہ ملت کو ذہنی الجھن اوردیگرنقصانات سے بچایا جاسکے،خاص طور سے جب کبھی متعصب حکومت اور حکمرانوں کی جانب سے مخالف عوام اور بالخصوص مخالف مسلم پالیسی بنائی جاتی اور اسے نافذ العمل کی کوشش کی جاتی تو ایسے موقع پر آپ مکمل جرأت وہمت اور عزم وارادہ کی چٹان بن کر حکومت وقت کی مخالف پالیسی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجاتے اور حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے باتیں کرتے تھے ،اگر سیاہ پالیوں کے خلاف سرکاری دفتروں کے چکر لگانے کی نوبت آتی تو کبھی وفد کی شکل میں تو کبھی تنہا نکل جاتے اور اگر تحریک چلانے کی ضرورت پڑتی تو بڑی شدت کے ساتھ طاقتور تحریک چلاتے ،چنانچہ آپ ؒ نے عوام مخالف پالسیوں کے خلاف تحریک چلاتے ہوئے کئی ایک ریلیوں اور جلسوں کی قیادت فرمائی ہے،پاسبان ملتؒ کی جرأت وہمت اور بروقت درست فیصلوں کی فدائے ملتؒ پُر زور انداز میں تائید وحمایت فرما تے تھے ،چنانچہ مخالف عوام بلوں اور بالخصوص مخالف مسلم بلوں کو ناکام بنانے یا کم ازکم اسے سرد خانے تک پہنچانے میں جن اکابرین جمعیۃ اور جن قائدین ملت کی کوششوں کا دخل رہا ہے پاسبان ملتؒ ان کوششوں میں برابر کے شریک رہے ہیں۔
پاسبان ملتؒ وطن عزیز سے نہ صرف محبت کرتے تھے بلکہ اس معاملہ میں وہ اپنے اکابرین کے نفش قدم پر تھے ،تحریک آزادی میں علمائے ہند اور خصوصاً علمائے دیوبند نے جو کردار ادا کیا تھا جسے تاریخی اوراق میں سنہری حرفوں میں لکھا گیا ہے بلکہ زبان حال سے ہندوستان کا چپہ چپہ جس کی گواہی دے رہا ہے، پاسبان ملتؒ ہندوستان کے دو تاریخی دنوں پندرہ اگست اور چھبیس جنوری میں بڑے اہتمام سے ترنگا تقریب منعقد کرتے تھے اور ریاست کے مختلف علاقوں کے ذمہ داروں کو بھی اس کے اہتمام کی طرف توجہ دلاتے تھے تاکہ یہ بتایا جا سکے ان تاریخی اور یادگار دنوں کا حصول دراصل مجاہدین آزادی کی جہد مسلسل اور ان کی عظیم قربانیوں کا ثمرہ ہے،اگر مجاہدین آزادی بے خوف وخطر میدان جنگ میں کود کر دشمنوں کا مقابلہ نہ کرتے تو آزادی کا سورج ہمیں دیکھنا نصیب نہیں ہوتا،یہ بات سچ ہے کہ ملک کی آزادی میں سبھوں نے حصہ ادا کیا ہے مگر یہ بھی سچ ہے آزادی کے لئے سب سے پہلے مسلمانان ہند اور ان کے مذہبی قائدین ہی نے باشندگان ہند کو جگایا تھااور خصوصا علمائے ہند نے وطن کی محبت سینے میں لئے کر وطن کی آزادی کے لئے جو قربانیاں پیش کیں تاریخ تحریک آزادی اس کی مثال پیش کرنے سےقاصر ہے،چونکہ اس وقت نئی نسل تاریخ آزادی سے بہت کم واقف ہے اس لئے پاسبان ملت ؒ کی کو شش تھی کہ کم ازکم ان دوتاریخی دنوں میں عوام الناس اور خصوصا نئی نسل کو بتائیں کہ کس طرح ہمارے آبا واجداد نے وطن عزیز کی آزادی کے لئے جدجہد کی تھی اور جھوٹے ،مکار،دھوکے باز اور ضمیر فروش انگریزوں سے کیسے مقابلہ کیا تھا ، ان عظیم قربانیوں کے باوجود اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو دراصل یہ مجاہدین کی توہین کرہاہے اور مجاہدین کی توہین ملک کی توہین کے مترادف ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ؎
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
پاسبان ملتؒ تواضع ، عاجزی اورانکساری کا پیکر تھے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دینی وسیاسی دونوں حلقوں میں بڑی مقبولیت عطا فرمائی تھی ،وہ بیک وقت اہل علم اور اہل سیاست کی نظر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے،ایک طرف جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا کے صدر اور متعدد دینی اداروں کے سرپرست ودینی تنظیموں کے رکن تھے تو دوسری طرف قانون ساز کونسل کے رکن اور متحدہ آندھرا حج کمیٹی کے چیر مین تھے ،روزانہ دینی وسیاسی رہنما ؤں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی اس کے باوجود ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملاقات کرتے تھےحتی کہ اجنبی کو بھی ملاقات کے وقت اپنائیت کا احساس ہوتا تھا، مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ پاسبان ملتؒ سے میری پہلی ملاقات جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر دہلی میں ہوئی تھی اس وقت میں دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم تھا،دہلی میں جمعیۃ علماء کا کوئی اجلاس عام مقرر تھا دارلعلوم دیوبند کے بہت سے طلبہ اس میں شریک ہونے کے لئے جارہے تھے،میں بھی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ شریک ہوا تھا،دہلی میں جمعیۃ علماء کے دفتر میں قائد جمعیۃ علماء مہاراشٹرا حافظ ندیم صدیقی صاحب خادم خاص وشاگرد رشید حضرت قطب دکنؒ سے ملاقات ہوئی، یہاں پاسبان ملتؒ کے علاوہ بڑے بڑے علماء اور جمعیۃ علماء کے قائدین موجود تھے، اس موقع پر حافظ ندیم صدیقی نے پاسبان ملتؒ سے میرا تعارف کرایا ،انہوں نے غیر معمولی شفقت ومحبت سے ملاقات کی اور مجھ سے تعلیمی احوال معلوم کئے ،پاسبان ملتؒ کا مسکراہٹ بھرا مصافحہ اور کندھے پر دست شفقت کا نرالہ انداز مجھے آج بھی یاد ہے ،اس کے بعد والد گرامی قدر حضرت مولانا شاہ محمد اظہار الحق قریشی مظفر قاسمی دامت برکاتہم خلف اکبر حضرت قطب دکنؒ کے ساتھ دفتر جمعیۃ علماء اور کئی مرتبہ پروگراموں میں ملاقاتیں ہوتی رہیں میں نے محسوس کیا کہ ہر مرتبہ محبت واپنائیت سے ملتے تھےدیکھنے والوں کو لگتا تھا کہ دیرینہ تعلقات ہیں ،والد گرامی سے بہت عقیدت سے ملاکرتے تھےاور جب بھی ملاقات ہوتی حضرت قطب دکنؒ کا ضرور ذکر فرماتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ جمعیۃ علماء کی خدمت دراصل آپ کے والد گرامی حضرت قطب دکنؒ کی مرہون منت ہے، والد گرامی دامت برکاتہم پاسبان ملتؒ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ آپ کی مقبولیت کے پیچھے آپ کی سادگی اور استقامت کا بڑا دخل ہے تو یہ سن کر مسکراتے ہوئے فرمانے لگے کہ آپ کی سادگی وعاجزی حضرت قطب دکنؒ کی یاد دلاتی ہے دراصل میں نے بھی سادہ طرز زندگی حضرت قطب دکنؒ سے اور کام برائے کام اور تنقید کے بجائے تعمیری کام میں دلچسپی حضرت قطب دکنؒ اور حضرت محی السنہؒ سے سیکھی ہے ۔
پاسبان ملتؒ کی شخصیت دراصل کئی خوبیوں کا مجموعہ تھی ،یہ فرد واحد نہیں بلکہ ایک انجمن تھے،یہ جمعیۃ علماء کے صرف کارکن نہیں بلکہ اراکین میں کاموں کی روح پھونکنے والے تھے،یہ قوم کی فکر لے کر نہیں بلکہ فکر اوڑھ کر چلتے تھے،انہوں نے صرف کام نہیں کیا بلکہ ہزاروں افراد کو کام سکھایا ،لوگ اپنے لئے کرتے ہیں مگر انہوں نے اوروں کے لئے کیا ،لوگ کام میں تھکن کا لفظ استعمال کرتے ہیں لیکن ان کے پاس تھکن کا کوئی لفظ نہیں تھا،کام کرنا اور کام سے کام رکھنا کوئی سیکھنا چاہتا ہے تو ان کی طرز زندگی سے سیکھ سکتا ہے ،مخالفین اور روک ٹوک کرنے والوں کو نظر انداز کرکے کام پر توجہ دینا ان کی خصوصیت تھی،بے جا تعریف کو کام کے لئے مضر مانتے تھے،محسن کے احسان کا بر ملا اعتراف کرتے تھے،اکابرین کی طرح اپنے لئے القابات کو پسند نہیں کرتے تھے،مقبولیت سے زیادہ قبولیت کی فکر کرتے تھے،حالات کا شکوہ کرنے کو سخت ناپسند کرتے تھے کہتے تھے کہ جو حالات سے ڈر گیا تو وہ مرگیا ،ہمارے اکابرین حالات سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ ان کا معاملہ تو یہ تھا کہ ان کا حال حالات پر غالب رہتا تھا ،مومن کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے عزم وحوصلے سے دشوار جگہ پر راستہ اور تاریکی میں اپنے داغ جگر سے روشنی پیدا کرلیتا ہے ؎
مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی
مری سر شت میں ہے پاکی ودرخشانی
تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا
کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نورانی
پاسبان ملتؒ طویل ،تاریخی اور لائق تقلید خدمات انجام دے کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے ،اس وقت پوری امت اور خصوصا اہل جمعیۃ علماء ان کی جدائی پر غمگین ہیں ،سچ یہ ہے کہ آپ کی جہد مسلسل اور عمل پیہم ،جفاکشی،بلند ہمتی ،ان تھک جدوجہد اور بامقصد زندگی ہمیش یاد رکھی جائے گی اور آپ قدردانوں کے دلوں میں مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں گے؎
کلیوں کو میں سینے کا لہو دے کے چلا ہوں
صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی
Like this:
Like Loading...